Pashtoon Educational and Development Council PEDC IUB

Pashtoon Educational and Development Council PEDC IUB Official page of Pashtoon Educational & development Council Islamia University Bhawalpur.

📢 اہم اطلاع — ریزرو سیٹس 2026ڈائریکٹوریٹ آف کالجز، بلوچستان کے تحت ریزرو سیٹس 2026 کے تمام منتخب امیدوار اپنی Nomination...
14/08/2026

📢 اہم اطلاع — ریزرو سیٹس 2026

ڈائریکٹوریٹ آف کالجز، بلوچستان کے تحت ریزرو سیٹس 2026 کے تمام منتخب امیدوار اپنی Nomination بروز پیر، 17 اگست 2026 کو ڈائریکٹوریٹ آف کالجز، شاہواکشاہ روڈ، کوئٹہ سے وصول کر سکتے ہیں۔

تمام منتخب امیدوار مقررہ تاریخ کو دفتر تشریف لا کر اپنی Nomination لازمی وصول کر لیں۔

📍 مقام: ڈائریکٹوریٹ آف کالجز، شاہواکشاہ روڈ، کوئٹہ

📅 تاریخ: 17 اگست 2026، بروز پیر

مزید معلومات کے لیئے نیچے دیئے گئے نمبرز پی رابطہ کریں۔

رفیق خان ناصر
📞 03316373582

جنرل سیکرٹری
زاہد خان موسیٰ خیل
📞 0330 5942365

ایڈمیشن سیکرٹری
عبداللہ بوریوال
📞 0336 2749352

نوراللہ موسیٰ خیل
📞0334 8609235

یادِ بابڑہ — 12 اگست 194812 اگست 1948 کو چارسدہ کے مقام بابڑہ میں خدائی خدمتگار تحریک کے کارکنوں اور حامیوں کے ایک احتجا...
12/08/2026

یادِ بابڑہ — 12 اگست 1948

12 اگست 1948 کو چارسدہ کے مقام بابڑہ میں خدائی خدمتگار تحریک کے کارکنوں اور حامیوں کے ایک احتجاجی اجتماع پر فائرنگ کا المناک واقعہ پیش آیا۔

یہ احتجاج اُس وقت کے سیاسی حالات، رہنماؤں کی گرفتاریوں اور حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے اقدامات کے خلاف تھا۔ بابڑہ کے میدان میں جمع ہونے والے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

اس سانحے میں شہید ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف تاریخی اعداد و شمار ملتے ہیں؛ سرکاری اعداد میں ہلاکتیں کم بیان کی گئیں، جبکہ خدائی خدمتگار ذرائع نے کہیں زیادہ شہادتوں کا ذکر کیا ہے۔ (Wikipedia)

بابڑہ صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی یاد ہے جو پشتون قوم کے اجتماعی شعور میں آج بھی زندہ ہے۔

ہم Pashtoon Educational & Development Council Bahawalpur کی جانب سے بابڑہ کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ تاریخ کے ان واقعات کو بھلایا نہیں جائے گا۔

شہداءِ بابڑہ کو سلام۔
ان کی قربانیوں کو سلام۔
تاریخ کو یاد رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

12 اگست 1948 — یومِ یادِ بابڑہ

#بابڑہ #12اگست1948 #شہدائےبابڑہ Islamia University of Bahawalpur PakistankPashtoon Students Council BZU MultanMPashtoon Educational Council "University Of Agriculture Faisalabad"lPashtoon Educational Council Sargodhargodha

09/08/2026

ڈائریکٹوریٹ آف کالجز، بلوچستان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ڈائریکٹوریٹ آف کالجز، بلوچستان کی جانب سے ریزرو سیٹس 2026 کے تحت منتخب ہونے والے تمام طلبہ و طالبات کو دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ 🎓

آپ کی رہنمائی اور تعلیمی استعداد میں اضافے کے لیے 10 اگست تا 14 اگست 2026 ایک خصوصی پانچ روزہ تعلیمی و تربیتی سیشن منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف تعلیمی سرگرمیوں اور اہم تعلیمی پلیٹ فارمز کے مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا جائے گا۔

سیشن کے دوران فراہم کی جانے والی سہولیات:

* 🏠 Accommodation / رہائش
* 🌙 Night Stay / قیام
* 🍽️ کھانا پینا
* 🚌 Transportation / ٹرانسپورٹ
* 👨‍🎓👩‍🎓 میل و فی میل طلبہ کے لیے علیحدہ رہائش و انتظامات

مذکورہ تمام سہولیات ڈائریکٹوریٹ آف کالجز، بلوچستان کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔

اہم ہدایت:

تمام منتخب طلبہ و طالبات کی 9 اگست 2026 کو شام 5:00 بجے تک کوئٹہ میں حاضری لازمی ہے۔ اپنے ضروری ذاتی سامان، کپڑے اور دیگر لازمی اشیاء ہمراہ لائیں۔

مزید معلومات، ضروری ہدایات اور رہنمائی کے لیے ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم کی جانب سے تمام منتخب طلبہ و طالبات کو متعلقہ WhatsApp گروپ میں شامل کیا جائے گا۔ Pashtoon Students Council BZU Multan Pashtoon Educational Council "University Of Agriculture Faisalabad" Pashtoon Educational Council Islamia University of Bahawalpur PEC IUB Pashtoon Educational Union, UMT Lahore

اہم اطلاع برائے نئے طلباءIslamia university of Bahawalpur جن تمام طلباء کا اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور میں ڈائریکٹوریٹ...
08/08/2026

اہم اطلاع برائے نئے طلباء
Islamia university of Bahawalpur

جن تمام طلباء کا اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور میں ڈائریکٹوریٹ ریزرو سیٹس کے ذریعے داخلہ ہوا ہے، انہیں خوش آمدید کہتے ہیں

اگر آپ کو داخلہ، دستاویزات کی تکمیل، یونیورسٹی کے طریقۂ کار، ہاسٹل، یا کسی بھی قسم کی رہنمائی درکار ہو تو بلا جھجھک پشتون ایجوکیشنل اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل، اسلامیہ یونیورسٹی کے عہدیداران سے رابطہ کریں۔

پشتون ایجوکیشنل اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے نمائندے

* بہاولپور پہنچنے پر آپ کو Receive کریں گے۔
* داخلہ کے تمام مراحل میں مکمل رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کریں گے۔
* یونیورسٹی، ہاسٹل اور دیگر ضروری امور میں ہر ممکن تعاون کریں گے تاکہ آپ کا داخلہ آسان اور پریشانی سے پاک ہو۔

اگر پوسٹر میں نام واضع نظر نہ آ رہے ہو تو کمنٹ میں لسٹ موجود ہے شکریہ🥰

رابطہ کریں
چیئرمین
رفیق خان ناصر
📞 03316373582

جنرل سیکرٹری
زاہد خان موسیٰ خیل
📞 0330 5942365

ایڈمیشن سیکرٹری
عبداللہ بوریوال
📞 0336 2749352

نوراللہ موسیٰ خیل
📞0334 8609235
Pashtoon Students Council BZU Multan Pashtoon Educational Council "University Of Agriculture Faisalabad"pashton neducational council Ghazi university DG khaThe Islamia University of Bahawalpur Pakistanan

جب کوئٹہ  "شہر" میں قتل عام کیا گیا ◇پشتون ایجوکیشنل اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل بھاولپور پر زور مزمت کرتی ہے 8  اگست بلوچستان ک...
08/08/2026

جب کوئٹہ "شہر" میں قتل عام کیا گیا ◇
پشتون ایجوکیشنل اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل بھاولپور پر زور مزمت کرتی ہے

8 اگست بلوچستان کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین دن ہے۔ اس دن بلوچستان کی پوری وکلاء برادری کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا منصوبہ کامیاب ہوگیا تھا، ریاستِ پاکستان نے اس زمین ہلانے والے سانحے کو "دہشت گردی کے ایک واقعے" کا نام دے کر معمول کا حصہ بنا دیا لیکن ہمیں اس سانحے نے جو غیرمعمولی نقصان پہنچایا اس کا پورا احساس شاید ابھی تک اس لئے بھی نہیں ہوا ہوگا کہ پچھلے 40 سالوں سے ہماری سرزمین پہ مسلط جنگ کا مجموعی اثر کافی شدید رہا ہے اور کسی انفرادی واقعے کو اپنی نوعیت میں دیکھنے کا منظم عمل شروع نہیں ہوا ہے۔ میرے نزدیک سانحہ بابڑہ کے بعد سانحہ 8 اگست پاکستان میں پشتونوں کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ 12 اگست 1948 کو پشتونوں کے ایک منظم سیاسی طبقے کو نشانہ بنایا گیا تھا اور 8 اگست 2016 کو پشتونوں کے ایک منظم پروفیشنل طبقے کو نشانہ بنایا گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اول الاذکر واقعے میں بالواسطہ تشدد کا سہارا لیا گیا تھا اور آخر الذکر واقعے میں بلاواسطہ تشدد کا سہارا لیا گیا۔ دونوں واقعات کا مقصد ایک دوسرے سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ ریاست اپنے جیسے سماج بنانے کی جدوجہد کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بلاواسطہ تشدد کے کامیاب استعمال تک پہنچ چکی ہے۔ بلاواسطہ تشدد کا ہر ماحول بالواسطہ تشدد کو جواز فراہم کرنے کیلئے منظم طور پر استعمال کیا گیا ہے۔کوئٹہ کے اوپر بلاواسطہ تشدد کا ماحول مسلط کرنے کے بعد ہی وہاں پر فوجی سلطنت کی اجارہ داری ممکن ہوئی ہے۔دوسری انگریز افغان جنگ کے بعد کوئٹہ کومکمل طور پر اپنے قبضے میں لانے کے بعد برطانوی استعمار نے اس کو اپنے توسیع پسندانہ مقاصد اور افغانستان کے خلاف ایک فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ مقامی آبادی کی سیاست کا بنیادی مرام اس شہر میں عسکریت کے ابہار پہ قابو پانا اور شہری خصوصیات کو غالب بنانا تھا۔برطانوی ہند اور مقامی آبادی کے درمیان یہ لڑائی ہندوستان کی تقسیم کے فیصلے کے ساتھ اختتام تک نہیں پہنچ سکی اس لئے کہ پاکستانی ریاست اس "فاروڈ پالیسی" کو جاری رکھنے میں سنجیدہ نظر آئی جس کو انگریز استعمار نے مرکزی ایشیا ء اور افغانستان کی طرف پیش قدمی کرنے کیلئے اپنائی تھی۔ پشتونوں اور بلوچوں کی قوم پرستی ہر قسم کی استعماری پیش قدمی کی مخالفت میں اپنی بنیادیں مستحکم کرتی چلی آرہی ہے۔ کوئٹہ میں ان وکلاء جیسا ترقی پسند اور سیاسی طور پر فعال پروفیشنل طبقے کا ظہور بھی اس سیاسی ماحول میں ممکن ہوا تھا۔ بالفاظ دیگر کوئٹہ کی پوری سیاسی اور سماجی تاریخ نوآبادیاتی قوتوں کے ساتھ اپنے مزاحمتی تعلق میں ہی تشکیل پائی ہے۔ شہید وکلاء موجودہ بلوچستان میں آباد پشتونوں کی پہلی اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل کے طور پر ابھر کر کوئٹہ شہر میں پشتونوں کی جاندار ثقافتی موجودگی کا احساس اور ثبوت فراہم کرنے میں سب سے بنیادی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی سرگرمیوں کا جغرافیہ کہیں دفتروں کے تنگ و تاریک ماحول تک محدود نہیں رہاتھا بلکہ ان کی سرگرمیاں اسی ہی جغرافیے میں واقع ہوتی رہی تھیں جو قوم پرست اور ترقی پسند سیاسی تحریکوں نے ایک لمبی جدوجہد کے نتیجے میں انہیں فراہم کیا تھا۔ کوئٹہ کے وکلاء کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی فعال سیاسی وابستگیوں میں تھی، وہ نہ صرف باقی پروفیشنل طبقوں سے اس لحاظ سے ممتاز تھے بلکہ سماج کو غیر سیاسی بنانے کی ریاستی پالیسی کے خلاف پیش پیش بھی تھے۔ آمریت کی کوئی بھی شکل ان کو قابلِ قبول نہیں تھی۔ 2007 سے 2008 تک پاکستان میں جو وکلا ء تحریک چلی تھی باقی پاکستان میں وہ مرکزیت کے دائرے میں گھومتی پھرتی رہ گئی تھی لیکن بلوچستان میں اس کی ایک جینوئن اینٹی اسٹیبلشمنٹ شکل تھی جس کی بدولت وہاں کی سیاسی جماعتوں کو اپنی فعالیت کیلئے بھی بڑی گنجائش ملی تھی۔ یہ بذاتِ خود ایک جواب طلب سوال ہے کہ کیوں ملک کی سطح پہ اٹھنے والی احتجاجی تحریکوں کی نظریاتی حقانیت ہمیشہ ضمنی علاقوں تک ہی محدود ہوکے رہ جاتی ہے اور مرکزی علاقوں میں مصلحت پسندی کی ایک ایسی شکل اختیار کرجاتی ہے جس سے صرف سماج کو مزید غیر سیاسی بنانے کا کام لیا جاتا ہے؟ باقی ملک میں جب عدلیہ بحالی کی تحریک سیاسی نظام اور پارلیمان پر غیر منتخب لوگوں کا ہاتھ مضبوط رکھنے کا مقصد حاصل کرگئی تو بلوچستان کے وکلاء کیلئے اپنے صوبے میں ایف سی کی قائم ہونیوالی سلطنت کے تاریخی خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حیثیت اور نصب العین کا ازسرِ نو تعین کرنا لازم ہوچکا تھے۔ کوئٹہ میں خودکش حملے، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ایک سیاسی معمول کی شکل اختیار کرچکا تھا۔ ایف سی والوں نے کوئٹہ شہر کی سماجی اور سیاسی زندگی کو سیکیورٹی کی آگ کیلئے درکار ایندھن کے درجے تک نیچے لایا، باز محمد کاکڑ اور ان کے ساتھی وکلا ء عدالت کے اندر اور باہر اس فوجی پیش قدمی کی روک تھام کیلئے مختلف امکانات سوچتے ہوئے نظر آئے۔وکلاء برادری نے کوئٹہ کے شہری ڈھانچے میں خود کو مقامی آبادی کے ایک مئوثر نمائندہ طبقے کے طور پر ثابت کرنا شروع کیا تھا جس سے سرکاری آبادکاری کا ابھرا ہوا تسلط خطرے میں پڑ گیا تھا۔بلوچ قوم پرستوں کو ایک حد تک قابو میں رکھنے کے بعد غیر آئینی سرکاری آبادکاروں کیلئے اس طبقے کو توڑنا لازمی ہوچکا تھا،جس کے گرد کوئٹہ شہر کی سماجی اور ثقافتی زندگی کی ترقی پسند جہتیں تشکیل پارہی تھیں۔کوئٹہ کی سیکیوریٹائزیشن کے خلاف کوئی ایسی سرگرمی نہیں تھی جس میں وکلاء برادری نے اپنا حصہ ایک نظریاتی اور ذمہ دار پروفیشنل طبقے کے طور پہ ڈالا نہیں تھا۔شہر کے متوسط طبقے کے ایک موثر نمائندے کے طور پر کورٹس کے اوپر اپنی ثقافتی اور نظریاتی بالادستی کو قائم کرتے ہوئے ان وکلا ء نے نہ صرف عدالتوں کو لوکلائز کرنے کے عمل کی بنیاد ڈالی تھی بلکہ سماج میں سیاست کیلئے بھی ایک خاطرخواہ گنجائش ڈھونڈ لائی تھی۔اس وکلا ء برادری جس میں گزشتہ سالوں میں شہید بازمحمد کاکڑ نے بلوچستان بار کونسل کے صدر کی حیثیت سے ایک تاریخی کردار ادا کیا تھا، نے سب سے اہم کام یہ کیا کہ اس نے ملک کے قانونی مین سٹریم میں اپنے صوبے اور لوگوں کی ایک شاندار نمائندگی کو یقینی بنایاتھا اور اس نمائندگی کو حقیقی روح فراہم کرنے کیلئے صوبے کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں کے وکلا کو بھی اپنے وجود اور جدوجہد کا ایک فعال حصہ بنایا تھا۔آسان الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سماج کو توڑ پھوڑ سے بچانے میں وکلا ء کی یہ جاندار موجودگی بڑی مددگار ثابت ہو رہی تھی جس سے سماج کو تحلیل کرنے والی متشدد قوتوں کو ایک انتہائی بڑا خطرہ لاحق ہوچکا تھا۔انہوں نے ہمیشہ ہر اس فرد، گروہ، شے، روایت اور روئیے کو نشانہ بنایا ہے جس کے گرد سماج خود کو بنائے اور چلائے رکھتا ہے۔پے درپے فوج کشیوں اور ساختیاتی تشدد کی مدد سے بلوچستان کی سرزمین کو مضبوط مرکز کا تابع بنانے کے بعد وہاں کے کاروباری اور پیشہ ور طبقات کو قابو کرنے کیلئے ننگے تشدد کا سہارا لیا گیا۔تشدد کا کوئی ایسا طریقہ کار نہیں ہوگا جو کوئٹہ میں استعمال نہیں ہوا ہو۔شہری زندگی کو ایک بڑے عرصے تک فرقہ وارانہ تشدد کے ذریعے بلاک کیے رکھا گیا۔دہشتگردی اور ایف سی کی قوت میں اضافہ ایک ساتھ ایک ا نتہائی فطری تعلق اور راست تناسب میں دیکھا گیا۔کوئٹہ میں سیاست، قبائلیت اور مذہب کی ایک خاص تشریح حکمران طبقے نے ایک منظم پالیسی کے تحت شروع کی کہ جس سے اس شہر اور باقی صوبے میں ہر قسم کے سرکاری اور غیرسرکاری تشدد کو جوازفراہم کیا جاسکتا تھا۔

امیرِ شہر نے الزام دھر دیئے ورنہ
غریبِ شہر کچھ اتنا گناہگار نہ تھا

8 اگست کا واقعہ بلوچستان میں پہلا واقعہ نہیں تھا جو ایف سی کی حکمرانی میں رونما ہوا بلکہ اس سے پہلے لاتعداد ایسے واقعات ہوئے تھے جس سے کوئٹہ شہر کو توڑ پھوڑ کاشکار بنانے والی پالیسی کے خدوخال لوگوں پر واضح ہوئے تھے لیکن 8 اگست کا واقعہ اس لحاظ سے اپنی نوعیت اور بلوچستان کی تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا واقعہ تھا کہ اس میں ایک پوری پروفیشنل کلاس کو جڑ سے اکھاڑ کرکے پھینک دیا گیا اور واقعے کے فوراً بعد کہا گیاکہ یہ انڈیا نے چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور یا سی پیک پر حملہ کیا۔لاشوں کا اس سے بڑا مذاق اڑایا بھی نہیں جاسکتا تھا۔کسی ترقیاتی منصوبے کی اتنی بڑی قیمت چکانے کا کبھی نہیں سنا تھا اور منصوبہ بھی کچھ ایسا جس کا پشتونوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو ا ور بلوچوں کے ساحل اور وسائل پر ایک بڑے استعماری قبضے کا نام ہو۔بلوچ قوم پرست پاکستانی ریاست کے طرف سے لائے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو بلوچستان کو مستعمرہ بنانے کی ایک پالیسی سمجھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر اس کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں قائم شدہ کمیشن نے 8 اگست کے واقعے پر جو رپورٹ دی اس کے ساتھ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ جیسا سلوک کیا گیا ، رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرنے کی بجائے ریاست نے جسٹس فائز عیسٰی کو مقدمات میں گھسیٹنا شروع کیا۔اس ملک میں انصاف کا یہی طریقہ کار ہے جو 70 سالوں سے چلا آرہا ہے۔کوئٹہ اور بلوچستان آج بھی دہشت گردی اور ایف سی کے نرغے میں ہے۔سیکیورٹی سٹیٹ کا یہی تو روزگار ہوتا ہے،چلتا رہے گا،ہمارے پاس سیاسی مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں اور بلوچستان سے فوج اور ایف سی سے اختیارات واپس لیویز اور پولیس کو منتقل کرنا ہمارا بنیادی ہدف ہوسکتا ہے۔

(یہ مضمون روزنامہ شہباز پشاور کے 8 اگست 2022 کے شمارے میں چھپ چکا ہے)
Pashtoon Students Council BZU Multan
Pashtoon Student Council B.Z University Official Pashtoon Students Council IIU Islamabad Pashtoon Educational Council Islamia University of Bahawalpur PEC IUB

Proud moment!PEDC member Advocate Sheikh Taimoor Shahid has penned a thoughtful article in Daily Sahafat on "The Role of...
06/08/2026

Proud moment!
PEDC member Advocate Sheikh Taimoor Shahid has penned a thoughtful article in Daily Sahafat on "The Role of AI in the Pakistani Judicial System".
His creativity and deep interest in modernizing justice truly shines through.
A must-read!

02/08/2026

📢 PEDC Secretaries’ Admission Awareness Campaign – Balochistan

The PEDC Secretaries have launched an admission awareness campaign for students across Balochistan who wish to apply to The Islamia University of Bahawalpur (IUB).

As part of this initiative, the PEDC Secretaries are:

* Guiding students through the IUB admission process.
* Providing information about eligibility, programs, and admission procedures.
* Displaying admission awareness posters across Quetta to help students access higher education opportunities.

Our mission is to ensure that every deserving student from Balochistan has the information and guidance needed to apply with confidence.

Islamia University of Bahawalpur PakistanPashtoon Students Council IIU Islamabad Punjab University Voices Pashtun Students Council BZU Multan

Merit List Announced!The Islamia University of Bahawalpur has officially announced the 3rd Merit List for Open Merit Adm...
30/07/2026

Merit List Announced!

The Islamia University of Bahawalpur has officially announced the 3rd Merit List for Open Merit Admissions.

Candidates are advised to check their admission status and complete the required formalities within the given deadline.

🔗 Check the 3rd Merit List here: [https://share.google/flJjGd76tdFzXznew]

Wishing all applicants the very best! 🌟

The Directorate of Colleges & Higher Education Balochistan has released the Tentative Merit List for BS 1st & 5th Semest...
30/07/2026

The Directorate of Colleges & Higher Education Balochistan has released the Tentative Merit List for BS 1st & 5th Semester (Session 2026–27).

🔗 Check your merit list here:https://portal.chte.gob.pk/storage/admission/news/2026/Tentative%20Merit%20List%20of%20BS%20Session%202026-27//a14a1f1f2ab16b8dc1fdf1e82a237974.pdf

Best of luck to all applicants! 🍀

📢 Directorate Reserved Seats Test Results Announced🎓 Pashtoon Educational & Development Council (PEDC) in collaboration ...
25/07/2026

📢 Directorate Reserved Seats Test Results Announced

🎓 Pashtoon Educational & Development Council (PEDC) in collaboration with The Islamia University of Bahawalpur congratulates all applicants.

The Directorate Reserved Seats Test Results have been officially announced.

✅ Check your result now by visiting the link below:

🔗 https://bacttests.com/SlipOrResult

We wish all successful candidates the very best for their academic journey. May Allah bless you with success in your studies and future endeavors.

📌 Please share this post with your friends and classmates so everyone can access their results on time.

Directorate of Youth Affairs BalochistanPashtoon Students Council IIU IslamabadPashtoon Student Council B.Z University Official

Address

Islamia University Main Campus Bahawalpur
Bahawalpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pashtoon Educational and Development Council PEDC IUB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Pashtoon Educational and Development Council PEDC IUB:

Shortcuts

Share