Pakistan Studies Society, GPGC No.1 Abbottabad

Pakistan Studies Society, GPGC No.1 Abbottabad Organization for students.

عزمِ صمیم سے کامیابی کے افق تک:     شعبہ پاکستان سٹڈیز کا سفر۔۔۔۔۔۔۔۔ چمن میں جب بہار آئی تو تم نے بھی کچھ دیکھا ہوگا  ہ...
02/06/2026

عزمِ صمیم سے کامیابی کے افق تک: شعبہ پاکستان سٹڈیز کا سفر۔۔۔۔۔۔۔۔


چمن میں جب بہار آئی تو تم نے بھی کچھ دیکھا ہوگا
ہمیں تو اس بہار میں بس اپنے ہی زخم یاد آئے

کچھ کہانیاں صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ خونِ جگر سے لکھی گئی داستانیں ہوتی ہیں۔ یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی عزمِ صمیم، انتھک محنت اور ایک ناممکن خواب کو ممکن بنانے کی داستان ہے، جس کا آغاز ہم نے آج سے چند سال پہلے کیا تھا۔

خواب کی بنیاد اور ابتدائی سنگِ میل

سفر کا آغاز سن 2015 میں ہوا، جب بحیثیت لیکچر میرا تبادلہ گورنمنٹ ڈگری کالج نتھیا گلی سے تاریخی درسگاہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد میں ہوا۔ یہاں آ کر معلوم ہوا کہ کالج میں "شعبہ پاکستان سٹڈیز" سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ اس مضمون کی قومی و علمی اہمیت اور وقت کی شدید ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، میں نے اس وقت کے معز پرنسپل، جناب پروفیسر محمد تاج صاحب سے درخواست کی کہ کالج میں اس شعبے کا قیام ناگزیر ہے۔

پروفیسر محمد تاج صاحب نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ اپنی سرپرستی اور رہنمائی سے بھی نوازا۔ ان کی مخلصانہ کوشوں کی بدولت، بالاآخر 2017 کے اواخر میں ہائیر ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ پشاور نے اس نئے شعبے کی منظوری دے دی۔

دشتِ غربت سے کامیابی کا سفر

بہت کٹھن ہے ڈگر کامیابی کی لیکن
سفر جو شروع کیا ہے تو اب پہنچ کر رہیں گے

کسی نئے پودے کو لگانے کے بعد اس کی آبیاری کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب ہم نے سفر کا آغاز کیا، تو پہلے سال یعنی 2017 میں ہم بمشکل صرف 17 طلبہ کا داخلہ کر پائے۔ وہ ایک مشکل وقت تھا، لیکن ہماری نیت صاف اور ارادے مضبوط تھے۔

اگلے ہی سال، یعنی 2018 سے اس شعبے نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا شروع کیا۔ ہماری فیکلٹی کے ممبران نے دن رات ایک کر دیے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے دو سالوں کے اندر اندر یہ نو-add-کردہ شعبہ پورے کالج میں داخلوں کے لحاظ سے ٹاپ 4-5 شعبہ جات میں شامل ہو گیا۔ اس غیر معمولی کامیابی کا تمام تر سہرا پاکستان سٹڈیز کی مخلص اور محنتی فیکلٹی کے سر جاتا ہے، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اس شعبے کو کالج کا فخر بنا دیا۔

فصلِ گل کی پہلی دستک: عثمان امانت کا اعزاز

خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہِ زوال نہ ہو

ایک استاد اور ایک شعبے کی اصل کامیابی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے تراشے ہوئے ہیرے معاشرے میں اپنی چمک دکھاتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ جشنِ مسرت اس وقت بپا ہوا جب ہمارے ابتدائی بیجز کے طلبہ نے خیبر پختونخوا پبلک service کمیشن کے امتحانات میں حصہ لیا۔

مجھے یہ لکھتے ہوئے بے پناہ فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے سیشن 2018-2022 کے انتہائی ہونہار اور مایہ ناز طالب علم عثمان امانت نے پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کر کے گریڈ 17 میں بحیثیت لیکچر اپنے کیریئر کا آغاز کیا ہے۔ عثمان امانت نے نہ صرف اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کیا، بلکہ اس نئے قائم شدہ شعبے کے اساتذہ کی برسوں کی محنت کو معتبر کر دیا اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد کے وقار میں بے پناہ اضافہ کیا۔ وہ ہمارے دوسرے بیج کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جو اب آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن چکا ہے۔

حرفِ آخر اور دعا

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

آج جب میں مڑ کر 2015 کے اس دن کو دیکھتا ہوں جہاں کچھ بھی نہیں تھا، اور پھر آج کے دن کو دیکھتا ہوں جہاں ہمارے طالب علم ملک کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں تدریس کے فرائض سرانجام دینے کے لیے تیار ہیں، تو دل تشکر سے بھر جاتا ہے۔

ہم عثمان امانت کو اس شاندار کامیابی پر دل کی اتہاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت اسے مستقبل کے ہر امتحان میں سرخرو کرے، اسے مزید کامیابیوں و کامرانیوں سے نوازے اور ہمارے اس چمنِ پاکستان سٹڈیز کو ہمیشہ ہرا بھرا رکھے۔ آمین

علم و آگہی کے گلشن میں بعض شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو فقط اُستاد نہیں بلکہ ایک دبستان، ایک انجمنِ فکر اور ایک روشن مینا...
30/05/2026

علم و آگہی کے گلشن میں بعض شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو فقط اُستاد نہیں بلکہ ایک دبستان، ایک انجمنِ فکر اور ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد کے شعبۂ پاکستان اسٹڈیز کے محترم پروفیسر عقیل سواتی صاحب بھی انہی درخشاں نفوس میں شامل ہیں، جن کی ذات علم کی سنجیدگی، کردار کی پختگی اور اخلاق کی شگفتگی کا حسین امتزاج ہے۔
وہ تدریس کے میدان کے ایسے شہسوار ہیں جن کی کلاس میں علم فقط کتابی سطور تک محدود نہیں رہتا بلکہ فکر کے دریچے وا ہوتے ہیں۔ ان کا اندازِ تدریس گویا شمعِ عرفاں کی مانند ہے جو ذہنوں کے اندھیروں کو نورِ شعور سے منور کر دیتا ہے۔ تعلیمی معاملات میں ان کی سنجیدگی ایسی ہے جیسے کوئی سپہ سالار اپنے قلعے کی حفاظت پر مامور ہو۔ نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور تدریسی ذمہ داریوں میں ان کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
طلبہ کے ساتھ تعاون، شفقت اور رہنمائی میں وہ ایک سایۂ شجرِ مہربانی محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں اخلاص کی مٹھاس اور رہنمائی میں پدرانہ شفقت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ وہ اُن اساتذہ میں سے ہیں جو صرف نصاب نہیں پڑھاتے بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ بھی عطا کرتے ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک دلآویز پہلو ان کا فنی و مزاحیہ انداز بھی ہے۔ سنجیدگی کے سمندر میں مزاح کے موتی بکھیرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، مگر عقیل صاحب اپنی برجستگی اور لطیف مزاح سے محفل کو زندہ و تابندہ بنا دیتے ہیں۔
اگر شعبۂ پاکستان اسٹڈیز کو ایک فلک تصور کیا جائے تو پروفیسر عقیل سواتی صاحب یقیناً اس فلک کا ماہِ کامل ہیں، جن کی علمی ضیا سے پورا شعبہ جگمگا رہا ہے۔ ان کی شخصیت علم، وقار، فہم اور محبت کا ایسا مرقع ہے جو طلبہ کے اذہان میں مدتوں روشن رہے گا۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح نسلِ نو کے اذہان کو علم و آگہی کی خوشبو سے معطر کرتے رہیں۔

28 مئی 1998 کی صبح جب بلوچستان کے پہاڑوں میں زمین لرز اٹھی تو محض دھماکے کی آواز نہ گونجی، بلکہ پوری قوم کے سینے سے نکلی...
28/05/2026

28 مئی 1998 کی صبح جب بلوچستان کے پہاڑوں میں زمین لرز اٹھی تو محض دھماکے کی آواز نہ گونجی، بلکہ پوری قوم کے سینے سے نکلی وہ صدا سنائی دی جس نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان اب کسی دباؤ کے آگے سر جھکانے والا نہیں۔ بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں پاکستان نے چاغی کے راس کوہ میں کامیاب تجربات کر کے مسلم امہ کی پہلی ایٹمی قوت ہونے کا شرف حاصل کیا۔ یہ کامیابی صرف سائنسدانوں کی محنت کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ پوری قوم کے اتحاد، قربانی اور خودداری کا عملی اظہار تھی۔ اس دن ہر زبان پر اللہ اکبر کا نعرہ تھا اور ہر دل میں فخر و مسرت کا سمندر موجزن تھا۔

یوم تکبیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں اسلحے سے نہیں، عزم و ہمت سے زندہ رہتی ہیں۔ اس دن پاکستان نے ثابت کیا کہ جب ارادہ پختہ ہو اور قیادت بیدار ہو تو وسائل کی کمی بھی راہ کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ آج بھی اس دن کی روشنی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم نے اسی اتحاد اور خود انحصاری کا جذبہ برقرار رکھا تو کوئی طاقت ہمیں ترقی کی راہ سے روک نہیں سکتی۔ 28 مئی ہر پاکستانی کے لیے فخر کا دن ہے، ایک ایسا دن جس نے ہماری شناخت کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔

27/05/2026
یومِ عرفہ وہ مبارک ساعت ہے جب میدانِ عرفات انسانی رنگ و نسل، مرتبے و منصب کی تمام قیدوں کو مٹا کر ایک ہی چادرِ یکرنگی می...
25/05/2026

یومِ عرفہ وہ مبارک ساعت ہے جب میدانِ عرفات انسانی رنگ و نسل، مرتبے و منصب کی تمام قیدوں کو مٹا کر ایک ہی چادرِ یکرنگی میں سمیٹ لیتا ہے۔ لاکھوں حاجی، سفید کفن نما احرام میں ملبوس، لبیک کی صدا سے فضا کو گونجا دیتے ہیں۔ یہ منظر گویا قیامت کے روز محشر کی ایک جھلک ہے، جہاں نہ امیر کی شان رہتی ہے نہ غریب کی محرومی، نہ عرب کی برتری نہ عجم کی کمتری—سب بندے، ایک رب کے حضور عاجزی و انکساری کے ساتھ سر بسجود۔
حج کا یہ عظیم اجتماع امتِ مسلمہ کے لیے آئینۂ اتحاد ہے۔ جس طرح دریائے نیل کی ہزاروں نہریں بالآخر ایک ہی سمندر میں ضم ہو جاتی ہیں، اسی طرح دنیا کے کونے کونے سے آئے مسلمان عرفات میں آ کر وحدتِ امت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں اخوتِ اسلامی کا وہ شیرازہ بندھتا ہے جو مسالک، ممالک اور زبانوں کی دیواروں کو بے معنی کر دیتا ہے۔ حج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک جسم کے اعضا ہیں؛ اگر ایک عضو میں درد ہو تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔
یہی مساوات اور برادری اسلام کا وہ جوہرِ تابندہ ہے جس کی بنیاد پر قائدِ اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ پاکستان کا اسلامی نظریہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ اس عہدِ وفا کا نام ہے جو ہم نے اس سرزمین کو مدینۂ ثانی بنانے کے لیے کیا تھا۔ ایک ایسی مملکت جہاں عدل ہو، جہاں ہر فرد کو اس کے تقویٰ کے سوا کوئی امتیاز نہ ہو، جہاں امیر و غریب، حکمران و محکوم سب قانون کے آگے سرنگوں ہوں۔
آج جب امتِ مسلمہ تفرقے اور انتشار کے طوفانوں میں گھری ہوئی ہے، تو یومِ عرفہ کا پیغام ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میدانِ عرفات کے اس درس کو اپنی قومی اور اجتماعی زندگی میں اتار لائیں۔ اگر ہم نے پاکستان میں اسلامی اخوت، عدل اور مساوات کو حقیقی معنوں میں نافذ کر دیا، تو یہ ملک نہ صرف امتِ مسلمہ کے لیے قلعہ و پناہ گاہ بنے گا، بلکہ پوری دنیا کے سامنے اسلام کی عملی تصویر بن کر ابھرے گا۔
آئیے، اس یومِ عرفہ کے مقدس موقع پر عہد کریں کہ ہم رنگ و نسل، زبان و علاقے کے تعصبات کو پسِ پشت ڈال کر "کنتم خیر امۃ" کے مصداق بننے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ امت کا اتحاد ہی اس کی بقا ہے، اور اتحاد کا راز اسی عرفات میں مضمر ہے جہاں آج لاکھوں دل ایک ہی نعرے پر متحد ہیں:
لبیک اللھم لبیک۔

معرکہ حق ۔۔۔آپریشن بنیان مرصوص
08/05/2026

معرکہ حق ۔۔۔آپریشن بنیان مرصوص

استاد کی عظمت پر جتنا بھی لکھنا پڑے تو شاید الفاظ ختم ہو جائیں گے__♡__☆سکندر اعظم کا قول ہے___☆میرا باپ مجھے آسمان سے زم...
28/04/2026

استاد کی عظمت پر جتنا بھی لکھنا پڑے تو شاید الفاظ ختم ہو جائیں گے__♡

__☆سکندر اعظم کا قول ہے___☆
میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا
اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا --

جس طرح ملک کو مالک ! شاعری کو غالب ! پھولوں کو مہک ! چاند کو دمک ! سورج کو چمک! زندگی کو آکسیجن ! روح کو جسم کی ضرورت ہے اسی طرح معاشرے کو استاد کی ضرورت ہے _♡
استاد کا مقام ورتبہ اور عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ استاد کو روحانی باپ کا درجہ ملا ہے____💛
کچھ اساتذہ نصاب نہیں، نسلیں سنوارتے ہیں، اور *پروفیسر عزیز احمد صاحب* ان ہی عظیم لوگوں میں سے ایک ہیں۔ Pakistan Study Society کے ڈائریکٹر ہوتے ہوئے بھی آپ کا خلوص، محنت اور پڑھانے کا جنون ہر لیکچر سے جھلکتا ہے۔ آپ نے Pakistan Studies جیسے مضمون کو علم، شعور اور وطن سے محبت کا حسین امتزاج بنا دیا ہے۔ آپ کا شاگرد ہونا ہمارے لیے اعزاز ہے۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین 🤲



دعا ہے اللہ کریم اپنی حفظ و امان میں رکھے اور صحت و سلامتی والی لمبی زندگی عطا فرمائے ..
آمین ثم امین یا رب العالمین۔۔

Today, Pakistan Studies Society hosted a remarkable seminar on _“War in the Middle East and Its Implications for South A...
21/04/2026

Today, Pakistan Studies Society hosted a remarkable seminar on _“War in the Middle East and Its Implications for South Asia and Pakistan’s Role as Mediator.”_ True to its spirit, the Pakistan Studies Society always steps forward first to host timely discussions like this to raise awareness and inform meaningful debate. We were honored to welcome Prof. Dr. Muhammad Saeed from COMSATS University, Abbottabad Campus, as our distinguished guest speaker. The event began with the soul-stirring recitation of the Holy Quran by Zain ul Abideen, followed by an eloquent Naat presented by Hamad Saqib and the National Anthem, uniting everyone in a moment of pride. Prof. Aziz Ahmed, Director of the Pakistan Studies Society, warmly opened the proceedings with his insightful remarks. Prof. Dr. Muhammad Saeed then captivated the audience with his profound analysis, addressing Pakistan’s diplomatic stance in the conflict, vital economic linkages through trade and foreign remittances, our dependence on Middle Eastern energy and its broader consequences, the evolving political and strategic landscape, Pakistan’s potential role as a mediator, the trust both sides place in our nation & leadership, and the critical challenges and opportunities that lie ahead. The seminar flourished during the Q&A session, where students from diverse departments clear their queries and confusion. Prof. Dr. Munir Ahmed concluded the seminar with words of appreciation, thanking our esteemed guest, the committed Pakistan Studies Society team, and every student whose engagement made the seminar an outstanding success.

Address

Abbottabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 14:00
Tuesday 09:00 - 14:00
Wednesday 09:00 - 14:00
Thursday 09:00 - 14:00
Friday 09:00 - 14:00
Saturday 09:00 - 14:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Studies Society, GPGC No.1 Abbottabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share