Quaid I Azam University News Alert

Directions Contact the university

Quaid I Azam University News Alert The pioneer page of Quaid-i-Azam University (QAU), dedicated to sharing authentic, unbiased, and true news.
(346)

Trusted by Quaidians as the real and biggest page of QAU — representing the genuine voice of the QAU community.

ہمارے سنئیر قائدین (ہسٹری 1993) ڈی جی الیکشن برانچ، الکیشن کمییشن آف پاکستان شہید  شمشماد احمد خان  گزشتہ روز اپنے آبائ ...
11/10/2026

ہمارے سنئیر قائدین (ہسٹری 1993) ڈی جی الیکشن برانچ، الکیشن کمییشن آف پاکستان شہید شمشماد احمد خان گزشتہ روز اپنے آبائ گاوں ٹانک میں اپنے بھائ کے انتقال پر گئے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے شہید کردیا۔۔آپ ایک انتہائ ملنسارعاجز، ہنس مکھ افسر اور قابل فخر قائدین تھے۔۔دکھ کی اس گھڑی میں ہماری قائدین بھائ لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ قاتلوں کو پکڑ کر کٹھرے میں لائے اور سخت سے سخت سزا دے۔۔

10/10/2026

رات جب یہ خبر ٹی وی پر دیکھی تو جیسے تیسے رات کٹی تو بس اٹھتے ہی رہا نہیں گیا اور لکھ دیا
معاشرہ اور اس کی اخلاقی اقدار تو پہلے ہی بہت حد تک تباہ ہوچکی ہیں، بے ایمانی، دو نمبری، دھوکا، کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا یہ سب تو نہ جانے کب سے ہمارے رویوں کا حصہ بنتے گئے، مگر اس ڈیجیٹل دور نے تو شاید ہمیں ایک اور ہی طرف دھکیل دیا ہے۔ دکھ یہ ہے کہ اب ہم دوسروں کی زندگیاں دیکھ دیکھ کر اپنی زندگیوں کے فیصلے کرنے لگے ہیں، اور پھر وہ فیصلے کبھی کبھی اتنے بھاری پڑتے ہیں کہ ایک پورا گھر اجڑ جاتا ہے۔

افسوس ناک خبر یہ ہے کہ کل رات اسلام آباد میں سڑک کنارے ایک بیس سالہ نوجوان طالبہ کی لاش ملی۔ اسلامی انٹرنیشنل یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ، جس کا خواب بیرونِ ملک جا کر مزید تعلیم حاصل کرنا تھا، مبینہ طور پر ایک جعلی کنسلٹنٹ کے فراڈ کا شکار ہوئی۔ بتایا گیا کہ ساٹھ، ستر لاکھ روپے تک کی رقم ہتھیا لی گئی۔ باپ نے پلاٹ بیچا، ماں کے زیور بیچے، جو کچھ تھا لگا دیا، صرف اس لیے کہ بیٹی کا خواب پورا ہوجائے۔ جب داخلے کے کاغذات آئے اور چیک کروانے پر پتہ چلا کہ وہ جعلی ہیں تو شاید اس بچی کے لیے یہ صدمہ برداشت کرنا بہت مشکل ہوگیا۔ اس نے اپنے ماموں کو پیغام کیا کہ بابا کو نہ بتانا، وہ جیتے جی مر جائیں گے۔۔۔اور پھر وہ خود بھی واپس نہ آئی۔

اللہ تعالیٰ اس بچی کے لیے رحم کا معاملہ فرمائے اور اس کے والدین کو صبر دے۔

مگر میں یہ تحریر اس بچی کے بارے میں نہیں لکھ رہا، نہ اس کے فیصلے پر کوئی بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں تو بس ان نوجوانوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں جو آج کل اپنی زندگی کا نقشہ دوسروں کی تصویریں دیکھ کر بناتے ہیں۔

نوجوان ساتھیو! کسی کو دیکھ کر زندگی کے فیصلے کیوں لیتے ہو؟ انسٹاگرام ریل کی زندگی صرف پندرہ سیکنڈ کی ہوتی ہے۔ کوئی ایئرپورٹ پر کھڑا ہے، کوئی یورپ کی سڑک پر، کوئی کسی بڑی یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے تصویر لگا رہا ہے، کوئی نئی گاڑی، نیا شہر، نئی زندگی دکھا رہا ہے۔ تمہیں صرف تصویر نظر آتی ہے اس کے پیچھے کی کہانی نہیں

باہر جانا ہے، ضرور جاؤ۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی ہے، ضرور کرو مگر اسکالرشپ لو، محنت کرو، دنیا دیکھو، آگے بڑھو۔ مگر صرف اس لیے کہ فلاں جا رہا ہے تو میں بھی جاؤں گا، فلاں وہاں رہ رہا ہے تو میں بھی وہیں رہوں گا، یہ سوچ تباہ کن ہے۔ اگر گھر میں پیسے نہیں ہیں تو والدین پر ساٹھ، ستر، اسی، نوے لاکھ روپے کا بوجھ کیوں ڈال رہے ہو؟

کسی باپ نے پلاٹ بیچا ہوگا، کسی ماں نے زیور اتارا ہوگا، کسی نے قرض لیا ہوگا، کسی نے اپنی retirement کی جمع پونجی نکالی ہوگی، کسی نے اپنے دوسرے بچوں کے حصے سے کم کیا ہوگا۔ صرف اس لیے کہ ایک بچہ کہہ رہا تھا کہ مجھے باہر جانا ہے۔

شارٹ کٹ کا راستہ مت چنو۔

کوئی ایجنٹ کہتا ہے میں ویزا لگوادوں گا، کوئی کہتا ہے داخلہ پکا ہے، کوئی کہتا ہے بس پیسے جمع کرو باقی سب میرا کام ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں انسان سب سے زیادہ لٹتا ہے۔ ہر دوسری طرف فراڈ ہے، دو نمبری ہے، جعلی کاغذات ہیں، جعلی وعدے ہیں، اور کچھ ایسے بے حس لوگ بھی ہیں جنہیں ذرہ برابر پروا نہیں کہ وہ جو پیسے لے رہے ہیں وہ کسی باپ نے کتنے سال میں جمع کیے ہوں گے۔

پیسے نہیں ہیں تو رک جاؤ۔ ایک سال رک جاؤ، دو سال رک جاؤ، ہنر سیکھ لو، کوئی آن لائن کورس کرلو، کاروبار شروع کرلو، scholarship کے لیے دوبارہ apply کرو، مقامی یونیورسٹی سے پڑھ لو۔ زندگی ایک راستہ بند ہونے سے ختم نہیں ہوجاتی۔

اور سب سے اہم بات، والدین پر دباؤ مت ڈالو۔ وہ تمہاری ہر خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں، مگر ہر خواہش ان کی استطاعت کے اندر نہیں ہوتی۔ ان کے چہرے کی خاموشی کو ہاں مت سمجھا کرو۔ بہت دفعہ وہ ہاں اس لیے کہتے ہیں کیونکہ انہیں تمہاری آنکھوں میں خواب ٹوٹتا ہوا نظر نہیں آتا۔

اور والدین بھی اپنے بچوں کو یہ ضرور بتائیں کہ اگر داخلہ نہ ہوا، ویزا نہ لگا، پیسے ضائع ہوگئے، فراڈ ہوگیا، ایک سال نکل گیا، کوئی مسئلہ نہیں۔ گھر واپس آجاؤ۔ زندگی ابھی باقی ہے۔

نوجوان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ گھر اس کی آخری پناہ گاہ ہے، آخری عدالت نہیں۔

اگر کبھی زندگی میں کوئی ایسا نقصان ہوجائے کہ لگے اب بابا کو کیا منہ دکھاؤں گا، اماں کو کیسے بتاؤں گا، تو اسی وقت گھر فون کرنا۔ پیسے واپس آسکتے ہیں، دوبارہ کمائے جاسکتے ہیں، خواب دوبارہ بن سکتے ہیں، راستے دوبارہ کھل سکتے ہیں، مگر انسان واپس نہیں آتا۔

ہمیں بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں، ناکام ہونا بھی سکھانا ہوگا۔ ہمیں انہیں یہ بتانا ہوگا کہ زندگی کسی ایک ویزے، ایک یونیورسٹی، ایک ملک، ایک جاب، ایک رشتے یا ایک خواب کا نام نہیں۔

اور ان فراڈیوں، دو نمبری کرنے والوں، جعلی کنسلٹنٹس اور لوگوں کی مجبوریوں پر کاروبار کرنے والوں سے صرف اتنا کہنا ہے کہ تم شاید ایک رقم کھا رہے ہوتے ہو، مگر کبھی کبھی تمہیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس رقم کے ساتھ کسی گھر کی کتنی امیدیں، کتنی دعائیں اور کتنے سال دفن تھے۔ اداروں کو چاہیے کہ ان کو عبرت کا نشان بنائیں

خدا رحم کرے ہم پر۔

اور ہمیں اتنا انسان ضرور رہنے دے کہ کسی کی مجبوری کو اپنا کاروبار نہ بنائیں۔

05/10/2026

Happy Teachers Day

قائداعظم یونیورسٹی سے مزید ایک اور وائس چانسلر بن گئے، ڈائریکٹر NIPS پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین وائس چانسلر سوات یونیورسٹی...
04/10/2026

قائداعظم یونیورسٹی سے مزید ایک اور وائس چانسلر بن گئے، ڈائریکٹر NIPS پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین وائس چانسلر سوات یونیورسٹی مقرر

QAU Always Top..🤝
03/10/2026

QAU Always Top..🤝

یونیورسٹی کی نئ تنظیم کی تشکیل فوٹو وائرل ہوگئ۔زرائع نے بتایا کہ کشمیر فیڈریشن بھی میدان میں آنے والی ہے جبکہ قیو ایس ای...
03/10/2026

یونیورسٹی کی نئ تنظیم کی تشکیل فوٹو وائرل ہوگئ۔زرائع نے بتایا کہ کشمیر فیڈریشن بھی میدان میں آنے والی ہے جبکہ قیو ایس ایف نے گزشتہ رات نئ تنطیم پختون فیڈریشن کو غیر قانونی قرار دے دکا

03/10/2026

بریکنگ نیوز
یونیورسٹی میں تنظیم پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام ۔۔۔

آزاد قائدین۔۔عسکری بنک کے باہر لائنوں میں لگ کر آپ کی فیس جمع کروانے کی کیا یادیں ہیں؟
28/09/2026

آزاد قائدین۔۔
عسکری بنک کے باہر لائنوں میں لگ کر آپ کی فیس جمع کروانے کی کیا یادیں ہیں؟

قائداعظم یونیورسٹی اور سردیاںیہ ہلکی سی خُنکی، زرد مائل خزاں اور ڈوبتی ہوئی سفیدی اس بات کی پیامبر ہے کہ سردی کی آمد آمد...
28/09/2026

قائداعظم یونیورسٹی اور سردیاں
یہ ہلکی سی خُنکی، زرد مائل خزاں اور ڈوبتی ہوئی سفیدی اس بات کی پیامبر ہے کہ سردی کی آمد آمد ہے۔ بارش کا زور یہ سب سردی کی آمد آمد ہے۔۔

رات کو جب سناٹا چھا جائے، کڑکتی سردی کی سیاہ رات میں اُن کا جھرمٹ ہٹس کی راہ لے اور راستوں پر بھاگتے "پِگز" خونخوار آنکھوں سے یوں گھوریں جیسے برسوں کی کوئی پرانی دشمنی ہو، تو سمجھ لیجیے کہ جامعہ میں سردیوں نے دستک دے دی ہے۔

درختوں کے سوکھے پتے سڑکوں پر کُنڈلی مارے پڑے ہوں، کوئی تیز رفتار گاڑی گزرے تو وہ ٹائروں سے لپٹ کر خانہ بدوشوں کی طرح سڑک کے اُس پار جا گریں۔ پھر انہی پتوں میں سے اچانک ٹھٹھرتی رات کے آنگن میں ایک خوفناک آواز ابھرے

"شرررررررر..."

اور حسیناؤں کا پورا جھرمٹ ایک لمحے کو سہم جائے، مگر ہٹس کی راہ لینے والے قافلے پھر بھی چلتے رہیں۔

جرسیوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، مارگلہ کی پہاڑیوں سے اترتی یخ بستہ ہواؤں کا مقابلہ کرتے یہ نوجوان جب شاہراہِ قائدین پر چل رہے ہوں اور ان کے منہ سے نکلتا سفید دھواں کسی موٹر سائیکل کے سائلنسر کا گمان دینے لگے، تو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی کہ

سردی آ رہی ہے۔ یہی تو QAU کی سردی ہے۔

پھر ٹولیاں پکوڑوں کی پلیٹ پر یوں جھپٹیں جیسے شہد کی مکھیاں شہد پر، اور گڈو ہٹس پر کسی نرم مگر کڑاکے دار آواز کی گونج سنائی دے " اک ٹوکن نپی ذرا..."

گرم جلیبیوں کے ساتھ وہ ٹولیاں مست ٹھنڈک میں گرمی کا ایسا تاثر دیں کہ محسوس ہو جیسے شیریں گلوں سے عہدِ وفا کی خوشبو اٹھ رہی ہو۔ مگر اصل امتحان اگلی صبح شروع ہوتا ہے۔

سورج کی مدھم کرنیں سردی کو شکست دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہوں۔ وہ ایک بار اٹھیں، پھر سو جائیں۔ پھر اٹھیں، پھر رضائی میں واپس گھس جائیں۔ یوں کرتے کرتے ان کی نازک مگر مردوں جیسی کلائی پر بندھی راڈو کی مردانہ گھڑی جب 8 بج کر 45 منٹ کا پیام دے تو وہ یوں ہڑبڑا کر اٹھیں جیسے پورے سمسٹر کا امتحان آج ہی ہو۔

نہانے کے لیے واش روم کی طرف دوڑیں اور وہاں پہنچ کر معلوم ہو کہ گرم پانی بند ہے اور ٹھنڈے پانی کی فراوانی عروج پر!

وہ ایسے غصے سے پلٹیں جیسے کسی ملک کی فوج نے اچانک سرحدوں پر حملہ کر دیا ہو۔

اب دانت بجاتی سردی میں عقل کہے

"موقع غنیمت ہے..."

اور پھر چپکے سے "منی باتھ" کا سہارا لیا جائے۔

صرف منہ دھویا، ہاتھ دھوئے، سر پر شیمپو سے بال دھو لیے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر نہایا ہوا تصور کر لیا۔

بس۔۔۔۔۔۔

یہیں سمجھ جائیے کہ جامعہ میں سردیوں کی باقاعدہ آمد ہو چکی ہے۔

پھر جیسے ہی وہ جلدی جلدی واپس پلٹیں، فرش پر پیر پھسلے، ایک زور دار دھڑام ہو...

اور اسی جھٹکے سے مصنف کی آنکھ کھل جائے

آنکھیں ملتے ہوئے موبائل دیکھا تو پتہ چلا—

ابھی تو ستمبر ہے۔وہی ستمبر...جو خود بھی ستمگر ہے۔

ابھی تو سردیوں میں بہت کچھ باقی ہے۔

انہی راہدریوں میں گزرے تم بھی ہو، گزرے ہم بھی ہیں، انہی جگہوں پر قدموں کے نشاں تمہارے بھی ہیں اور ہمارے بھی۔۔پھر کتنے ہی...
24/09/2026

انہی راہدریوں میں گزرے تم بھی ہو، گزرے ہم بھی ہیں، انہی جگہوں پر قدموں کے نشاں تمہارے بھی ہیں اور ہمارے بھی۔۔پھر کتنے ہی چل دیے۔۔۔نہ تم اب ہو نہ ہم اب ہیں...
Your bio memories?

Address

Quaid I Azam University
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quaid I Azam University News Alert posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Quaid I Azam University News Alert:

Shortcuts

Share