Jamia Salfia FSD.

Jamia Salfia FSD. Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia Salfia FSD., Jamia Salfia, Faisalabad.

ششماہی / فصلِ اول کے امتحانات کا آغاز، 960 طلبہ کی شرکتبتاریخ 22 اگست 2026، بروز ہفتہ، جامعہ سلفیہ فیصل آبادرپورٹ: عبد...
22/08/2026

ششماہی / فصلِ اول کے امتحانات کا آغاز، 960 طلبہ کی شرکت
بتاریخ 22 اگست 2026، بروز ہفتہ، جامعہ سلفیہ فیصل آباد

رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخ
رُکن إدارۃ الإمتحانات

آج بروز ہفتہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں فصلِ اول کے امتحانات کا پہلا پرچہ منعقد ہوا۔ جس میں مجموعی طور پر 960 طلبہ نے شرکت کی۔

امتحانات کے لیے جامعہ سلفیہ میں چار مختلف امتحانی مراکز قائم کیے گئے، جہاں تمام طلبہ اور ان کی نگرانی پر مامور اساتذہ بھرپور موجود رہے۔ مدیر التعلیم جامعہ سلفیہ، فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ اور مدیر الامتحانات مولانا محمد ادریس السلفی حفظہ اللہ نے بذاتِ خود تمام امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا، جہاں ٹیم ادارہ امتحانات کی خدمات کو سراہا۔

اس دوران مدیر التعلیم نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں نصیحت کی کہ پرچہ مکمل اطمینان اور سکون کے ساتھ حل کریں، سوالات کو اچھی طرح سمجھ کر جواب دیں، سوال کو بار بار پڑھیں، جلد بازی ہرگز نہ کریں اور کوشش کریں کہ پرچہ آخر وقت تک حل کیا جائے۔

فصلِ اول کا یہ امتحان جامعہ کے سالانہ امتحانی نظام کا اہم حصہ ہے۔ سالانہ امتحان کے ساتھ اس کے نتائج کو بھی طلبہ کی مجموعی تعلیمی کارکردگی جانچنے اور اگلی جماعت میں ترقی کے لیے معیار مقرر کرنے میں شامل کیا جاتا ہے۔

کل بروز ہفتہ ان شاء اللہ
21/08/2026

کل بروز ہفتہ ان شاء اللہ

زونل سیرت النبی ﷺ کانفرنسچودھری محمد یٰسین ظفر کی شرکت، نسلِ نو کے تحفظ، تعمیر اور کردار سازی پر اہم خطابترتیب و تدوین: ...
19/08/2026

زونل سیرت النبی ﷺ کانفرنس
چودھری محمد یٰسین ظفر کی شرکت، نسلِ نو کے تحفظ، تعمیر اور کردار سازی پر اہم خطاب

ترتیب و تدوین: عبدالقیوم فرُّخ

آج سٹی فیصل آباد میں کمشنر فیصل آباد جناب عمران حامد شیخ کی زیرِ صدارت زونل سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مدیر التعلیم جامعہ سلفیہ فیصل آباد فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ نے شرکت کی اور شرکائے کانفرنس سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ ایک نہایت وسیع موضوع ہے، جس میں ہمارے معاشرتی، معاشی، اجتماعی اور تربیتی مسائل کا بہترین حل موجود ہے۔ آج کی کانفرنس کا موضوع ’’نسلِ نو کا تحفظ، تعمیر اور کردار سازی؛ سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں‘‘ نہایت اہم اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نسلِ نو ہمارا قیمتی اثاثہ اور ہمارا مستقبل ہے۔ یہی نوجوان امت کے بنیادی ستون، ہماری شناخت اور ہمارے لیے امید کا سرمایہ ہیں۔ والدین اگر دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں تو انہیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی اولاد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کی صحیح اسلامی تربیت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نسلِ نو کی تربیت کا آغاز عقیدے کی درست تعلیم سے ہونا چاہیے۔ بچوں کے دلوں میں عقیدۂ توحید کو راسخ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور یہ عقیدہ پختہ کیا جائے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اسی طرح عقیدۂ آخرت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ آخرت کا یقین انسان کو بہت سے گناہوں اور برائیوں سے بچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نسلِ نو کی تعلیم و تربیت کے لیے والدین کو تعلیمی اداروں کے انتخاب میں بھی انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ بدقسمتی سے بعض تعلیمی اداروں میں انسان سازی اور کردار سازی کا بنیادی مقصد پسِ پشت چلا گیا ہے اور تعلیم محض حصولِ معاش کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔انہوں نے موجودہ دور کے فتنوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آج مختلف نام نہاد دینی سکالرز اپنی من مانی تشریحات کے ذریعے نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں اور دینِ اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ایسے فتنوں کا مؤثر تدارک حکومت، اہلِ علم اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے والدین کو خصوصی طور پر نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں سیرت النبی ﷺ کے مطالعے کا اہتمام کیا جائے، سیرت کی مستند کتابیں گھروں میں رکھی جائیں اور بچوں کو روزانہ چند صفحات پڑھ کر سنائے جائیں، تاکہ ان کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ پیدا ہو اور وہ فکری و اخلاقی گمراہی سے محفوظ رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس نسلِ نو کی تعلیم و تربیت کے لیے بہترین کردار ادا کر رہے ہیں اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اس اہم فریضے کو سرانجام دے رہے ہیں۔ مدارس میں طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی، دینی اور عملی تربیت پر بھی توجہ دی جاتی ہے، ان کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور انہیں مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

آخر میں فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ نے محکمۂ اوقاف کے ڈائریکٹر جناب محمد شاکر سندھو صاحب اور دیگر ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے کانفرنس کے انعقاد اور انتظامات کو بہترین انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔

کیا آپ سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اپنے معاشی و معاشرتی مسائل کا حل چاہتے ہیں؟جامعہ سلفیہ فیصل آباد لایا ہے 6 روزہ باوقار ...
19/08/2026

کیا آپ سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اپنے معاشی و معاشرتی مسائل کا حل چاہتے ہیں؟

جامعہ سلفیہ فیصل آباد لایا ہے 6 روزہ باوقار "آگاہیِ سیرت کورس" (22 تا 27 اگست 2026)۔

بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل اور سینئر اساتذہ کے ساتھ علمی نشستیں (بعد نمازِ مغرب)۔

کورس کے اختتام پر سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔ خود بھی آئیں اور دوستوں کو بھی ترغیب دیں!

جامعہ سلفیہ میں اساتذہ کا اہم اجلاس اور صحافی سہیل وڑائچ کے خلاف قراردادِ مذمتبتاریخ: 16 اگست 2026م، بروز اتوار، صبح 8:5...
16/08/2026

جامعہ سلفیہ میں اساتذہ کا اہم اجلاس اور صحافی سہیل وڑائچ کے خلاف قراردادِ مذمت

بتاریخ: 16 اگست 2026م، بروز اتوار، صبح 8:50 بجے، بمقام: میٹنگ ہال، جامعہ سلفیہ فیصل آباد

رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخ

مورخہ 16 اگست 2026ء، بروز اتوار جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں اساتذہ جامعہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فصلِ اول کے امتحانات کی تیاری، طلبہ کی حاضری، تعلیمی و تربیتی نظم و ضبط، جامعہ کی سکیورٹی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس دوران اساتذہ کی جانب سے ایک قراردادِ مذمت بھی پیش کی گئی۔ اجلاس کی صدارت شیخ الحدیث مفتی ڈاکٹر عتیق الرحمن حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔ محترم جناب قاری ارسلان شکور صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کی تلاوت سے باقاعدہ آغاز ہوا۔

بعد ازاں پرنسپل جامعہ نے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا اور مختلف امور پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ طلبہ امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں اور اساتذہ کرام ان کی بھرپور نگرانی فرما رہے ہیں۔ کلاسوں میں حاضری کے ساتھ ساتھ رات کے مطالعے کے وقت طلبہ کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیاں بھی ایک حوصلہ افزا منظر پیش کر رہی ہیں۔ مغرب کی نماز سے پندرہ بیس منٹ قبل طلبہ مسجد میں پہنچ جاتے ہیں، جہاں وہ ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن مجید اور نماز کی تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد طلبہ اپنے مطالعے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ رات ساڑھے دس بجے تک جاری رہنے والے اس مطالعے کی مکمل نگرانی محترم قاری عنایت اللہ امین صاحب فرما رہے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ مولانا ابو سفیان صدیقی صاحب، مولانا عمار بٹ صاحب، مولانا عارف سلفی صاحب اور قاری عبدالقیوم فرُّخ بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اس دوران طلبہ کی حاضری بھی باقاعدگی سے یقینی بنائی جاتی ہے اور الحمدللہ طلبہ بھرپور محنت اور تگ و دو کے ساتھ امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ طلبہ کو کلاسوں میں امتحانات کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کی جائے۔ انہیں پڑھائی جانے والی کتب کو آسان انداز میں سمجھانے کے ساتھ ساتھ امتحان کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا جائے۔ طلبہ کو بتایا جائے کہ پرچہ کس انداز سے ترتیب دیا جاتا ہے، اس میں کتنے سوالات ہوتے ہیں، سوالات کو کس ترتیب سے حل کرنا چاہیے اور مختصر و تفصیلی سوالات کو کس انداز میں حل کیا جائے۔ اس طرح کی رہنمائی سے طلبہ امتحان کے لیے ذہنی طور پر بہتر طور پر تیار ہوں گے اور اطمینان کے ساتھ امتحان دے سکیں گے۔

اس کے ساتھ جامعہ کے انتظامی ماحول کو مزید بہتر بنانے اور نظم و ضبط کو مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس امر کی طرف خصوصی توجہ دلائی گئی کہ جامعہ سلفیہ کے در و دیوار، اس کے تعلیمی ماحول اور اس کے نظم و ضبط کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی بھی ایسی سرگرمی یا حرکت پر گہری نظر رکھی جائے جو شکوک و شبہات کا باعث بن سکتی ہو، جبکہ باہر سے آنے والے افراد کے بارے میں بھی مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ جامعہ کے داخلی دروازے پر سکیورٹی کے لیے نادرا کا ویری سِس سسٹم (NADRA Verisys System) بھی نصب کیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی گارڈ بھی تعینات ہے، جو جامعہ میں آنے والے نئے افراد کی شناخت کی مکمل تصدیق کرتا ہے۔ یہ اقدامات ادارے کے تحفظ کے لیے ایک ذمہ دار تعلیمی ادارے کی حیثیت سے جامعہ کے فرائض کا حصہ ہیں اور ہر ذمہ دار شہری کو ایسے اقدامات میں ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔

اب کے بعد مدیر الامتحانات مولانا محمد ادریس السلفی صاحب نے امتحانات کی تیاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ الحمدللہ امتحانات کے لیے بھرپور تیاری جاری ہے۔ اس سلسلے میں قائم امتحانی کمیٹی، جس میں مفتی ڈاکٹر عتیق الرحمن صاحب، جناب قاری ارسلان شکور صاحب اور جناب قاری عبدالقیوم فرُّخ شامل ہیں، دن رات امتحانات کی تیاری میں مصروف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانی پرچوں کی باقاعدہ ٹائپنگ، پروف ریڈنگ، فوٹو کاپی اور دیگر ضروری امور کا سلسلہ جاری ہے اور امتحانات کے لیے درکار تمام لوازمات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام کام انتہائی ذمہ داری اور اہتمام کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی شکایت یا کوتاہی نہیں ہے۔

اجلاس میں جامعہ کی صبح کی اسمبلی کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ مولانا ارشد قصوری صاحب اسمبلی کی ذمہ داری بخوبی انجام دے رہے ہیں، جبکہ مولانا نجیب اللہ طارق صاحب بھی اسمبلی کی نگرانی فرماتے ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ اسمبلی میں طلبہ کی بھرپور حاضری ہوتی ہے اور انہیں باقاعدگی کے ساتھ جمع کیا جاتا ہے۔ چونکہ اسمبلی پورے دن کی پہلی حاضری ہوتی ہے، اس لیے اس کے ذریعے طلبہ کی حاضری اور وقت کی پابندی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ عمومی طور پر جو طلبہ اسمبلی میں بروقت شریک ہوتے ہیں وہ کلاسوں میں بھی وقت پر پہنچتے ہیں، جبکہ اسمبلی سے غیر حاضر رہنے والے طلبہ کے کلاس میں تاخیر سے آنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

اس دوران شیخ الحدیث مفتی ڈاکٹر عتیق الرحمن حفظہ اللہ تعالیٰ نے احساسِ ذمہ داری کے حوالے سے مختصر مگر جامع گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اس ادارے کے امین ہیں اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کے بھی امین ہیں۔ ہمیں ہمیشہ اللہ رب العزت کا خوف اور احساسِ جواب دہی اپنے دلوں میں رکھنا چاہیے اور طلبہ کی تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود کے لیے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانا چاہیے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ الحمدللہ جامعہ سلفیہ میں پہلے ہی ایک اچھا تعلیمی و انتظامی نظام قائم ہے، تاہم انسان کو مسلسل سیکھنے اور بہتری کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ جو شخص اپنی اصلاح اور بہتری کے لیے مسلسل کوشاں رہتا ہے، وہ ان لوگوں سے کہیں بہتر ہوتا ہے جو سیکھنے اور اپنی اصلاح کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

(قراردادِ مذمت)
اجلاس کے دوران اساتذہ کرام کی جانب سے ایک قراردادِ مذمت بھی پیش کی گئی۔ اس موقع پر پرنسپل جامعہ، علامہ چودھری محمد یٰسین ظفر صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا:کوئی دور تھا جب صحافت اور صحافی کو معاشرے میں بڑا مقام حاصل تھا۔ نامی گرامی لوگ اس شعبے سے وابستہ تھے، جن کی سنجیدگی، متانت، صداقت، امانت اور دیانت ان کی پہچان تھی۔ یہ لوگ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتے اور عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرتے تھے۔ لیکن سوشل میڈیا نے صحافت کا جنازہ نکال دیا ہے اور ایسے ایسے نام نہاد صحافی سامنے آئے ہیں جن کے منہ اور قلم سے غلاظت نکلتی ہے۔ بے بنیاد اور بلادلیل باتیں کی جاتی ہیں، الزام تراشی اور ہیجان خیز خبریں لگا کر لوگوں کی توجہ حاصل کی جاتی ہے۔ یہ لوگ بے باک ہی نہیں بلکہ بد اخلاق بھی ہیں اور ان کے شر سے کوئی محفوظ نہیں۔

ان بے سروپا اور اخلاق باختہ صحافیوں میں ایک سہیل وڑائچ بھی ہیں، جنہوں نے گزشتہ دنوں اہلِ حدیث مکتبہ فکر کو داعش سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اپنی اس حماقت کے لیے نہ کوئی دلیل پیش کی اور نہ کوئی ثبوت، بلکہ بعض لوگوں کو خوش کرنے اور اپنی خبر کو وائرل کرنے کے لیے یہ خبر چلا دی۔ پاکستان کے سنجیدہ لوگ ان کی صحافت کے معیار کو بخوبی جانتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی اس خبر کا کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ جس آدمی کا زیادہ وقت اداکاروں میں گزرتا ہو، اس سے خیر کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا یہ اجلاس سہیل وڑائچ کی مذکورہ خبر پر شدید افسوس کا اظہار اور اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اسے ان کی بے خبری، غیر ذمہ داری اور صحافتی اصولوں سے انحراف کا واضح ثبوت قرار دیتا ہے۔ ایک دیانت دار اور ذمہ دار صحافی خبر نشر کرنے سے قبل مکمل تحقیق اور تصدیق کو اپنا فرض سمجھتا ہے، لیکن مذکورہ خبر حقائق کی مکمل تحقیق کے بغیر محض سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے نشر کی گئی۔

یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سہیل وڑائچ غیر مشروط معافی مانگیں، اپنی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کی وضاحت پیش کریں اور صحافت جیسے پاکیزہ اور ذمہ دار شعبے کو بدنام کرنے سے باز آئیں۔ نیز بلاوجہ کسی دینی مکتبۂ فکر، ادارے یا نیک نام صحافیوں کی ساکھ کو مجروح کرنے سے اجتناب کریں۔

15/08/2026

کیا مولوی اور مدارس ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟

سنیے علامہ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ سے

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں یومِ آزادی پاکستان کی پروقار تقریببتاریخ 14 اگست 2026، بروز جمعۃ المبارکرپورٹ: عبدالقیوم فرُ...
14/08/2026

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں یومِ آزادی پاکستان کی پروقار تقریب
بتاریخ 14 اگست 2026، بروز جمعۃ المبارک

رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخ

14 اگست 1947پاکستان کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بعد ایک آزاد وطن حاصل کیا۔ ہر سال 14 اگست ہمیں اس عظیم نعمت کی یاد دلاتا ہے اور یہ احساس تازہ کرتا ہے کہ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرنے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنے کردار کا جائزہ لینے کا دن ہے۔

اسی جذبہ تشکر اور وطن سے محبت کے تحت جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں 14 اگست 2026ء کو یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس کا آغاز جامعہ سلفیہ کی صبح کی اسمبلی سے ہوا۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد تمام طلبہ اور اساتذہ نے مل کر قومی ترانہ پڑھا۔

قومی ترانے کے بعد یومِ آزادی کی مناسبت سے پروفیسر مولانا نجیب اللہ طارق حفظہ اللہ نے اظہارِ خیال فرمایا۔ انہوں نے آزادی کی نعمت، اس کے مقصد اور قوم کی اجتماعی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی اس عظیم رہنمائی کی طرف توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتے جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ نہ کرے۔ انہوں نے سورۃ الرعد کی آیتِ مبارکہ"إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ" تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ 14 اگست کا پیغام صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے وطن کے لیے خوشی کا اظہار کریں، بلکہ اس دن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نے اپنے ملک کے لیے کیا کیا ہے اور آئندہ کیا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالات صرف خواہشات سے تبدیل نہیں ہوتے۔ اگر ہم اپنے ملک میں بہتری، امن، ترقی اور خوش حالی دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز ہمیں اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ ہر فرد اپنے کردار، اپنے رویے، اپنی ذمہ داری اور اپنے عمل میں بہتری پیدا کرے۔ جب افراد بدلتے ہیں تو معاشرہ بدلتا ہے اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو قوم کے حالات بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم بحیثیت فرد، طالب علم، استاد اور شہری پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اپنا حصہ ادا کرے تو بظاہر چھوٹی چھوٹی کوششیں مل کر ایک بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

ان کے بعد مدیرِ تعلیم جامعہ سلفیہ فیصل آباد، فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ نے یومِ آزادی کی مناسبت سے نہایت فکر انگیز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے آزادی کی قدر و قیمت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری موجودہ نسل شاید اس آزادی کی حقیقی قدر و قیمت کو اس لیے پوری طرح محسوس نہیں کر پاتی کہ اس نے غلامی کا وہ دور دیکھا ہی نہیں جس سے گزر کر پاکستان حاصل کیا گیا تھا۔ وہ نسل جس نے پاکستان کے حصول کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا، جس نے اپنے گھر بار چھوڑے، ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں، اپنے جسموں پر زخم سہے، اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور اپنی عزت و عصمت تک کی قربانیاں دیں، وہ نسل آج بہت حد تک ہم سے رخصت ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کی نسل کو آزادی ایک تیار شدہ حلوہ کی صورت میں ملی ہے۔ ہم نے پاکستان کو بنتے ہوئے نہیں دیکھا، ہم نے ہجرت کے قافلے نہیں دیکھے، ہم نے وہ خون آلود راستے نہیں دیکھے اور نہ ہی ہم نے ان لوگوں کی تکلیفوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں آزادی کی وہ قدر محسوس نہیں ہوتی جو اس نسل کو تھی جس نے پاکستان حاصل کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ وطن حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ مٹی کے ساتھ مٹی ہونا پڑتا ہے اور اس مٹی کو اپنے خون سے سینچنا پڑتا ہے، تب جا کر ایک وطن وجود میں آتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آسانی سے حاصل نہیں ہوا۔ اس کے قیام کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، بے شمار قربانیاں اور بڑی آزمائشیں ہیں۔ اس لیے ہمیں اس ملک کی قدر کرنی چاہیے، اس کی حفاظت، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اگر ہم نے اپنے ملک کی قدر نہ کی، اس کی حفاظت اور تعمیر و ترقی کی ذمہ داری کو محسوس نہ کیا اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل رہے تو نعمتوں کی حفاظت مشکل ہو جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ آزادی کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھیں، اس کا شکر ادا کریں اور اس نعمت کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تعمیر صرف حکومت یا کسی ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ملک کا ہر فرد اس تعمیر میں اپنا حصہ رکھتا ہے۔ ایک طالب علم اپنی تعلیم میں محنت کرکے، ایک استاد اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرکے، ایک تاجر امانت داری اختیار کرکے، ایک شہری قانون کی پاسداری کرکے اور ہر شخص اپنے دائرۂ کار میں اچھا کردار ادا کرکے پاکستان کی تعمیر میں حصہ ڈال سکتا ہے۔

ان خطابات کے بعد پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ قومی پرچم سربلند کیا گیا اور اس موقع پر پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوش حالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ دعا میں پاکستان کی تعمیر و ترقی، ملکی سلامتی، افواجِ پاکستان، ملک و قوم کے خیر خواہوں، دینی مدارس اور تمام محبِ وطن پاکستانیوں کے لیے خیر و عافیت کی دعا کی گئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے، اسے اندرونی و بیرونی فتنوں سے محفوظ رکھے اور ملک و ملت کی خدمت کرنے والوں کی کوششوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔

وقفہ طعام کے بعد یومِ آزادی کی تقریبات کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا، جس میں جامعہ سلفیہ کے طلبہ نے نہایت جوش و خروش اور خوب صورت انداز میں اپنے ملی و قومی جذبات کا اظہار کیا۔ طلبہ نے اردو، عربی، انگریزی اور انڈونیشین زبانوں میں تقاریر، مکالموں، ترانوں اور مختلف پروگراموں کے ذریعے پاکستان سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار کیا۔ یومِ آزادی کے عنوان سے عربی مکالمے، ملی نغمے، نشیدیں اور تقاریر بھی پیش کی گئیں۔

اس کے علاوہ عیدو فاؤنڈیشن کی جانب سے طلبہ کے درمیان چارٹ نویسی کا مقابلہ بھی منعقد کیا گیا، جس کا موضوع یومِ آزادی پاکستان تھا۔ اس مقابلے میں تقریباً 30 طلبہ نے حصہ لیا اور اپنے چارٹس کے ذریعے پاکستان کی آزادی، تاریخ اور وطن سے محبت کے جذبات کو اجاگر کیا۔ مقابلے میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ ساتھ دیگر تمام شریک طلبہ کے لیے بھی عیدو فاؤنڈیشن کی جانب سے انعامات اور تحائف کا اہتمام کیا گیا۔

مدیرِ تعلیم چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ نے تقریب کے منتظمین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات طلبہ میں حب الوطنی، احساسِ ذمہ داری اور ملک و ملت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو یہ بھی نصیحت کی کہ پاکستان کی ترقی کے لیے صرف جذبات کافی نہیں، بلکہ ہمیں اپنے کردار اور عمل کو بہتر بنانا ہوگا۔ قوم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک اس کا ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس نہ کرے۔

آخر میں دوبارہ پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوش حالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور اس عزم کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی کہ ہم آزادی کی اس نعمت کی قدر کریں گے، اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنی بساط کے مطابق مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد!

گزشتہ سال 1447ھ / 2025ء میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد کی سطح پر 90 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے خوش نصیب طلبہ۔تقری...
10/08/2026

گزشتہ سال 1447ھ / 2025ء میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد کی سطح پر 90 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے خوش نصیب طلبہ۔

تقریب کی مکمل رپورٹ: (https://www.facebook.com/share/p/198GyJvLYC/)

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ممتاز طلبہ کے اعزاز میں پروقار تقریببتاریخ: 09 اگست 2026ء، بروز اتوار، دوپہر 12 بجےترتیب و تد...
09/08/2026

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ممتاز طلبہ کے اعزاز میں پروقار تقریب
بتاریخ: 09 اگست 2026ء، بروز اتوار، دوپہر 12 بجے

ترتیب و تدوین: عبدالقیوم فرُّخ
رُکن ادارۃ الامتحانات جامعہ سلفیہ

جامعہ سلفیہ پاکستان کا ایک ممتاز دینی و تعلیمی ادارہ ہے، جس کی تعلیمی، تربیتی، دعوتی اور اصلاحی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ باقاعدہ تدریسی اوقات صبح سے دوپہر تک جاری رہتے ہیں، جبکہ عصر کی نماز کے بعد عصری علوم اور تکنیکی تعلیم کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ مغرب سے رات ساڑھے دس بجے تک مطالعہ اور ہوم ورک کے لیے بھی باقاعدہ وقت مقرر ہے، جس کی نگرانی مستند اور ماہر اساتذہ کرام کرتے ہیں۔

جامعہ سلفیہ کا امتحانی نظام بھی نہایت منظم ہے اور تمام مراحل کے امتحانات بڑی شفافیت اور حسنِ انتظام کے ساتھ لیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں مدیرِ امتحانات مولانا محمد ادریس السلفی حفظہ اللہ اور ادارۂ امتحانات کی کمیٹی، بالخصوص مفتی ڈاکٹر عتیق الرحمن صاحب، قاری ارسلان شکور صاحب اور راقم الحروف قاری عبدالقیوم فرُّخ کی خدمات نمایاں ہیں۔ امتحانات کے انعقاد، نگرانی اور نتائج کی تیاری میں ان کی محنت، نظم و ضبط، شفافیت اور حسنِ انتظام قابلِ تحسین ہے۔

جامعہ سلفیہ کے تعلیمی سال میں دو بنیادی اور اہم امتحانات ہوتے ہیں: ایک ششماہی اور دوسرا سالانہ۔ دونوں امتحانات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال کے اختتام پر دونوں امتحانات کے حاصل کردہ نمبروں کو جمع کرکے طلبہ کی سالانہ تقدیر مرتب کی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر انہیں اگلی جماعت میں ترقی و داخلہ دیا جاتا ہے۔ جامعہ میں کامیابی کے لیے 50 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے، جبکہ جامعہ سلفیہ کی سطح پر ممتاز پوزیشن حاصل کرنے کے لیے 90 فیصد یا اس سے زائد نمبر درکار ہوتے ہیں۔

گزشتہ سال (1447-2025) ممتاز پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں آج، بروز اتوار، 9 اگست 2026ء، دوپہر 12 بجے، جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ایک شاندار اور پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب مدیرِ تعلیم جامعہ سلفیہ، پروفیسر چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ تعالیٰ کی زیرِ صدارت اور مدیرِ امتحانات جامعہ سلفیہ، مولانا محمد ادریس السلفی حفظہ اللہ تعالیٰ کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی۔

تقریب میں جامعہ سلفیہ کے اساتذہ کرام اور طلبہ کے علاوہ لاہور اور فیصل آباد سے معزز مہمانانِ گرامی نے شرکت کی۔ لاہور سے خصوصی طور پر پروفیسر قاری محمد جاوید انور صدیقی حفظہ اللہ تعالیٰ تشریف لائے، جبکہ فیصل آباد سے میاں عباس اشرف بھلہ صاحب، شیخ شاہد مجید صاحب، حکیم عزیز الرحمن صاحب، عامر شیخ صاحب، محمد نعیم شیخ صاحب، چودھری نواز جٹ صاحب، حاجی محمد اکرم صاحب، شیخ عبدالرحمن محسن صاحب اور مولانا ڈاکٹر ابراہیم کیلانی (حفظہم اللہ تعالیٰ اجمعین) نے شرکت کی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا۔ اس کے بعد افتتاحی کلمات کے لیے جامعہ سلفیہ کے پرنسپل، فضیلۃ الشیخ پروفیسر چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ تعالیٰ، کو مدعو کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ نے تمام معزز مہمانوں کو تقریب میں خوش آمدید کہا اور ان کی تشریف آوری پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج پاکستان بے شمار آزمائشوں سے دوچار ہے، تاہم ان میں تعلیم کا مسئلہ نہایت اہم اور نازک ہے۔ سرکاری اسکولوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے اور بعض کو کرائے پر دے دیا گیا ہے، جبکہ پرائیویٹ اسکولز بھی بڑی حد تک تجارتی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ بعض تعلیمی اداروں میں فیسوں کا آغازچند ہزار روپے سے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ لاکھوں روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا تعلیمی نظام شدید بحران سے دوچار ہے۔ یونیورسٹیوں کے مختلف شعبہ جات میں نشستیں خالی ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کی تلاش میں ہے۔ دوسری طرف نوجوان تعلیمی ماحول اور اداروں سے بیزار ہو کر روزگار کے حصول کے لیے مختلف ہنر سیکھنے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے نامساعد حالات میں دینی مدارس ہی امید کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں اور لوگوں نے ان سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں بھی مدارس طلبہ کو مفت تعلیم، رہائش، کھانا، علاج معالجہ اور کتب کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، اس کے باوجود حکومت کی جانب سے ان کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔ پرنسپل جامعہ نے والدین سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں اساتذہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، کیونکہ استاذ اور والدین مل کر ہی بچے کی بہترین تعلیم و تربیت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام مہمانانِ گرامی، جامعہ کی انتظامیہ اور معاونین کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کے تعاون اور توجہ سے یہ عظیم الشان تعلیمی و تربیتی سلسلہ جاری و ساری ہے۔

اس کے بعد ممتاز طلبہ میں گراں قدر انعامات تقسیم کیے گئے۔ نقد انعامات کے علاوہ لاکھوں روپے مالیت کی کتب اور پارچات بھی طلبہ کے درمیان تقسیم کیے گئے۔ تقریب سے پروفیسر قاری محمد جاوید انور صدیقی حفظہ اللہ تعالیٰ (فاضل جامعہ سلفیہ فیصل آباد) نے خطاب کیا اور اپنے منفرد ترجمہ قرآن "معلم القرآن" کا تعارف پیش کیا۔

اس کے بعد مدیرِ امتحانات جامعہ سلفیہ، مولانا محمد ادریس السلفی حفظہ اللہ، نے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز طلبہ کی حوصلہ افزائی فرمائی اور دیگر طلبہ کو بھی محنت و جدوجہد کی ترغیب دیتے ہوئے اس مقابلے میں شریک ہو کر اعزاز حاصل کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز آنے والے طلبہ کے لیے جامعہ میں کوئی خصوصی سہولت نہیں ہوتی، بلکہ وہ بھی آپ ہی جیسے طلبہ ہیں۔ ان کے پاس بھی دن اور رات میں اتنا ہی وقت ہوتا ہے جتنا آپ کے پاس ہے۔ وہ بھی وہی کھاتے ہیں جو آپ کھاتے ہیں اور وہیں رہتے ہیں جہاں آپ رہتے ہیں۔ فرق صرف محنت، عزم اور بلند حوصلے کا ہے۔ انسان کی محنت اور اس کے پختہ عزائم ہی اسے بلندیوں تک پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میدان آپ سب کے لیے کھلا ہے، لہٰذا محنت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنے لیے کامیابی کی راہیں ہموار کریں۔

آخر میں شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ، مفتی ڈاکٹر عتیق الرحمن حفظہ اللہ، نے دعائے خیر کرائی۔ تقریب میں شریک معزز مہمانانِ گرامی اور ممتاز طلبہ کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

Address

Jamia Salfia
Faisalabad

Telephone

+923008189849

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Salfia FSD. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share