28/03/2026
اساتذہ کے حقوق کی جنگ — 31 مارچ 2026، لاہور دھرنا
تحریر . مشہود احمد عاقب ۔ Mashhood Ahmed Aqib
پنجاب میں اساتذہ برادری اس وقت ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ان کے معاشی، سماجی اور پیشہ ورانہ حقوق کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ایک طرف مہنگائی کی شدت نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے تو دوسری طرف حکومتی پالیسیاں اساتذہ کے مستقبل کو غیر یقینی بناتی جا رہی ہیں۔ انہی حالات میں اساتذہ یونینز نے 31 مارچ 2026 کو لاہور میں احتجاجی دھرنے کی کال دی ہے، جو دراصل اپنے حقوق کے تحفظ، عزتِ نفس کی بحالی اور تعلیمی نظام کے استحکام کی ایک پرامن اور جمہوری جدوجہد ہے۔
اساتذہ کے بنیادی مسائل میں سب سے اہم مسئلہ پینشن قوانین میں تبدیلی ہے۔ روایتی پینشن نظام، جس کے تحت ایک سرکاری ملازم اپنی عمر بھر کی خدمات کے بعد باعزت زندگی گزار سکتا تھا، اب ختم کر کے ایسا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے جو غیر یقینی اور ناکافی تصور کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ پینشن کوئی رعایت نہیں بلکہ ان کی زندگی بھر کی محنت کا صلہ ہے، اور اس میں کمی یا تبدیلی دراصل ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر اساتذہ اپنے بڑھاپے کے بارے میں غیر محفوظ ہوں گے تو وہ یکسوئی کے ساتھ نئی نسل کی تربیت کیسے کر سکیں گے؟ لہٰذا ضروری ہے کہ پرانا پینشن نظام بحال کیا جائے اور اسے مہنگائی کے تناسب سے بہتر بنایا جائے تاکہ اساتذہ باعزت زندگی گزار سکیں۔
اسی طرح ڈسپیرٹی الاؤنس کا مسئلہ بھی اساتذہ کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ سرکاری ملازمین کے درمیان تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے دیا جانے والا یہ الاؤنس دیگر محکموں کو تو فراہم کیا جا رہا ہے، مگر اساتذہ کو اس سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس ناانصافی کے نتیجے میں اساتذہ نہ صرف مالی مشکلات کا شکار ہیں بلکہ ان کے پیشے کا وقار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں استاد خود معاشی مشکلات میں گھرا ہو، وہاں معیاری تعلیم کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی مکمل ڈسپیرٹی الاؤنس دیا جائے اور تنخواہوں میں مساوات قائم کی جائے تاکہ وہ سکون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
سیکشن 17-A کا خاتمہ بھی اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ یہ وہ فلاحی قانون تھا جس کے تحت اگر کوئی سرکاری ملازم دورانِ سروس وفات پا جاتا تو اس کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جاتی تھی، جو اس خاندان کے لیے ایک سہارا بن جاتی تھی۔ اس قانون کے خاتمے کے بعد بے شمار خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں، بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کے لیے زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔ اساتذہ برادری اس فیصلے کو غیر منصفانہ اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے اس کی فوری بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ کم از کم ایسے خاندانوں کو سہارا مل سکے جو پہلے ہی ایک بڑے سانحے سے گزر چکے ہوتے ہیں۔
ان تمام مسائل کے ساتھ ایک اور انتہائی اہم اور تشویشناک پہلو سرکاری سکولوں کی نجکاری کا عمل ہے، جس کے خلاف اساتذہ بھرپور آواز بلند کر رہے ہیں۔ نجکاری بظاہر ایک انتظامی اصلاح کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، مگر حقیقت میں یہ تعلیم کو ایک کاروبار بنانے کی طرف قدم ہے۔ اگر سرکاری سکول نجی اداروں کے حوالے کر دیے گئے تو غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ تعلیم ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اسے کسی صورت منافع بخش کاروبار کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔ نجکاری نہ صرف اساتذہ کے روزگار کو غیر محفوظ بناتی ہے بلکہ تعلیمی مساوات کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں تعلیم خریدی اور بیچی جائے، وہاں انصاف اور برابری کا تصور ختم ہو جاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور سرکاری تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔
31 مارچ 2026 کو لاہور میں ہونے والا احتجاجی دھرنا دراصل ان تمام مسائل کے خلاف ایک متحد آواز ہے۔ یہ دھرنا کسی تصادم یا انتشار کے لیے نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے ایک پرامن اور آئینی جدوجہد ہے۔ یہ ہر اس استاد، ملازم اور باشعور شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جدوجہد کا حصہ بنے، کیونکہ یہ صرف اساتذہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ اگر آج اساتذہ کے حقوق پامال ہوتے ہیں تو کل تعلیمی نظام کمزور ہو جائے گا، اور اس کا نقصان پوری قوم کو اٹھانا پڑے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے سوچیں۔ اساتذہ کے ساتھ کھڑا ہونا دراصل تعلیم، انصاف اور مساوات کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ آئیں، ہم سب مل کر 31 مارچ کو لاہور میں ہونے والے دھرنے میں شرکت کریں، اپنی آواز بلند کریں اور ایک ایسے نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کریں جہاں استاد کو عزت، تحفظ اور اس کا جائز حق مل سکے۔ کیونکہ ایک مضبوط استاد ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک روشن اور باوقار مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔