19/06/2026
چین نے پچھلے چند سالوں میں اپنی یونیورسٹیوں کے بارہ ہزار سے زائد پروگرامز ختم یا معطل کر دیے۔
یہ خبر بظاہر تعلیم سے متعلق ہے، مگر اصل میں یہ مستقبل کی خبر ہے۔
چین وہ ملک ہے جو پچاس سال آگے دیکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ یہ فیکٹری لگاتا ہے تو پوری سپلائی چین بدل دیتا ہے۔ یہ سڑک بناتا ہے تو پورا شہر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میں قدم رکھتا ہے تو دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی حکمت عملی بدلنے لگتی ہیں۔
اب یہی چین اپنی یونیورسٹیوں میں بیٹھ کر یہ دیکھ رہا ہے کہ کون سا علم آنے والے وقت میں کام آئے گا اور کون سا علم صرف فائلوں، ڈگریوں اور الماریوں میں بند رہ جائے گا۔
اس نے پرانی طرز کے کئی مینجمنٹ پروگرامز کم کر دیے۔ روایتی مارکیٹنگ کے پروگرامز ختم کر دیے۔ پبلک ایڈمنسٹریشن، سیاحت، کچھ زبانوں، فائن آرٹس اور ایسے کئی شعبوں کو محدود کر دیا جن کا مارکیٹ، صنعت اور نئی معیشت سے تعلق کمزور ہو چکا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں کچھ آئی ٹی پروگرامز بھی شامل ہیں۔
یعنی صرف نام کے ساتھ ٹیکنالوجی لگا دینے سے کوئی پروگرام جدید نہیں ہو جاتا۔ اگر اس میں وقت کی ضرورت، صنعت کا تقاضا اور آنے والے کل کی تیاری نہیں ہے تو وہ بھی پرانا ہے۔
چین نے دوسری طرف جن شعبوں کو جگہ دی، وہ زیادہ اہم ہیں۔
مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل فنانس، ڈیجیٹل تجارت، توانائی، زرعی روبوٹس، حیاتیاتی پیداوار، کاروبار میں مصنوعی ذہانت، دماغ اور کمپیوٹر کو جوڑنے والی ٹیکنالوجی۔
آپ صرف ان ناموں کو دیکھ لیں۔
آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ دنیا کا ذہن کس طرف جا رہا ہے۔
ہمارے ہاں آج بھی والدین بچے کو یونیورسٹی میں داخل کرواتے وقت صرف ایک سوال پوچھتے ہیں۔
ڈگری کون سی اچھی ہے؟
یہ سوال اب ناکافی ہو چکا ہے۔
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ یہ ڈگری بچے کو کس قابل بنائے گی؟
کیا وہ چار سال بعد کسی مسئلے کا حل نکال سکے گا؟
کیا وہ کسی کاروبار کو بہتر کر سکے گا؟
کیا وہ کسی نظام کو خودکار بنا سکے گا؟
کیا وہ ڈیٹا سمجھ سکے گا؟
کیا وہ مشینوں کے ساتھ کام کر سکے گا؟
کیا وہ نئی دنیا کی زبان سمجھ سکے گا؟
ہمارے بہت سے بچے چار سال یونیورسٹی میں گزارتے ہیں۔ والدین اپنی جمع پونجی لگا دیتے ہیں۔ گھر والے امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ پھر بچہ ڈگری لے کر نکلتا ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ مارکیٹ کو اس کے مضمون سے زیادہ اس کی صلاحیت چاہیے۔
اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے۔
ہم نے تعلیم کو کاغذ سمجھ لیا ہے۔
تعلیم اصل میں درست سمت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
تعلیم انسان کو بدلتی ہے۔ اس کے سوچنے کا طریقہ بدلتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں ہنر دیتی ہے۔ اس کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے۔ اسے مسئلہ دیکھنے اور حل نکالنے کے قابل بناتی ہے۔
اگر تعلیم یہ سب نہیں کر رہی تو پھر وہ صرف ایک رسم ہے۔
چین نے اپنی رسمیں توڑنا شروع کر دی ہیں۔
اس نے یہ مان لیا ہے کہ ہر پرانا پروگرام مقدس نہیں ہوتا۔ ہر پرانی ڈگری ضروری نہیں ہوتی۔ ہر وہ شعبہ جس کے نام کے ساتھ یونیورسٹی لگی ہو، مستقبل کے لیے مفید نہیں ہوتا۔
پاکستان کو بھی یہی جرات چاہیے۔
ہمیں اپنے بچوں کو وہی پڑھانا ہوگا جو آنے والے وقت میں ان کے ہاتھ مضبوط کرے۔
مصنوعی ذہانت۔
ڈیٹا۔
ڈیجیٹل کاروبار۔
روبوٹکس۔
کمیونیکیشن۔
فنانس ٹیکنالوجی۔
سیلز۔
مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت۔
نظام بنانے اور چلانے کا ہنر۔
یہ نئی دنیا کی بنیادیں ہیں۔
جو قومیں اپنے بچوں کو ان بنیادوں پر کھڑا کر دیں گی، وہ آگے نکل جائیں گی۔
جو قومیں صرف پرانے نصاب، پرانی ڈگریوں اور پرانی سوچ میں الجھی رہیں گی، وہ اپنے نوجوانوں کو صرف انتظار دیتی رہیں گی۔
انتظار نوکری کا۔
انتظار موقع کا۔
انتظار سفارش کا۔
انتظار کسی معجزے کا۔
اور دنیا معجزوں سے نہیں چلتی۔
دنیا تیاری سے چلتی ہے۔
چین تیاری کر رہا ہے۔
ہمیں بھی اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کریں گے یا صرف انہیں ایک اور ڈگری دے کر مطمئن ہو جائیں گے۔