30/03/2023
۔💕سمندر کِنارےایک درخت تھا۔ جس پہ چڑیا کا گھونسلا تھا۔ ایک دن تیز ہوا چلی اور چڑیا کا بچہ سمندر میں گر گیا۔ چڑیا بچے کو نکالنے لگی، تو اُس کے اپنے پر گیلے ہو گئے اور وہ لڑکھڑا گئی۔
اُس نے سمندر سے کہا، اپنی لہر سے میرا بچہ باہر پھنک دے۔ مگر سمندر نہ مانا۔ تو چڑیا بولی، دیکھ میں تیرا سارا پانی پی جاوُں گی۔ تجھے ریگستان بنا دونگی۔ سمندر اپنے غرور میں گرجا، کہ اے چڑیا! میں چاہوں تو ساری دنیا کو غرق کر دوں، تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟
چڑیا نے اتنا سُنا تو بولی چل پھر خشک ہونے کو تیار ہو جا ۔۔۔
اس کے ساتھ اُس نے ایک گھونٹ بھرا اُور اڑ کے درخت پہ جا بیٹھی، پھر آئی گھونٹ بھرا پھر درخت پہ جا بیٹھی۔ یہی عمل اُس نے سات، آٹھ بار دُھرایا۔ تو سمندر گھبرا کے بولا؛ پاگل ہو گئی ہے کیا؟ کیوں مجھے ختم کرنے لگی ہے؟
مگر چڑیا اپنی دُھن میں یہ عمل دُہراتی رہی۔ ابھی صرف بیس، بائیس بار ہی ہوا کہ سمندر نے ایک زور کی لہر ماری اور چڑیا کے بچے کو باہر پھینک دیا ۔
درخت جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا، سمندر سے بولا، اے طاقت کے بادشاہ! تو جو ساری دُنیا کو پل بھر میں غرق کر سکتا ہے۔ اس کمزور سی چڑیا سے ڈر گیا، یہ سمجھ نہیں آئی؟
سمندر بولا، نہیں میں تو ایک ماں سے ڈرا ہوں۔ ماں کےجذبے سے ڈرا ہوں۔ اک ماں کے سامنے تو عرش ہل جاتا ہے۔ میری کیا مجال۔ جس طرح وہ مجھے پی رہی تھی مجھے لگا کہ وہ مجھے ریگستان بنا ہی دے گی۔
ماں اللّٰہ پاک کی سب سے عظیم نعمت ہے۔ اس کی قدر کریں ...
الله عزوجل سب کے والدین کو سلامت رکھے ۔اور جو اس دُنیائے فانی سے جا چکے ہیں ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور اپنی غریق رحمت میں جگہ دے ۔۔امین ثم آمین