23/09/2025
شعبہ پاکستانی زبانیں کے زیرِ اہتمام آج 23 ستمبر 2025 کو ایک نہایت اہم علمی، تحقیقی اور ثقافتی سیمینار بعنوان’’پشتو زبان، ادبی روایت اور ثقافتی ارتقا‘‘ منعقد ہوا۔
سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد عمران (سینئر انسٹریکٹر براہوئی) نے حاصل کی۔ پروگرام کی نظامت میڈم فرخندہ جبین (لیکچرر پشتو)نے نہایت خوش اسلوبی اور اعتماد کے ساتھ کی۔ انہوں نے سیمینار کے تھیم کی وضاحت کی اور شرکا و مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
ابتدائی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں، جناب ڈاکٹر فاروق انجم نے پیش کیے۔ انہوں نے نمل کے ریکٹر، ڈی جی، ڈین ،فیکلٹی آف لینگویجز اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہی کی سرپرستی کے باعث ایسے علمی و تحقیقی سیمینارز وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کلچر کی اہمیت پر مدلل اور جامع انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "ثقافت دراصل قوموں کی امانت اور ان کی پہچان ہوتی ہے۔"
اس کے بعد مقررین نے پشتو زبان اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ جناب رضوان اللہ (وزٹنگ لیکچرر پشتو) نے پشتو زبان کے ماخذ اور ثقافتی گوشوں کو تحقیقی حوالوں کے ساتھ پیش کیا۔ جناب محمد یونس شیرپاؤ (سینئر انسٹرکٹر پشتو) نے پشتونوں کی حریت پسندی، مہمان نوازی اور بہادری کو اجاگر کرتے ہوئے پشتو ادب کی مختصر تاریخ بیان کی اور ان کے رسوم و کھیلوں پر خوبصورت روشنی ڈالی۔ جناب حفیظ الرحمن (کنٹریکٹ لیکچرر) نے پشتون معاشرت میں قانون سازی اور اقدار کے پہلو کو موضوع بنایا اور جرگہ کے نظام کو "پارلیمنٹ" سے تشبیہ دیتے ہوئے اس کی اہمیت واضح کی۔
مہمانِ خاص، جناب ڈاکٹر حنیف خلیل(ڈائریکٹر آف NIPS، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد)نے اپنے خطاب میں "ثقافت، کلچر، تمدن اور تہذیب" جیسی اہم اصطلاحات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے مشرقی و مغربی علمی روایت کے تناظر میں ان کے ماخذات اور معنوی جہات پر روشنی ڈالی۔ پشتو ادب پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "پشتو فوک ادب پشتون ثقافت کا آئینہ ہے اور ٹھپہ جیسی صنف میں زندگی کے تمام رنگ سمٹے ہوئے ہیں۔"
پروگرام کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں طلبا و شرکا نے مہمانِ خاص سے علمی و تحقیقی استفادہ کیا۔ اختتامی کلمات ڈاکٹر فاروق انجم نے ادا کیے اور ڈاکٹر حنیف خلیل سمیت تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد گروپ فوٹو کا سیشن ہوا اور یوں یہ کامیاب سیمینار خوشگوار اور علمی ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچا۔
رپورٹ: رازق راج، لیکچرر بلوچی،نمل اسلام آباد