20/01/2020
‘رسول بخش پلیجو کے نام’
گھنِ سیام سے لڑنے والا عالمِ نظِیر تھا وہ شخص۔
طوفان کے سُمُور بھی فراضِ حصِیر تھا وہ شخص۔
ہے قوم کو یہ منقبت اُس کے جمال و کردار سے
ہر دلِ کبیدہ کی دھڑکن میں مانُوسِ اجِیر تھا وہ شخص۔
نا روک سکا اُسے، کسی ظلم و زنجیر کا نرفہ کبھی
بیدار جہاں کی بستی میں روحءتغِیر تھا وہ شخص۔
حب وطن سے تھی آشنا ، اُس کے لہُو کی آگ
وطن مانوف کی اُنس میں جانِ اثِیر تھا وہ شخص۔
اُس کے الفاظ میں تھیں لرزشیں جاوداں تحریر کی
سیاہ بخت زمانے کی ، روشن تقدِیر تھا وہ شخص۔
زندہ دلی کا حوصلا تھا سانسِ قانت میں بھرا ہُوا
اندھیری ہر شام میں چلمن کا تنوِیر تھا وہ شخص۔
قامُوسِ تعلیم رہا ، اُس کی حیات کا ہر صفح
دلِ شجاع قوم کا استوارء ضمِیر تھا وہ شخص۔
لڑتے لڑتے جھُلس نا پایا اُس کے ارادوں کا تاب
تھا حسرتوں کا بُلبُلا، چاہتِ پذِیر تھا وہ شخص۔
کیسے ہوگا سطوت کی، بدحالی کا اب سامنا
آتش کدہ کی محفلوں میں ماہ مُنِیر تھا وہ شخص۔
سو گئی ہے نِیند بھی اُسے جہاں سے جاتا دیکھ کر
غیرت و نفس کے خُواب کی تعبِیر تھا وہ شخص۔
‘مسافر’
Poet: Umesh Dharmani (Musafar)