Quaid I Azam University News Alert

Quaid I Azam University News Alert The pioneer page of Quaid-i-Azam University (QAU), dedicated to sharing authentic, unbiased, and true news.
(348)

Trusted by Quaidians as the real and biggest page of QAU — representing the genuine voice of the QAU community.

🚀 **Rawalpindi Women University** presents🎓 **All Pakistan Inter-University 3rd IDEA FEST 2026**💡 *From Momentum to Move...
17/04/2026

🚀 **Rawalpindi Women University** presents
🎓 **All Pakistan Inter-University 3rd IDEA FEST 2026**

💡 *From Momentum to Movement: Ideas That Drive Impact*

A national platform for students to pitch innovative ideas, compete, and win **cash prizes**.

📅 **May 13, 2026**
⏰ **9:00 AM – 4:00 PM**
📍 **RWU Satellite Town**

👥 Solo / Duo / Up to 5 members
💳 Registration Fee: Rs. 1500 per team
🗓 **Deadline:** May 5, 2026

📲 Register via QR code or: **tinyurl.com/5n8caj2z**

https://docs.google.com/forms/u/3/d/16b3tobrzGlQ0QNWwQo6HGuLZgsdvlN_jHVU9-oubgk0/edit

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 12آج ہم آپ کو ملواتے ہیں ہماری قابلِ فخر ایلومنائ سیدہ عدیلہ رباب کاظ...
14/04/2026

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 12

آج ہم آپ کو ملواتے ہیں ہماری قابلِ فخر ایلومنائ سیدہ عدیلہ رباب کاظمی سے ,ایک باصلاحیت سول سرونٹ، میڈیا پالیسی ایکسپرٹ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پروفیشنل۔

سیدہ عدیلہ رباب کاظمی نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل (Plant Cell Biology) 2006 میں مکمل کیا، جبکہ اس سے قبل انہوں نے ایم ایس سی بوٹنی (2004) پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی۔ بعد ازاں وہ پاکستان کی سول سروس میں شامل ہوئیں اور انفارمیشن گروپ (37th CTP) کا حصہ بنیں۔

اس وقت وہ وزارتِ اطلاعات و نشریات (Ministry of Information & Broadcasting)

کے تحت Audit Bureau of Circulation (ABC) میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر (BS-18) خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ میڈیا سرکولیشن، پالیسی سازی اور آڈٹ سے متعلق اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔

اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے کئی اہم عہدوں پر کام کیا، جن میں:
ایگزیکٹو ڈائریکٹر، Associated Press of Pakistan (APP) جہاں بطور پہلی خاتون انہوں نے ادارے میں اصلاحات کیں، نئے سروسز شروع کیے اور ISO سرٹیفیکیشن حاصل کیا
ڈائریکٹر (External Publicity Wing) جہاں انہوں نے مصر میں COP27 کے دوران پاکستان کا مؤقف عالمی میڈیا تک پہنچایا
ڈپٹی ڈائریکٹر (Internal Publicity Wing) میڈیا پالیسی، جرنلسٹ پروٹیکشن اور حکومتی کمیونیکیشن میں کردار ادا کیا
اسسٹنٹ ڈائریکٹر (DEMP) میڈیا مینجمنٹ، پبلیکیشنز اور مالیاتی امور سنبھالے

بین الاقوامی سطح پر بھی انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی اور چین، ترکی، سعودی عرب، مصر سمیت مختلف ممالک میں میڈیا اور ڈپلومیسی سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ انہیں چین میں Smart Governance پروگرام کے تحت خصوصی تربیت بھی حاصل ہوئی۔

وہ میڈیا مینجمنٹ، پالیسی میکنگ، سٹریٹجک کمیونیکیشن اور بین الاقوامی روابط میں مہارت رکھتی ہیں، اور مختلف فورمز پر بطور اسپیکر اور ایویلیویٹر بھی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔

سیدہ عدیلہ رباب کاظمی کا سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط 12--آج ہم آپ کو ملواتے ہیں ہمارے قابلِ فخر ایلومنائ اظہر افضل میر سے جو ای...
11/04/2026

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط 12--

آج ہم آپ کو ملواتے ہیں ہمارے قابلِ فخر ایلومنائ اظہر افضل میر سے جو ایک محنتی سرکاری افسر، استاد اور مصنف، جو علم کی روشنی آگے پھیلانے میں مصروف ہیں۔

اظہر افضل میر نے قائداعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی فزکس (Session 2011–2013) مکمل کی۔ اپنی تعلیم کے بعد انہوں نے پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اس وقت وفاقی حکومت کے محکمہ دفاع (Defence Division) میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ تعلیم کے میدان میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ 12 سال سے وہ CSS کے طلبہ کو General Science & Ability (GSA) جیسے اہم مضمون کی تیاری کروارہے ہیں۔ دفتری اوقات کے بعد بھی وہ طلبہ کو پڑھاتے ہیں اور اب تک ہزاروں طلبہ، جن میں کئی بیوروکریٹس بھی شامل ہیں، ان سے مستفید ہو چکے ہیں۔

اظہر افضل میر خاص طور پر قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ (Quaidians) کی رہنمائی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور ان کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ ایک مصنف بھی ہیں۔ انہوں نے CSS اور PMS کے طلبہ کے لیے دو اہم کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں:
اردو (PMS پنجاب اور AJK PSC کے لیے)
دیگر CSS مضامین سے متعلق رہنمائی شامل ہے

ان کی تحریریں اور تدریسی انداز طلبہ کے لیے نہایت مفید اور آسان سمجھے جاتے ہیں۔

اظہر افضل میر کا سفر اس بات کی بہترین مثال ہے کہ اگر جذبہ ہو تو انسان اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ قوم کی خدمت علم کے ذریعے بھی کر سکتا ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 11ملیے ایک  قابلِ فخر ایلومنائ ڈاکٹر سدرہ طارق جمیل سے ایک ممتاز ماہر...
11/04/2026

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 11

ملیے ایک قابلِ فخر ایلومنائ ڈاکٹر سدرہ طارق جمیل سے ایک ممتاز ماہرِ تعلیم، محقق اور سفارت کار، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر سدرہ نے قائداعظم یونیورسٹی سے کے شعبہ DSS یا ڈیفنس اینڈ سٹریجک اسٹڈیز سے ایم فل کیا اور سیشن میں پہلی پہلی پویشن حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے چین کی معروف سنگھوا یونیورسٹی (Tsinghua University) سے صحافت و کمیونکیششن میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔

اس وقت وہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT)، لاہور میں بطور ڈین، اسکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز اور ڈائریکٹر، سینٹر فار دی فیوچر آف مسلم سیولائزیشن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر سدرہ کو تعلیمی اور عملی دونوں میدانوں میں مہارت حاصل ہے۔ انہوں نے مراکش میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ایک ادارے کے تحت سنٹر فار سیولائزیشنل ڈائیلاگ قائم کیا اور اس کی قیادت کی، جہاں انہوں نے عالمی سطح پر تہذیبی مکالمے اور تعاون کو فروغ دیا۔

انہوں نے یونیسکو، اقوام متحدہ کا اتحاد برائے تہذیب، یونیسف، عرب لیگ اور افریقی یونین جیسے عالمی اداروں کے ساتھ مل کر مختلف بین الاقوامی منصوبوں اور شراکت داریوں کو فروغ دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چین، سنگاپور، ملائیشیا، ترکیہ،اردن برطانیہ، فرانس، سوئٹزرلینڈ اور دیگر کئی ممالک میں اعلیٰ سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی۔

ڈاکٹر سدرہ نے دنیا کی معروف جامعات جیسے کیمبرج یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور، نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی (قطر) اور سنگھوا یونیورسٹی چین میں لیکچرز بھی دیے، جو ان کی عالمی سطح پر علمی پہچان کا ثبوت ہے۔

انہیں خواتین کے لیے ایک نمایاں رول ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ پہلی پاکستانی ہیں جو سی آئی ٹی آئی سی فاؤنڈیشن میں شامل ہوئیں، جبکہ انہیں 2025 کے 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں اور ان کی تحریریں عالمی جرائد اور میڈیا میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔

ڈاکٹر سدرہ طارق جمیل کا سفر قائداعظم یونیورسٹی کی ایک طالبہ سے لے کر عالمی سطح کی ماہرِ تعلیم اور سفارت کار بننے تک، نوجوانوں خصوصاً خواتین کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 10-ملیے ہماری محنتی اور باصلاحیت ایلومنائ سدرہ بشیر سے، جو تعلیم کے ش...
10/04/2026

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 10-

ملیے ہماری محنتی اور باصلاحیت ایلومنائ سدرہ بشیر سے، جو تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ کاروباری میدان میں بھی اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔

سدرہ بشیر نے قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد سے ایم فل اکنامکس مکمل کیا۔ دورانِ تعلیم انہوں نے نہ صرف علمی مہارت حاصل کی بلکہ عملی زندگی میں آگے بڑھنے کا عزم بھی مضبوط کیا۔

آج وہ مختلف جامعات میں بطور وزٹنگ لیکچرر خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ معاشیات کے اہم مضامین جیسے میکرو اکنامکس، بین الاقوامی تجارت اور انٹرپرینیورشپ پڑھا رہی ہیں۔ ان کا اندازِ تدریس طلبہ میں سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ سدرہ بشیر نے اپنے اندر موجود کاروباری صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا اور کامیابی کے ساتھ اپنا ذاتی بزنس شروع کیا۔ وہ اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ اگر عزم ہو تو انسان بیک وقت مختلف میدانوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

تحقیق کے میدان میں بھی ان کی دلچسپی نمایاں ہے، اور ان کا تحقیقی کام جنوبی ایشیائی معیشتوں میں ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

سدرہ بشیر کا سفر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ محنت، مستقل مزاجی اور خود اعتمادی کے ساتھ نہ صرف تعلیمی میدان بلکہ عملی زندگی میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 8-آج ہم آپ کو ملواتے ہیں ایک باصلاحیت اور قابلِ فخر ایلومنائ ڈاکٹر را...
10/04/2026

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 8-

آج ہم آپ کو ملواتے ہیں ایک باصلاحیت اور قابلِ فخر ایلومنائ ڈاکٹر رابعہ لیاقت سے جو توانائی، بایو انرجی اور ماحولیاتی تحقیق کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر رابعہ لیاقت نے قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد سے ایم ایس سی مائیکرو بایولوجی (2008)، ایم فل بایوٹیکنالوجی (2010) اور پی ایچ ڈی بایو انرجی (2016) مکمل کی۔ ان کی تحقیق کا مرکز بایو انرجی، بایو ہائیڈروجن، بایو فیول، ویسٹ ٹو انرجی اور کلائمیٹ چینج جیسے اہم موضوعات ہیں۔

وہ اس وقت نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز و ٹیکنالوجی (NUST) کے امریکہ پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز برائے انرجی (USPCAS-E) میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ وہ ڈیپارٹمنٹ آف انرجی سسٹمز انجینئرنگ کی سربراہی بھی کر چکی ہیں۔ اس سے قبل وہ اسی ادارے میں اسسٹنٹ پروفیسر اور لیکچرار کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

ڈاکٹر رابعہ لیاقت نے بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں تجربہ حاصل کیا، جس میں یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ، آسٹریلیا میں ریسرچ ٹریننگ اور ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی، امریکہ میں ایکسچینج فیکلٹی کے طور پر خدمات شامل ہیں۔

ان کی تحقیق میں کئی اہم قومی و بین الاقوامی منصوبے شامل ہیں، جن میں USAID، UNIDO، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور دیگر اداروں کے تعاون سے بایو انرجی، بایو میتھین، اور کلائمیٹ ریزیلینس پر کام کیا گیا۔ وہ متعدد منصوبوں میں پرنسپل انویسٹیگیٹر اور کو-پرنسپل انویسٹیگیٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

انہوں نے 60 سے زائد تحقیقی مقالےبین الاقوامی جرائد میں شائع کیے، جنہیں 1400 سے زائد citations حاصل ہو چکی ہیں، جبکہ ان کا H-index 21 ہے۔ ان کی تحقیق بایو فیول، مائیکروبیل الیکٹرولائسز، اور رینیوایبل انرجی کے جدید حل پیش کرتی ہے۔

نمایاں خدمات و اعزازات میں
ایچ ای سی اسکالرشپ برائے پی ایچ ڈی
• بیسٹ ٹیچر ایوارڈ (NUST – 2020)
• ممبر، امریکن سوسائٹی آف مائیکرو بایولوجی (ASM)
• متعدد بین الاقوامی کانفرنسز میں keynote اسپیکر

ڈاکٹر رابعہ لیاقت نے بایوفیول ریسرچ لیب کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور درجنوں ایم ایس اور پی ایچ ڈی طلبہ کی نگرانی کی۔ وہ انرجی پالیسی، سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ اور اکیڈمیا-انڈسٹری روابط کے فروغ میں بھی سرگرم ہیں۔

ڈاکٹر رابعہ لیاقت کا سفر قائداعظم یونیورسٹی کی ایک طالبہ سے لے کر ایک ممتاز محقق اور تعلیمی رہنما تک، نوجوانوں خصوصاً خواتین کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔

09/04/2026
پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جیسپال جامعہ قائداعظم کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر ۔
06/04/2026

پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جیسپال جامعہ قائداعظم کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر ۔

۔قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط 6ملیے ممتاز اور عالمی شہرت یافتہ سائسندان اور ہمارے ایلومنائ پروفیسر ڈاکٹ...
04/04/2026

۔قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط 6

ملیے ممتاز اور عالمی شہرت یافتہ سائسندان اور ہمارے ایلومنائ پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود بیگ (ہلالِ امتیاز، ستارۂ امتیاز) سے ایک نامور سائنسدان، ماہرِ جینیات اور تعلیمی رہنما، جنہوں نے پاکستان میں سائنسی تحقیق، ہیلتھ بایوٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد ایم بیگ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بایولوجی کے ممتاز فارغ التحصیل ہیں، جہاں سے انہوں نے ایم ایس سی (1984)، ایم فل (1986) اور پی ایچ ڈی (1996) مکمل کی۔ اپنے تعلیمی سفر کے دوران ہی انہوں نے تحقیق کی مضبوط بنیاد رکھی، اور آج ان کی تخصص ہیومن جینومکس، جینیاتی بیماریوں کی تحقیق اور ہیلتھ بایوٹیکنالوجی جیسے جدید اور اہم شعبوں پر مشتمل ہے۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی و ریڈیوتھراپی (NORI)، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC)سے کیا اور بعد ازاں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے بایوٹیکنالوجی و جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE)، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS–PAEC) میں بطور پروفیسر اور ہیڈ، ہیومن مالیکیولر جینیٹکس گروپ خدمات انجام دیں۔

وہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (Pakistan Science Foundation - PSF) کے چیئرمین (2020–2023) اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس (National Institute of Electronics - NIE) کے ڈائریکٹر جنرل (2023) جیسے اہم قومی عہدوں پر بھی فائز رہے۔

اس وقت وہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی (Health Services Academy - HSA)، وزارتِ قومی صحت خدمات، اسلام آباد میں ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ آغا خان یونیورسٹی (Aga Khan University - AKU)، کراچی میں بطور فل پروفیسر (sabbatical) بھی وابستہ ہیں۔

پروفیسر بیگ کو ہیومن جینیٹکس اور جینیاتی بیماریوں کی تحقیق میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے 160 سے زائد تحقیقی مقالے دنیا کے ممتاز جرائد جیسے Nature Genetics، Nature Neuroscience، Nature Communications میں شائع کیے، جنہیں 6300 سے زائد citations حاصل ہو چکی ہیں۔ ان کا H-index 44 ہے، جبکہ انہوں نے 39 پی ایچ ڈی اسکالرز اور متعدد پوسٹ ڈاکٹورل محققین کی تربیت کی ہے۔

انہوں نے امریکہ، سعودی عرب، یورپ اور دیگر ممالک کی معروف جامعات میں تحقیق کی اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وسیع سائنسی روابط قائم کیے۔ ان کی قیادت میں کئی قومی و بین الاقوامی تحقیقی منصوبے مکمل ہوئے، جبکہ انہوں نے پاکستان میں جینیاتی بیماریوں کی تحقیق کو نئی جہت دی۔

اعزازات و کامیابیاں:
• ہلالِ امتیاز (2023)
• ستارۂ امتیاز (2014)
• فیلو، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز (FPAS)
• لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ (2021)
• Geers Foundation Best Paper Award
بہترین سائنسدان آف دی ایئر گولڈ میڈل

پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود بیگ مستقبل میں پاکستان میں نیشنل سینٹر فار جینومک میڈیسن کے قیام کے خواہاں ہیں، تاکہ جینیاتی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور precision medicine کو فروغ دیا جا سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود بیگ کا سفر قائداعظم یونیورسٹی کے ایک طالب علم سے لے کر عالمی سطح کے ممتاز سائنسدان اور قومی پالیسی ساز تک، ایک روشن مثال ہے کہ علم، تحقیق اور عزم انسان کو کس بلند مقام تک لے جا سکتے ہیں۔

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 6--آج ہم آپ کو ملواتے ہیں ہمارے ممتاز اور قابلِ فخر ایلومنائ محمد مرت...
01/04/2026

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط نمبر 6--

آج ہم آپ کو ملواتے ہیں ہمارے ممتاز اور قابلِ فخر ایلومنائ محمد مرتضیٰ نور سے

ایک تجربہ کار ماہرِ تعلیم، منتظم اور پالیسی ساز جنہوں نے اعلیٰ تعلیم اور ترقیاتی شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

محمد مرتضیٰ نور قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ سے 1998–99 کے بیچ کے فارغ التحصیل ہیں۔ گزشتہ 25 برسوں سے وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی ترقی کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔

انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS)، اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP)، اور امریکن انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز (AIPS) جیسے نمایاں اداروں کے ساتھ اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

اس وقت وہ انٹر یونیورسٹی کنسورشیم فار دی پروموشن آف سوشل سائنسز (IUCPSS) کے نیشنل کوآرڈینیٹر ہیں، جبکہ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (APSUP) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسیلنس کے فوکل پرسن، اکیڈمیا-انڈسٹری لنکیجز فورم کے سینئر وائس پریزیڈنٹ اور گلوبل ہائر ایجوکیشن لیڈرشپ اکیڈمی کے نیشنل کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

محمد مرتضیٰ نور نے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ قائداعظم ایلومنائ پلیٹ فارم کے ذریعے نمایاں سماجی و ادارہ جاتی خدمات بھی سرانجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں 30 سے زائد چیپٹرز پر مشتمل ایک مضبوط ایلومنائ نیٹ ورک قائم کیا گیا طلبہ کے ، انٹرن شپ اور جاب پلیسمنٹ کے مواقع 40 سے زائد آن لائن گائیڈنس پروگرامز اور 30 سے زائد مینٹورشپ پروگرامز کا انعقاد کیا گیا یونیورسٹی کمیونٹی کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹس، طبی سہولیات اور فلاحی اقدامات کیے گئے، ایمبولینس طلبہ و اساتذہ کے لیے تحقیقی و تعلیمی وسائل، کتب اور سہولیات میں اضافہ کیا گیا
• قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلیمی و تحقیقی روابط کو فروغ دیا گیا

وہ انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کنونشن اینڈ ایکسپو کے بانی بھی ہیں، جو پاکستان میں طلبہ کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ساتھ بطور بک ایمبیسیڈر اور جامعات میں کھیلوں کے فروغ کے لیے خیر سگالی سفیر بھی رہے ہیں۔

انہوں نے جرمنی، ترکیہ، قازقستان اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی پر باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے ہیں۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں امن ایوارڈ، سوک ایجوکیشن ایوارڈ، بہترین پرفارمنس ایوارڈ اور ایوارڈ آف آنر شامل ہیں۔

محمد مرتضیٰ نور کا سفر قائداعظم یونیورسٹی کے ایک طالب علم سے لے کر عالمی سطح کے تعلیمی رہنما تک، ایک متاثر کن مثال ہے۔

پروفسر ڈاکٹر محمد اشتیاق علی شعبہ مائکروبیالوجی کے  چئرپرسن مقرر، اس سے قبل وہ بطور نگران چئیرپرسن کی حثیت سے خدمات سران...
01/04/2026

پروفسر ڈاکٹر محمد اشتیاق علی شعبہ مائکروبیالوجی کے چئرپرسن مقرر، اس سے قبل وہ بطور نگران چئیرپرسن کی حثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔۔

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط میںقسط نمبر 5ملیے ہماری نہایت ممتاز اور قابلِ فخر ایلومنائ پروفیسر ڈاکٹر ز...
01/04/2026

قائداعظم یونیورسٹی کی ایلومنائ سے ملیے کی قسط میں
قسط نمبر 5
ملیے ہماری نہایت ممتاز اور قابلِ فخر ایلومنائ پروفیسر ڈاکٹر زرّین فاطمہ رضوی سے۔۔

ایک نامور سائنسدان، ماہرِ نباتات و مائیکروبیالوجی، محقق، ایڈیٹر، اور ممتاز تعلیمی شخصیت جنہوں نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی ترقی میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر زرّین فاطمہ رضوی اس وقت انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائنس، آرٹس اینڈ ٹیکنالوجیز (IISAT)، گوجرانوالہ کی وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ (GCWUS) کی وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں، جہاں انہوں نے ادارہ جاتی اصلاحات، تحقیق کے فروغ اور تعلیمی معیار کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی سے ایم فل (1996) اور پی ایچ ڈی (2001) مکمل کی، جبکہ 2005 سے 2008 کے دوران بین الاقوامی سطح پر پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کی۔ ان کی تحقیق کے اہم شعبوں میں پلانٹ مائیکروب انٹریکشن، بایوٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ، کلائمیٹ چینج اور پائیدار زراعت شامل ہیں۔

تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے تدریس، تحقیق اور انتظامی قیادت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ گورنمنٹ کالج وومین یونیورسٹی سیالکوٹ میں چیئرپرسن شعبہ نباتات، ڈین فیکلٹی آف نیچرل سائنسز، چیئرپرسن سینٹرل ایڈمیشن کمیٹی، اور ڈائریکٹر ORIC جیسے اہم عہدوں پر رہیں۔ اس کے علاوہ وہ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں ریسرچ فیلو، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر، اور مختلف تعلیمی اداروں میں بطور لیکچرر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

تحقیق کے میدان میں ان کی خدمات انتہائی وسیع اور اثر انگیز ہیں۔ ان کے درجنوں تحقیقی مقالے عالمی معیار کے جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ وہ بین الاقوامی جرائد کی ریویوئر اور “Journal of Plant and Environment” کی چیف ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے بڑی تعداد میں طلبہ کی نگرانی کی اور متعدد تحقیقی منصوبوں کی قیادت کی۔

ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں
• قائداعظم گولڈ میڈل (حکومت پاکستان، 2023)
• اکیڈمک ایکسیلینس ایوارڈ (2024)
• بیسٹ ٹیچر ایوارڈ (علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی)
• رول ماڈل ویمن ایوارڈ
• ریسرچ پروڈکٹیویٹی الاؤنس (HEC)

پروفیسر ڈاکٹر زرّین فاطمہ رضوی نہ صرف ایک کامیاب سائنسدان اور منتظم ہیں بلکہ ایک متاثر کن رول ماڈل بھی ہیں، جو مسلسل تحقیق، قیادت اور تعلیمی بہتری کے ذریعے پاکستان کے علمی مستقبل کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں وہ ہمیشہ اپنے جونئیر قائدین کی معاونت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں

Address

Quaid I Azam University
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quaid I Azam University News Alert posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Quaid I Azam University News Alert:

Share