07/09/2022
آج اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی اور براڈ کاسٹر اے حمید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی اور براڈ کاسٹر اے حمید 25 اگست 1928ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ میٹرک امرتسر سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے اور یہاں پر پرائیویٹ طور پر ایف اے پاس کر کے ریڈیو پاکستان میں اسسٹنٹ اسکرپٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان میں ملازمت کے بعد وائس آف امریکہ سے وابستہ ہوئے۔
اُن کے افسانوں کا پہلا ہی مجموعہ ’’منزل منزل‘‘ بے حد مقبول ہوا جو اُن کی رومانوی افسانہ نگار کے طور پر پہچان بن گیا۔ افسانوں کے علاوہ طویل عرصہ تک اخبارات میں باقاعدہ کالم نویسی بھی کرتے رہے۔ ریڈیو اور ٹیلیویژن کے لیے بہت سے پروگرام لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ افسانہ نویسی اُن کی بے حد پسندیدہ اور مقبول صنف ادب ہے
83 سالوں میں 200 کتابیں، کیا کوئی اور ہو گا جس اکیلے نے اس قدر کام کیا ہو۔ افسانے، ناول، قسط وار ناول، کالم، ریڈیو کالم، اخباری کالم، ٹی وی ڈرامے، جاسوسی کہانیاں، سفر نامے کون سا موضوع ہے جو ان کے قلم کی دسترس میں نہ رہا ہو۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر موضوع اور صنف پر اس قدر لکھنے کے باوجود ان کی پہچان رومانوی افسانہ نگار کی ہی رہی،
بقول منٹو:
’’وہ تو کھمبا دیکھ کر بھی رومانٹک تحریر لکھنے پہ قادر ہے۔‘‘
شاید اصل وجہ کچھ اور ہی ہوگی۔ افسانہ نگاری ان کی محبت تھی۔ باقی ساری تحریریں ضرورت اور روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے میں معاون و مددگار…وہ ہمارے ان معدودے چند ادیبوں میں سے تھے جو قلم کے مزدور تھے۔ کسی سرکاری نوکری کے بغیر، کسی ادارے کی ماہانہ سرپرستی سے دُور سمن آباد کے ایک چھوٹے سے گھر میں اپنے کمرے میں بچھی چارپائی اور کونے میں دھری میز کرسی پہ بیٹھتے اور بے تکان لکھتے ہی جاتے۔
این 454 سمن آباد کے وہ کب مقیم ہوئے، ہم نے تو اُنہیں روز
اوّل سے وہیں دیکھا۔ وہیں وہ ہفتہ بھر جوگی کی طرح چلہ کاٹتے اور پھر ایک مخصوص دن نکلتے اور فیروز سنز، ریڈیو پاکستان اور روزنامہ نوائے وقت کے دفتر جاتے۔ بیچ میں کبھی مقبول اکیڈمی یا اُردو بازار کچھ کام ہوتا تو وہاں بھی چلے جاتے۔
وہ اُن ادیبوں میں سے تھے جو تقریبات میں رونمائی کم ہی کراتے ہیں۔