ILmlogics

ILmlogics ZOHAIB SANWAL MALIK
-: Educational Consultant

https://youtu.be/eV07dwyZFU8
04/05/2025

https://youtu.be/eV07dwyZFU8

🎯 Physics Secret Paper 2025 | 100% Board Target | Only for Toppers!📘 2nd Year | Class 12 | Punjab Boards📌 Are you preparing for the 12th Class Physics Boa...

انڈس واٹر معاہدہ بھارت یکطرفہ معطلی کا مجاز نہیں، معاہدہ اقوام متحدہ کی تصدیق یافتہ دستاویزات میں شامل ہےبھارت کے وزارت ...
24/04/2025

انڈس واٹر معاہدہ بھارت یکطرفہ معطلی کا مجاز نہیں، معاہدہ اقوام متحدہ کی تصدیق یافتہ دستاویزات میں شامل ہے

بھارت کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کر رہا ہے، بین الاقوامی قوانین اور خود اس معاہدے کی روح کے خلاف ایک سنگین خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے اقوام متحدہ کی ٹریٹی سیریز 1962 کے مطابق انڈس واٹر ٹریٹی کی شق نمبر 4 واضح طور پر کہتی ہے کہ اس معاہدے کو صرف دونوں حکومتوں کے باہمی طور پر طے شدہ معاہدے کے تحت ہی ختم یا تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

معاہدے کے مطابق
“The provisions of this Treaty… shall continue in force until terminated by a duly ratified treaty concluded for that purpose between the two Governments.”

اس تاریخی معاہدے پر 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں دستخط ہوئے، جن میں بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو پاکستانی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور عالمی بینک کے نمائندے نے بطور ضامن دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت دریاؤں کا انتظام دونوں ممالک کی رضا مندی سے طے ہواتھا اور اسے بین الاقوامی قانونی تحفظ حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ [treaties.un.org](https://treaties.un.org) پر موجود اس معاہدے کے مطابق کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ بین الاقوامی قانون اور معاہداتی اصولوں کے منافی ہے اگر بھارت اس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ایک جارحانہ قدم سمجھا جائے گا اور عالمی سطح پر بھارت کو قانونی و سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

F-16 Fighting Falcon (USA) | JF-17 Thunder (Pakistan) | Kfir (Israel) | Tejas (India) | Typhoon (Europe)
26/10/2024

F-16 Fighting Falcon (USA) | JF-17 Thunder (Pakistan) | Kfir (Israel) | Tejas (India) | Typhoon (Europe)

جڑواں بچے کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ زیر نظر تصویر میں دو جڑواں بھائی ہیں ایک تصویر کو دو نہیں کیا گیا ہوا۔ دونوں لڑکوں کے نام ...
12/10/2024

جڑواں بچے کیسے پیدا ہوتے ہیں؟

زیر نظر تصویر میں دو جڑواں بھائی ہیں ایک تصویر کو دو نہیں کیا گیا ہوا۔ دونوں لڑکوں کے نام جوش اور جیرمی ہیں۔ اور دونوں لڑکیاں جو جڑواں بہنیں ہیں کے نام برٹنی اور بریانہ ہیں۔ لڑکوں کی سٹیٹ اوہائیو ہے اور لڑکیاں امریکی ریاست ورجینیا سے ہیں۔ دونوں بھائیوں کی عمر 35 سال اور بہنوں کی عمر 33 سال ہے۔ یہ دونوں جوڑے Twinsberg نامی ایک امریکی تہوار کے دوران 2017 میں ملے تھے جہاں امریکہ کی تمام ریاستوں سے جڑواں لوگ سال کے ایک خاص دن اکٹھے ہوتے ہیں آپس میں تعلقات بناتے ہیں۔ دونوں ہم شکل بھائیوں نے دونوں بہنوں کو پسند کر لیا۔ اور دو فروری یعنی 2-2 کو ہی دونوں بہنوں کو ٹوینز برگ میں ایک جیسے نیلے لباس میں کسی بہانے بلوا کر سرپرائز دیتے ہوئے پرپوز کیا جسے دونوں بہنوں نے بخوشی قبول کر لیا۔ اب یہ دونوں جوڑے میاں بیوی ہیں اور والدین بھی بن چکے ہیں۔ دونوں جوڑوں کے پاس ایک ایک بیٹا ہے۔

ان کی شادی دنیا بھر کے اخباروں میں دلچسپ سرخیوں کی زینت بنی تھی۔ مجھے تب سے تجسس تھا جڑواں بچوں پر پڑھوں اور پھر لکھوں۔ اب تین سال جاکر اس موضوع کی باری آئی۔

جڑواں بچے آخر پیدا ہوتے کیسے ہیں؟ عموماً لڑکیوں کا ری پروڈکٹیو سسٹم مہینے میں ایک بار ایک عدد بیضہ یا انڈہ خارج کرکے رحم میں بھیجتا ہے جسکی عمر 12 سے 24 گھنٹے کے درمیان ہوتی ہے اگر اس عرصے میں بیضے کا ملاپ یا یونین مرد کے نطفے یا سپرم سے ہوجائے تو ایک زائیگوٹ بن جاتا ہے۔ بہت سے جوڑے جب سپرم اور بیضے کی مجموعی صحت ٹھیک ہونے پر بھی والدین نہیں بن پاتے تو وہ ایک عمل سے گزرتے ہیں جسے ڈاکٹر حضرات ZIFT یعنی Zygote intrafallopian transfer کہتے ہیں۔ اگر لڑکی کی فلاپیین ٹیوب سے صحیح سلامت بیضہ رحم میں آنے میں کوئی دشواری ہو تو اس عمل کے دوران ایک سرنج نما آلے سے لڑکی کا بیضہ اووری سے نکال کر مرد کے سپرم لیکر انکو ایک کیپسول نما ڈبی میں ڈال کر انکا یونین کروایا جاتا ہے۔ اور مائیکروسکوپ سے دیکھا جاتا ہے آیا کہ بیضہ اور سپرم زائیگوٹ بن گئے ہیں کہ نہیں۔ اس عمل کو IVF یعنی In Vitro Fertilization کہا جاتا ہے یہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی نہیں ہے وہ ایک اور چیز ہے۔ جب زائیگوٹ بن جائے تو اسے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر لیپرو سکوپی کے زریعے فلاپیین ٹیوب میں داخل کر دیا جاتا ہے جہاں سے یہ قدرتی عمل کے ذریعے رحم میں آکر خون کا لوتھڑا بنتا ہے اور پھر گوشت پوست کا انسان۔ اس عمل پر پاکستان میں 3 سے پانچ لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور یہ بلکل جائز اور حلال طریقہ ہے۔

خیر جب جڑواں بچے ہوتے ہیں تو ماں ایک بیضے کی بجائے دو بیضے خارج کرتی ہے اور دونوں بیضے الگ الگ سپرم سے ملاپ کرکے دو زائیگوٹ بن جاتے ہیں اور نتیجتاً دو بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا کسی وجہ سے ایک ہی بیضہ ٹوٹ کر دو بیضے ہوجاتا ہے اور دو زائیگوٹ بن جاتے اس صورت میں جو جڑواں بچے ہوتے انکی جنس اور شکل ایک ہوتی ہے انہیں Identical Twins کہتے ہیں۔ تصویر میں موجود لڑکے اور لڑکیاں دونوں ایک ہی بیضے سے مزید بنے دو بیضوں سے پیدا ہوئے جڑواں بچے ہیں دونوں اسی وجہ سے ہم شکل ہیں اور انکے جسم قد اور وزن بھی ننانوے فیصد تک ایک جیسے ہیں۔ اگر دو مکمل بیضے فلاپیین ٹیوب خارج کرے تو وہ بچے ہم شکل اور ہم جنس نہیں ہونگے ان کو Non Identical Twins کہتے ہیں۔ اب تک کی تاریخ میں عورت کے ایک حمل میں زیادہ سے زیادہ 9 بیضے خارج ہوئے نو بچے پیدا ہوئے جن میں سے چھ بچوں کو بچا لیا گیا وہ تندرست ہیں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

اسی طرح ایک روسی خاتون نے سترہویں صدی کے اوائل میں 69 بچوں کو 27 بار میں جنم دیا جو سب کے سب زندہ رہے۔ ان میں 16 بار حمل میں اس نے جڑواں بچے پیدا کیے جو 32 بچے تھے۔ سات بار تین تین بچے یک مشت پیدا ہوئے جو 21 بچے تھے۔ اور چار بار چار چار بچے پیدا ہوئے جو 16 بچے تھے۔ ٹوٹل کر لیں کل ملا کر 69 بچے ایک خاتون نے ایک ہی مرد سے پیدا کیے۔ دنیا بھر کے جینیاتی سائنسدانوں نے اس عورت کے جینز پر ریسرچ کی خون کے نمونے لیے اور طرح طرح کے نتیجے نکالے کہ اتنے زیادہ صحت مند بیضے ایک عورت کیسے پیدا کر سکتی ہے۔

اس موضوع پر آج تک ریسرچ ہوتی ہے جینیات کے سٹوڈنٹس اور اساتذہ اس موضوع پر تھیسز لکھتے ہیں آرٹیکل لکھتے ہیں اور عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں مگر وہ سب انگلش میں ہوتا ہے جو پاکستان میں 80 فیصد عوام کی سمجھ سے باہر ہے۔ جنکی سمجھ میں آئے بھی وہ اسے پڑھتے کم ہی ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود سے بھی جڑواں بچے پیدا کیے جا سکتے ہیں؟ تو اسکا جواب ہے جی ہاں

نارملی دنیا بھر میں وہ لڑکیاں جڑواں بچے پیدا کرتی ہیں جو 30 سے 35 سال کی عمر میں حاملہ ہوتی ہیں اور حمل سے پہلے وہ بہت زیادہ ڈیری پراڈکٹس جیسے دودھ دہی پنیر وغیرہ کھاتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر فولیٹ یعنی فولک ایسڈ والی غذاؤں کا استعمال زیادہ کرتی ہیں۔ تیسرے نمبر پر وہ جنسی تعلق کے وقت بہت زیادہ خوش و پر جوش ہوتی ہیں اس پراسس میں انوالو ہو کر انجوائے کرتی ہیں خود بھی آرگیزم حاصل کرتی ہیں یعنی مردوں کی طرح ڈسچارج ہوتی ہیں جو انکا حق ہے۔ چوتھے نمبر پر تھوڑی سی صحت مند یا معمولی سی موٹی لڑکیاں دبلی پتلی لڑکیوں کی نسبت زیادہ جڑواں بچوں کی مائیں بنتی ہیں۔ خیر ان لڑکیوں کے بیضے اتنے طاقتور یا سائز میں بڑے ہوتے کہ یا تو ایک کہ دو ہوجاتے یا ٹیوب سے نکلتے ہی دو ہیں۔ اسی عمر میں ایک لڑکی کی جنسی اشتہا اپنے عروج پر ہوتی ہے اور یہی عمر جڑواں بچوں کی قدرتی پیدائش کے لیے موضوع ترین عمر ہے۔ جڑواں بچوں کی شرح پیدائش 300 میں سے ایک پیدائش ہے۔ پاکستان میں حاملہ ہونے کے بعد لڑکیوں کو پتا چلتا ہیمو گلوبن لیول کیا ہے اور فولک ایسڈ کیا چیز ہے۔ اگر حمل سے پہلے لڑکی خود کو مانیٹر کرے اور پلان کرکے حاملہ ہو تو ممکنہ طور پر جڑواں بچے پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بچے عموماً دوسری یا تیسری پیدائش میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں اگر بچوں کی پیدائش میں تین سال کا وقفہ ہو اور ماں ہر لحاظ سے صحت مند ہو۔

یہاں پڑھے لکھے بھی اکثر جاہل و بیوقوف لوگ تین سال میں تین اپریشن کروا کر اسکی کمر میں تین ٹیکے لگوا کر تین بچے پیدا کرکے بیوی کو عمر بھر کے لیے معذور کر دیتے ہیں وہ باقی عمر روتے ہی گزار دیتی ہے۔ اس موضوع پر مجموعی معلومات بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ حکیموں اور عطائیوں نے سرے سے پھیلائی ہی غلط ہوئی ہیں۔ لوگ جتنا اولاد کے حصول کے لیے مالی و جسمانی استحصال کا شکار ہوتے دنیا کے کسی اور مسئلے کے لیے نہیں ہوتے۔ نام نہاد پیر و دم کرنے والے سادہ لوح خواتین کا علاج کے بہانے ریپ کرتے ہیں حکیم مردوں کے سپرم بڑھانے کی دوائی دے کر ہزاروں و لاکھوں روپے روٹتے ہیں لوگ مسئلے کو مکمل جانے اولاد کے حصول کے لیے بغیر تحقیق دو یا تین شادیاں کر لیتے ہیں میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ان کو کون سمجھائے انکو کون روکے اس ضمن میں آگاہی کیسے میں عام کروں۔

سو فیصد یقینی جڑواں بچوں کی پیدائش کے لیے مصنوعی طریقہ پیدائش یعنی آئی وی ایف کے ذریعے ایک صحت مند بیضے کے دو بیضے بنائے جا سکتے ہیں یا فلاپیین ٹیوب سے نکالے ہی دو بیضے جا سکتے ہیں اور انکا کامیاب ملاپ کروا کر دونوں زائیگوٹ اوور میں رکھ دیے جاتے تو جڑواں ہی بچے پیدا ہوتے۔ آپ نے دو سال قبل سنا ہوگا انڈین فلم ہدایتکار کرن جوہر اور سنی لیون نے IVF کے ذریعے جڑواں بچے پیدا کیے۔ وہ یہی پراسس تھا بیضے اور سپرم کا ملاپ ماں کے پیٹ سے باہر کروایا گیا تھا۔ یہ پاکستان میں بھی ممکن ہے ایسا کرنا بلکل جائز ہے۔ کسی کے پاس پیسے ہوں تو کر سکتا ہے یا خوراک کا پلان بنا کر اس پر تھوڑی سی ریسرچ اور کسی ماہر گائنی ڈاکٹر سے مشورہ کرکے خود کو انڈر ابزرویشن رکھ کے جڑواں بچے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

05/06/2024
08/05/2024

ﺳﯽ _ ﺍﯾﺲ _ﺍﯾﺲ

سی ایس ایس ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮨﮯ ۔
داخلے اکتوبر ، نومبر میں جاتے ہیں ۔
داخلہ فیس 2200 ۔
پیپرز فروری میں ہوتے ہیں ۔
ٹوٹل مارکس 1200 ۔
لازمی مضامین 06 ۔
اختیاری مضامین 06 ۔
لازمی مضامین کے نمبر 600 ۔
اختیاری مضامین کے نمبر 600 ۔

س ایس ایس ایک مقابلے کا امتحان ہے ﺟﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ FPSC ﮐﮯ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﮐﮯ ﺯﯾﺮ نگرانی گریڈ17 ﻣﯿﮟ ﺁﻓﯿﺴﺮ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﯾﮕﺰﻡ ﺳﺎﻝ میںﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮭﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻭﺭ ذہین ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺳﻠﯿﮑﺸﻦ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ انہیں ﺑﯿﻮﺭﻭ ﮐﺮﯾﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﯿﻮﺭﻭ ﮐﺮﯾﺴﯽ حکومتی ﻣﺸﯿﻨﺮﯼ ﭼﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﮍﮪ ﮐﯽ ﮨﮉﯼ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ رکھتی ہے ۔

تعلیمی قابلیت اور عمر کی حد ۔
ہر سال اس امتحان کا اعلان بذریعہ FPSC کیا جاتا ہے ۔
جس میں گریجویشن( آرٹس ، سائنس ، کامرس ، میڈیکل یا انجینئرنگ ) میں سیکنڈ ڈویژن رکھنے والے 21 سے 30 سال کے مرد و خواتین اور خصوصی افراد امتحانات دینے کے اہل ہوتے ہیں ۔ خصوصی افراد کے لیے عمر میں 2 سال کی رعایت ہوتی ہے ۔ اکتوبر ، نومبر ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ درخواست ﻓﺎﺭﻡ بھرے ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ امتحان فرﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

امتحانی مراکز ۔
سی ایس ایس کے امتحانات ملک کے تقریباً 19 شہروں جن
میں ایبٹ آباد، بہاولپور، ڈی جی خان، ڈی آئی خان، فیصل آباد، گلگت، گوجرانوالہ، حیدرآباد، اسلام آباد، کراچی، لاہور، لاڑکانہ، ملتان، مظفر آباد، پشاور، کوئٹہ ، راولپنڈی اور دیگر شامل ہیں میں منعقد ہوتے ہیں ۔

امتحانی طریقہ کار ۔
اس سال سے سی ایس ایس کے امتحان میں بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں ، اب Css امتحانات سے قبل ایک سکرین آؤٹ ٹیسٹ approve کیا گیا ہے. جو 200 نمبر کا ہوگا ہے ۔ جو لوگ اس میں کامیاب ہونگے وہ written ٹیسٹ دے سکیں گے. ٹیسٹ 200 MCQs سوالات پر مشتمل ہوگا جس میں انگلش پاکستان سٹڈیز اسلامیات اور جنرل سائنس+ میتھ میں سے سوالات پوچھے جائیں گے.
لہذا اب امیدوار جو سی ایس ایس کےامتحانات میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اُنہیں پہلے اسکریننگ ٹیسٹ کلیئر کرنا ہوگا ۔
اس کے بعد ہی وہ پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) پورٹل پر درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ درخواست دہندگان اپنی درخواست کی ہارڈکاپی لازمی دستاویزات کے ساتھ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے ہیڈکوارٹر میں MPT ٹیسٹ کلیئر ہونے کے بعد ہی جمع کروا سکتے ہیں ۔

اس کے علاؤہ آپشنل مضمون ریوائز ہو گئے ہیں اور جو لازمی ہیں وہ اسی طرح ہیں۔

امتحان کی اقسام ۔
سی ایس ایس میں 4 ﻗﺴﻢ ﮐﮯ امتحان/ ﭨﯿﺴﭧ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
1 ۔ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ written test
2 ۔ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ psychological test
3 ۔ ﻃﺒﻌﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ medical test
4 ۔ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ vivavoce/interview

ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺮﺍﺣﻞ ﺳﮯ ﮔﺬﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﭖ ‏( ﻣﺎﺭﮐﺲ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ‏) ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﮔﺮﻭﭘﺲ ۔۔1 Districtt Management Group
2. Police Services of Pakistan
3. Custom and Excise
4. Postal group
5. Income tax group
6. Information group
7. Foriegn Services of Pakistan
8. Commerce and Trade
9. Millitary lands and Contonments
10. Office Management group
11. Pakistan Audit and Accounts
12. Railways (commercial & transportation)group

مضامین کی تعداد ۔
امتحان کے مضامین ﮐﻮ ﺩﻭ ﺣﺼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
1 Compulsary subjects
2. Optional subjects

Compulsary subjects : 1. Normal English (precis and composition). عمومی انگریزی 2. English Essay & precie. انگریزی مضمون نویسی3. Pakistan affairs. مطالعہ پاکستان4. islamic studies Or comparative study of Major Religion for Non Muslims . اسلامیات5. Current affairs. حالات حاضرہ6. Everyday Science . روزمرہ سائنس

لازمی مضامین میں پاسنگ نمبر 44 ہوتے ہیں اور اختیاری مضامین میں 33 ہوتے ہیں ۔
لازمی مضامین میں حالات حاضرہ ، مطالعہ پاکستان ، اور روزمرہ سائنس میں اگر نمبر 40 سے کم ہوں لیکن دیگر مضامین میں نمبر زیادہ ہوں اور ایگریگیٹ 120 ہو یا اس سے زیادہ ہو تو بھی پاس ہوگا ۔

ﺁﭘﺸﻨﻞ یعنی اختیاری مضامین کی تعداد تقریباً 55 ہے جو سات گروپ پر مشتمل ہیں اور جس میں سے 6 منتخب کرنے ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﭙﺮﺯ 100 ﻣﺎﺭﮐﺲ ﮐﮯ ہوتے ﮨﯿﮟ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﭨﻮﭨﻞ ﻣﺎﺭﮐﺲ 1200 ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ اﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﮐﮯﻟﮱ %50 ﻣﺎﺭﮐﺲ ﺣﺎﺻل ﮐﺮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﯿﮟ۔آﭘﺸﻨﻞ ﺳﺒﺠﯿﮑﭩﺲ ﮨﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎئی ﺍﺳﮑﻮﺭﻧﮓ ﺳﺒﺠﯿﮑﭩﺲ
ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻠﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺫﮬﺎﻧﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺎ جائے
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺒﺠﯿﮑﭩﺲ منتخب ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ کو پسند ہوں ،ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮨﻮ، اور کافی حد ان پر عبور ہو ۔ ۔ ۔

14/02/2024

طالب علموں کے لئے 10 ہزار الیکٹرک بائیکس !
پنجاب کابینہ نے سموگ میں کمی کیلئے اقدام اٹھاتے ہوئے 10ہزار طلباء و طالبات کو آسان شرائط پربلاسود الیکٹرک بائیکس دینے کی منظوری دے دی۔
پنجاب بینک کے تعاون سے10ہزار الیکٹرک بائیکس بلاسود آسان شرائط پر دی جائیں گی۔ 7ہزارالیکٹرک بائیکس طلباء جبکہ 3ہزارالیکٹرک بائیکس طالبات کودی جائیے گی

*    announced  *
11/02/2024

* announced *

25/01/2024

9th physics pairing shceme 2024

25/01/2024

9th chemistry pairng scheme 2024

Address

Bahawalpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ILmlogics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to ILmlogics:

Share