Choudhry Bilal Gujjar

Choudhry Bilal Gujjar About motivation.

باہر سے منگوائی جانیوالی گندم جس میں 70 ارب روپےکا امپورٹڈ حکومت میں شامل چوروں نے مل کر ہضم کرلیا ہے زبدستی فلور ملز کو...
27/03/2023

باہر سے منگوائی جانیوالی گندم جس میں 70 ارب روپےکا امپورٹڈ حکومت میں شامل چوروں نے مل کر ہضم کرلیا ہے زبدستی فلور ملز کو سپلائی کرکے لوگوں کو کھلا کر بیماریوں میں مبتلا کرکے مار رہےہیں

Milad Un Nabi Celebrations & Processions from around the world.
09/10/2022

Milad Un Nabi Celebrations & Processions from around the world.

18/09/2022

31/08/2022

سیلاب کتنوں کو یتیم کر گیا، 💔
This video make me crying😥😥

29/08/2022

وہ اپنی بہن سے کہہ رہا تھا کہ کچھ نہ لو وہ تصویریں بنا رہے ہیں تُم جاو ۔۔۔😐
غیرت مند کےلیئے بھوک، افلاس، مجبوری، آفتیں اور موت کوئی معنیٰ نہیں رکھتے ۔۔۔۔ !!
اپنے دکھاوے کےلیئے دوسروں کی عزتِ نفس مجروح نہ کیجیئے!🙏🏻

آج سے بارہ سال پہلے ستمبر 2010 میں پاکستان میں سیلاب آیا تو اقوام متحدہ کی سفیر مشہور اداکارہ انجلینا جولی پاکستان کے دو...
26/08/2022

آج سے بارہ سال پہلے ستمبر 2010 میں پاکستان میں سیلاب آیا تو اقوام متحدہ کی سفیر مشہور اداکارہ انجلینا جولی پاکستان کے دورے پر تشریف لائیں تاکہ پاکستان کی امداد کا تعین کیا جائے ۔

واپسی پر انجلینا جولی نے اقوام متحدہ میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں پاکستان کی بہت جگ ہنسائی ہوئی ، رپورٹ میں چند اہم باتوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔
اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ مجھے یہ دیکھ کر شدید دکھ ہوا جب میرے سامنے حکومت کے بااثر افراد سیلاب سے متاثرین کو دھکے دیکر کر مجھ سے ملنے نہیں دے رہے تھے ۔

مجھے اس وقت اور تکلیف ہوئی جب پاکستان کے وزیراعظم نے یہ خواہش ظاہر کی اور مجبور کیا کہ میری فیملی کے لوگ آپ سے ملنا چاہتے ہیں میں ان کی بے چینی دور کروں ، میرے انکار کے باوجود وزیراعظم کی فیملی مجھ سے ملنے کیلئے ملتان سے ایک خصوصی طیارے میں آئی اسلام آباد آئی اور میرے لئے قیمتی تحائف بھی لائی ، وزیراعظم کی فیملی نے میرے لئے کئی اقسام کے طعام میری دعوت کی ، ڈائننگ ٹیبل پر انواع اقسام کے کھانے دیکھ کر مجھے شدید رنج ہوا کہ ملک میں لوگ فاقوں سے مر رہے تھے اور یہ کھانا کئی سو لوگوں کیلئے کافی تھا جو صرف آٹے کے ایک تھیلے اور پانی کی ایک چھوٹی بوتل کیلئے ایک دوسرے کو دھکے دیکر ہماری ٹیم سے حاصل کرنے کے خواہشمند تھے ۔
مجھے حیرت ہوئی کہ ایک طرف بھوک ، غربت اور بد حالی تھی اور دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس اور کئی سرکاری عمارتوں کی شان و شوکت ، ٹھاٹھ باٹھ ، حکمرانوں کی عیاشیاں تھیں ، یورپ والوں کو حیران کرنے کیلئے کافی تھا ۔

انجلینا جولی نے اقوام متحدہ کو مشورہ دیا کہ پاکستان کو مجبور کیا جائے کہ امداد مانگنے سے پہلے شاہی پروٹوکول ، عیاشیاں اور فضول اخراجات ختم کریں۔

اس پورے دورے کے دوران انجلینا جولی پاکستان کے میڈیا اور فوٹو سیشن سے دور رہنا پسند کیا۔

اس بات کو آج بارہ سال ہونے کے آئے ہیں اور اس رپورٹ سے پوری دنیا میں پاکستان کا وقار مجروح ہوا مگر ہم آج بھی اسی روش پر قائم ہیں ، آج بھی وہی صورت حال ہے ، ووٹر بھوکے مر رہے ہیں اور حکمرانوں کی عیاشیاں جاری وساری ہیں ، یہی حکمران رجیم چینج میں اربوں روپے کے عوض ضمیر خرید کرتے رہے مگر ان کے پاس عوام کو دینے کیلئے ایک ڈھیلا بھی نہیں ہے۔

‏وقت حاضر میں ایک روٹی چاہئیے صاحبجنت  الفردوس  کے  سارے   محل  تمہارے.گزشتہ کچھ دنوں سے جو قیامت تونسہ شریف اور گردونوا...
25/08/2022

‏وقت حاضر میں ایک روٹی چاہئیے صاحب
جنت الفردوس کے سارے محل تمہارے.
گزشتہ کچھ دنوں سے جو قیامت تونسہ شریف اور گردونواح میں آئی ہے.... خوف، پریشانی اور بے سروسامانی کا عالم ہے بیان نہیں کیا جا سکتا.. بچے عورتیں نوجوان رات کے اندھیرے میں انڈس ہائی وے پہ سونے پر مجبور ہیں.... سیلاب کی وجہ سے بستیوں کی بستیاں ملیا میٹ ہو گئی ہیں ۔۔۔۔! لوگوں نے اپنے جانوروں کی رسیاں کھول دیں ہیں ۔۔۔! اور کہیں کہیں تو لاشوں کو دفنانے کےلئے خشک زمین نہیں مل رہی ۔۔۔۔! ایک ایک گھرانے کے نو نو افراد سیلاب کی نظر ہو گئے ہیں ۔۔۔۔! نومولود بچیاں ، بچے فیڈرز اور صاف پانی نہ ہونے کی وجہ بلک رہے ہیں اور مسلسل بارشیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔۔۔۔!

ایک چیز ہوتی ہے EMPATHY... جسے نہ ہمارے گھروں میں سکھایا جاتا ہے نہ تعلیمی اداروں میں... اسی لیے ہم ایک بے حس اور بس چسکے لینے والی قوم ہیں.... ہمیں خدا نے یہ صلاحیت ہی نہیں دی کہ ہم empathize کر سکیں... ہم سوچ سکیں کہ یار ان کی جگہ اگر میرا خاندان ہو... ہمارا گھر اسی طرح ڈوب جائے... گھر والے مر رہے ہوں... طوفانی ریلے سب جانوں کو بہا لے جائیں.... تو کیسی قیامت ہو گی ...

وہ لوگ اگر رو رو کر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ کوئی ادارہ تعاون نہیں کررہا تو جھوٹ تو نہیں کہہ رہے
اگر وہ کہتے ہیں راشن نہیں ہے امداد نہیں ہے تو کفن ہی بھجوا دو، تو آپ لوگوں کے اور حکمرانوں کے دل درد سے کیوں نہیں پھٹتے...

ہمارے اماں ابا نے ہمیشہ یہ سکھایا کہ خوشیوں کے موقعے پہ سانجھ ہو نہ ہو، دکھ میں سانجھ ضرور ہو... دکھ کے وقت میں کسی دشمن کو بھی اکیلا نہ چھوڑو... یہ سب تو پھر ہمارے بہت اپنے ہیں...

آپ ان کی کوئی مالی امداد نہ کریں ، کوئی فنڈ نہ بھیجیں ۔۔۔! کم سے کم آواز تو بنیں ۔۔۔! ہمارا مین سٹریم میڈیا اور ہمارے انسانیت کے علمبدار حکمران جو بھنگ پی کر سو رہے ہیں یا اقتدار کے نشے میں دھت ہیں انہیں یہ احساس تو دلوائیں کہ وہ سینکڑوں بچے ، مائیں بہنیں ، اور بھائی ہیں جو گندم کے دانے چبا کر اتنی بارشوں میں کھلے آسمانوں تلے زندہ ہیں ۔۔۔! جنہیں گلاس میں پانی بھی قاتل نظر آتا ہے ۔۔۔! جتنا ہو سکتا ہے سوشل میڈیا پر اپنے بہن بھائیوں کی آواز بنیں

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہو گا مگر اس کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہو...
22/08/2022

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)
آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہو گا مگر اس کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہو گا ۔
کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے،
ایک دن معملات سے تنگ آ کر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے،
(ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے)
بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جا پہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا
وائسرائے۔ نام؟
کھڑک سنگھ'
وائسرائے۔ تعلیم؟
کھڑک سنگھ۔ "تسی مینو جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟"
وائسرائے ہنستے ہوئے 'سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے'؟
کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے " بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤ میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آ رہا ہوں ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کر لیتا ہوں"
وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جن نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس کا ماموں، عرضی پر دستخط کر دیے اور کھڑک سنگھ جسٹس کا فرمان جاری کر دیا۔
اب کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچے اتفاق سے پہلا کیس قتل کا تھا،،
کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی خاتون تھی ۔
جسٹس صاحب نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھ لیا اور معاملہ سمجھ گئے ۔
۔
ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا 'مائی لاڈ یہ عورت کرانتی کور ہے اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے'
جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔
عورت بولی- "سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں درانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے اولے سے نکلے اور کھسم کو مار مار کر جان سے مار دیا"
جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصہ سے دیکھا اور پوچھا 'کیوں بدمعاشو تم نے بندہ مار دیا'؟
دائیں طرف کھڑے بندے نے کہا 'نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی تھی دوسرے نے کہا میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف سمجھانا تھا"
کھڑک سنگھ نے غصہ سے کہا جو بھی ہو بندہ تو مر گیا نا؟
پھر قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگے تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص کھڑا ہوا اور بولا مائی لاڈ رکھئے "یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے یہ ایک زمین کا پھڈا تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے بھلا مقتول وہاں کیوں گیا؟
جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟
'جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے' پولیس والے نے جواب دیا۔
تو انہیں کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کر رہا ہے، پھر کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کر دیے ۔
فیصلے میں لکھا تھا ( ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ)
پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی ہر لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھر تھر کاپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دیتا ہے، اچانک جرائم کی شرح صفر ہو گئی، کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نا پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہے ریاست میں خوب امن رہا آس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔
اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق ہے کہ اگر انصاف فوری اور مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہو جاۓ گی۔

14 اگست منانے کے ساتھ ساتھ اس شخص کے لیے ایک مرتبہ فاتحہ پڑھ دیں  جس کی محنت ہے یہ *پاکستان**THE GREAT QUAID*
13/08/2022

14 اگست منانے کے ساتھ ساتھ اس شخص کے لیے ایک مرتبہ فاتحہ پڑھ دیں جس کی محنت ہے یہ *پاکستان*
*THE GREAT QUAID*

12/08/2022

ڈی.سی.افس گجرات کے باہر شراب کی بوتلیں پانی میں تیرتے ہوے انتظامیہ کام کیوں نہیں کرتی ؟ اے میرے وطن عزیز کون لوگ تجھ پر مسلط ہو چکے ہیں 😥😥😥

‏یتیم ہوگیا ہے عدل کا جہاں ،زمانہ پھر سے عمر بن خطابؓ چاہتا ہے۔ ❤️
08/08/2022

‏یتیم ہوگیا ہے عدل کا جہاں ،
زمانہ پھر سے عمر بن خطابؓ چاہتا ہے۔ ❤️

مہنگائی کا احساس صرف حلال کمانے والے کو ہے 😓💔
29/06/2022

مہنگائی کا احساس صرف حلال کمانے والے کو ہے 😓💔

Address

Eid Gah Road
Gujrat

Telephone

+923316268763

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Choudhry Bilal Gujjar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Choudhry Bilal Gujjar:

Share