23/05/2026
22 مئی 2009......
یہی رْت یہی سماں یہی زمانہ تھا
یہیں سے ہم نے محبت کی ابتدا کی تھی
مہینہ بھر سے بات چل رہی تھی ۔۔۔ ریڈرز کلب میرا خواب تھا لگن تھی چاہت تھی اس خواب کو حقیقت بنانے پہ عمل درآمد ہو رہا تھا۔ پہلی نشست کی پلاننگ جاری تھی۔ 22مئی کا دن طے پایا ۔ اشفاق احمد کے افسانہ "گڈریا " پہ تنقیدی نشست منعقد کی جائے گی۔ ادبی تنقیدی نشستوں کا خاکہ اور ہیولا تو پنجاب یونیورسٹی میں زمانۂ طالب علمی کی "جرنلزم لٹریری سوسائٹی " کی نشستوں سے مربوط تھا ۔ ہم ڈیپارٹمنٹ میں ہفتہ وار بنیادوں پہ اس بزم کا انعقاد کیا کرتے تھے۔ فرخندہ شمیم صاحبہ نے یہ سوسائٹی شروع کی تھی پھر میں اس کی پریزیڈنٹ بنی۔ وہی جذبہ وہی جنون وہی سودا برسوں گزرنے کے بعد بھی ذہن و دل میں پنہاں تھا اور مطالعۂ کتب اور تبصرہ کی نشستوں پہ اکساتا رہتا تھا ۔ حالات سازگار ہوتے ہی خواہش نے موجِ بیکراں کا روپ دھار لیا اور پھر یہ ٹھان لیا کہ اب ریڈرز کلب کا آغاز کرنا ہے۔ اللہ سلامت رکھے زاہد بلال صاحب کو جو سربراہ تھے شعبۂ ابلاغیات کے ، ان کی اجازت اور مشاورت نے معاملات آسان بنائے۔ پہلی نشست میں گفتگو کے لئے استادِ محترمہ ڈاکٹر شاہین مفتی صاحبہ ، شبیر شاہ صاحب اور شیخ رشید صاحب کے نام تجویز کیے گئے ۔ دو روز قبل سیلاب زدگان کی امدادی مہم کا پروگرام تھا جس میں ہم نے دستاویزی فلم پریزنٹ کی تھی۔ ساتھ ساتھ نشست کی تیاریاں بھی جاری تھیں۔ ایم اے پہلے بیچ سے محمود احمد، فرحان لطیف بی ایس فرسٹ بیچ سے عطیہ ڈار اور احتشام علی۔ سیکنڈ بیچ سے اسماء نورین محمد بلال اور احسن امتیاز معاونین میں شامل تھے۔ طے یہ پایا تھا کہ پہلے افسانہ پڑھ کر سنایا جائے گا اور پھر اس پر گفتگو ہوگی۔ متن کی طوالت کے سبب اسے مختلف حصوں میں تقسیم اور ترتیب دیا گیا اور مختلف افراد کو ان کےاقتباسات تفویض کیے گئے۔ تمام مراحل ترتیب وار طے پا رہے تھے ۔ 21مئی 2009 لیونگ ٹائم تک أئندہ روز کی نشست کی تمام تیاریاں مکمل کر کے میں اپنے آفس ایس 111 سے نکلی اس عزم کے ساتھ کہ بس کل مہمانوں کا استقبال اور نشست کا انعقاد۔ چارٹس۔ انویٹیشن۔ پھولوں کے گلدستے سب تیاریاں مکمل۔ افسانہ پڑھ کر سنانے والوں کی بھی ریہرسل کروائی جا چکی تھی۔
22مئی کی صبح اپنی روٹین کے مطابق گھر سے نکلنے والی تھی جب فون کال موصول ہوئی کہ میرے بھائی جو سیالکوٹ اپنے آفس جا رہے تھے انہیں وزیرآباد میں ایک حادثہ پیش آگیا ہے اور وہ زخمی ہیں۔ وہ لمحات زندگی کے دشوار اور پریشان کن لمحات میں سے ہیں۔ ابھی امی کے انتقال کو ڈیڑھ ماہ ہی گزرا تھا اور ہم تا وقت اس سانحے سے سنبھل نہیں پائے تھے۔ پہلے فون کرکے زاہد بلال صاحب کو اطلاع دی کہ میں نہیں آ سکوں گی ۔ بھائی کی خبر لی ڈاکٹروں سے رابطہ کیا ۔ کہاں ایڈمٹ کروانا ہے کیسے سب ہونا ہے ۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ سٹوڈنٹس سے بھی رابطہ کہ تمام نشست ریہرسل اور پروگرام کے مطابق ہو جائے۔ دن تو یونہی گزر گیا ۔ بھائی کی حالت کے پیش نظر ریڈرز کلب اور پہلی نشست کا انعقاد ، بظاہر میرے ذہن سے محو ہو چکا تھا لیکن کہیں نہ کہیں تحت الشعور کے کسی کونے میں ایک الجھن ایک سوال سا ضرور چھپا بیٹھا تھا ۔ جو دن گزرنے پہ دھم سے شعور میں آن کودا اور تب میں نے کسی ایک معاون سے نشست کے بارے استفسار کیا۔ جواباْ جب اس نے یہ پوچھا کہ آپ کیوں نہیں آئیں تو اندازہ ہوا کہ کوآرڈینیٹر ریڈرز کلب کی غیر موجودگی کی توجیہہ و توضیح نشست میں مذکور ہی نہ تھی۔ ۔ پہلی نشست کا بھر پور اہتمام کرنا اور پھر موقع پر غیر موجودگی ، یہ دو یادیں ریڈرز کلب کے جنم دن کے ساتھ مربوط ہیں اور اس روز بھائی کے ساتھ پیش آنے والا حادثہ اور تشویش و پریشانی کے تمام مراحل ، اسی روز جویریہ کا برتھ ڈے بھی ہوتا ہے ۔ گویا ہر برس میرا ذہن 22مئی کو سب کچھ دہراتا رہتا ہے ۔ اللہ کا بے حد احسان کہ چند ماہ بعد بھائی کی صحت تشویش کے مراحل سے باہر ہوئی تو قدرے سکون ہوا ۔
پہلی نشست کے بعد سلسلہ تو چل نکلا اہتمام و انعقاد کا ۔۔۔۔ مگر پہلے چند برسوں تک ہر برس سالگرہ کا دن دل کو مختلف خدشات میں مبتلا کرتا رہتا۔ اس روز ہم نشست کا اہتمام تو کرتے ہی تھے باقی سرگرمیاں بھی جاری رہتیں البتہ 22 مئی 2015 کو ہم نے ریڈرز کلب کہ چھٹی سالگرہ باقاعدہ اور با ضابطہ طور پر سیلیبریٹ کی ۔ "کتاب سے میری وابستگی" اس روز کا موضوع تھا اور مہمان مقررین بھی موجود تھے جب یہ اہتمام کیا گیا ۔ 2016 میں سالگرہ کی نشست میں ڈاکٹر یونس جاوید مہمان تھے ، اس کے بعد پھر اس دن پہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایکٹیوٹی رکھی جاتی رہی ہے۔۔ مہمان کوئی ہو یا فقط اراکین موجود ہوں مقصد تو تجدیدِ عہدِ وفا ہی رہا ہے ۔
آج سترہ برس گزر گئے ہیں ۔ ریڈرز کلب کے نام سے کتاب اور مطالعہ سے محبت کا جو تخم میں نے ایک نوزائیدہ زمین میں کاشت کیا تھا اب ایک سر بلند پیڑ بن چکا ہے۔ معاونین کا ساتھ، ان کی معاونت فقط چہرے اور نام بدلنے کی حد تک تبدیل ہوئی ہے ان کا جذبہ اور اخلاص برقرار ہے ۔ محبت کی جو شمع سر بزم ہم نے روشن کی تھی الحمد للہ آج بھی فروزاں ہے اور اسے روشن رکھنے والے وطن عزیز اور اس سے باہر جہاں کہیں بھی موجود ہوں محبت کےایک نادیدہ سے ربط میں مربوط ہیں اور ندرتِ خیال کو مہمیز کرتے رہے ہیں۔
پہلی نشست کے بعد ہر نشست میری نگرانی سربراہی اور موجودگی میں منعقد کی جاتی رہی ہے گویا کوآرڈینیٹر اور سیشن لازم و ملزوم ہی رہے چنانچہ امسال جب دو نشستوں میں میری موجودگی ممکن نہ ہوئی تو بہت سے حلقوں کی جانب سے استفسار کیا جانے لگا کہ کیا میں ریڈرز کلب کو اپنی سربراہی سے سبکدوش کر رہی ہوں۔آج سترہویں سالگرہ کے روز میں اپنے اراکین کے ساتھ موجود نہیں ہوں لیکن آج میں جس جگہ مکین ہوں حاضر ہوں وہ سعادت میرے لیے سب دنیاوی امور سے بڑھ کر ہے ۔ زندگی رہی تو ریڈرز کلب اور اس کی نشستوں کی سنگت ہمیشہ کی طرح برقرار رہے گی ان شا ءاللہ۔
ریڈرز کلب کی موجودہ کابینہ قابل تر اراکین پہ مشتمل ہے انہوں نے خود اعتمادی اور خود انحصاری کی مثال قائم کرتے ہوئے چند بے حد خوبصورت اور نودمید تھیمز کو روشناس کروانے کی کاوش کی ہے۔ اللہ کرے یہ جذبہ مزید افزوں ہو اور یہ شمع تا دیر فروزاں رہے
ہم نے سوکھی ہوئی شاخوں پہ لہو چھڑکا تھا
پھول اب بھی نہ کھلتے ۔۔۔۔۔۔تو قیامت ہوتی
رخسانہ ریاض
کوآرڈینیٹر ریڈرز کلب