Ujala School

Ujala School شعبہ تعلیم اور اساتذہ کے مسائل اور کارکردگی کو اُجاگر کرنا اور اس شعبہ میں ہونے والی نتی تحقیق سے باخبر رکھنا تاکہ معیارتعلیم بہتر ہو۔

ماہنامہ اُجالا تعلیم کے شعبے کا ترجمان ہے جس کا مقصد ٹیچرز، پبلک سکولز، پرائیوٹ سکولز، تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی این جی اوز کے کام سے اآگاہ کرنا، تعلیم کے شعبے میں ہونے والی ریسرچ سے اآگاہ کرنا۔

01/12/2022

معیاری تعلیم کا فقدان کیوں؟
(قاسم علی شاہ)
نویں صدی عیسوی میں مراکش کا شہر’ فاس‘ دارالحکومت کا درجہ حاصل کر رہا تھا۔ اسی دوران قرویین شہر سے دو بہنیں اس شہر میں پہنچیں اور یہاں انھوں نے رہائش اختیار کی۔ ان کا والد محمد الفہری ایک مالدار ترین انسان تھا جو کچھ عرصے بعد فوت ہوگیا تو دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ جس شہر نے ہمیں پناہ دی ہے اس کی ترقی کے لیے ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔ بڑی بہن فاطمہ کوعلم سے کافی لگاو تھا، اس نے ایک علمی درس گاہ بنانے کا ارادہ کیا اور وراثت میں ملنے والی دولت سے اس منصوبے پر کام شروع کروایا۔ 18سال تک کام جاری رہا، اس دوران فاطمہ اکثر روزے سے رہتی اور اس منصوبے کی مقبولیت کے لیے دعا گو رہتی۔ جب درس گاہ مکمل ہوئی تو اس کا نام ’’جامعۃ القرویین‘‘ رکھا گیا۔ اس درس گاہ میں تفسیر، حدیث، فقہ، طب، ریاضی اور فلکیات کا علم پڑھایا جاتا تھا۔ فاطمہ الفہری کے اخلاص کی برکت تھی کہ کچھ ہی عرصے میں طلبہ جوق در جوق یہاں آنے لگے اور اپنی علمی پیاس بجھانے لگے۔ یہاں پڑھانے والے اساتذہ کا شمار بھی اپنے زمانے کی قابل ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔ ارسطو کے فلسفے کو بہترین انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے والے اور 108 کتابوں کے مصنف ابن رُشد، معروف ادیب اور مورخ قاضی عیاض، تاریخ بانی ابن خلدون اور تصوف کے امام ابن عربی نے یہاں درس و تدریس کا فریضہ نبھایا اور علم کے موتی بکھیرے۔ اسی بنا پر اس درس گاہ کا شمار اپنے وقت کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہونے لگا بلکہ یہ تاثر آج تک قائم ہے اور’’گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘‘کے مطابق یہ دنیا کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ ہے جو آج تک علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔ جامعہ قرویین نے یورپ اور اسلامی دنیا کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی تعلقات کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہاں سے مستفید ہونے والے طلبہ بھی علم اور قابلیت کے ایسے نمونے تھے جنھوں نے دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے۔ معروف غیر مسلم فلسفی موسیٰ بن میمون، معروف جغرافیہ دان محمد الادریسی، یورپ کو عربی اعداد اور صفر کا نظریہ دینے والے پوپ سلویسٹر ثانی، افریقہ کاسب سے مستند نقشہ تیار کرنے والے الوزان، علم میراث کے ماہر العبدری الفاسی، معروف شاعر ابن الخطاب، ماہر فلکیات ابو اسحاق البطروجی، یورپین فلاسفر نیکولاس اور ڈچ مین گولیس وہ لوگ تھے جو جامعہ القرویین سے فارغ التحصیل تھے۔

اس یونیورسٹی نے اپنے قیام سے لے کر آج تک ہزاروں افراد کو علم کے نور سے منور کیا تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہاں پڑھانے والے اساتذہ کے اندر اہلیت تھی ، ان کو اپنے فن اوراپنے میدان سے عشق تھا،وہ نئے دور کے تقاضو ں کو سامنے رکھ کر طلبہ کی تربیت کررہے تھے اور حقیقی معنوں میں نئی نسل کی تربیت کرناچاہتے تھے جبکہ طلبہ بھی سیکھنے میں مخلص تھے ،ان کے اندر کچھ بننے اور زمانے کو بدلنے کا جذبہ تھا۔اپنے اساتذہ کی طرح انھیں بھی اپنے موضوع سے عشق تھا اور اسی وجہ سے مستقبل میں وہ اپنے میدان کے امام بن گئے۔

استاداور طالب کے مضبوط رشتے اورسچی لگن نے علم کامعیارشاندار بنادیا تھااور اسی کی بدولت آج تک ان شخصیات کی قابلیت اور خدمات کی مثالیں دی جاتی ہیں جبکہ آج اگر ہم اپنی تعلیم کا جائزہ لیں تونتائج بڑے مایوس کن نظر آتے ہیں۔ہمارے تعلیمی نظام میں سب سے بڑی کمزوری معیار کی ہے۔اساتذہ کی محنت تنخواہ تک ہے ، طلبہ ڈگری حاصل کرنے اورپیسہ کمانے کے لیے پڑھتے ہیں جبکہ والدین بھی بچوںکو نوکربناناچاہتے ہیں اور ان سب عوامل نے مل کرتعلیم کے معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اسی اہم اور حساس موضوع پر قاسم علی شاہ فاونڈیشن میں ایک مکالماتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں شعبہ تعلیم اور انڈسٹری کے ماہرین کو بلاکر انھیںاس موضوع پر بات چیت کا موقع دیاگیا کہ آج ہم معیاری تعلیم سے محروم کیوں ہیں۔یہ گفتگو بہت ہی مفید رہی اوربڑی بہترین تجاویز سامنے آئیں، جنھیں ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

(1) نصاب کمزورنہیں
عام طورپر کہاجاتاہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھایاجانے والانصاب بہت پرانا ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے ، لیکن اس نشست میں موجودیونیورسٹی پروفیسرز کا کہنا تھا کہ موجودہ نصاب بہترین ہے ، اس کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔اس نصاب میں ایسے بنیادی عوامل ہیں جنھیں سیکھنا طلبہ کے لیے ضروری ہیں اور جنھیں ہم چاہ کر بھی نکال نہیں سکتے۔یونیورسٹی پروفیسرز اچھے انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں اور طلبہ کو جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے ، وہ انھیں سکھایاجارہاہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے فلٹرز ٹھیک نہیں لگوائے۔اس کمزوری کی وجہ سے بہت سارے مسائل بن رہے ہیں۔

(2)رویوں میں تبدیلی
تعلیم معیاری نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں طلبہ کے رویوں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔بیس سال پہلے کے طلبہ محنت کرتے تھے اور فارغ اوقات میں کتاب کو اپناساتھی بنالیتے تھے جبکہ آج ہم نے ترقی کرلی ، سوشل میڈیا نے بہت تیزی سے ہمارے معاشرے میں جگہ بنالی جس کے لیے نہ ہم تیار تھے اور نہ ہی ہماری نئی نسل ۔تربیت کے بغیر سوشل میڈیا کے استعمال سے نئی نسل علم ، کتاب اور محنت سے آہستہ آہستہ دورہوتی گئی۔سوشل میڈیاکی وجہ سے ایک اور چیز بھی آئی۔آج کے جوان خود کواسی کی بنیاد پر متعارف کرواتے ہیں اور کہتے ہیں میرا نام فلاں ہے اور میرے 10 لاکھ فالورز ہیں۔سوشل میڈیا کی عادت نے ان کے رویوں کو بھی بگاڑکررکھ دیاہے۔ موبائل میں کئی گیمز ایسی ہیں جس میں آپ بیٹھے بٹھائے اپنی مرضی سے اپنا گھر بناسکتے ہیں ۔نئی نسل اس چیز کی عادی ہوچکی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ حقیقی زندگی بھی ایسی ہی آسان ہے کہ بٹن دبایااور کام ہوگیا۔یہی وجہ ہے کہ آج کی نسل ہر چیز بڑی جلدی سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔آج کے جوان ڈگری مکمل کرنے کے بعدیہ توقع رکھتے ہیں کہ توپوں کی سلامی کے ساتھ میرا استقبال کیا جائے۔وہ کمپنی کے ایچ آر مینیجر کو فون کرکے کہتے ہیں کہ میں نے فلاں یونیورسٹی سے اس GPAکے ساتھ ڈگری لی ہے، میری تنخواہ کی اتنی ڈیمانڈہے آپ اگر مجھے رکھتے ہیں تو کتنی تنخواہ دیں گے؟اگر اتنا بجٹ ہے تومیں انٹرویو کے لیے آتا ہوں وگرنہ میراٹائم ضائع ہوگا۔اس بگڑے رویے نے تعلیمی نظام اور عملی زندگی میں کئی سارے مسائل کوجنم دیا ہے۔

(3)How to sell your potential
معیاری تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے جو کمزوریاں پیدا ہوئی ہیں ان میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ طلبہ کو ڈگری لینے کے بعد بھی اپنی قابلیت بیچنی نہیں آتی۔ ان کی کمیونیکیشن اورپریزنٹیشن اسکلز کمزور ہوتی ہیں اوریہ چیز ان کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔اس قابلیت سے محروم ہونے کی وجہ سے یہ طلبہ انڈسٹری میں موجود مواقع کو اپنے لیے استعمال کرنانہیں جانتے اوریہی وجہ ہے کہ آج آپ کوبڑے بڑے قابل لوگ بھی رُلتے ہوئے نظر آئیں گے۔

(4)Outcome based education
Outcome based education
ہمیں اپنے نظام تعلیم کو اس سسٹم کے تحت لانا چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی چیز کو اگر طالب علم کے Cognitiveکے پانچ مراحل سے گزارکرسمجھایا جائے تو وہ اس قابل ہوتاہے کہ پھر اپنے حاصل شدہ علم سے کچھ تخلیق کرسکے۔ہماراالمیہ یہ ہے کہ یونیورسٹی میں چوتھے سمسٹر تک بچوں سے پوچھا جاتاہے کہ What is database?۔ Whatکاسوال یاددہانی کے لیے آتا ہے تخلیقیت کے لیے نہیں۔تعلیمی اداروں کواپنے سوالات کو بدلنا پڑے گا تب ہی تعلیم معیاری ہوگی۔

(5)سفارش
آج کے اساتذہ کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ ہم تو جی جان سے پڑھارہے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی طلبہ پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔جب طلبہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ پڑھنے میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے تو ان کاجواب ہوتاہے کہ ڈگری کے بعد ہمیں جوجاب ملے گی وہ ہمارے پڑھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے تعلقات اور سفارش کی بدولت ملے گی۔ان کا والد ، چچاکسی بڑے عہدے پر ہوتاہے اور طالب علم کواس بات کاانتظار ہوتاہے کہ بس مجھے ڈگری مل جائے اور میں پیسے کمانے لگ جاؤں ۔

(6)وزٹنگ لیکچررشپ
ٹیکنالوجی وقت کے ساتھ ساتھ اپ ڈیٹ ہورہی ہے جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ اس طرف دلچسپی نہیں دکھاتے۔ یونیورسٹی اپنے وسائل کے مطابق طلبہ کو رہنمائی دینے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ ناکافی ہوتی ہے۔یونیورسٹی کوچاہیے کہ آئی ٹی انڈسٹری میں موجود تمام ماہرین کووزٹنگ پر مدعو کرے اور انھیں موقع دے کہ وہ طلبہ کو آئی ٹی کی دنیا میں آنے والی نئی جدتوں سے آگاہ کریں۔اس کاوش سے یقینا طلبہ کو فائدہ ہوگا اور آئی ٹی کی تعلیم بھی معیاری ہوگی ۔

(7)بے روزگاری
تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر سال 25ہزار بچے Bsکی ڈگری لے کرفارغ ہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اہلیت رکھنے والے افراد نہیں ملتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ طلبہ کے اندر وہ قابلیت نہیں ہوتی جس کی انڈسٹری کوضرورت ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ انڈسٹری سے جو ڈیمانڈ کرتے ہیں ، اس کے مطابق اپنی خدمات پیش نہیں کرتے۔ان مسائل کی وجہ سے بے روزگاری روزبروز بڑھ رہی ہے۔

(8)قصور ہمارا بھی ہے
ہم اکثر اپنی نئی نسل سے یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کی تربیت میں کمی ہے، انھیں پڑھنے کاشوق نہیں ہے لیکن اس میں کسی حد تک ہمارا بھی قصور ہے۔بحیثیت والدین اوراساتذہ ہم نے مکمل طورپر بچوں کی تربیت کی ذمہ داری نہیں اٹھائی۔آج سے کچھ سالوں پہلے کے اساتذہ بڑے کھلے دل کے ساتھ پڑھاتے تھے اورسوالات کا موقع بھی دیتے تھے لیکن آج کل ایسا نہیں ہورہا۔والدین کی کمزوری یہ ہے کہ انھوں نے بچوں کواکیڈمیوں کے حوالے کردیا، جہاں صرف نمبروں کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے لیکن تربیت کہیں نہیں ہے۔والدین اور اساتذہ دونوں کوپیسے کی دوڑ سے نکل کر نئی نسل کی تربیت کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی وگرنہ ہم اسی طرح اپنی نسل سے شکوہ کررہے ہوں گے۔

(9)انڈسٹری کی جلد بازی
شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے احباب کا انڈسٹری سے یہ گلہ تھا کہ وہ ساتویں سمسٹر میں قابل بچوں کواپنے ہاں نوکری پر رکھ لیتے ہیں ، ان کی ڈگری مکمل ہونے کاانتظار ہی نہیں کرتے کہ کہیں یہ قابلیت کسی اورجگہ نہ چلی جائے۔اس وجہ سے وہ طالب علم اپنی پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دیتا، کیوں کہ وہ پیسے کمانے لگ جاتا ہے اورجب اس عمل کو باربار دہرایا جاتاہے توپھر معاشرے میں قحط الرجال کی کیفیت تو رہے گی۔

(10)موسم گرما کی تعطیلات میں تربیت
ہمارے تعلیمی اداروں میں کچھ عرصہ پہلے تک مختلف ہم نصابی سرگرمیاں ہوتی تھیں،کوئیز مقابلے ہوتے تھے جبکہ اب یہ سلسلہ رُک چکاہے۔اب بچے یونیورسٹی تک پہنچتے ہیں لیکن انھیں ان چیزو ں کا علم نہیں ہوتا۔یونیورسٹی میں بھی سمسٹر پر سمسٹر ہورہے ہوتے ہیں اور طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کی کوئی فکر نہیں کی جاتی۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جب گرمی کی چھٹیاں ہوجاتی ہیں تو اس دوران بھی بچوں کو پڑھانے کوشش کی جاتی ہے جبکہ باہر ممالک میں ان تعطیلات کو تربیت کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔وہاں طلبہ کی قابلیتوں، مہارتوں اور صلاحیتوں پر محنت کی جاتی ہے جبکہ یہاں چھٹیوں میں بھی اس سے کاپیاں رٹوائی جاتی ہیں۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ بچوں کی چھٹیوں کو ان کی مہارت بڑھانے اور شخصیت سازی کے لیے استعمال کریں۔

(11)خوداعتمادی
آج کی نسل میں اگر کچھ کمزوریاں ہیں تو وہیں خوبیاں بھی ہیں۔آج کی نسل اعتماد سے بھرپور ہے لیکن اکثر والدین اور اساتذہ اس چیز کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کو بدتمیزی کا نام دے دیتے ہیں۔حالانکہ اگربچوں کی شخصیت اور ان کے اعتماد کو سمجھاجائے اور اس کو بہتر انداز میں کام میں لایاجائے تو بڑے اچھے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

23/11/2022

غربت اورمال کے غلام
(قاسم علی شاہ)
’’اسکول میں ہمیں پیسوں کے بارے میں کیوں نہیں بتایا جاتا؟‘‘بچے کے سوال نے والد کو چونکادیا۔والد بولا:’’کیوں کہ سرکار ایسا نہیں چاہتی۔‘‘ بچہ دوبارہ بولا:’’تو کیا میں اسکول میں پیسہ کمانے کے بارے میں کبھی نہیں جان سکوں گا؟‘‘والد کے لیے بچے کو سنبھالنا مشکل ہورہا تھا۔ وہ بولا:’’ہمیں نوکری کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور اسی نوکری سے ہمیں پیسے مل جاتے ہیں۔‘‘بچہ زِچ ہو کر ایک بار پھربولا:’’تو پھر میں نوکری کرنے کے بجائے سیدھا پیسے کے بارے میں کیوں نہ سیکھوں؟‘‘اس کا والد سوچوں میں ڈوب گیا، جیسے کہہ رہا ہو ’’ہاں بات تو تمھاری ٹھیک ہے۔‘‘یہ بچہ رابرٹ کیوساکی تھا ۔ اُس کی یہ جستجو اس کو اپنے دوست کے والد کے پاس لے آئی۔ وہ ایک انٹرپرینور تھا جس کو رابرٹ نے ’’رِچ ڈیڈ‘‘ کا نام دیا۔ رابرٹ اس کے دفتر میں کام کرنے لگا البتہ وہ اس شرط کے ساتھ رہنمائی دینے پر آمادہ ہوا کہ وہ رابرٹ کو تنخواہ نہیں دے گا۔’’رِچ ڈیڈ‘‘ کاکہنا تھا کہ جب انسان کوتنخواہ ملتی ہے تو ا س کا ذہن پیسوں کے بارے میں سوچنا بند کردیتاہے ۔‘‘’’رِچ ڈیڈ‘‘کے خیالات نے رابرٹ کوعملی میدان میں بے تحاشا فائدہ دیا۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھتے ہوئے وہ یو ایس نیوی میں بھرتی ہوا،پھر ایک اسٹینڈرڈ آئل میں ’’ٹینکرآفیسر‘‘ کے طورپر کام کرنے لگا۔اس نے 1972ء کی امریکہ ویت نام جنگ میں بھی حصہ لیااور پھر کچھ سالوں بعد اس نے ایک سیمینار میں شرکت کی جس نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔رابرٹ نے اپنی کمپنی شروع کی جو دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوگئی،لیکن حیرت انگیز طورپر کچھ ہی عرصے میں اس کا ساراسرمایا ڈوب گیا۔وہ کنگال ہوگیا۔اس کے بعد اس نے ٹی شرٹ اور بیگز کا بزنس شروع کیا لیکن یہ کمپنی بھی کچھ کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔چوں کہ وہ ان عوامل کو اچھی طرح جان چکا تھا جو بزنس میں نقصان دہ ہوتے ہیں اس لیے وہ لوگوں کو کاروبار میں نقصان سے بچنے کی تدابیر بتانے لگا۔اس کی تجاویز کارگرثابت ہوئیں ا ورکئی سارے لوگوں کاکاروبارترقی کرنے لگ گیا۔1992ء میں اس پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ ایک اچھا لکھاری بھی ہے۔چنانچہ اس نے تصنیف کے میدان میں قدم رکھا اور’’Rich Dad Poor Dad‘‘اور’’Why "A" Students Work for "C" Students‘‘جیسی کتابیں لکھیں جنھوں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کردیے۔انہی کی بدولت آج رابرٹ کیوساکی کوکاروباری دنیا میں ایک گرو کی حیثیت حاصل ہے اور لاکھوں لوگ اس کے خیالات سے مستفید ہورہے ہیں۔رابرٹ کہتاہے:’’ایک غریب انسان بچپن سے غریب نہیں ہوتا، اس کارویہ غریب ہوتاہے۔ غریبی انسان کے الفاظ میں ہوتی ہے۔وہ کہتاہے میرے پاس پیسے نہیں ، میںیہ چیز خرید نہیں سکتااور یہ الفاظ اس کی زندگی کو مزید غریب بنادیتے ہیں کیوں کہ ہم وہی بنتے ہیں جو بولتے ہیں۔یہ ایک طرح سے اپنی غریبی سے فرار ہوتاہے اور یہی وہ جال ہے جس میں دنیا کے اکثر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘

معاشی فراوانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ انسان اپنی زندگی میں چاہے کچھ بھی کرے ، وہ دراصل ’’معاشی آزادی‘‘ کے لیے کررہا ہوتاہے۔نعمتوں کی فراوانی اور سہولیات سے مزین زندگی ہر شخص چاہ رہا ہوتاہے۔آزادی ، انسان کی فطرت ہے ۔وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہ سکتا۔وہ اپنے لیے ایک آزاد زندگی چاہتاہے ۔ایک ایسی زندگی جس کا مالک وہ خود ہو۔جس میں وہ کسی دوسرے کی مرضی پرنہ چلے بلکہ اپنے اصول وقواعدکے مطابق زندگی گزارے ۔وہ زندگی جس میں انتخاب کا اختیار اس کے اپنے ہاتھ میں ہو ، وہ زندگی جس میں فیصلے کا حق اس کے پاس ہو۔

معاشی آزادی کی یہ کوشش انسان کی بچپن سے شروع ہوتی ہے۔خود میرے اور آپ کے بچپن میں کئی سارے ایسے واقعات ہیں جن میں ہم کہتے ہیں کہ جب میں بڑ اہوجائوں گاتو میں فلاں فلاں چیزخریدوں گا۔دراصل یہ اسی معاشی آزادی کی طرف اشارہ ہوتاہے۔تعلیم کا سفر شروع ہوتاہے تو وہاں بھی بار بار بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ اچھے نمبر لو ، تاکہ تمھیں اچھی نوکری ملے اور تم کامیاب انسان بن جائو۔ اسکول سے کالج او رپھر یونیورسٹی تک اس سارے سفر میں دو ہی چیزیں ذہن میں ہوتی ہیں:’’ اچھے نمبرلینا اور اچھی نوکری حاصل کرنا۔عملی زندگی میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی ایک بار پھر یہ سوچ دماغ میںبسیراکرلیتی ہے کہ میں نے اتنے پیسے کمانے ہیں کہ جس کے بعد میں معاشی طورپر آزاد انسان بن جائوں ۔میں اپنے لیے ایک اچھا گھر بنائوں ، میرے پاس قیمتی گاڑی ہواور میں ایک ایسی پوزیشن پر پہنچ جائوں جہاں مجھے مالی طورپر پریشان نہ ہونا پڑے ۔میں کہیں بھی جاسکوں ، کسی بھی ریسٹورنٹ میں کھانا کھاسکوں اوردنیا کی ہرنایاب نعمت چکھ سکوں ۔

اس مقام تک پہنچنے کے لیے سخت محنت اور بڑی سے بڑی قربانی دیتاہے۔نوکری کے دوران مشکل حالات ، اصول وضوابط کی پابندی ، ٹائم کی قید ،باس کا سخت رویہ اور موسم کی سختیاں وہ اسی لیے برداشت کرتاہے کہ ایک دن آئے گاجب میں معاشی آزادی حاصل کرلوں گا۔اپنے کاروبار میں دن رات کی محنت ، لمبی فکریں، پریشانیاں ، خطرات اور اپنی نیندتک قربان کرنابھی اسی لیے ہوتاہے کہ میں ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جائوں جہاں مجھے مکمل معاشی آزادی حاصل ہو اور میں زندگی کو بھرپور انداز میں جی سکوں ۔

خوشحالی کامطلب دراصل یہ ہے کہ انسان کی زندگی پٹرول کے ریٹ پر نہ چل رہی ہو، ریٹ بڑھ جائے یا کم ہوجائے، اس سے اُ س کی زندگی پر فرق نہ پڑے۔ اس کے مقابلے میں جس شخص کی زندگی معمولی مہنگائی سے بھی متاثر ہوتی ہو اور اس کو ہر وقت یہ فکرکھائے جارہی ہو کہ بائیک میںپٹرول ڈلوانا ہے ، بجلی کابل دینا ہے ، بچوں کی فیس دینی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوشحال انسان نہیں ہے۔ایساشخص حالات و واقعات کی قیدمیں پھنساہے اور اس کی زندگی کے فیصلے بھی انھی حالات پر منحصر ہوتے ہیں۔ایسافردکسی مشہور ریسٹورنٹ کے باہر کھڑے ہوکر اپنے بیٹے سے کہتاہے کہ یہاں کاپیزا بہت مشہور ہے ۔بیٹاکھانے کی فرمائش کرتاہے تو وہ کہتاہے ،ابھی نہیں ، پھر کبھی کھائیں گے۔ کیوں کہ اس کی جیب اس کو اجازت نہیں دے رہی ہوتی۔وہ ہر چیزکی خریداری یہ سوچ کر موخرکرتاہے کہ ’’پہلی آنے والی ہے‘‘اس کے بعد لے لیں گے۔یہ غریب انسان کا مشہور ڈائیلاگ ہے اور اسی وجہ سے وہ مہینے کے درمیان ایسی تمام چیزیں نہیں خریدسکتا جس کو وہ خود بھی چاہ رہاہوتاہے اور اس کے بچے بھی۔

’’معاشی آزادی‘‘ انسان کے جینز میں فٹ ہے اور اسی وجہ سے یہ بار بارانسان کو اُکساتی ہے کہ خود کو مجبور حالات کے دائرے سے نکالو اورآزاد ہوجائو۔وہ برسوں حالات کی ان زنجیروں کو توڑنے میں لگادیتاہے۔اگر اس کا عزم صادق اور محنت کرنے کی سمت درست ہو تو ایک وقت کے بعد وہ معاشی طورپر خوشحال انسان بن جاتاہے ۔اب یہاں اس کو اپنی آزادی کوانجوائے کرلیناچاہیے لیکن اکثر اوقات ایسا ہوتاہے کہ وہ اس مقام سے ایک قدم آگے جاناچاہتاہے ۔وہاں پہنچ کر ایک سیڑھی اوراوپر جانے کاخواہش مند ہوتاہے اورپھر اس کو احساس ہی نہیں ہوتاکہ آزادی پالینے کے بعدوہ ایک بار پھر غلام بن چکا ہے۔یہ سب حاصل کرنے کامقصد یہ تھا کہ وہ اپنی مرضی کی زندگی جیے لیکن مادی چیزوں کی ہوس اور زیادہ پیسا جمع کرنے کی لالچ نے اس کو اپنا غلام بنالیاہوتاہے۔اب وہ بظاہر تو بڑامالدار انسان ہے لیکن حقیقت میں دیکھیں تو اس میں اور حالات کے ستم سے مجبورایک غریب انسان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔دونوں غلام ہیں۔

ایک انسان زمانے کا مالدار ترین انسان بن جائے ،اس کے پاس دنیا جہاں کی نعمتیں ہوں لیکن اگر اس سے اس کادوست کہے کہ چھٹیاں آرہی ہیں ، چلو یورپ چلتے ہیں اور وہ کہے کہ میں نہیں جاسکتا تو یہ مالدارترین انسان ہوکر بھی آزاد نہیں ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جواپنی حاصل کردہ نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ان کی تجوریاں بھری ہوتی ہیں لیکن دسترخوان پر ایک ہی ابلی ہوئی ڈش ہوتی ہے۔یہ لوگ گلی میں کھڑے ہوکر بھنا ہوا’’بھٹا‘‘نہیں کھاسکتے ۔یہ آلو بخارے کا شربت نہیں پی سکتے ۔ یہ کسی ڈھابے پر بیٹھ کردوستوںکے ساتھ گھنٹوں گپ شپ نہیں کرسکتے ، یہ وہاں چائے نہیں پی سکتے ۔یہ سب دراصل سونے کے پنجرے کے قیدی ہوتے ہیں۔یہ ان سلاخوں پرفخر تو کرتے ہیں جو سونے چاندی سے جڑے ہوئے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ ان سلاخوں نے ان سے ان کی آزادی چھین لی ہے۔

ایک شخص نے طوطا پکڑااور اس کو ایک خوبصورت نفیس پنجرے میں قید کرلیا۔وہ روز اس کو طرح طرح کی خوراکیں کھلاتا ۔ایک دن اس گھر کی منڈیر پر ایک اور طوطا آکر بیٹھا۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔قیدی طوطا بولا:’’ میرا مالک بہت اچھا ہے ۔وہ اپنے ہاتھوں سے مجھے چوری کھلاتاہے۔مجھے طرح طرح کے مربے اور پستے دیتاہے۔تم کیا زندگی گزاررہے ہو، تم جس درخت پر رہتے ہووہاں آندھی ، طوفان بھی آتاہے ، بارش بھی ہوتی ہے اور گرمی سردی سے کوئی حفاظت بھی نہیں۔تم میرے پاس آجائو بہت مزے میں رہو گے۔‘‘آزاد طوطا بولا:’’ تمھیں تمھاری یہ مزے بھری زندگی مبارک ہو دوست! یہ راحت نہیں بلکہ غلامی ہے اور میں اپنی آزادی بیچنے کے لیے ہر گزتیار نہیں ہوں۔‘‘

کامیابی کا اصل مطلب اپنی مرضی کے فیصلے کا اہل ہونا ہے۔آج کے دور میںموبائل ابلاغ کاایک اہم آلہ بن چکا ہے لیکن اگر آپ اپنی زندگی میں چندگھنٹوں کے لیے موبائل آف کرکے اپنی مرضی کی زندگی گزارسکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ واقعی کامیاب انسان ہیں۔آپ نے سنا ہوگا کہ دنیا کی مشہور اور کامیاب شخصیات اچانک کچھ دنوں کے لیے منظرعام سے غائب ہوجاتی ہیں۔درحقیقت یہ لوگ اصل زندگی جینا چاہتے ہیں اور اسی کی خاطر وہ سب کچھ چھوڑکر پہاڑوں اور جنگلوں کی سیر پر نکل جاتے ہیں تاکہ اپنی فطری آزادی کی تجدید کریں اورزندگی کا حقیقی لطف اٹھائیں۔

باپ اپنے وقت کا کامیاب ترین انسان ہے۔وہ دن بھربڑی شخصیات کے ساتھ ساتھ میٹنگز کرتاہے،پلاننگز بناتاہے اور بڑے بڑے اداروں کاوزٹ کرتاہے۔ رات کوجب گھر آتاہے تووہ تھکن سے چورچورہوتاہے ۔بیٹا اس کے انتظار میں ہوتاہے۔وہ باپ سے ملنا اوربات کرنا چاہتاہے لیکن باپ کہتاہے :’’بیٹا! آئی ایم سوری ۔میرے پاس ٹائم نہیں ہے میں بہت تھکاہواہوں ۔‘‘ملنے کی اُمید پر بیٹا صبح اٹھتاہے تویہ جان کر اس کا دِل ٹوٹ جاتاہے کہ باپ تو اس کی آنکھ کھلنے سے پہلے ہی آفس چلا گیا ہے۔آپ خود اندازہ لگائیں یہ کیسی کامیابی ہے؟

میں نے ایک ٹریننگ سیشن میں جہاں کارپوریٹ دنیاکے بڑے بڑے لوگ بیٹھے تھے، ان سے ایک سوال پوچھا کہ آسمان دیکھے کتنے دن گزرچکے ہیں؟ وہ کہنے لگے: ’’سر!ہم روز دیکھتے ہیں ۔‘‘میں نے کہا: ’’ایسے نہیں ، باقاعدہ وقت نکال کر اور پورے ہوش وحواس کے ساتھ پانچ منٹ تک کس کس نے دیکھا ہے تو جواب میں خاموشی تھی۔ میں نے پھر پوچھا: گیلی گھاس پر ننگے پائوں کتنے لوگ چلے ہیں؟ جواب میں ایک بار پھرخاموشی۔یادرکھیں !ہر وہ کامیابی جو آ پ کو مشروط کردے ،جو آپ کوپابند بنادے ،وہ آزادی نہیں ، غلامی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ حقیقی زندگی سے ابھی دور ہیں۔

اپنی آزادی پر کمپرومائز نہ کریں۔آپ اگر غریب زندگی گزاررہے ہیں تو ساری عمر آپ نے ایسے نہیں رہنا۔آپ جس مخصوص خ*ل میں بند ہیں اس سے نکل سکتے ہیںاور ایک بہترین ذریعہ معاش اختیارکرکے اپنی زندگی کو خوشحال اور آزاد بناسکتے ہیں۔البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے سوچنے کے اندا ز کو بدلیںاور خود کو غریب تسلیم کرنابند کردیں۔آ پ اگر مالدارہیں تومزید مال کمانے کے پیچھے اس قدر مت دوڑیں کہ آپ سے آپ کی آزادی ہی چھن جائے۔یادرکھیں جن لوگوںنے اپنی آزادی پرسمجھوتاکیا اورShow off کے پیچھے پڑگئے وہ دوسروں کو دکھاتے دکھاتے اندر سے کھوکھلے ہوچکے ہیں اوراس کھوکھلے پن نے ان کی زندگی کو سکون سے محروم کردیا ہے۔
انتخاب ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان

21/11/2022

خوشی کی تلاش میں
(قاسم علی شاہ)
وہ اپنے علاقے کا مالدارترین آدمی تھا۔ اللہ نے اس کوبے پناہ دولت سے نوازا تھا۔ زمین جائیدادیں اتنی تھیں کہ جس کا ایک عام انسان تصور بھی نہیں کرسکتاتھا، مگرپھر نہ جانے کیا ہوا کہ اس کو اپنے اندر شدید قسم کی گھٹن محسوس ہونے لگی۔ تمام قسم کی آسائشات اور سہولیات کے باوجود بھی وہ بے سکون رہنے لگا۔ دل کی یہ بے چینی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی تھی اور پھر جب اس کی راتوں کی نیند اُڑنا شروع ہوگئی تو وہ گھبراگیا۔ وہ اس بے سکونی کو دور کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی تمام جائیداد فروخت کی، ان پیسوں سے ہیرے خریدے اور انھیں ایک تھیلے میں ڈال کر بستی بستی ’’من کی شانتی‘‘ ڈھونڈنے کے لیے نکل پڑا۔ وہ ہر ایک سے کہتا :’’جو مجھے خوشی کا راز بتائے گا میں اپنے تمام ہیرے اس کو دوں گا۔‘‘لمحے دنوں میں بدل گئے اور دن ہفتوں میں لیکن اس کو اپنے مرض کی دوا نہیں ملی۔ آخر کار ایک دن اسے ایک پاگل شخص ملا۔ وہ بولا:’’ لوگ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں اور میری باتوں پر یقین نہیں کرتے لیکن میں آپ کو ایک شخص کے بارے میں بتاتا ہوں۔ یہاں سے دس فرلانگ کے فاصلے پر ایک بستی ہے، وہاں ایک بڑا سادرخت ہے اس کے نیچے ایک دانا شخص بیٹھا ہے ، وہ آپ کا مسئلہ حل کرسکتاہے۔‘‘ آدمی بستی کی جانب چل پڑا۔گرد وغبار کی وجہ سے اس کی داڑھی اور سر کے بال مٹی سے بھرچکے تھے۔تھکے قدموںکے ساتھ وہ اس درخت تک پہنچاتووہاں واقعی ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جو شکل سے ہی علم و حکمت والا لگ رہا تھا۔آدمی نے اپنا مسئلہ اسے بتایااور ساتھ میں انعام کے بارے میں بھی بتایا۔دانا شخص نے اس کی بات سنی اورپھر اچانک جھپٹا مارکراس سے ہیروں کاتھیلہ چھین لیا اوروہاں سے فرار ہوگیا۔آدمی اس کے پیچھے بھاگا لیکن وہ بستی کے راستوں سے لاعلم تھا، اس لیے بہت جلد تھک ہارکر واپس درخت کے نیچے آبیٹھا۔زندگی بھر کی کمائی یوں ضائع ہوجانے پروہ دھاڑیں مارکر رونے لگااور نڈھال ہوکر گرپڑا۔کافی وقت گزرنے کے بعددانا شخص واپس آیااورہیروں کا تھیلہ آدمی کی طرف پھینکا۔آدمی کی جان میں جان آئی ،اس نے تھیلے کو سینے سے لگایااورایک لمباسکون بھراسانس لیا۔دانا شخص بولا:کیوں بھائی!کیسالگا؟‘‘ آدمی بولا:’’ یہ ہیرے واپس پاکر مجھے بے حدخوشی ملی ۔‘‘ داناشخص بولا:’’معاف کرنامیں چو ر نہیں ہوں دراصل میں تمھیں تمھارے سوال کا جواب دے رہاتھا۔تم خوشی کی تلاش میں ہو نا ،تو سنو ۔خوشی باہر نہیں تمھارے اندر ہے اور اس کوباہر لانے کے لیے کسی چیز کے چھن جانے کا انتظار مت کرو۔جائو ، اپنی زندگی جیو! خدا نے تمھیں بہت کچھ سے نوازا ہے بس تمھارے اندر احساس کی کمی ہے۔‘‘یہ قیمتی راز پاکر آدمی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

سکون ، اطمینان اور خوشی وہ قیمتی دولت ہے جس کی آج ہر شخص کو تمنا ہے۔اسی کو پانے کے لیے وہ دن رات محنت کرتاہے ، ہر طرح کی سختیاں جھیلتا ہے اور گرمی سردی برداشت کرتاہے لیکن اس کے باوجود بھی اکثر لوگ سکون اور اطمینان سے محروم ہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ خوشی کا تعلق مال و دولت یا چیزوں کی فراوانی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اپنے اندر جھانکنے اور اپنی نعمتوں کو محسوس کرنے میں ہے۔کسی بھی انسان میں حرص اورطمع جس قدر زیادہ ہوگی ، اسی قدروہ بے سکون اوربے چین ہوگااوربے شک اس کی زندگی میں چیزیں بڑھتی جائیں لیکن ساتھ ساتھ اس کی بے چینی بھی بڑھتی جائے گی۔

خوشی کا راز کیا ہے ، انسان اپنی زندگی میں اطمینان کیسے پاسکتاہے اور اپنی سوچوں پر کیسے قابو پاسکتاہے؟ ان تمام سوالات کے جوابات کے لیے قاسم علی شاہ فاونڈیشن نے ’’Journey to joy‘‘کے عنوان سے ایک شاندار سیشن کا انعقادکرایا۔اس سیشن سے محترمہ عظمیٰ رمضان صاحبہ نے گفتگوکی اور سیشن میں شریک خواتین کو سانس کی مشق کروانے کے ساتھ ساتھ مراقبہ بھی کروایا۔عظمیٰ رمضان صاحبہ ایک’’ سپریچول ہیلر‘‘ اور ’’بریتھ اسپیشلسٹ‘‘ ہیں۔Journey to joyکے نام سے وہ اپنا ایک پروگرام بھی چلاتی ہیں جس میں وہ سانس کی کچھ مخصوص مشقوں کے ذریعے اپنے خیالات اور ذہن کنٹرول کرنے پر تربیت دیتی ہیں۔آج کی تحریر میں ان کی اُس گفتگو کا خلاصہ پیش کیاجاتاہے۔

انسانی ذہن ایک مقناطیس
آ پ کو یہ جان کرحیرت ہوگی کہ انسان کا ذہن بالکل مقناطیس کی طرح کام کرتاہے۔یہ اپنی طرف چیزوںکو کھینچتا ہے ۔انسان جس طرح کے خیالات اکثر سوچتا ہے اسی طرح کے حالات اس کی زندگی میں رونماہوناشروع ہوجاتے ہیں۔اس کو ’’قانون کشش‘‘ کہاجاتاہے۔ہم اپنی زندگی میں اس قانون کاتجربہ اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں لیکن ہمیں احساس نہیں ہوتا۔آپ کے ساتھ ایسا ہواہوگا کہ صبح سے آپ کے ذہن میں ایک دوست کے بارے خیالات آرہے ہوتے ہیں اور شام ہوتی ہے تو اس کافون بھی آجاتاہے۔یہ ہمارے ذہن کی وہ شعاعیں ہوتی ہیں جو اس کے ذہن تک پہنچتی ہیں اور وہ آپ سے رابطے میں آجاتاہے۔’’قانون کشش‘‘سے ہم بھرپو رانداز میں فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔آپ ہمیشہ مثبت خیالات سوچیں اور زندگی میں جو مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں سوچنا اور یہ محسوس کرنا شروع کردیں کہ جیسے وہ چیز آپ کو مل چکی ہے، تو یقیناآپ کو وہ چیز مل جائے گی۔

ہیرا
خوشی ، سکون اور اطمینان انسان کے اندر موجود ہوتاہے۔انسان کے اندر اللہ نے ایک ہیرارکھاہے لیکن وہ اس سے لاعلم ہوتاہے۔جس طرح گڑ کے اوپر مکھیاں بیٹھ جاتی ہیں اور اس کو پوری طرح چھپادیتی ہیں اسی طرح ہماری منفی سوچیں بھی ہمارے اندر کے اس ہیرے کو چھپادیتی ہیں۔اگر اِن منفی سوچوں کو ختم کردیاجائے تو انسان اس ہیرے تک پہنچ سکتاہے جس کی بدولت وہ اپنی زندگی میں خوشی، اطمینان اورسکون حاصل کرسکتاہے۔

وائبریشن
ہم انسان وائبریشن کی زبان بولتے ہیں۔ہر انسان کے گردایک ہالہ ہوتاہے جو اس کے مثبت پن یا منفیت کی ترجمانی کرتاہے۔آپ زندگی میں کسی شخص سے پہلی بار ملتے ہیں لیکن آپ کو وہ پسند آجاتاہے اور بعض اوقات کسی جاننے والا شخص کے پاس بھی بیٹھنا آپ کوپسند نہیں ہوتا۔دراصل یہ ان کا وہ ہالہ ہوتاہے جو آپ پر اثرانداز ہوتاہے۔مثال کے طورپرآپ کسی ایسے کمرے میں گئے جہاں کچھ لمحے پہلے دوانسانوں کے درمیان بحث مباحثہ ہواہوتوآپ وہاں گھٹن محسو س کریں گے۔یہاں بھی ان دوافرادکی منفی لہروں نے کمرے کے ماحول کو منفی بنادیاہوتاہے۔
اپنے اندر کو صاف اور مثبت رکھنا ضروری ہے ۔کیوں کہ جوہمارے اندر ہوگا وہ ہم دوسروں میں بھی منتقل کریں گے۔

سانس کی اہمیت
انسان کے ذہن میں اگر منفی سوچوں کابسیرا ہو تو وہ اس کی زندگی کو عذاب بنادیتی ہیں۔ان سوچوں پرقابو پانے کا آسان طریقہ سانس ہے۔آپ کاسوال ہوگا کہ سانس سے یہ کیسے ممکن ہے؟ جواب یہ ہے کہ سانس انسان کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انسان پید اہوتاہے توایک لمبا سانس لیتاہے اورجب مرتاہے تو بھی لمباسانس لیتاہے۔ان دونوں سانسوں کے درمیان کے وقفے کا نام زندگی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان جب خوش ہوتو اس کا جسم خود بخود سانس کو لمبا کردیتاہے اور جب وہ غمزدہ ہو تو اس کا سانس چھوٹاہوجاتاہے۔ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان اپنے جسم کے 70فی صد زہریلے مادوں کو سانس کے ذریعے خارج کرتاہے۔اگر ذہن کی مثال پتنگ کی طرح ہوتو سانس اس کے لیے ڈوری ہے۔جب ڈوری پر انسان کا کنٹرول مضبوط ہو تو پتنگ بھی کنٹرول میں ہوتی ہے۔سانس کی مشقوں کے ذریعے انسان اپنے اندر کو جان لیتاہے،وہ اپنی سوچوں پرقابو پالیتاہے اور یہ چیزاس کو سکون عطاکرتی ہے۔

بیماریاں
یہ بات یادرکھیں کہ انسان پہلے روحانی طورپر بیمارہوتاہے اس کے بعد جسمانی طورپر ۔روحانی طورپر مضبوط انسان جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہتاہے۔ روحانیت کے ساتھ جذبات کاایک مضبوط تعلق ہے ۔اللہ نے انسان کے اندر مختلف طرح کے جذبات رکھے ہیں۔رونا ، ہنسنا ، غصہ ،محبت اور نفرت۔ ان سب جذبات کو مثبت انداز میں باہر نکالنا ضروری ہوتاہے کیوں کہ اگر انھیں دبادیاجائے تو یہ جسمانی اعضاپر منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔جیسے اگر غصے کوزیادہ دیر اندر رکھ دیاجائے تویہ جگر پر اثرانداز ہوتاہے۔خوف ، کمر کے نچلے حصے کواثرانداز کرتاہے۔اسی طرح باقی جذبات کوبھی اگرباہر نہ نکالاجائے تو کچھ عرصہ بعدجسم میں مختلف طرح کی بیماریاں پیدا ہوناشروع ہوجاتی ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ خود کو روحانی طورپر تندرست رکھاجائے تاکہ ہم جسمانی بیماریوں سے بچ سکیں۔

لمحۂ موجود کی طاقت
ہمارا ذہن چوبیس گھنٹے ماضی اور مستقبل میں گھومتا رہتاہے۔یہ سوچیں ہمارے اعصاب پر اثرانداز ہوتی ہیں اور ہمیں کمزور ، مایوس اور دکھی کردیتی ہیں۔انسان کی سوچوں والی پائپ لائن میں اگر منفی خیالات کا کچراپھنس جائے تو پھر اس میں اچھے خیالات نہیں آسکتے۔منفیت سوچتے سوچتے دماغ بھرجاتاہے ایسے میں اس کو صاف کرنا بہت ضروری ہوتاہے جیسے کلاس روم میں موجود بلیک بورڈ اگرلکھتے لکھتے بھرجائے تو اس کوصاف کرناپڑتاہے ،تب ہی نیالکھاجاسکتاہے،اسی طرح ذہن میں بھی مثبت سوچیں تب آئیں گی جب پہلے منفی سوچوںکو صاف کردیاجائے۔ماضی اور مستقبل کی فکروں سے آزاد کروانے کا ایک بہترین طریقہ مراقبہ ہے۔مراقبہ انسان کو لمحہ موجود میں لے کر آتاہے۔ لمحہ موجود بہت وسیع اور گہرا ہے۔اس میں آکر انسان صحیح معنوں میں اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتاہے۔لمحہ موجود کی طاقت سے انسان اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کوکامیاب اور شاندار بناسکتاہے۔

خوشی
ایک عقل مند سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میںمالدارانسان کون ہے؟ عقل مندشخص بولا:’’ جس کی خوشیاں سستی ہیں۔‘‘
ہمارے ذہن میں صبح و شام یہ خیال ہوتاہے کہ جب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوں گاتب میں خوش ہوںگا۔خالی جگہ پر ہماری خواہشات ، تمنائیں اور آرزوئیں ہوتی ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ چیز ہمیں مل جائے تو بجائے خوش ہونے کے ہمارا ذہن اگلی خواہش پیدا کرلیتا ہے اور اس تک پہنچنے کی آرزو کرنے لگ جاتاہے۔اس طرح ایک کے بعد ایک نئی خواہشات جنم لیتی ہیں ، ہماری زندگی ختم ہوجاتی ہے اورپھر ہمیں خیال آتاہے کہ اپنی تمام خواہشات توہم نے پوری کرلیں لیکن پھر بھی ہم خوش نہیں ہوئے۔دراصل سارا مسئلہ ہماری سوچ میں ہے ۔ہم خوشی کوچیزوں ، حالات اور لوگوں سے جوڑدیتے ہیں اور یہی ایک بڑی غلطی کرجاتے ہیں۔یادرکھیں کہ ہم پیدائشی خوش ہیں اور اس کاثبوت یہ ہے کہ آپ نے کبھی کسی بچے کو ڈیپریشن یا اینگزائٹی میں نہیں دیکھا ہوگا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خوشی ہمارے اندر ہی ہے لیکن ہم اس کو باہر کی چیزوں سے مشروط کردیتے ہیں اور یہ چیز ہماری روح کو تکلیف دیتی ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ اپنے اندر شگرگزاری کی صفت پیدا کریں ۔آپ کامعمولی ہدف بھی اگر مکمل ہوجائے تو اس پربھرپور انداز میں خوشی منائیں۔یہ مت دیکھیں کہ زندگی میں کتنے لمحے ہیں بلکہ یہ دیکھیں کہ ایک لمحے میں کتنی زندگیاں ہیں۔اپنے پاس موجود نعمتوں کا احساس کریں ، انھیں انجوائے کریں اورمنفی خیالات کو ذہن پر طاری نہ ہونے دیںورنہ یہ آپ سے آپ کی خوشی اورآپ کاسکون چھین لیں گے۔

05/07/2022

منفی سوچ

نیگٹو تھنکنگ یعنی منفی سوچ ، آج مجموعی طور پر سارا معاشرہ اس بیماری کا شکار ہے ۔زرا سوچیں ایسا کیوں ہے ؟ چلیں آج اپنا نیگٹوٹی ٹیسٹ کرتے ہیں ۔ آپ رات سوتے وقت چند منٹ کے لیے سوچیں کہ آج سارا دن آپ نے کہاں کہاں منفی سوچ سوچی ۔۔۔اپ بے شمار لوگوں سے ملیں ہوں گے ، معاملات طے کیے ہوں گے ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے بے شمار موقعوں پر منفی سوچ یا رویے کا اظہار کیا ہو ۔ آپ جب خود اپنا احتساب کریں گے تو شاید ستر فیصد آپ کو اپنی سوچ میں نیگٹوٹی ، مایوسی نفرت کے عناصر ملیں ۔

توجہ کیجئے کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جب آپ نیگٹو سوچتے ہیں ، مایوسی سوچتے ہیں ، ناکامی سوچتے ہیں تو یہ سوچ آپ کی صحت کو برباد کر دیتی ہے ۔

آپ کو علم نہیں ہوتا آپ کسی اور کے ساتھ نہیں اپنے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ۔

نیگٹو یا منفی سوچ آپ کو دل کے اور دیگر امراض میں بھی مبتلا کر سکتی ہے ۔مگر ہم اپنی سوچ کی صحت پر توجہ نہیں دیتے ۔

ہمیں ہر بندے سے شکایت ہے ، گھر سے لیکر دفتر تک ہمیں ہر انسانی کردار سفید چادر میں داغ کی طرح نظر آتا ہے ۔

تنقید اچھی چیز ہے مگر ایک تنقید برائے تسکیں ہوتی ہے اور دوسری تنقید برائے اصلاح ۔ ہم نوے فیصد روز مرہ زندگی میں تنقید برائے تسکیں کر رہے ہوتے ہیں ۔ کبھی سوچیں اس نقطعہ پر ۔

اپنی زندگی کو آسان کریں ۔ہر پہلو میں منفی مت سوچیں ، رفتہ رفتہ مثبت سوچنے کی کوشش آپ کی عادت اور پھر فطرت بن جاے گی ۔اپ خود میں زبردست تبدیلی محسوس کریں گے ۔باڈی کیمیکلز چینج ہوں گے آپ ایک پرلطف تبدیلی محسوس کریں گے ۔

زندگی میں مسایل سب کے ساتھ ہیں ۔دوسرے کا غم سنیں تو شاید اپنا چھوٹا لگے ۔ ہر دن جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے ۔چیلنجز نت نئے روز آسیب کی طرح گھیرتے ہیں ۔ایسے میں ہم فطری طور پر زندگی کے ہر رنگ کو منفی زاویہ سے دیکھنے لگتے ہیں ۔

خود کو بدلیں میں یقین دلاتی ہوں کہ آپ کے اردگرد دنیا بدل جاے گی ۔مثبت سوچیں زہن جسم میں توانائی اور مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گیں ۔

کسی نے کہا تھا کہ اپنی سوچوں پر ورک کریں ۔ جیسے ہم اپنے کمپیوٹر کے سافٹ ویئر ری انسٹال کرتے ہیں اسے پھر سے نیا بنا دیتے ہیں ایسے ہی ہمیں اپنے زہن کی سوچوں کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے ۔

خوش رہیں آباد رہیں 🌹
تحریر وتحقیق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ کوثر ۔۔۔۔

04/07/2022

کمفرٹ زون کیا ہے؟
کمفرٹ زون ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں آپ نئے چیلنج قبول کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس میں رہتے ہوئے ،آپ زندگی کو بہتر بنانے یا پروفیشنل لائف میں ترقی کرنے ، آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ آپ ایک خاص لیول تک کامیابی ، اپنے گولز حاصل کر چکے ہوتے ہیں لیکن اگلے لیول پر جانے کی کوشش نہیں کرتے ۔

کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے آپ آرام طلب اور سست ہو جاتے ہیں ۔ اس میں چیزیں آپ کے لیے آسان بن چکی ہوتی ہیں۔ جو عادات پختہ ہو چکی ہوتی ہیں زندگی بس ان کے اردگرد گھوم رہی ہوتی ہے ۔ چیزیں آٹو پائلٹ پر ہوتی ہیں۔ آپ کی زندگی میں ایک روٹین اور یکسانیت ہوتی ہے۔

کمفرٹ زون میں زیادہ عرصہ رہنا آپ کے لیے خطرناک ہے۔ یہ آپ کو اعتماد اور خوشی سے محروم کر دے گا۔ آپ کی زندگی کی کوالٹی کو نقصان پہنچائے گا۔ اس سے آپ کی صلاحیتیں ماند پڑنے لگیں گیں ۔ ہمیں اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہم صرف اسی وقت اچھا محسوس کریں گے جب ہمارے پاس چیلنج ہوں گے، جب ہم grow کر رہے ہوں۔

سیلف امپروومنٹ کے مطابق اگر آپ grow کرنا چھوڑ دیں گے ، تو آپ زوال کی طرف جانا شروع کر دیتے ہیں۔ grow کرنے کے لیے آپ کو کمفرٹ زون سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ جب آپ کوئی نیا اور مشکل کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھتے ہیں ۔

یہ نیا کام کوئی skill یا مہارت ہو سکتی ہے جیسے پبلک سپیکنگ یا کسی نئی زبان میں مہارت حاصل کرنا

یہ نیا کام کوئی نئی عادت ہو سکتی ہے جیسے ٹائم مینجمنٹ سیکھنا ۔

یہ نیا کا م کوئی رویہ ہو سکتا ہے جیسے دوسرے کے بارے میں اپنا تنقیدی رویہ کم کرنا یا زیادہ سوشل اور ملنسار بننا۔

کیسے پتا چلے گا کہ ہم کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھتے ہیں یا نہیں ؟ یاد رکھیں کہ کمفرٹ زون سے باہر جو بھی کام ہو گا وہ آپ کےلیے کچھ مشکل ہو گا۔

جب آپ اس کو کرنے کا سوچیں گے تو یہ آپ کو خوف سے بھر دے گا۔ اس میں رسک ہو گا کہ شاید آپ ناکام ہو جائیں ۔ اس میں ناکامی کی صورت میں آپ کو مذاق کا نشانہ بنایا جا سکتا ہیں ۔ کمفرٹ زون سے باہر جو بھی کام ہو گا اس کے لیے آپ کو اپنی ہمت جمع کرنی پڑے گی ، خود کو بار بار قائل کرنا پڑے گا۔ آپ کو سٹریس میں سے گزرنا پڑے گا۔ آپ کو خود کو stretch کرنا پڑے گا۔ خود کو بدلنا پڑے گا۔ آپ کو پورا زور لگانا پڑے گا۔ اس کے لیے آپ کو اپنا علم بڑھانا ہو گا۔ نئی منصوبہ بندی کرنا ہو گی ۔ تخلیقی صلاحیت کو جگانا پڑے گا۔

اپنا جائزہ لیں کہ کیا آپ سیلف امپروومنٹ کے لیے کچھ نیا سیکھنے یا کرنے کا سوچ رہے ہیں ؟ جو آپ کے لیے چیلنج ہو۔

نئے خوابوں ، نئے منصوبوں پر کام شروع کریں ۔ نئے لیول پر جانے کی تیاری کریں ۔ اپنی زندگی کو جامد نہ ہونے دیں، اس میں نیا ولولہ ، نیا جوش لے کر آئیں ۔

زندگی کا مزہ اسی میں ہے کہ کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھا جائے۔ کمفرٹ زون سے باہر ایک شاندار زندگی آپ کی منتظر ہے۔ #
منقول

Address

Dunga Bunga
52110

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ujala School posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Ujala School:

Share