19/12/2025
موہاکس کی جنگ:
وہ فیصلہ کن جنگ جس نے یورپ کی فوجی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا
جب میں نے یہ واقعہ پہلی بار پڑھا تو مجھے لگا کہ شاید یہ کوئی کہانی ہے۔ لیکن جب میں نے مغربی ذرائع اور انٹرنیٹ سے اس کی تصدیق کی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ واقعہ یورپ میں مشہور ہے کیونکہ اس میں ہنگری کا بادشاہ، ہزاروں نواب اور بے شمار فوجی مارے گئے تھے۔ آج بھی وہاں ان کی قبریں ہیں جنہیں لوگ دیکھنے جاتے ہیں۔
یہ ایک اصلی جنگ تھی جسے ہمارے سکولوں میں پڑھانا چاہیے تھا۔
اور ہر سال اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اسی جنگ سے ہمیں پتہ چلتا ہے۔
کہ سلطنت عثمانیہ کو تاریخ میں کیوں برا بنا کر پیش کیا گیا۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کو مسخ کر کے اسے "مرد بیمار" (ترکی) کی وراثت کیوں بتایا گیا۔
یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی۔
بلکہ ایک بہت بڑی تباہی تھی!
یہ تھیموہاکس کی جنگ۔
ایسی جنگ جسے یورپ آج تک بھول نہیں پایا۔
کیوں لڑی گئی جنگ؟
عثمانی سلطان سلیمان القانونی نے اپنا سفیر ہنگری کے بادشاہ کے پاس ٹیکس(جزیہ) لینے بھیجا۔ اس وقت ہنگری یورپ کی عیسائی طاقتوں کا مضبوط قلعہ تھا۔ پوپ (عیسائیوں کے بڑے پادری) کے کہنے پر ہنگری کے بادشاہ نے سلطان کے سفیر کو قتل کروا دیا۔ اس طرح کلیسا اور یورپ جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔
فوجی تیاریاں:
· عثمانی فوج: ایک لاکھ مجاہد، ساڑھے تین سو توپیں، آٹھ سو جہاز۔
· یورپی اتحاد: تقریباً پورا یورپ (21 ممالک) اکٹھا ہوا۔ ان کی فوج میں دو لاکھ سوار تھے، جن میں سے 35 ہزار مکمل لوہے کے بکتر (زرہ) پہنے ہوئے تھے۔
جنگ کا سفر:
سلطان سلیمان القانونی(فاتح قسطنطنیہ کی اولاد میں سے) نے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے راستے میں کئی قلعے فتح کیے۔ انہوں نے بلغراد کا مضبوط قلعہ بھی فتح کیا، دریا عبور کیا اور آخر کار ہنگری کے موہاکس کے میدان میں پہنچے، جہاں پوپ اور ہنگری کے بادشاہ کی قیادت میں یورپی فوج ان کا انتظار کر رہی تھی۔
سلطان کا مسئلہ:
سلطان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یورپ کے وہ بکتر بند(لوہے کے کپڑے پہنے) سوار تھے جو نہ تیروں سے، نہ گولیوں سے متاثر ہوتے تھے اور نہ ہی ان سے آمنے سامنے لڑنا آسان تھا۔
جنگ کی تیاری:
سلطان نے فجر کی نماز پڑھی،اپنی فوج کو خطاب کیا۔ اسلامی فوج رو پڑی کیونکہ یہ فیصلہ کن جنگ تھی۔
جنگی حکمت عملی:
سلطان نے اپنی فوج کو 10 کلومیٹر کے علاقے میں تین حصوں میں ترتیب دیا:
1. پہلی صف: چنیدہ فوج (ینگچری)
2. دوسری صف: ہلکے سوار، رضاکار اور پیدل فوج۔
3. تیسری صف: سلطان خود اور توپیں۔
جنگ کا آغاز:
عصر کی نماز کے بعد ہنگری کی فوج نے حملہ کیا۔سلطان نے ینگچریوں کو حکم دیا کہ ایک گھنٹہ ڈٹ کر لڑیں پھر پیچھے ہٹ جائیں۔ دوسری صف کو کناروں کی طرف ہٹنے کا حکم دیا۔
جنگ کا منظر:
ینگچریوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے دو حملوں میں یورپی پیدل فوج کو تباہ کر دیا۔صرف ایک حملے میں 20 ہزار یورپی مارے گئے۔
پھر یورپ کی طاقتور بکتر بند سوار فوج آگے بڑھی۔اسی وقت عثمانی فوج کناروں کو چھوڑتی ہوئی بیچ میں سے ہٹ گئی، جس سے میدان کا درمیانی حصہ خالی ہو گیا۔
یورپی فوج کی تباہی:
ایک لاکھ یورپی سوار زور سے اسی خالی حصے کی طرف بڑھے۔اچانک وہ عثمانی توپوں کے سامنے آ گئے۔ ہر طرف سے توپوں نے فائر کیا اور صرف ایک گھنٹے میں یورپی فوج تباہ ہو گئی۔
پیچھے کی فوج دریا کی طرف بھاگی،ہجوم میں ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے ہزاروں دریا میں ڈوب گئے۔ بکتر بند سواروں پر لوہا اتنا گرم ہوا کہ ان کے جسم پر پگھل گیا۔
سلطان کا سخت فیصلہ:
یورپی فوج نے ہتھیار ڈالنے چاہے،لیکن سلطان سلیمان نے فیصلہ دیا: "کوئی قیدی نہیں لیا جائے گا!"
عثمانی فوج نے کہا:یا لڑو، یا مر جاؤ۔ اس طرح یورپی فوج نے آخری جنگ لڑی۔
جنگ کے نتائج:
· ہنگری کا بادشاہ، سات بڑے پادری، پوپ کا نمائندہ اور 70 ہزار سوار مارے گئے۔
· 25 ہزار زخمی قیدی بنے۔
· عثمانی فوج نے ہنگری کے دارالحکومت میں فوجی پریڈ کی جہاں سب نے سلطان کا ہاتھ چوما۔
· مسلمانوں میں صرف 1500 شہید اور 3000 زخمی ہوئے۔
· مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور مصر سے سلطان کو مبارک باد کے خط آئے۔
آخری بات:
اس روز یورپ کی فوجی طاقت کا غرور خاک میں مل گیا۔
ہنگری آج تک اس شکست کو نہیں بھول سکا۔ یہ تاریخ کی حیرت انگیز جنگ ہے جس کے نتیجے بہت تیزی سے آئے۔ یورپی مورخ آج بھی اس پر حیران، ناراض اور متعصب ہیں۔
اس واقعے کو پھیلائیں تاکہ مسلمان اپنی عزت اور فتح کو پہچان سکیں۔ اور تاکہ ہم سلطان سلیمان القانونی جیسے عظیم مجاہد کو پہچان سکیں جنہیں حریم السلطان جیسے ڈراموں میں جان بوجھ کر برا بنا کر پیش کیا گیا ہے۔