GCUF POETRY Zoology

07/01/2022

*“ہر رخسار کے ہر تل پہ بھی ٹیکس لگے گا”*

اب وصل کے اصرار پہ بھی ٹیکس لگے گا
سنتے ہیں کہ دیدار پہ بھی ٹیکس لگے گا

اب ٹیکس ادائوں پہ بھی دینا ہی پڑے گا
بے وجہ کے انکار پہ بھی ٹیکس لگے گا

بھرجائے گا اب قومی خزانہ یہ ہے امکاں
ہر عشق کے بیمار پہ بھی ٹیکس لگے گا

اب باغ کی رونق کو بڑھائے گا بھلا کون
ہر پھول پہ ہر خار پہ بھی ٹیکس لگے گا

جس زلف پہ لکھتے ہیں صبح وشام سخنور
اسی زلف کی ہر تار پہ بھی ٹیکس لگے گا

دل بھر کے دیکھ لو جتنا بھی اب چاہو!
ہر رخسار کے ہر تل پہ بھی ٹیکس لگے گا

میاں دیوان کو اب اپنے سمیٹو !!
کہتے ہیں کہ اشعار پہ بھی ٹیکس لگے گا

19/12/2021



رونق میلے مُک جاندے نیں
ساہ جس ویلے
رُک جاندے نیں

جیہڑے کہندے جان توں پیارا
لوڑ پوے تے
لُک جاندے نیں

موڈھے چوڑے نہ رَکھ بندیا ___!!
پچھلی عُمرے جُھک جاندے نیں

لف جا جَھلیا بچیا رہیں گا
آکڑے کِل سبھ ٹُھک جاندے نیں !!

بے شمار لوگوں میںمت شمار ہو جانامت ہماری آنکھوں کاانتظار ہو جاناایک التجا سن لوتم مری محبت کااعتبار ہو جاناذیست نا مکمل...
28/12/2019

بے شمار لوگوں میں
مت شمار ہو جانا
مت ہماری آنکھوں کا
انتظار ہو جانا
ایک التجا سن لو
تم مری محبت کا
اعتبار ہو جانا
ذیست نا مکمل ہے
لوٹ کر چلے آنا
اور میری دنیا میں
بے شمار ہو جانا
اس لئے یہی تم سے
بار بار کہتی ہوں
تم بھلے عقیدہ ہو
ہو مگر محبت کا
جس طرح سے میں چاہوں
اختیار ہو جانا
بے شمار لوگوں میں
مت شمار ہو جانا.....!!

16/12/2019

تم چلے آؤ شام ڈھلتے ہی
دُھند اتنی ہے کون دیکھے گا

ابھی تو نتھلی نے الجھایا ہوا ہےابھی تو ہونٹوں تک جانا باقی ہے
13/12/2019

ابھی تو نتھلی نے الجھایا ہوا ہے
ابھی تو ہونٹوں تک جانا باقی ہے

12/12/2019

اک مسلسل سے امتحان میں ہوں
جب سے رب میں ترے جہان میں ہوں

صرف اتنا سا ہے قصور مرا
میں نہیں وہ ہوں جس گمان میں ہوں

کون پہنچا ہے آسمانوں تک
ایک ضدی سی بس اڑان میں ہوں

اپنے قصے میں بھی یوں لگتا ہے
می‍ں کسی اور داستان میں ہوں

در و دیوار بھی نہیں سنتے
اتنی تنہا میں اس مکان میں ہوں

کوئی سمجھا نہ میری بات ابرک
میں کسی اور ہی زبان میں ہوں

👌👌💞

12/12/2019

حسن کو چاند ، جوانی کو کنول کہتے ہیں
اُن کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

اُف ! وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا
ہم تو اس کو بھی تیری زلف کا بل کہتے ہیں

وہ تیرے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف
پنکھڑی کو جو تیرے لب کا بدل کہتے ہیں

مَیں نے توڑی تھی صراحی کہ گِھر آئے بادل
دوستو! اس کو مکافاتِ عمل کہتے ہیں

مجھ کو معلوم نہیں اس کے سوا کچھ بھی قتیل
جو صدی وصل میں گزرے اسے پل کہتے ہیں

قتیل شفائی

11/12/2019

❤تجھـــے یاد نــہ کریں تو بے چیــن سے ہو جاتے ہیـں

پتا نہیں یہ زندگی سانســـوں سے چلتی ہے
یا تیری یادوں سـے

11/12/2019

ﭘﮍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮬﮯ ﺗﻢ ﭘﮧ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ
❤!!...ﺍﺏ ﻧﻈﺮ
ﺟﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ
❤!!...ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺳﮯ

سرخ کپڑوں میں نکلا ہے وہ بے وفا۔۔۔۔۔💔آج دنیا لٹے گی میری دوستو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! 😓
05/12/2019

سرخ کپڑوں میں نکلا ہے وہ بے وفا۔۔۔۔۔💔
آج دنیا لٹے گی میری دوستو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! 😓

03/12/2019

تَعلق رکھ لِیا باقی، یقیں اب ..........توڑ آیا ہوں...
کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں
۔
تمہارے ساتھ جینے کی قَسم کھانے سے کچھ پہلے،
میں کچھ وعدے، کئی قَسمیں کہیں پر .....توڑ آیا ہوں
۔
محبت کانچ کا زنداں، یونہی سنگِ گِراں کب تھی،
جہاں سَر پھوڑ سکتا تھا، وہیں .....سَر پھوڑ آیا ہوں
۔
پلٹ کر آ گیا لیکن یوں لگتا ہے .............کہ اپنا آپ...
جہاں تم مجھ سے بچھڑے تھے وہیں پر چھوڑ آیا ہوں۔
۔
اُسے جانے کی جلدی تھی، سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں،
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہیں تک ..............چھوڑ آیا ہوں....!!!

03/12/2019

‏آنکھ میں آنسو نہیں ہیں پر رُلاتا ہے بہت
وہ دسمبر , ہر دسمبر , یاد آتا ہے بہت

مسکراہٹ , گنگناہٹ , قہقہے , باتیں تری
خواب بن کے رات بھر مجھ کو جگاتا ہے بہت

خواہشوں کے بیج بو کے خود چلا جاتا ہے یہ
وہ دسمبر , ہر دسمبر دل دْکھاتا ہے بہت

Address

Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GCUF posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to GCUF:

Share