23/03/2026
پانچ سالہ تعلیمی ماڈل — شعبۂ حفظ کے بچوں کے لیے ایک انقلابی پیش رفت
وقت کے تقاضے ہمیشہ اُن اداروں کو آگے بڑھاتے ہیں جو حالات کو سمجھ کر بروقت فیصلے کرتے ہیں۔ آج مدارس کے شعبۂ حفظ میں ایک اہم سوال مسلسل سامنے آ رہا ہے:
کیا ہمارے بچے صرف حفظ تک محدود رہیں یا ساتھ بنیادی عصری تعلیم بھی حاصل کریں؟
حقیقت یہ ہے کہ والدین کی خواہش، معاشرے کی ضرورت اور بچوں کے مستقبل—تینوں کا تقاضا یہی ہے کہ حفظ کے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیم کا ایک مؤثر اور قابلِ عمل نظام موجود ہو۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قاسم العلوم ایجوکیشن سسٹم نے ایک جامع، سادہ اور قابلِ نفاذ پانچ سالہ تعلیمی ماڈل پیش کیا ہے، جو خاص طور پر شعبۂ حفظ کے بچوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
یہ ماڈل کیوں منفرد ہے؟
یہ نظام محض ایک نصاب نہیں بلکہ ایک مکمل حل ہے:
روزانہ صرف دو گھنٹہ
چار بنیادی مضامین: ریاضی، اردو، انگلش،ہندی
روزانہ کا ایک صفحہ — واضح سبق، واضح ہدف
ایک سال میں ایک کلاس کی تکمیل
بغیر ہوم ورک، بغیر اضافی بوجھ
ایسا نظام جو حفظ کو متاثر کیے بغیر تعلیم کو ساتھ لے کر چلتا ہے
یہ ماڈل اُن مسائل کا عملی حل پیش کرتا ہے جن سے اکثر مدارس دوچار ہوتے ہیں:
ٹائمنگ، لیسن پلان، اسباق کی ترتیب، اساتذہ کی تیاری اور نتائج کی کمی—یہ سب اس نظام میں پہلے سے ترتیب دیے جا چکے ہیں۔
اب نہ اضافی بوجھ، نہ پیچیدہ منصوبہ بندی—صرف عمل اور نتائج۔
یاد رکھیے:
آج کا قدم کل کا معیار بناتا ہے۔
جو کام کل کرنا ہے، اسے آج شروع کرنا ہی دانشمندی ہے۔
والدین منتظر ہیں، بچے مستحق ہیں، وقت پکار رہا ہے اور قاسم العلوم زمانیہ غازی پور بھی تیارہے
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
مولانا حسین احمد قاسمی ندوی
مہتمم۔ الجامعہ الاسلامیہ قاسم العلوم زمانیہ غازی پور یوپی