Dastak Adabi Forum

Dastak Adabi Forum The purpose of forum is motivate student'slitrary and creative abilities.

ششماہی 'دستک' کبھی معیار سے سمجھوتہ نہیں کرتا: پروفیسر آفتاب احمد آفاقیشعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی میں دستک کے خصوصی ...
21/09/2025

ششماہی 'دستک' کبھی معیار سے سمجھوتہ نہیں کرتا: پروفیسر آفتاب احمد آفاقی
شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی میں دستک کے خصوصی نمبر "تنقید: مبادیات اصول اور نظریات” کی رسم اجرا اورمذاکرے کا اہتمام
وارانسی(پریس ریلیز)آج مورخہ 20 ستمبر2025 بروز ہفتہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ششماہی ریسرچ جرنل"دستک" کے خصوصی نمبر "تنقید: مبادیات،اصول اور نظریات" کی رسم اجرا اور مذاکرے کا اہتمام کیا گیا؛ جس کی صدارت شعبہ کے سربراہ پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر رفعت جمال، پروفیسر شاہینہ رضوی، ڈاکٹر مشرف علی، ڈاکٹر احسان حسن، ڈاکٹر قاسم انصاری اور ڈاکٹر افضل مصباحی نے رسالہ کے تازہ شمارے کے مشمولات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ ہر تحریر تنقید کا حکم نہیں رکھتی اور ہر لکھاری کو نقاد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے؛ تاہم اس اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس نے قلم پکڑ لی، وہ منفرد ،معتبر اور قومی و بین الاقوامی سابقے کے ساتھ ادیب یا نقاد کی صف میں شامل ہو گیا۔ تنقید کی ایسی بے حرمتی کسی دور میں نظر نہیں آتی۔ اس کی بنیادی وجہ خود ساختہ تخلیق کاروں کی سستی شہرت اور ناموری کی بھوک ہے۔ اس قبیل کے تخلیق کار اپنا خود نقاد گڑھ لیتے ہیں۔ یہ صورتحال بے حد افسوسناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دستک اپنے معیار سے کبھی سمجھوتا نہیں کرتاہے۔ ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ جامعاتی سطح پر تنقید و تحقیق سے وابستہ ریسرچ اسکالرز ، طلبہ و طالبات اور اساتذہ اس خصوصی نمبر سے مستفید ہو سکیں اور رسالوں کی بھیڑ میں دستک اپنی انفرادیت قائم کر سکے۔
پروفیسر رفعت جمال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرقہ کی جو روش عام ہوتی جارہی ہے وہ بے حد شرمناک ہے۔ تنقیدی وتحقیقی مقالہ لکھنے والوں کو اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جب بھی کسی کو کوٹ کریں تو حوالہ ضرور دیں۔ پروفیسر شاہینہ رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دستک کا یہ خصوصی شمارہ طلبہ،اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کے لیے بہت مفید ہے۔انہوں نے اس خصوصی شمارے کےمشمولات پر اظہار خیال کرتے ہوئے آل احمد سرور،کلیم الدین احمد،شمس الرحمن فاروقی وغیرہ کے مقالوں کا حوالہ بھی پیش کیا۔ شعبہ کے استاد ڈاکٹرمشرف علی نے کہا کہ دستک کا یہ خصوصی شمارہ تنقید کے اصول و نظریات کو سمجھنے میں بے حد معاون ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریسرچ اسکالرز اگر اس شمارے کا اچھے انداز سے مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے اندر تنقیدی شعور یقینی طور پر پروان چڑھے گا۔ ڈاکٹر محمد قاسم انصاری نے ریسرچ اسکالرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تحریر تنقیدی اصول و ضوابط کی روشنی میں لکھیں؛ تاکہ وہ معیاری ہو سکے۔انہوں نے موجودہ تنقید نگاری کے کئی حوالے بھی پیش کیے۔ ڈاکٹر احسان حسن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اورتخلیق و تنقید ساتھ ہی ریسرچ کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دلائی۔ ڈاکٹر افضل مصباحی نے کہا کہ دستک کے خصوصی شمارے ہر اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے مشمولات میں قدیم و جدید کا خاص خیال رکھا جاتا ہے؛ جسے پڑھ کر ہر قاری اپنے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر شعبہ کے تمام ریسرچ اسکالرز اور دیگر شعبوں کے طلبہ اور طالبات نے بھی شرکت کی۔
پروگرام کی نظامت شعبہ کے استاد اوررسالہ کے معاون مدیر ڈاکٹر عبدالسمیع نے کی، انہوں نے اپنے تعارفی کلمات میں دستک کے تنقید نمبر کی اہمیت و افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شمارہ ہر لحاظ سے طلبہ و طالبات اور ریسرچ اسکالرز کے لیے ممدومعاون ثابت ہو گا۔ڈاکٹر رقیہ بانو نے شکریے کی رسم ادا کی۔

شعبۂ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی کا ششماہی ریسرچ جرنل”دستک” بابت جنوری تا جون 2025 چھپ کر آگیا ہے۔ رسالے کا یہ پندرہواں شم...
08/09/2025

شعبۂ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی کا ششماہی ریسرچ جرنل”دستک” بابت جنوری تا جون 2025 چھپ کر آگیا ہے۔ رسالے کا یہ پندرہواں شمارہ خصوصی نمبر“تنقید:مبادیات، اصول اور نظریات” پر مشتمل ہے۔ادبی تنقید بالخصوص اردو کی ادبی تنقید کے مختلف بلکہ جملہ ابعاد کو سمیٹنے کی کوشش اس شمارے میں ملاحظہ کی جاسکتی۔
امید ہے کہ دستک کے گزشتہ شماروں کی طرح یہ شمارہ بھی ادب کے ہر سنجیدہ قاری کی علمی ضرورت بن جائے گا۔ چارسواٹھارہ صفحات پر مشتمل یہ شمارہ شعبۂ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی سے 350روپے کے عوض حاصل کیا جاسکتا ہے۔ رسالہ بذریعہ ڈاک ارسال کیا جائے گا۔
دستک کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات
‏Name: Head department of urdu bhu
‏A/c Current account no 50200035024402
‏IFSC HDFC 0003945
رابطہ: شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی وارانسی
+91 94505 27733

فراق گورکھپوری‌ جدید اردو شاعری کے میر ہیں۔ شمیم طارق فراق نے ہندوستان کی تہذیب وثقافت اور انسانی اقدار کی آبیاری کی ہے:...
01/12/2024

فراق گورکھپوری‌ جدید اردو شاعری کے میر ہیں۔ شمیم طارق
فراق نے ہندوستان کی تہذیب وثقافت اور انسانی اقدار کی آبیاری کی ہے:آفتاب احمد آفاقی
شعبہ اردو بی ایچ یو میں دوروزہ قومی سمینار “فراق گورکھپوری:حیات اور ادبی خدمات” کا انعقاد
وارانسی ۔شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کے زیر اہتمام بہ تعاون اتر پردیش اردو اکادمی لکھنو، دو‌ روزہ قومی سیمنار (13-14 نومبر 2024) بعنوان “فراق گورکھپوری؛ حیات اور ادبی خدمات” کا انعقاد کیاگیا جسکا افتتاحی اجلاس یونیورسٹی کے آر کے ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور انگریزی کے ممتاز اسکالر پروفیسر میا شنکر پانڈے نے ‌کی‌۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انھوں نے کہا کہ یہ اردو زبان کی خوش نصیبی ‌ہے کہ اس نے فراق جیسا عظیم شاعر اس ملک کو عطا کیا۔ فراق انگریزی زبان کے ماہر تھے انگریزی زبان کیلیے ان کی گرانقدر خدمات‌ ہیں لیکن اردو نے انہیں شہرت دوام بخشی۔ ہندی کے ممتاز ادیب پروفیسر اود ھیش پردھان نے ‌فراق کی عظمت اور ان کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوے کہا کہ فراق کی شاعری کا خمیر اسی سرزمین میں تیار ہوا. انہوں نے بہت سی پرانی قدروں‌کا احیاء اپنی شاعری کے ذریعے کیا‌ اور فراق ہندی میں بھی اسی طرح پڑھے جاتے ہیں جیسا ‌کہ اردو میں۔ اردو زبان ہماری مشترکہ تہذیب کی علامت ہے اور فرق اس خوبصورت زبان کے عظیم شاعر ہیں ان کی شاعری ہندی اردو دونوں میں مشترک ہے وہ تا عمر ‌شعر وادب کی آبیاری کرتے رہے۔معروف اردو ادیب پروفیسر ارتضی کریم نے فراق کی حیات وخدمات پر بہت جامع گفتگو کی اور کہا کہ فراق کی‌شاعری میں ہندوستان کا دل دھڑکتا ہے۔انہوں نے اپنی ‌شاعری اور نثر دونوں کے ذریعے زبان وادب کو مال مال کیااور شاعری کے ڈکشن کو ہندوستانیت سے جوڑا ہے۔ اپنے کلیدی خطبے میں اردو کے ممتاز ادیب شمیم طارق نے فراق کی غزلوں، نظموں اور رباعیوں پر روشنی ڈالتے ہوے کہا فراق جدید غزل کے معمار ہیں۔ وہ شاعری میں نت نئے تجربے‌کرتے رہے اسی لیے انکی شاعری میں تنوع ہے۔ ان کی شخصیت اور فن دونوں نے پورے ہندوستانی ادب کو متاثر کیا ہے۔ انھوں نے فراق کے کلام، افکار ونظریات اور ادبی کارناموں پر مفصل روشنی ڈالی اور کہا کہ فراق نے خداے سخن میر تقی میر کی پیروی کی ہے اور اپنی ‌شاعری سے ہر ایک دل کو چھونے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے میر کا سا سوزو گداز ان کے کلام میں ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی زبان وادب کی جن عظیم شخصیات نے اردو کو امتیاز بخشا ان میں سرفہرست نام رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری کا ہے۔ ان کی ادبی وشعری خدمات‌‌ کی معترف پوری اردو دنیا ہے۔ صدر شعبہ اردو پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوۓ کہا کہ فراق نے زبان ‌و‌ادب‌ کے‌ساتھ ملک کی مشترکہ تہذیب اور انسانی اقدار کو اپنے شعر وادب کے ذریعے فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی۔‌عہد‌حاضر‌میں ان کی اہمیت اور معنویت کو اجاگر کرنے کے مقصد سے شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی نے اس دو‌روزہ‌ قومی سیمنار کا انعقاد کیا ہے تاکہ فراق کے ادبی مشن کو آگے بڑھایا جایے اور نئی نسل فراق کے علمی و ادبی کارناموں سے بخوبی واقف ہو سکے۔ دو روزہ قومی سیمنار کا افتتاحی‌ اجلاس یونیورسٹی کے بانی ‌مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کے مجسمے کی گل پوشی سے ہوا انہیں گلہاے عقیدت پیش کی گئ۔ اس موقع پر حسب روایت یو نیورسٹی کا کل گیت پیش ‌کیا۔‌مہمانوں کا استقبال پھول،شال اور مومینٹو سے کیا گیاساتھ ہی یونیورسٹی کے شعبہ کی اردو خدمات کی ستائش اور سیمنار کے انعقاد کو ایک خوش آئند قدم قرار ‌دیاگیا۔ نظامت کے فرائض شعبہ کے استاد ڈاکٹر مشرف علی انجام دے اور شکریہ کی رسم ڈاکٹر احسان حسن نے انجام دیے۔ شعبہ کے اساتذہ میں ڈاکٹر قاسم انصاری،ڈاکٹر عبد السمیع، ڈاکٹر رقیہ بانو‌سمیت ملک کی مختلف جامعات سے تشریف لائے ادیبوں‌ اور قلمکار وں نے شرکت‌کی۔ علاوہ ازیں یونیورسٹی کے دیگر شعبوں ‌کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، طلباء و طالبات نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس کے بعد فراق‌ کی‌ یاد میں مشاعرہ کا اہتمام ‌کیا‌گیا جس میں اردو ‌ہندی کے اہم شعرابالخصوص شمیم طارق، اشہد‌کریم الفت،محمد‌عقیل،عالم بنارسی ، ثمر غازی پوری،احمد اعظمی، ضیا احسنی،شمیم غازی پوری،عبدالرحمن ، ظفر مہدی اوراسجد رضا نےاپنے عمدہ کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرہ کی صدارت ممتاز ہندی شاعر وادیب پروفیسر وششٹھ انوپ ‌نے کی اور نظامت کے فرائض سرور ساجد نے انجام دیے

فراق گورکھپوری‌ جدید اردو شاعری کے میر ہیں۔ شمیم طارق فراق نے ہندوستان کی تہذیب وثقافت اور انسانی اقدار کی آبیاری کی ہے:...
01/12/2024

فراق گورکھپوری‌ جدید اردو شاعری کے میر ہیں۔ شمیم طارق
فراق نے ہندوستان کی تہذیب وثقافت اور انسانی اقدار کی آبیاری کی ہے:آفتاب احمد آفاقی
شعبہ اردو بی ایچ یو میں دوروزہ قومی سمینار “فراق گورکھپوری:حیات اور ادبی خدمات” کا انعقاد
وارانسی ۔شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کے زیر اہتمام بہ تعاون اتر پردیش اردو اکادمی لکھنو، دو‌ روزہ قومی سیمنار (13-14 نومبر 2024) بعنوان “فراق گورکھپوری؛ حیات اور ادبی خدمات” کا انعقاد کیاگیا جسکا افتتاحی اجلاس یونیورسٹی کے آر کے ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور انگریزی کے ممتاز اسکالر پروفیسر میا شنکر پانڈے نے ‌کی‌۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انھوں نے کہا کہ یہ اردو زبان کی خوش نصیبی ‌ہے کہ اس نے فراق جیسا عظیم شاعر اس ملک کو عطا کیا۔ فراق انگریزی زبان کے ماہر تھے انگریزی زبان کیلیے ان کی گرانقدر خدمات‌ ہیں لیکن اردو نے انہیں شہرت دوام بخشی۔ ہندی کے ممتاز ادیب پروفیسر اود ھیش پردھان نے ‌فراق کی عظمت اور ان کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوے کہا کہ فراق کی شاعری کا خمیر اسی سرزمین میں تیار ہوا. انہوں نے بہت سی پرانی قدروں‌کا احیاء اپنی شاعری کے ذریعے کیا‌ اور فراق ہندی میں بھی اسی طرح پڑھے جاتے ہیں جیسا ‌کہ اردو میں۔ اردو زبان ہماری مشترکہ تہذیب کی علامت ہے اور فرق اس خوبصورت زبان کے عظیم شاعر ہیں ان کی شاعری ہندی اردو دونوں میں مشترک ہے وہ تا عمر ‌شعر وادب کی آبیاری کرتے رہے۔معروف اردو ادیب پروفیسر ارتضی کریم نے فراق کی حیات وخدمات پر بہت جامع گفتگو کی اور کہا کہ فراق کی‌شاعری میں ہندوستان کا دل دھڑکتا ہے۔انہوں نے اپنی ‌شاعری اور نثر دونوں کے ذریعے زبان وادب کو مال مال کیااور شاعری کے ڈکشن کو ہندوستانیت سے جوڑا ہے۔ اپنے کلیدی خطبے میں اردو کے ممتاز ادیب شمیم طارق نے فراق کی غزلوں، نظموں اور رباعیوں پر روشنی ڈالتے ہوے کہا فراق جدید غزل کے معمار ہیں۔ وہ شاعری میں نت نئے تجربے‌کرتے رہے اسی لیے انکی شاعری میں تنوع ہے۔ ان کی شخصیت اور فن دونوں نے پورے ہندوستانی ادب کو متاثر کیا ہے۔ انھوں نے فراق کے کلام، افکار ونظریات اور ادبی کارناموں پر مفصل روشنی ڈالی اور کہا کہ فراق نے خداے سخن میر تقی میر کی پیروی کی ہے اور اپنی ‌شاعری سے ہر ایک دل کو چھونے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے میر کا سا سوزو گداز ان کے کلام میں ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی زبان وادب کی جن عظیم شخصیات نے اردو کو امتیاز بخشا ان میں سرفہرست نام رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری کا ہے۔ ان کی ادبی وشعری خدمات‌‌ کی معترف پوری اردو دنیا ہے۔ صدر شعبہ اردو پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوۓ کہا کہ فراق نے زبان ‌و‌ادب‌ کے‌ساتھ ملک کی مشترکہ تہذیب اور انسانی اقدار کو اپنے شعر وادب کے ذریعے فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی۔‌عہد‌حاضر‌میں ان کی اہمیت اور معنویت کو اجاگر کرنے کے مقصد سے شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی نے اس دو‌روزہ‌ قومی سیمنار کا انعقاد کیا ہے تاکہ فراق کے ادبی مشن کو آگے بڑھایا جایے اور نئی نسل فراق کے علمی و ادبی کارناموں سے بخوبی واقف ہو سکے۔ دو روزہ قومی سیمنار کا افتتاحی‌ اجلاس یونیورسٹی کے بانی ‌مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کے مجسمے کی گل پوشی سے ہوا انہیں گلہاے عقیدت پیش کی گئ۔ اس موقع پر حسب روایت یو نیورسٹی کا کل گیت پیش ‌کیا۔‌مہمانوں کا استقبال پھول،شال اور مومینٹو سے کیا گیاساتھ ہی یونیورسٹی کے شعبہ کی اردو خدمات کی ستائش اور سیمنار کے انعقاد کو ایک خوش آئند قدم قرار ‌دیاگیا۔ نظامت کے فرائض شعبہ کے استاد ڈاکٹر مشرف علی انجام دے اور شکریہ کی رسم ڈاکٹر احسان حسن نے انجام دیے۔ شعبہ کے اساتذہ میں ڈاکٹر قاسم انصاری،ڈاکٹر عبد السمیع، ڈاکٹر رقیہ بانو‌سمیت ملک کی مختلف جامعات سے تشریف لائے ادیبوں‌ اور قلمکار وں نے شرکت‌کی۔ علاوہ ازیں یونیورسٹی کے دیگر شعبوں ‌کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، طلباء و طالبات نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس کے بعد فراق‌ کی‌ یاد میں مشاعرہ کا اہتمام ‌کیا‌گیا جس میں اردو ‌ہندی کے اہم شعرابالخصوص شمیم طارق، اشہد‌کریم الفت،محمد‌عقیل،عالم بنارسی ، ثمر غازی پوری،احمد اعظمی، ضیا احسنی،شمیم غازی پوری،عبدالرحمن ، ظفر مہدی اوراسجد رضا نےاپنے عمدہ کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرہ کی صدارت ممتاز ہندی شاعر وادیب پروفیسر وششٹھ انوپ ‌نے کی اور نظامت کے فرائض سرور ساجد نے انجام دیے۔

دستک ادبی فورم شعبہ اردو کے زیراہتمام طلبہ سمینار کا انعقادپریس ریلیز(بنارس9 مارچ2024)کسی بھی تعلیمی ادارے کا تصوراستاد ...
13/03/2024

دستک ادبی فورم شعبہ اردو کے زیراہتمام طلبہ سمینار کا انعقاد
پریس ریلیز(بنارس9 مارچ2024)کسی بھی تعلیمی ادارے کا تصوراستاد اور شاگرد کی بغیر ممکن نہیں۔ادارے کو شناخت اورکامیابی عطا کرنے میں استاد اور شاگرد دونوں کا یکساں حصہ ہوتا ہے۔ طالب علم اچھا اور کامیاب طالب علم اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ استاد کے بتائے راستوں پر چلے اور استاد کی کامیابی طلبا کی کامیابی میں مضمر ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسرآفتاب احمدآفاقی، نے شعبہ اردو کی ادبی تنظیم ’دستک ادبی فورم‘ کے زیراہتمام طلبہ و ریسرچ اسکالر سمینار میں اپنے صدارتی تقریر کے دوران کیا۔
دستک ادبی فورم کے نگراں ڈاکٹر مشرف علی نے تنظیم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دستک ادبی فورم شعبہ اردو،بنارس ہندویونیورسٹی کی ادبی تنظیم ہے جس کے تحت طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کے مختلف، ادبی اور ثقافتی تقریبات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد طلبہ میں لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا کرنا اور ادب کی افہام و تفہیم کی صلاحیتوں کو صیقل کرنا ہے۔ انھی مقاصد کے حصول کے لیے آج مؤرخہ 9مارچ2024بروزسنیچر شعبہ اردو کے سمینار ہال میں طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کاسمینار پروفیسرآفتاب احمدآفاقی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں ایم۔ اے۔ سال اول کے دو،ایم۔ اے۔ سال آخر تین اورپی ایچ ڈی کے پانچ ریسرچ اسکالرز نے مقالے پیش کیے۔ایم اے کے طلبا سے کہا گیا تھا کہ وہ نصاب میں شامل کسی ایک نظم کا تجزیہ یا کسی ایک مضمون پر مقالہ اساتذہ کی نگرانی میں تحریر کریں اور ریسرچ اسکالر اپنے موضوع سے متعلق مقالہ لکھیں اور پیش کرنے سے پہلے اپنے نگراں کے سامنے اس کی قرأت کرلیں۔طلبا اور ریسرچ اسکالرز نے اساتذہ سے رابطہ کیا اور مقالات کی اصلاح کے بعد انھوں نے سمینار میں اپنے مقالے پیش کیے۔ مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسرمحمدطاہرصدرشعبہ اردو، شبلی نیشنل کالج اعظم نے اپنے مقالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات سے طلبہ میں ادب کی تفہیم، تجزیہ اور مقالہ پیش کرنے کی تربیت ہوتی ہے اور یہاں پیش کیے گئے مقالات کسی بھی قومی سمینار میں پیش کیے جانے والے مقالات سے کم نہیں تھے۔ دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ استادڈاکٹر ارشاد نیازی مہمان اعزازی کی حیثیت سے نے شرکت کی اور مقالہ نگاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس سمینار میں ایم سال اول کے محمدساجد نے بعنوان ’تنقید کی اہمیت‘ اورنوشین نوشاد نے ’حالی کی تنقید نگاری کا جائزہ‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ایم اے سال آخر کے محمد شعیب نے’کلام غالب کا اجمالی جائزہ، صائمہ پروین نے ’جوش ملیح آبادی کی نظم البیلی صبح کا تنقید مطالعہ‘ اور اثاثہ بی بی نے ’نظیراکبر آبادی کی نظم بنجارہ نامہ کا تجزیہ‘ کے عنوان سے اپنے مقالات پیش کیے۔ ریسرچ اسکالرز میں پرویزاحمد(ساحر لدھیانوی: حساسات کا شاعر)آصف جمال(مشینی دور میں ادب:وارث علوی کی نظرمیں)محمدشاہنواز انصاری(قاضی عبدالستاربحیثیت تاریخی ناول نگار)تسنیم قمر(اردو کی جدیدمثنوی1857کے بعد) مریم صبا(لالہ رام نرائن لعل اگروال اور راے صاحب دیال اگروال کی خدمات)نے اپنے مقالات پیش کیے۔ان مقالوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے شعبہ کے استادڈاکٹراحسان حسن نے کہا کہ طلبہ کواسی طرح محنت کرنی چاہیے اور ہم اساتذہ ان کی اصلاح کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اگر یہ صورت بحال رہی تو بہت جلد ہمارا شعبہ ہندوستان کی تمام یونیورسٹی کے شعبوں میں ممتاز مقام حاصل کر لے گا۔
پروگرام کی نظامت شعبہ اردو کے ریسرچ اسکالر محمدصدام اور محمد اعظم نے کی۔پروگرام کے آخر میں ڈاکٹرمشرف علی تمام مہمانان اور مقالہ نگاران کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شعبہ اردوکے استادڈاکٹرعبدالسمیع، ڈاکٹررقیہ بانو کے علاوہ شعبہ اردو کے ریسرچ اسکالرز اور طلبا کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔

10/03/2024

ریسرچ جرنل “دستک” کی مجلس ادارت نے کل اپنی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا کہ دستک کا اگلا شمارہ(شمارہ 13،بابت جنوری تا جون2024) اردو صحافت سے مخصوص ہوگا۔ اس کے مشمولات حسب ذیل خانوں میں منقسم ہوں گے۔
1-اردو صحافت کی تاریخ، موجودہ صورتحال اور امکانات
2- ادبی صحافت کے اصول اور اس کی روایت
3-اردو کے اہم صحافیوں کی خدمات کا جائزہ
4۔ اردو اخبارات و رسائل کی قومی و ادبی خدمات
5-مختلف علاقوں سے شائع ہونے والے اخبارات و رسائل کا تعارف/تاریخ/تجزیہ
اہل قلم و دانش سے گزارش ہے کہ مذکورہ موضوعات پر مضامین عنایت فرماکر رسالے کو مزید بہتر بنانے میں ہماری معاونت فرمائیں۔
مدیر
ششماہی دستک
شعبۂ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی
[email protected]

15/08/2023

ششماہی ریسرچ جرنل “دستک” اور شعبۂ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی کی جانب سے تمام قارئین کو “یوم آزادیِ ہند” کی پرخلوص مبارکباد ۔
دستک کا تازہ شمارہ آپ کے شہر کے اہم کتب فروش کے یہاں دستیاب ہے،تازہ شمارے کے ساتھ پرانے شماروں کے لیے آپ براہ راست ہم سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔
دستیاب شماروں میں گوشۂ قاضی عبدالودود، کبیر نمبر، ناول نمبر اور حسرت نمبر شامل ہیں۔

شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی سے شائع ہونے والے تحقیقی مجلہ “ششماہی دستک” کا تازہ شمارہ(11)منظرعام پر آگیا ہے۔ اس مرتب...
09/08/2023

شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی سے شائع ہونے والے تحقیقی مجلہ “ششماہی دستک” کا تازہ شمارہ(11)منظرعام پر آگیا ہے۔ اس مرتبہ یہ شمارہ جدیداردو غزل کو نئے فکر و احساس سے آشنا کرانے والے اور اردو تنقید کو جمالیاتی اور تاثراتی تنقید سے ثروت مند بنانے والےشاعر، نقاد اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری سے مخصوص ہے۔ فراق گورکھپوری کی شعری و ادبی شخصیت کے کئی رخ ہیں، اس شمارے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ان کی تمام ادبی جہات سے قاری کو روشناس کیا جائے۔ یادرفتگاں کے تحت ہمارے عہدکے اہم افسانہ نگار ابواللیث جاویدکو یاد کیا گیا ہے۔دستک کے گزشتہ شمارے پر پروفیسر علی احمد فاطمی کا تبصرہ شامل ہے۔ مجھے امید ہے کہ دستک کے گزشتہ شماروں کی طرح یہ شمارہ بھی ادب کے ہر سنجیدہ طالب علم کی ضرورت بن جائے گا۔ تین سو صفحات پر مشتمل یہ شمارہ شعبۂ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی سے 350روپے کے عوض حاصل کیا جاسکتا ہے۔ رسالہ بذریعہ ڈاک ارسال کیا جائے گا۔
دستک کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات
‏Name: Head department of urdu bhu
‏A/c Current account no 50200035024402
‏IFSC HDFC 0003945
رابطہ: شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی وارانسی
+91 94505 27733

شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی سے شائع ہونے والے تحقیقی مجلہ “ششماہی دستک” کا تازہ شمارہ(10) منظرعام پر آگیا ہے۔ اس مرت...
17/02/2023

شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی سے شائع ہونے والے تحقیقی مجلہ “ششماہی دستک” کا تازہ شمارہ(10) منظرعام پر آگیا ہے۔ اس مرتبہ یہ شمارہ عظیم مجاہد آزادی، بے باک صحافی اور اردو غزل و تغزل کو حیات نو بخشنے والے شاعر سیدفضل الحسن حسرت موہانی کے لیے مخصوص ہے۔ حسرت موہانی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں، اس شمارے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ان کی شخصیت کے تمام ابعاد سے قاری کو روشناس کیا جائے۔ یادرفتگاں کے تحت ہمارے عہد کو اپنی منفرد فسانہ طرازی سے حرکت و زندگی عطا کرنے والے شموئل احمد کو یاد کیا گیا ہے۔دستک کے گزشتہ شمارے (معاصرناول نمبر)سے متعلق تین تحریریں شامل ہیں۔ مجھے امید ہے کہ دستک کے گزشتہ نو شماروں کی طرح یہ شمارہ بھی ہر سنجیدہ طالب علم کی ضرورت بن جائے گا۔ اس میں حسرت موہانی کی مشہور تصنیف “مشاہدات زنداں” کا مکمل متن بھی موجود ہے، جسے آزادی ہندکی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے بطورخاص پسند فرمائیں گے۔ چار سو صفحات پر مشتمل یہ شمارہ شعبۂ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی سے 350روپے کے عوض حاصل کیا جاسکتا ہے۔ رسالہ بذریعہ ڈاک ارسال کیا جائے گا۔
دستک کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات
‏Name: Head department of urdu bhu
‏A/c Current account no 50200035024402
‏IFSC HDFC 0003945
رابطہ: شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی وارانسی
+91 94505 27733

Address

Department Of Urdu BHU
Varanasi
221005

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dastak Adabi Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share