14/08/2022
اشرف محمود صاحب اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں اڑتیس سال ملازمت کرنے کے بعد کل ملازمت سے ریٹائر ہوئے. اشرف صاحب نے 1984 میں اسلامی یونیورسٹی بطور کلرک جائن کی، وقت گزرنے کے ساتھ ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ بھی وسیع ہوا، وہ حالیہ عرصے میں بحیثیت سپرنٹنڈنٹ ایڈمشنز اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے.
اشرف صاحب انتہائی ہمدرد محنتی، ملنسار اور خوش اخلاق شخص ہیں. طلباء کے کام کو انہوں نے ہمیشہ اپنا ذاتی کام سمجھ کر کیا . اگر کسی دوسرے شخص نے بھی انہیں اس بابت کوئی ذمہ داری ان کے فرائض سے ہٹ کر دی تو وہ بھی انہوں نے شکوہ شکایت کے بجائے طلباء کے وسیع مفاد میں بخوشی پوری کی . طلباء سے وہ ہمیشہ اچھے اخلاق سے پیش آتے. دلیل سے انہیں بات سمجھاتے اور ان کی مناسب رہنمائی کرتے. ایڈمشنز کے متعلق تمام رولز اور پالیسیوں سے وہ اچھی طرح واقف تھے. یہی وجہ ہے کہ طلباء کے علاوہ اساتذہ بھی کسی مشکل میں ان سے مشورہ کرتے دکھائی دیتے. نادار طلباء کی حسب استطاعت مالی اعانت کر تے رہے. قرض واپس لینے کے بارے میں ان کا اصول تھا جو رقم واپس لٹائے اس کا بھی بھلا اور جو نہ لٹائے اس کا بھی بھلا . ملازمت کے دوران میں انھوں نے نہ کسی شخص سے لڑائی جھگڑا کیا اور نہ ہی کسی سے حسد و عداوت کی. بس وہ اپنے کام سے کام رکھتے . شاید ہی اس سارے عرصے میں اشرف صاحب نے کسی سٹاف ممبر یا اسٹوڈنٹ کے ساتھ غصہ یا تلخی سے بات چیت کی ہو . فرض شناسی اس قدر کہ اڑتیس سالہ طویل ملازمت کے دوران میں انھوں نے کسی ایک سال میں بھی تمام اتفاقی رخصتیں نہیں لیں . بلکہ وہ ہفتہ میں دوسری چھٹی کو غیر ضروری سمجھتے تھے. ان خوبیوں کے علاوہ وہ قانع، مطمئن اور اللہ پر توکل رکھنے والے شخص ہیں. ان کے کھانے پینے کا معمول بھی بڑا دلچسپ ہے. وہ عرصہ دراز سے تینوں اوقات میں محض ایک روٹی کھانے کے عادی ہیں. اور وہ اپنی اس روٹین کو کسی کے ہاں مہمان ٹھہرنے پر بھی قائم رکھتے ہیں. ان کے صحت مند ہونے کی شاید بڑی وجہ کم کھانے کے علاوہ دوسروں کے معاملات میں بےجا مداخلت نہ کرنا ہے.
اشرف صاحب ہم آپ کو جامعہ میں مدت ملازمت باعزت مکمل کرنے پر دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اللہ رب العالمین سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کی مساعی جمیلہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے، سلامتی صحت کے ساتھ عمر دراز کرے.جس طرح آپ زندگی بھر لوگوں کے ساتھ ایثار، محبت اور خندہ پیشانی سے پیش آتے رہے، لوگوں کی مشکلات آسان کرتے رہے، اللہ جل شانہ آپ کی دنیاوی اور اخروی مشکلات آسان کرے اور ہماری مادر علمی کو آپ کا نعم البدل عطا کرے.