09/10/2021
اے قضا ٹھر جا ان سے کرلوں ذرا ۔ اک حسیں گفتگو آخری آخری،
اور کوئی تمنا نہیں با خدا ۔ ہے یہی آرزو آخری آخری
آنسوٗں کی جو رُت ہے بدل جائیگی ۔ جان آرام سے پھر نکل جائے گی
پوچھ لے گر ذرا حال حازق میرا ۔ بیٹھ کر رو برو آخری آخری
میرے گھر میں وہ جس وقت آ جائیں گے ۔ ان کے دامن سے پل بھر لپٹ جائیں گے
سامنے ان کے نینوں کو کروائیں گے ۔ آنسوٗں سے وضو آخری آخری
میری حالت بظاہر تو کمزور ہے ۔ ان کے غم سے بندھی سانس کی ڈور ہے
پہنچ جاوٗں فقط ان کے قدموں تلک ۔ ہے یہی جُستجو آخری آخری
اس سے پہلے کے اُٹھ کر چلے جائیں وہ ۔ قصہءِ غم مکمل نہ سُن پائیں وہ
ہوش کر بے خبر وقت ہے مختصر ۔ بول دے لفظ تو آخر ی آخری
ان کی بستی میں لے چل مجھے چارہ گر ۔ دیکھنی ہیں وہ گلیاں فقط اک نظر
چاہتی ہے نگاہ ان کی ہو بارگاہ ۔ دیکھ لوں چارسو آخری آخری
رات ڈھلتے ہی یہ نبض رُک جائے گی ۔ ٹوٹ کر شاخ سانسوں کی جھُک جائے گی
ایسا لگتا ہے اب تو حاکم مجھے ۔ ہوگی صبح نمو د آخری آخری
اے قضا ٹھر جا ان سے کرلوں ذرا ۔ اک حسیں گفتگو آخری آخری،
اور کوئی تمنا نہیں با خدا ۔ ہے یہی آرزو آخری آخری
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم