Jamia Miftah-ul-Uloom Hangu

Jamia Miftah-ul-Uloom Hangu Jamia Miftah-ul-Uloom Al Islamia Hangu Official page ✔️

03/09/2026

جامعہ کا دار الحدیث

02/09/2026
30/08/2026

چار ماہی کے تعطیلات ختم ہو رہے ہے ان شاء اللہ 31 اگست بروزہ پیر شام کو تمام طلباء کرام اپنی حاضری یقینی بنائے

شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ صاحبؒجامعہ مفتاح العلوم الاسلامیہ ہنگو کی ایک مایہ ناز علمی شخصیتعلماء و مشائخ کی تاریخ میں ب...
24/08/2026

شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ صاحبؒ

جامعہ مفتاح العلوم الاسلامیہ ہنگو کی ایک مایہ ناز علمی شخصیت

علماء و مشائخ کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی محض ایک فرد کی زندگی نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک پورے علمی عہد، ایک تعلیمی روایت اور نسلوں کی علمی تربیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ صاحبؒ بھی ہنگو کی علمی و دینی تاریخ میں ایک ایسی ہی ممتاز شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل اور قیمتی حصہ علمِ دین کی تعلیم و تدریس، طلبہ کی تربیت اور علومِ نبوی ﷺ کی اشاعت میں صرف کیا۔

جامعہ مفتاح العلوم سے علمی تعلق

مولانا عبد اللہ صاحبؒ نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں جامعہ مفتاح العلوم الاسلامیہ ہنگو میں داخلہ لیا۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے آپؒ غیر معمولی علمی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ فقہ، منطق اور حدیث جیسے اہم علوم میں آپؒ نے خاص ملکہ اور گہری بصیرت حاصل کی۔ آپؒ کی علمی استعداد، مطالعے کی وسعت اور کتب فہمی نے آپؒ کو اپنے ہم عصر طلبہ میں ممتاز مقام عطا کیا۔
آپؒ کے لیے علم محض کتابیں پڑھ لینے کا نام نہیں تھا، بلکہ علم کو سمجھنا، اس کے دقائق تک پہنچنا، اسے عملی زندگی سے جوڑنا اور پھر آنے والی نسل تک منتقل کرنا آپؒ کے علمی مزاج کا نمایاں وصف تھا۔

فراغت کے بعد تدریسی خدمات

تعلیم کی تکمیل اور فراغت کے بعد مولانا عبد اللہ صاحبؒ نے اسی علمی مرکز، جامعہ مفتاح العلوم الاسلامیہ ہنگو سے وابستہ ہو کر درس و تدریس کا آغاز فرمایا۔ یہ وابستگی محض تدریسی ذمہ داری نہیں تھی، بلکہ ایک طویل علمی سفر کا آغاز تھا۔
آپؒ نے تقریباً 47 سال تک درس و تدریس کی خدمت انجام دی۔ نصف صدی کے قریب محیط یہ عرصہ اس بات کا گواہ ہے کہ آپؒ نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ طلبہ کی علمی تربیت اور دینی تعلیم کے لیے وقف کیے رکھا۔

فقہ و حدیث میں خصوصی مہارت

مولانا عبد اللہ صاحبؒ کو مختلف علوم و فنون پر دسترس حاصل تھی، تاہم فقہ اور حدیث کے ساتھ آپؒ کا خاص علمی تعلق نمایاں تھا۔ بالخصوص مشکوٰۃ شریف اور ہدایہ جیسی اہم اور دقیق کتب کے تدریس میں آپؒ کو خصوصی مہارت حاصل تھی۔
مشکوٰۃ شریف حدیثِ نبوی ﷺ کا ایک اہم مجموعہ ہے، جبکہ ہدایہ فقہِ حنفی کی نہایت معروف اور علمی کتاب ہے۔ ان دونوں کتابوں کی تدریس کے لیے صرف عبارت خوانی کافی نہیں ہوتی، بلکہ فقہی جزئیات، حدیثی مباحث، اصولی نکات، اختلافِ ائمہ اور عبارت کے دقیق پہلوؤں پر گہری نظر ضروری ہوتی ہے۔ مولانا عبد اللہ صاحبؒ نے ان کتب کو نہایت علمی ذوق اور بصیرت کے ساتھ پڑھایا اور طلبہ کو ان کے علمی نکات سے روشناس کرایا۔
اس کے ساتھ ساتھ آپؒ کو دیگر علوم و فنون میں بھی مہارت حاصل تھی اور آپؒ کی علمی شخصیت کسی ایک فن تک محدود نہیں تھی۔

قبائلی خطے میں علمی خدمات

ہنگو اور اس کے گرد و نواح کا خطہ دینی و علمی اعتبار سے اپنی ایک منفرد تاریخ رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک طویل عرصے تک درس و تدریس سے وابستہ رہنا اور مسلسل نسلوں کی علمی تربیت کرنا یقیناً ایک عظیم خدمت ہے۔
مولانا عبد اللہ صاحبؒ نے اپنے طویل تدریسی دور میں بے شمار طلبہ کو علمِ دین سے آراستہ کیا۔ ان میں سے متعدد حضرات آگے چل کر مختلف دینی مراکز میں درسِ حدیث اور دیگر علمی مناصب پر فائز ہوئے۔ یوں آپؒ کا علمی فیض صرف جامعہ کی چار دیواری تک محدود نہ رہا بلکہ مختلف علاقوں اور دینی مراکز تک پہنچا۔

شیخ الحدیث مولانا جنت خان صاحب

مولانا عبد اللہ صاحبؒ کے علمی فیض کے نمایاں اثرات میں شیخ الحدیث مولانا جنت خان صاحب کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ مولانا عبد اللہ صاحبؒ کے شاگردِ خاص شمار ہوتے ہیں اور آج جامعہ مفتاح العلوم الاسلامیہ ہنگو میں درسِ حدیث کے منصب پر فائز ہیں۔

یہ ایک عظیم علمی تسلسل کی خوبصورت مثال ہے کہ جس جامعہ میں مولانا عبد اللہ صاحبؒ نے طالب علم کی حیثیت سے علم حاصل کیا، اسی جامعہ میں فراغت کے بعد تقریباً 47 سال تک تدریس فرمائی، اور پھر انہی کے علمی چشمے سے سیراب ہونے والے شاگرد آج اسی علمی مرکز میں حدیثِ رسول ﷺ کی تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

یہی دراصل ایک استاد کی حقیقی کامیابی ہے کہ اس کے بعد بھی اس کا علم اس کے شاگردوں کے ذریعے زندہ رہے اور نسل در نسل منتقل ہوتا چلا جائے۔

علمی چشمہ آج بھی جاری و ساری

بعض اساتذہ کی وفات یا دنیا سے رخصتی کے ساتھ ان کا علمی اثر ختم نہیں ہوتا۔ ان کی اصل زندگی ان کے شاگردوں، ان کی تعلیمات اور ان کے قائم کردہ علمی تسلسل میں باقی رہتی ہے۔

مولانا عبد اللہ صاحبؒ کی علمی زندگی بھی اسی حقیقت کی عکاس ہے۔ آپؒ نے جن طلبہ کی تربیت فرمائی، ان میں سے متعدد حضرات آج مختلف دینی و علمی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ خصوصاً مولانا جنت خان صاحب جیسے شاگردوں کے ذریعے آپؒ کا علمی فیض آج بھی جاری ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ مولانا عبد اللہ صاحبؒ نے صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ علم کی ایک نسل تیار کی؛ صرف طلبہ کو سبق نہیں دیا بلکہ ایسے افراد تیار کیے جو آگے چل کر خود علومِ دین کے معلم اور شارح بنے۔
ا
پنے شاگرد اعتماد

مولانا عبد اللہ صاحبؒ کو اپنے اس شاگرد پر غیر معمولی علمی اعتماد حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب کبھی آپؒ علالت یا بیماری کے باعث درسِ حدیث دینے سے معذور ہوتے تو اپنی مشکوٰۃ شریف کی تدریس مولانا جنت خان صاحب کے سپرد فرماتے اور اپنی کتابِ درس بھی ان کے حوالے کر دیتے تھے۔
یہ محض ایک استاد کی طرف سے شاگرد کو سبق پڑھانے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ یہ اس گہرے علمی اعتماد، تربیت اور جانشینی کی علامت تھی جو برسوں کی صحبت اور استفادے سے پیدا ہوتا ہے۔ استاد اپنے شاگرد کے علم، فہم، تدریسی صلاحیت اور حدیث کے ذوق سے مطمئن ہو تو اپنی اہم ترین کتابِ درس اس کے سپرد کرتا ہے۔

23/08/2026

جامعہ کا مکتبہ

22/08/2026

جامعہ کا استاد حدیث مولانا ضیا ء الرحمن صاحب کا سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موضوع پر مفصل خطاب

Address

Hangu

Telephone

+923329717711

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Miftah-ul-Uloom Hangu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share