ِDepartment of Urdu

ِDepartment of Urdu Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ِDepartment of Urdu, College & University, Govt. Graduate College, Bhalwal.

15/01/2024

برصغیر کے مشہور اور عظیم اردو شاعر منور رانا کا انتقال ہوگیا۔
دنیائے اردو زبان و ادب سوگوار
منور رانا کا تعارف
تخلص :'منور رانا'
اصلی نام :سید منور علی
پیدائش :یکم نومبر 1952
وفات: 14 جنوری 2024
رشتہ داروں :عباس علی خاں بیخود (استاد), والی آسی (استاد)

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

غزل دیکھیے
منور رانا کا حقیقی نام سید منور علی ہے۔ وہ ۲۶؍ نومبر، ۱۹۵۲ کو اتر پردیش کے مردم خیز خطے رائے بریلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید انور علی اور والدہ کا نام عائشہ خاتون ہے۔ منور رانا نے اپنی ابتدائی تعلیم شعیب ودھیالیہ اور گورنمنٹ انٹر کالج، رائے بریلی سے حاصل کی۔ اس کے آگے کی تعلیم کے لیے انھیں لکھنؤ بھیج دیا گیا جہاں ان کا داخلہ سینٹ جانس ہائی اسکول میں ہوا۔ قیام لکھنؤ کے دوران انھوں نے وہاں کے روایتی ماحول سے اپنی زبان و بیان کی بنیادیں پختہ کیں۔ اس کے بعد ان کے والد نے، جو روزگار کے پیش نظر کلکتہ منتقل ہوگئے تھے، انھیں ۱۹۶۸ میں کلکتہ بلا لیا، جہاں انھوں نے محمد جان ہائر سیکنڈری اسکول سے ہائر سیکنڈری کی تعلیم مکمل کی اور گریجویشن کی ڈگری کے لیے کلکتہ کے ہی امیش چندرا کالج میں بی کام کے لیے داخلہ لے لیا۔

منور رانا کی ادبی شخصیت کو پروان چڑھانے میں لکھنؤ کے ماحول کے علاوہ خاص طور پر ان کے ادب نواز دادا مرحوم سید صادق علی کا گہرا اثر رہا جو ان سے عہد طفلی میں دوسروں کی غزلیں باقاعدہ پڑھوایا کرتے تھے تاکہ ادب میں ان کی دلچسپی بڑھے اور انھیں تحریک ملے، جس نے آگے چل کر حقیقت کا روپ دھار لیا۔ شاید اسی ریاضت کا ثمرہ ہے کہ آج بھی منور رانا کو ہزارہا اشعار ازبر ہیں۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی فلم اور شاعری ان کی کمزوری رہی۔ پہلے پہل وہ شاعری سے ازحد متاثر تھے لیکن عہد شباب میں اپنے مزاج کی ناہمواری کے باعث ان کی آنکھیں فلم کی مصنوعی چمک دمک سے چکاچوند ہوگئیں۔ لہذا وہ فلم کی طرف مائل ہوگئے۔ اور فلم سے وابستگی کی ٹھان لی۔ جس کی شروعات انھوں نے فلمی اداکاروں کی آوازوں کی نقالی سے کی۔ اس عمل میں منور رانا کئی فلمی اداکاروں کی آوازیں نقل کرنے میں ماہر ہوگئے لیکن فلم اسٹار شتروگھن سنہاکی آواز کی نقل اس حد تک کرنے لگے کہ حقیقت کا گمان ہونے لگا اور انھیں ’’کلکتہ کا شتروگھن سنہا‘‘ بھی کہا جانے لگا۔ انہیں دنوں منور رانا نے کچھ افسانے اور منی کہانیاں بھی لکھیں جو کئی مقامی اخباروں میں شائع ہوئیں۔ چونکہ ان کے سر پر فلم کا آسیب سوار تھا لہذا وہ ڈراموں کی طرف راغب ہوگئے۔ اس طرح ۱۹۷۱ میں انھوں نے اپنا پہلا ڈراما ’’جئے بنگلا دیش‘‘ کلکتہ کے ہومیوپیتھی کالج میں منعقدہ سہ لسانی ڈراما مقابلے کے لیے نہ صرف تحریر کیا بلکہ اس کی ہدایت کاری بھی انجام دی اور جسے انعام یافتہ بھی قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے پرتھوی راج اور آغا حشر کاشمیری کے کئی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ بالخصوص سجن کمار کی زیر ہدایت آغا حشر کاشمیری کا ڈراما ’’ آنکھ کا نشہ‘‘ میں بینی پرشاد کے مرکزی کردار میں ان کی اداکاری اتنی پسند کی گئی کہ اس ڈراما کے کئی کامیاب شوز منعقد کیے گئے۔ بالآخر انھوں نے فلم اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر جوگندر کی ایک فلم ’’گیتا اور قرآن‘‘ کے لیے کہانی لکھ کر ہی دم لیا، جس کا ٹائٹل اندراج بھی ہوا تھا لیکن کسی وجہ سے یہ فلم نہ بن سکی۔ اس ناکامی کا یہ نتیجہ نکلا کہ ان کے سر سے فلم کا آسیب ہی اتر گیا اور وہ مغربی بنگال کی تاریخ شاعری کی زندہ روایات کا مستحکم عزم لے میدان شاعری میں آگئے اور اس فن میں غزل کو انھوں نے اپنا وسیلۂ اظہار بنایا۔ گلستان شاعری میں سید منور علی نے خود کو ۷۰۔۱۹۶۹ میں قلبی واردات ، احساسات اور جذبات کی چنگاری سے ’’منور علی آتش‘‘ بن کر متعارف کرایا۔ اس طرح میدان شعروسخن کے ابتدائی دنوں میں وہ پروفیسر اعزازؔ افضل کے حلقۂ تلمذ میں شامل ہوگئے اور ان سے اکتساب فیض کرتے ہوئے اپنی شعلہ بیانی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ہرچندکہ انھوں نے اپنی عمر کے سولہویں سال میں پہلی نظم کہی جو محمد جان ہائر سیکنڈری اسکول کے مجلے میں چھپی لیکن بحیثیت شاعر ان کی پہلی تخلیق ۱۹۷۲ میں منور علی آتش کے نام سے کلکتہ کے ایک معیاری رسالہ ماہنامہ ’’شہود‘‘ میں شائع ہوئی۔ آگے چل کر منور رانا نے نازش پرتاپ گڑھی اور رازؔ الہٰ آبادی کے مشوروں سے اپنا تخلص بدلا اور ’’منور علی شاداں‘‘ بن کر غزلیں کہنے لگے۔ بعد ازاں انھوں نے جب والی آسیؔ سے شرف تلمذ حاصل کیا تو ان کے مشورے سے ۱۹۷۷ میں ایک مرتبہ پھر اپنا تخلص بدلا اور ’’منورؔرانا‘‘ بن گئے۔ اس طرح سید منور علی کو منور علی آتش سے منور علی شاداںؔ اور پھر منور رانا بننے تک پورے نو سال کا عرصہ لگ گیا۔ اس مدت میں انھوں نے مشق سخن جاری رکھی اور اپنی فکر کی پرواز کو اوج کمال تک پہنچایا۔

منور رانا کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ وہ جس موضوع کو اپنے اشعار کے سانچے میں ڈھالتے ہیں اسے بڑی دلیری اور برجستگی سے پیش کرتے ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اظہار خیال کے لیے اپنی غزلوں کے الفاظ و بیان میں ملمع سازی سے کام نہیں لیتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کے تجربات ، حادثات اور عصر حاضر کے مشاہدات کو نہایت سلیقے اور جرأت مندی سے قارئین و سامعین تک اپنے اشعار کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ شاید یہی خصوصیت ان کی کامیاب شاعری کی ضامن ہے۔ منور رانا کی شاعری کے عمیق مطالعے سے یہ نتیجہ بآسانی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی شاعری مقدس رشتوں کی پاکیزگی اور احترام سے عبارت ہے۔ دنیا کے تمام رشتوں میں ’’ماں‘‘ کے رشتے کو نہایت مقدس اور پاکیزہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ منور رانا کا بھی اس رشتۂ عظیم سے نہ صرف دلی لگاؤ ہے بلکہ گہری انسیت بھی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ محبت کے جذبوں کا اظہار آسان نہیں ہوتا لیکن منور رانا نے اس جذبے کا بھی خوب اظہار کیا ہے اور ہر ممکن موقعے پر ’’ماں‘‘ کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے اپنے اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے۔ منور رانا نے جس کثرت سے اپنی شاعری میں لفظ ’’ماں‘‘ کا استعمال کیا ہے، ان کے معاصر شعرا میں کسی اور نے نہیں کیا ہے۔ شاعری کے علاوہ منور رانا کی ایک بڑٰی خصوصیت ان کی تیکھی، دھاردھار، لطیف و دل پذیر اور رواں دواں نثرنگاری بھی ہے۔ وہ اپنی خداداد شعری صلاحیتوں کی طرح نثر لکھنے پر بھی ید طولیٰ رکھنے والے ایسے قلم کار ہیں جو انشائیہ اور خاکہ نگاری کے میدان میں بھی اپنے ہم عصر لکھنے والوں سے کہیں آگے ہیں۔ ان کے انشائیوں کے مجموعے بغیر نقشے کا مکان، سفید جنگلی کبوتر اور خاکوں کا مجموعہ ’’چہرے یاد رہتے ہیں‘‘ اردو نثری ادب میں کبھی فراموش نہ کی جانے ولی تخلیقات ہیں۔ منور رانا کئی اہم اداروں سے وابستہ رہے اور مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے جن میں اتر پردیش اردو اکادمی کے سابق صدر، والی آسی اکیڈمی کے چیئرمین اور رکن مجلس انتظامیہ مغربی بنگال اردو اکادمی جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اردو روزنامہ مسلم دنیا، لکھنؤ اور ہندی ہفت روزہ ’جن بیان‘ لکھنؤ کی ادارت سے منسلک رہے۔ ان کی مطبوعات درج ذیل ہیں۔

اردو شعری مجموعے:
نیم کا پھول (۱۹۹۳)، کہو ظل الٰہی سے (۲۰۰۰)،منور رانا کی سو غزلیں (۲۰۰۰)، گھر اکیلا ہوگا(۲۰۰۰)، ماں (۲۰۰۵)، جنگلی پھول (۲۰۰۸)، نئے موسم کے پھول (۲۰۰۹)، مہاجر نامہ (۲۰۱۰)، کترن میرے خوابوں کی (۲۰۱۰)

ہندی شعری مجموعے:
غزل گاؤں ( ۱۹۸۱)، پیپل چھاؤں( ۱۹۸۴)، مور پاؤں(۱۹۸۷)، سب اس کے لیے(۱۹۸۹)، نیم کے پھول (۱۹۹۱)، بدن سرائے(۱۹۹۶)، گھر اکیلا ہوگا(۲۰۰۰)، ماں (۲۰۰۵)، پھر کبیر(۲۰۰۷)، شادابہ(۲۰۱۲)، سخن سرائے (۲۰۱۲)۔

نثری تصانیف:
بغیر نقشے کا مکان(۲۰۰۰)، سفید جنگلی کبوتر(۲۰۰۵)، چہرے یاد رہتے ہیں(۲۰۰۸)، ڈھلان سے اترتے ہوئے، پھنک تال

اعزازات:
رئیس امروہوی ایوارڈ، رائے بریلی، بھارتی پریشد پریاگ ایوارڈ، الہٰ آباد، مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی ایوارڈ، سرسوتی سماج ایوارڈ، بزم سخن ایوارڈ، میر تقی میر ایوارڈ، شہود عالم آفاقی ایوارڈ، غالب ایوارڈ، الہٰ آباد پریس کلب ایوارڈ، کویتا کا کبیر سمان و اپادھی، امیر خسرو ایوارڈ، جنگ ایوارڈ،کراچی، ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ، سلیم جعفری ایوارڈ، مولانا ابوالحسن ندوی ایوارڈ، استاد بسم اللہ خاں ایوارڈ، کبیر ایوارڈ، حضرت الماس شاہ ایوارڈ، ایکتا ایوارڈ، میر ایوارڈ وغیرہ۔

آج - یکم؍جنوری 1914نظم و نثر نگار، طنز و مزاح کے مقبول اور مشہور شاعر ” #ضمیرؔ_جعفری صاحب“ کا یومِ ولادت...  نام اور  #ض...
31/12/2023

آج - یکم؍جنوری 1914

نظم و نثر نگار، طنز و مزاح کے مقبول اور مشہور شاعر ” #ضمیرؔ_جعفری صاحب“ کا یومِ ولادت...

نام اور #ضمیرؔ تخلص تھا۔
یکم؍جنوری 1914ء کو پیدا ہوئے۔ آبائی وطن چک عبدالخالق ، ضلع جہلم تھا۔ اسلامیہ کالج، لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔فوج میں ملازم رہے اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ راول پنڈی سے ایک اخبار ’’بادشمال‘‘ کے نام سے نکالا۔ کچھ عرصہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سے منسلک رہے۔ پاکستان نیشنل سنٹرسے بھی وابستہ رہے۔ ضمیر جعفری دراصل طنزومزاح کے شاعرتھے۔کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے سنجیدہ اشعار بھی کہہ لیتے تھے۔ یہ نظم ونثر کی متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ 17؍مئی 1999ء کو نیویارک میں انتقال کرگئے۔ تدفین ان کے آبائی گاؤں چک عبدالخالق میں ہوئی۔ ان کی مطبوعہ تصانیف کے نام یہ ہیں:
’’ کار زار‘‘، ’’لہو ترنگ‘‘، ’’جزیروں کے گیت‘‘، ’’من کے تار‘‘ ’’مافی الضمیر‘‘، ’’ولایتی زعفران‘‘، ’’قریۂ جاں‘‘، ’’آگ‘‘، ’’اکتارہ‘‘، ’’ضمیریات‘‘۔
اہم نثری مزاحیہ ادب پر مبنی کتاب "اڑتے خاکے" کے عنوان سے شائع ہوئی۔
بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:50

🦋 پیشکش : اعجاز زیڈ ایچ

✧◉➻══════════════➻◉✧

🌸 مشہور مزاح نگار ضمیرؔ جعفری صاحب کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت... 🌸

ان کا دروازہ تھا مجھ سے بھی سوا مشتاق دید
میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھلا
---
ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں
---
بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
وفائے دوستاں بہرِ مشقت ساتھ چلتی ہے
---
درد میں لذت بہت اشکوں میں رعنائی بہت
اے غمِ ہستی ہمیں دنیا پسند آئی بہت
---
ہنس مگر ہنسنے سے پہلے سوچ لے
یہ نہ ہو پھر عمر بھر رونا پڑے
---
اب اک رومال میرے ساتھ کا ہے
جو میری والدہ کے ہاتھ کا ہے
---
آشیاں کے ساتھ پوری زندگی بدلی گئی
کم نظر سمجھے کہ مشتِ بال و پر کی بات ہے
---
اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھے
اک شخص تھا کہ مل نہ سکا عمر بھر مجھے
---
ابھی کچھ دیر ہے شاید مرے مایوس ہونے میں
ابھی کچھ دن فریب رہنما کو دیکھتا ہوں میں
---
یوں قتلِ عام نوعِ بشر کر دیا گیا
راسخ طبیعتوں ہی میں ڈر کر دیا گیا
---
ہم اگر دشتِ جنوں میں نہ غزل خواں ہوتے
شہر ہوتے بھی تو آواز کے زنداں ہوتے
---
یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں
حقیقت کی ضد اعتقادات ہیں
---
گا رہا ہوں خامشی میں درد کے نغمات میں
بن گیا اک ساحل ویراں کی تنہا رات میں
---
ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں
---
مدت کے بعد اس نے سرِ انجمن ضمیرؔ
دیکھا نگاہِ عام سے اور خاص کر مجھے

◆ ▬▬▬▬▬▬ ✪ ▬▬▬▬▬▬ ◆

🌹 ضمیرؔ جعفری 🌹

✍️ انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ

آج - 18؍دسمبر 1973عالم اسلام کے عظیم خطیب، عالم دین اور قادر الکلام شاعر ” #علّامہ_رشیدؔ_ترابی صاحب“ کا یومِ وفات...  کا...
18/12/2023

آج - 18؍دسمبر 1973

عالم اسلام کے عظیم خطیب، عالم دین اور قادر الکلام شاعر ” #علّامہ_رشیدؔ_ترابی صاحب“ کا یومِ وفات...

کا اصل نام تھا۔
وہ حیدرآباد دکن میں 09؍جولائی 1908ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری‘ آغا محمد محسن شیرازی، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔ علامہ رشید ترابی نے 10 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے ممتاز ذاکر مولانا سید غلام حسین صدر العلماء کی مجالس میں پیش خوانی شروع کردی تھی۔ سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عنوان مقرر کرکے تقاریر کرنا شروع کیں۔ تقاریر کا یہ سلسلہ عالم اسلام میں نیا تھا اس لیے انہیں جدید خطابت کا موجد کہا جانے لگا۔ 1942ء میں انہوں نے آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر جو تقاریر کیں وہ ان کی ہندوستان گیر شہرت کا باعث بنیں۔ علامہ رشید ترابی اس دوران عملی سیاست سے بھی منسلک رہے اور قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کے پلیٹ فارم پرفعال رہے۔قائد اعظم کی ہدایت پر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1940ء میں حیدرآباد (دکن) کی مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ 1949ء میں علامہ رشید ترابی پاکستان چلے گئے وہاں انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو ذکرِ حسین کے لیے وقف کردیا۔ انہوں نے 1951ء سے 1953ء تک کراچی سے روزنامہ "المنتظر" کا اجرا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے حیدرآباد دکن سے بھی ایک ہفت روزہ انیس جاری کیا تھا۔ 1957ء میں ان کی مساعی سے کراچی میں 1400 سالہ جشن مرتضوی بھی منعقد ہوا۔ علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ’’شاخِ مرجان‘‘ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں ” طب معصومین“،” حیدرآباد کے جنگلات“، اور” دستور علمی و اخلاقی مسائل “ بھی شائع ہوچکی ہیں۔
علامہ رشیدؔ ترابی، 18؍دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔

یہ تیرے ذکر کی عطا ذکرِ رشید ہے یہاں
سب کو میں یاد رہ گیا صدقے تیری یاد کے

🌹✨ پیشکش : اعجاز زیڈ ایچ

*፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤*

💐 ممتاز شاعر علامہ رشیدؔ ترابی صاحب کے یوم وفات پر منتخب کلام بطور خراجِ عقیدت... 💐💐

ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر
ویرانہ جو ہوتا کوئی گلشن کے برابر

کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت
سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر

میں دام پہ گرتا نہیں اے ذوقِ اسیری
ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر

میں بھول نہ جاؤں کہیں انجامِ تمنا
بجلی بھی چمکتی رہی خرمن کے برابر

کیا لطف اندھیرے کا ، اجالے میں تو آؤ
پھر داغ نظر آئیں گے دامن کے برابر

اتنی تو محبت ہو کہ جتنی ہے عداوت
میزان میں ہر دوست ہو دشمن کے برابر

لازم ہے اندھیرے کا اجالا وہ کہیں ہو
تاریک ہے اک رخ مہِ روشن کے برابر

بس طور جلا اور ادھر غش ہوئے موسٰیؑ
لوگ اور بھی تھے وادیِ ایمن کے برابر

اب جائے جہاں قافلۂ دہر ترابی
رہبر نظر آتا رہے رہزن کے برابر

✦•───┈┈┈┄┄╌╌╌┄┄┈┈┈───•✦

ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا
جسے یہ بات میسر ہوئی خجل نہ ہوا

گزر چلا مَن و تُو سے فضائے ہُو کا حریف
بشر وہی جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہوا

یہ اور بات ہے ظالم کی نیند اُڑ جائے
ارودتاََ مرا نالہ کبھی مُخل نہ ہوا

شکونِ فکر ، سکونِ نظر ، سکونِ حیات
خمیرِ زیست ان اجزا پہ مشتمل نہ ہوا

جو زخم دل پہ لگے ، مٹ گئے مگر غمِ دوست
مری حیات ہے یہ زخم ، مُندمل نہ ہوا

بہار میں بھی نہ تھا ناز دل کی قوت پر
خزاں کے دور میں بھی قلب مضمحل نہ ہوا

سکونِ دل نہ ملا دولتیں مہیا کیں
بہت تھے اہلِ دول ایک اہلِ دل نہ ہوا

اثر پذیر وہ قصہ ہے جس میں درد بھی ہو
بغیرِ درد کوئی کیف منتقل نہ ہوا

ضدیں تمام زمانے کی اک جگہ کر دیں
مذاق ہو گیا ہستی کا میرا دل نہ ہوا

خطایہ تھی کہ جھنجھوڑا ہے خود پرستوں کو
رشیدؔ ایسی خطاؤں پہ منفعل نہ ہوا

●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●

🌸 علّامہ رشیدؔ ترّابی 🌸

25نومبر خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن
24/11/2023

25نومبر
خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن

23/11/2023

السلام علیکم !اپ سب کو اطلاع دی جاتی ہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے پنجاب بھر کے کالجز میں بچوں کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے جمعہ اور ہفتہ کی چھٹیاں بسلسلہ سموگ اناؤنس کر دی گئی ہیں۔ لہذا گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھلوال بتاریخ 24 ،25 نومبر 2023 ء بروز جمعہ اور ہفتہ بند رہے گا۔
پرنسپل
گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھلوال۔

پروین شاکر 24نومبر 1952ءکو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ان کے والد کا نام شاکر حسین تھا۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ ل...
23/11/2023

پروین شاکر 24نومبر 1952ءکو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ان کے والد کا نام شاکر حسین تھا۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔
1970ءمیں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا، اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعراءکرام میں ہونے لگا، اپنی اولین کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی پروین کی شاعری ادبی رسالوں کے ذریعے اپنے مداح پیدا کر چکی تھیں۔ خوشبو کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پہلی اشاعت کے چھ ماہ بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی، اور انکار شائع ہوئے، ان کے کلام کی کلیات ماہ تمام بھی شائع ہو چکی ہے، جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔ آج بھی اردو کی مقبول ترین شاعرہ سمجھی جاتی ہیں۔ پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کیے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والاآدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کا صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سر فہرست تھے۔ 26دسمبر 1994ءکوملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں وفات پاگئی ہیں.

انتخاب
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
🌹🌹🌹
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی
جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
🌹🌹🌹
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے
بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے
اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں
یہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے
ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نے
معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے
🈴یرازی
مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
دستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے
برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پر
اک عمر مرے کھیت تھے جس ابر کو ترسے
کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
محنت مری آندھی سے تو منسوب نہیں تھی
رہنا تھا کوئی ربط شجر کا بھی ثمر سے
خود اپنے سے ملنے کا تو یارا نہ تھا مجھ میں
میں بھیڑ میں گم ہو گئی تنہائی کے ڈر سے
پتھرایا ہے دل یوں کہ کوئی اسم پڑھا جائے
یہ شہر نکلتا نہیں جادو کے اثر سے
نکلے ہیں تو رستے میں کہیں شام بھی ہوگی
سورج بھی مگر آئے گا اس رہ گزر سے

🌹🌹🌹
انتخاب
سید تفضیل حسین شیرازی
لیکچرار شعبہ اردو
گورنمنٹ گریجویٹ کالج، بھلوال

Address

Govt. Graduate College
Bhalwal
40410

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ِDepartment of Urdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share