Jamia Salafia Islamabad (الجامعة السلفية بإسلام آباد)

Jamia Salafia Islamabad (الجامعة السلفية بإسلام آباد) jamia salafia

21/05/2026

میت کی طرف سے مستقل یا خاص قربانی کرنا | شرعی حکم کیا ہے؟
ڈاكٹر عبد الباسط فهيم حفظه الله شيخ الحديث جامعه سلفيه إسلام آباد
مولانا سيد رياست حسين شاه حفظه الله مدرس جامعه سلفيه إسلام آباد

اس ویڈیو میں وضاحت کی گئی ہے کہ:

✔ کیا میت کی طرف سے الگ قربانی کرنا جائز ہے؟
✔ کیا ہر سال فوت شدگان کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے؟
✔ ایصالِ ثواب کے طور پر قربانی کا کیا حکم ہے؟
✔ اس مسئلے میں اہلِ علم کی آراء کیا ہیں؟

قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل رہنمائی پیش کی گئی ہے۔

📄 Mayyat Ki Taraf Se Mustaqil Ya Khas Qurbani Karna | Shar‘i Hukm Kya Hai?

Is video mein wazeh kiya gaya hai ke:

🔹 Kya mayyat ki taraf se alag ya mustaqil qurbani karna jaiz hai?
🔹 Kya har saal فوت شدگان ki taraf se qurbani ki ja sakti hai?
🔹 Nabi ﷺ ki taraf se qurbani karne ki riwayat ka kya mafhoom hai?
🔹 Esal-e-sawab aur qurbani ka sahih tareeqa kya hai?

Quran o Sunnat aur fuqaha ke aqwaal ki roshni mein mukammal aur daleeli jawab diya gaya hai۔
Video ko poora dekhein taa ke qurbani ke masail ki sahi samajh hasil ho۔

📄 Offering Separate Qurbani for the Deceased | Islamic Ruling Explained

This video explains the Islamic ruling regarding offering Qurbani on behalf of deceased persons.

• Is a separate Qurbani for the deceased permissible?
• Can it be done every year?
• What is the meaning of narrations about Qurbani on behalf of others?
• What is the correct method of Esal-e-Sawab through Qurbani?

A detailed explanation based on Quran, Sunnah, and classical Islamic jurisprudence.






#قربانی
#میت

#عیدالاضحی




20/05/2026

کیا حج پر جاتے وقت بتانا ضروری ہے؟ اخلاص یا ریا؟
ڈاكٹر عبد الباسط فهيم حفظه الله شيخ الحديث جامعه سلفيه إسلام آباد
مولانا سيد رياست حسين شاه حفظه الله مدرس جامعه سلفيه إسلام آباد

اس ویڈیو میں وضاحت کی گئی ہے کہ:

✔ کیا حج پر جاتے وقت لوگوں کو بتانا ضروری ہے؟
✔ کیا اس کا اعلان کرنا ریا میں شامل ہو سکتا ہے؟
✔ اخلاص کی حقیقت کیا ہے؟
✔ ضرورت یا مصلحت کی بنا پر بتانے کا کیا حکم ہے؟

قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل رہنمائی پیش کی گئی ہے۔

kia Hajj par Jatey hwe batan zarori hy k ma hajj par ja raha hon?
📄 Kya Hajj Par Jate Waqt Batana Zaroori Hai? | Ikhlas Ya Riya?

Is video mein wazeh kiya gaya hai ke:

🔹 Kya Hajj par jatay waqt logon ko batana zaroori hai?
🔹 Apne safar ka ilan karna riya mein shamil ho sakta hai?
🔹 Ikhlas aur riya mein kya farq hai?
🔹 Agar kisi maslihat ya zarurat ki wajah se bataya jaye to kya hukm hai?

Quran o Sunnat aur salaf ke aqwaal ki roshni mein mukammal aur daleeli jawab diya gaya hai۔
Video ko poora dekhein taa ke ibadat mein ikhlas ki ahmiyat samajh saken۔

📄 Is It Necessary to Tell Others Before Going for Hajj? | Sincerity or Showing Off?

This video explains whether it is necessary to inform others before going for Hajj.

• Is announcing your Hajj journey required?
• Can it become a form of showing off (Riya)?
• What is the difference between sincerity and ostentation?
• What if there is a genuine need to inform others?

A detailed explanation based on Quran, Sunnah, and the understanding of the pious predecessors.





#حج
#اخلاص
#ریا





18/05/2026
18/05/2026
18/05/2026
18/05/2026
آج بروز اتوار 17 مئی 2026 جامعہ سلفیہ اسلام آباد میں طلباء کے مابین سالانہ اردو تقریری مقابلہ کا شاندار انعقاد کیا گیا....
17/05/2026

آج بروز اتوار 17 مئی 2026 جامعہ سلفیہ اسلام آباد میں طلباء کے مابین سالانہ اردو تقریری مقابلہ کا شاندار انعقاد کیا گیا.
یہ مقابلہ دو مرحلوں پر مشتمل ہونے کے ساتھ ساتھ دو حصوں میں ہوا.
پہلے حصّے میں جن 70 طلباء نے مقابلے میں شرکت کیلئے نام لکھوائیں انکی جانچ پڑتال کی گئی اور دوسرے حصے یعنی آج کے دن تقریر کرنے کے لیے 42 لڑکوں کو فائنل کیا گیا اور الحمد للہ آج کے مقابلے کی تعداد بغیر کسی غیر حاضری کے مکمل رہی.
ججز کے فرائض سرانجام دینے والے مشائخ:
مولانا حافظ اعجاز احمد صاحب حفظہ اللہ
مولانا حفيظ اللہ صاحب حفظہ اللہ
مولانا قاری اشفاق صاحب حفظہ اللہ
مرحلہ ثانویہ کا موضوع: فضیلت توحید
مرحلہ عالیہ کا موضوع: معرفتِ الہی اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات
اس مسابقہ کی صدارت محترم جناب حافظ شیخ محمد شفیق صاحب حفظہ اللہ رئیس الجامعہ نے کی آپ کی طبیعت کافی ناساز تھی اس کے باوجود آپ طلباء اور أساتذہ کی محبت میں جامعہ تشریف لائیں اور سابقہ کی صدارت کی.
محترم جناب ڈاکٹر سہیل حسن صاحب حفظہ اللہ نے بھی طلباء کی بہترین راہنمائی کی.
مرحلہ ثانویہ میں
پہلی پوزیشن: سعد ناصر
دوسری پوزیشن: عبد الرحمن عبد الحنان
تیسری پوزیشن: عبد الرحمن فیاض
چوتھی پوزیشن: عبد الله خورشيد اور حنظلہ طارق

مرحلہ عالیہ میں
پہلی پوزیشن: نواز اکرم
دوسری پوزیشن: عبد المعز شیراز
تیسری پوزیشن: عبد الواسع نثار
چوتھی پوزیشن: ابو بکر عباسی اور بدیر فھیم

اس مسابقہ کی خاص بات یہ بھی تھی کہ پوزیشن ہولڈرز کے سات ساتھ تمام مقررین کو بھی انعامات سے نوازا گیا.

Fozan Faiz Machlovi

عشرۂ ذوالحجہ: فضیلت و اہمیت(چند مفید اضافہ جات کے ساتھ)🖋️ ابو احمد وقاص زبیر مدرس جامعہ سلفیہ اسلام آباد، خطیب مسجد مبار...
16/05/2026

عشرۂ ذوالحجہ: فضیلت و اہمیت
(چند مفید اضافہ جات کے ساتھ)
🖋️ ابو احمد وقاص زبیر
مدرس جامعہ سلفیہ اسلام آباد، خطیب مسجد مبارک بنی گالہ اسلام آباد

الحمد لله رب العالمين ، حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه كما يحب ربُّنا و يرضى ، والصلاة والسلام على رسولنا ونبينا محمد و على آله وصحبه وسلم تسليما مزيدا، أما بعد :

اللہ سبحانہ و تعالی اپنی کمال رحمت سے بندوں کو اپنی رضا و خوشنودی کے بیش بہا مواقع نصیب فرماتا ہے تا کہ بندے ان میں اللہ تعالی کے حضور نیکیاں اور اطاعت کے کام بجا لا کر اپنے گناہوں کی بخشش ، اس کی رحمت و محبت اور بلندئ درجات کا انعام پاسکیں ، اب بندوں کو چاہیے کہ ان اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ مالک الملک سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں اور سعادت اور کامرانی کا حصول ممکن بنائیں ۔
اِنہیں مواقع میں سے ایک عشرۂ ذوالحجہ بھی ہے جس کی فضیلت، اہمیت اور قدر و منزلت تمام ایام سے بڑھ کر ہے اس کا سبب بیان کرتے ہوئے حافظ ابن حجر (٨٥٢ ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"والذي يظهر أن السبب في إمتیاز عشر ذي الحجة لمكان اجتماع أمهات العبادة فيه وهي الصلاة والصيام والصدقة والحج ولا يأَتَّى ذلك في غيره".
عشرہ ذو الحجہ کا باقی ایام سے امتیاز کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بڑی بڑی عبادات جمع ہو جاتی ہیں جیسے نماز ، روزہ ، صدقہ اور حج؛
عبادات کا یوں جمع ہونا باقی دنوں میں نہیں ہوتا۔
(فتح الباري لابن حجر:۲ /٤٦٠)
1. الله تعالی کا ان دس راتوں کی قسم کھانا :
امام ابن قیم (٧٥١ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"وهو سبحانه يُقسم بأمور على أمور وإنما يقسم بنفسه الموصوفة بصفاته وآياته المستلزمة لذاته وصفاته وإِقسامه ببعض المخلوقات دليل على أنه من عظيم آياته".
اللہ سبحانہ وتعالی بہت سے امور کے لیے دوسرے امور کی قسم کھاتا ہے اور کبھی وہ اپنی ذات مبارکہ کی قسم کھاتا ہے جو اس کی صفات عالیہ سے متصف ہے اور کبھی اپنی آیات کی جو اس کی ذات و صفات سے جڑی ہوئیں ہیں اور اسی طرح اس کا اپنی بعض مخلوقات کی قسم کھانا، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مخلوق اس کی عظیم نشانیوں میں سے ہے۔
(التبيان في أقسام القرآن:ص ١)
چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے :
﴿ وَالفَجرِ ۝ وَلَيالٍ عَشرٍ﴾
قسم ہے، فجر کی اور دس راتوں کی.
[الفجر: ١-٢]
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
"إن الليالي العشر اللاتي أقسم الله بهن: هن الليالي الأُوَل من ذي الحجة".
اللہ تعالی نے جن دس راتوں کی قسم کھائی ہے، یہ ذوالحجہ کی پہلی (دس) راتیں ہیں ۔
( تفسير الطبري:۱۱ /٥۳٠، صحيح )
امام مجاہد بن جبر (۱۰۱ھ) رحمه الله فرماتے ہیں:
اس سے مراد" عشرہ ذوالحجہ" ہے۔
(تفسير الطبري:٥۳۱/۱۱ ، حسن)
عظیم مفسر امام ابن جریر طبری (۳۱۰ھ) رحمہ الله فرماتے ہیں:
"والصواب من القول في ذلك عندنا: أنها عشر الأضحى لإجماع الحجة من أهل التأويل عليه".
ہمارے نزدیک اس متعلق صحیح بات یہ ہے کہ ان (دس راتوں) سے مراد ذوالحجہ کی دس راتیں ہی ہیں کیونکہ اکثر مفسرین نے اس سے یہی دلیل لی ہے۔ہے
(تفسير الطبري:۱۱ /٥٣١)
معروف مفسر امام ابن کثیر (٧٧٤ ھ) رحمہ الله فرماتے ہیں :
"والليالي العشر : المراد بها عشر ذي الحجة".
دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں ۔
(تفسیر ابن کثیر: ۱٤ /۳۳۸)
امام ابن رجب (٧٩٥ھ) رحمہ الله فرماتے ہیں:
"أما الليالي العشر فهي عشر ذي الحجة هذا الصحيح الذي عليه جمهور المفسرين من السلف وغيرهم".
صحيح بات یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں اور یہی موقف جمہور سلف و خلف کا ہے.
(لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف:ص ۲٦۰)
مزید فرماتے ہیں :
"وقد أقسم الله تعالى بلياليه،۔۔۔ وهذا يدل على فضيلة لياليه لكن لم يثبت أن لياليه ولا شيئا منها يعدل ليلة القدر".
الله تعالی نے اس عشرے کی راتوں کی قسم کھائی ہے جو کہ اس کی راتوں کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے لیکن یہ بات قطعا ثابت نہیں کہ اس عشرہ کی تمام یا بعض راتیں لیلۃ القدر کے برابر ہیں".
مزید فرماتے ہیں :
"والتحقيق ما قاله بعض أعيان المتأخرين من العلماء أن يقال: مجموع هذا العشر أفضل من مجموع عشر رمضان وإن كان في عشر رمضان ليلة لا يفضل عليها غيرها. والله أعلم".
تحقیق شدہ بات یہی ہے کہ جو متاخرین میں سے کبار علماء نے کہی ہے کہ: یہ عشرہ مجموعی اعتبار سے رمضان کے آخری عشرے کے مجموعی اعتبار سے افضل ہے لیکن رمضان کے آخری عشرے میں ایک رات ایسی ہے جس کی فضیلت میں برابری کسی رات کو حاصل نہیں".
(لطائف المعارف:ص۲٦۷)
محقق علماء رحمہم اللہ کی ایک جماعت کا یہی موقف ہے کہ عشرہ ذوالحجہ کے شب و روز پورے سال کے دن و رات سے افضل ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ان دس راتوں ہی کی قسم اٹھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام کو تمام دنوں سے افضل قرار دیا ہے اور جب دن بولا جائے تو اس میں رات بھی شامل ہوتی ہے۔ اسی طرح ان ایام میں نیک اعمال کا یوں جمع ہونا سال کے دوسرے دنوں میں نہیں ہوتا لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرے کی خاص شب قدر تمام راتوں سے افضل ہے، البتہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہما اللہ کا موقف ہے کہ عشرہ ذوالحجہ کے ایام باقی تمام دنوں سے اور عشرہ رمضان کی راتیں باقی تمام راتوں سے افضل ہیں۔ حوالہ کے دیکھیے، (مجموع الفتاوى:٢٥/٢٨٧، زاد المعاد:١/ ٣٥، بدائع الفوائد:٣/ ١١٠٢)
والله أعلم بالصواب
2. نیک اعمال کی ترغیب :
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
《 ما العمل في أيام العشر أفضل من العمل في هذه؟ ". قالوا : ولا الجهاد؟ قال : " ولا الجهاد، إلا رجل خرج يُخاطر بنفسه وماله، فلم يرجع بشيء 》
"کسی دن کا عمل اللہ تعالی کے ہاں ان دس دنوں کے عمل سے افضل نہیں" صحابہ رضی اللہ عنھم نے پوچھا : کیا جہاد بھی نہیں؟ تو آپ نے فرمایا : "جہاد بھی نہیں مگر وہ شخص جو دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان و مال کی بازی لگا دے اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹے"۔
(صحيح البخاري:٩٦٩)
ایک دوسری روایت میں امام سعید بن جبیر تابعی، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
《ما من عملٍ أزكى عند الله عز وجل ولا أعظم أجرا ؛ من خير يعمله في عشر الأضحى". قيل: ولا الجهاد في سبيل الله عز وجل؟ قال : "ولا الجهاد في سبيل الله عز وجل، إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء》
قال : وكان سعيد بن جبير إذا دخل أيام العشر اجتهد اجتهادا شديدا حتى ما يكاد يقدر عليه".
"اللہ عزوجل کے نزدیک کوئی عمل اس سے زیادہ پاکیزہ اور اجر کے لحاظ سے بڑا نہیں جو عشرہ ذوالحجہ میں کیا جائے"۔ کہا گیا : اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا:" الله عز وجل کے راستے میں جہاد بھی نہیں ، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال لے کر نکلے پھر کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹے ۔
قاسم بن ایوب( راوی ) فرماتے ہیں : جب یہ عشرہ آتا تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ اس قدر عمل میں محنت کرتے کہ اپنی طاقت سے بڑھ کر کوشش کرتے ۔
(:سنن الدارمي:١٨١٥ ، وسنده حسن، مزید دیکھیے، شرح مشکل الآثار للطحاوي: ٤١٦/٧ ح ۲۹۷۰ )
گویا عشرہ ذوالحجہ مومن کے لیے تمام تر نیکیوں کا اہم موقع اور ان پر اجرِ عظیم سموئے ہوئے آتا ہے لہذا چاہیے کہ اس عشرے میں معرفت باری تعالی، دعوت توحید و سنت، شرک و بدعات کا رد، نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا، تہجد گزاری، تکبیر تحریمہ کا خاص اہتمام، نوافل، تلاوتِ قرآن کریم، اذکار، تکبیرات، دعائیں، نفلی روزے، والدین سے حسن سلوک، صلہ رحمی، پڑوسیوں سے احسان، لوگوں سے تکلیف دور کرنا، کمزور و نادار کی مدد، صدقات و خیرات غرض یہ کہ تمام نیک اعمال کی سعی کی جائے۔
کبیر تابعی امام ابو عثمان النہدی (٩٥ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"کانوا يفضلون ثلاث عشرات: العشر الأول من ذي الحجة، والعشر الأواخر من شهر رمضان، والعشر الأول من المحرم".
"صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تین عشروں کو بڑی فضیلت دیتے تھے: عشرہ ذوالحجہ، رمضان کا آخری عشرہ اور محرم کا پہلا عشرہ "۔
(فضل عشر ذي الحجة لابن أبي الدنيا:٨ وسنده صحيح. مزید دیکھیے، الترغيب والترهيب لقوام السنة:١٨٨٠)
امام ابن ناصر الدین دمشقی (٨٤٢ ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" والأخبار مشعرة بتفضيل عشر ذي الحجة على العشرين المذكورين؛ لأن فيه يوم التروية، ويوم عرفة، ويوم النحر".
احادیث و آثار سے ظاہر ہے کہ عشرہ ذوالحجہ ذکر کردہ دونوں عشروں سے افضل ہے کیونکہ اس میں ترویہ کا دن (8 ذوالحج جس دن حاجی حج کی ادائیگی کے لیے منی روانہ ہوتے ہیں) عرفات کا دن اور قربانی کا دن ہے۔
(جزء في فضل يوم عرفة: ص ٢٦)
امام عبد اللہ بن عون رحمہ الله فرماتے ہیں:
"كان محمد يصوم العشر عشر ذي الحجة کله ، فإذا مضى العشر ومضت أيام التشريق أفطر تسعة أيام مثل ما صام".
معروف تابعی امام محمد بن سیرین(۰ااھ) رحمہ اللہ مکمل عشرہ ذوالحجہ کے روزے رکھتے تو جب عشرہ ذوالحجہ اور ایام تشریق گزر جاتے تو نو دن روزوں کا ناغہ کرتے جیسے پہلے روزے رکھے تھے"۔
(مصنف ابن أبي شيبة: ۲ /۳۰۰، صحيح)
یہاں مکمل عشرہ سے مراد ٩ دن ہی ہیں جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے ۔
شارح صحیح مسلم امام نووی (٦٧٦ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ليس في صوم هذه التسعة كراهة بل هي مستحبة استحبابا شديدا لا سيما التاسع منها وهو يوم عرفة".
ان نو دنوں میں روزے رکھنا ناپسندیدہ نہیں بلکہ بہت زیادہ پسندیدہ ہیں اور خاص طور پر ٩ ذوالحجہ کا روزہ جو کہ یوم عرفہ ہے"۔
(شرح صحيح مسلم: ۷۸/۸)
3. عرفہ کے دن کی فضیلت:
يوم عرفہ عشرہ ذوالحجہ کا اہم ترین دن ہے اور اس کے متعدد فضائل ہیں :
• اللہ تعالی کا یوم عرفہ کی قسم کھانا:
اللہ تعالی فرماتا ہے:
﴿ وَشاهِدٍ وَمَشهودٍ﴾
قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے ۔
[البروج: ٣]
اکثر مفسرین کا موقف ہے کہ آیت کریمہ میں وشاهد سے مراد 'جمعہ' کا دن اور مشهود سے مراد 'عرفات' کا دن ہے جیسا کہ سیدنا علی بن ابی طالب ،ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما اور امام قتادہ رحمہ اللہ سے صحیح وحسن اسناد سے مروی ہے.
(دیکھئے تفسير الطبري: ٤۸۱/۱۱ ، ٤۸۲)
* دین کی تکمیل اور اتمام نعمت کا دن :
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ ، خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! تمہاری کتاب میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو، اگر ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم ضرور اس دن کو بطور عید مناتے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کونسی آیت ہے؟ وہ کہنے لگا : ﴿اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتي وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلامَ دينًا﴾ [المائدة: ٣]
تو عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : ہم اس دن اورجگہ کو جانتے ہیں جس میں یہ نبی ﷺ پر اتری ، اس وقت آپ عرفات کے میدان میں جمعہ کے دن کھڑے تھے"۔
(صحيح البخاري : ٤٥ ، ۷۲٦۸، صحیح مسلم :۳۰۱۷)
ایک دوسری روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
"فإنها نزلت في يوم عيدين؛ في يوم جمعة ويوم عرفة".
بے شک یہ آیت دو عید کے دنوں میں اتری ، جمعہ کا دن اور عرفہ کا دن ۔
دیکھئے : جامع الترمذي :۳۰٤٤، صحيح.
• يوم عرفہ عید کا دین :
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
《يوم عرفة ، ويوم النحر وأيام التشريق عيدنا أهلَ الإسلام ،و ھی ایام أكل وشرب》
"یوم عرفہ، قربانی کا دن اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کے لیے عید ہیں اور یہ ایام کھانے پینے کے ہیں ۔
(سنن أبي داود : ۲٤۱۹ ، جامع الترمذي: ۷۷۳ ، سنن النسائی: ۳۰۰۷، حسن)
* عرفہ کے دن الله تعالی کا حاجیوں پر فخر کرنا اور عام بخشش فرمانا :
امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
《ما من يوم أكثر من أن يُعتق الله فيه عبدا من النار ، من يوم عرفة ، وإنه ليدنو، ثم يُباهي بهم الملائكة، فيقول: ما أراد هؤلاء؟》
"اللہ تعالی عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن بھی اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا اور الله تعالی اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان سب کا کیا ارادہ ہے ؟"۔
(صحیح مسلم :۱۳٤۸)
• یوم عرفہ کا روزہ :
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
《صيام يوم عرفة، أحتسب على الله أن يكفِّر السنة التي قبله، والسنة التي بعده ...》
" عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ یہ گز شتہ اور آئندہ (دو) سالوں کے گناہوں کا کفارہ ہوگا ".
(صحیح مسلم:۱۱٦۲)
ضروری بات : یہ روزہ حاجیوں کے لیے نہ رکھنا زیادہ بہتر ہے :
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام فضل لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
"شك الناس يوم عرفة في صوم النبي صلى الله عليه وسلم، فبعثت إلى النبي صلى الله عليه وسلم بشراب فشربه.
"لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک میں تھے (کہ آج آپ کا روزہ ہے یا نہیں) تو میں نے آپ کی طرف ایک مشروب بھیجا تو آپ نے اسے نوش فرما لیا"۔
(صحيح البخاري : ۱۹۵۸ ، ۱۹۸۸ ، صحیح مسلم : ۱۱۲۳)
امام شافعی(٢٠٤ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"فأحب صومها إلا أن يكون حاجًّا فأحب له ترك صوم يوم عرفة لأنه حاجٌّ مضَحٍّ مسافرٌ ولترك النبي ﷺ صومه في الحج وليقوى بذلك على الدعاء ، وأفضل الدعاء يوم عرفة".
"میں یوم عرفہ کے روزے کو پسند کرتا ہوں سوائے حاجی کے، اس کے لیے یہ ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ نہ رکھے کیونکہ وہ فریضہ حج اور قربانی کرنے والا اور مسافر ہے ( سب سے بڑی بات) نبی کریم ﷺ نے بھی حج میں روزہ نہیں رکھا، تاکہ وہ دعا کے لیے خوب توانا رہے اور عرفہ کے دن کی دعا افضل دعا ہے"۔
(دیکھئے مختصر المزني: ص٥٩، فضائل الأوقات للبيهقي: ص۳٦٤)
4. عشرہ ذوالحجہ کا سب سے عظیم عمل حج :
اللہ تعالی فرماتا ہے :
﴿وَلِله عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا﴾
" اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کاحج (فرض) ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھے"۔
[آل عمران: ٩٧]
اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم فرمایا :
﴿وَأَذِّن فِي النّاسِ بِالحَجِّ يَأتوكَ رِجالًا وَعَلى كُلِّ ضامِرٍ يَأتينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَميقٍ﴾
"اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے ، تمہاری طرف پیدل اور لاغر سواری پر آئیں گے جو دور دراز راستوں سے آئیں گی".
[الحج: ٢٧]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ، آپ نے فرمایا :
《من حج لله فلم يرفُثْ ، ولم يفسُقْ رجع كيوم ولدته أُمُّه》
"جس نے اللہ کے لیے حج کیا نہ کوئی فحش بات کی اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس لوٹا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا"۔
(صحیح البخاري:۱۵۲۱، صحیح مسلم : ۱۳۵٠)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
《 العمرة إلى العمرة كفَّارة لما بينهما ، والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة 》
"ایک عمرہ سے دوسرا عمره درمیانی وقت کا کفارہ ہے اور نیکیوں سے بھر پور مقبول حج کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں".
(صحیح البخاري: ۱۷۷۳ ، صحیح مسلم : ۱۳٤۹)

5. عظیم دن :
عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
《إن أعظم الأيام عند الله تبارك وتعالى يوم النحر ، ثم يوم القَرّ》
"الله تبارک و تعالی کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ، پھر "یوم القر" ہے"۔
(سنن أبي داود: ۱۷٦۵ ، مسند أحمد ٤ / ۳۵۰ ، صحيح)
يوم القر سے مراد عیدالاضحی کا دوسرا دن ہے اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ حاجی طواف افاضہ، قربانی اور دوسرے اہم اعمال ادا کر کے منی میں آرام کرتے ہیں۔
6. قربانی :
قربانی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت ہے اس کی مشروعیت کی عظمت ہی یہ کہ امام الموحدین سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے رب تعالی کے حکم کی پیروی اور خوشنودی کے حصول کے لیے اپنے اس لخت جگر کو جو بڑی دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں عطا ہوا، اسے قربان کرنے لیے تیار ہو گئے ﴿ فلمّا أسلما وتلَّه للجبين﴾ (الصافات:١٠٣)
باپ و بیٹا دونوں ہی فرماں بردار ہو گئے۔ الله أكبر كبيرا !!!
یہی وہ عظیم سنت تھی جسے الله تعالی نے امت محمدیہ (على صاحبها أفضل السلام وأتم التسليم) کے لیے بھی جاری فرما دیا، جیسا کہ الله تعالی نے فرمایا :
﴿وَفَدَيناهُ بِذِبحٍ عَظيمٍ﴾
" اور ہم نے اس کے بدلے میں بڑی قربانی دی"۔
[الصافات: ١٠٧]
یعنی اسماعیل علیہ السلام کی جگہ انہیں ایک مینڈھا دیا جو کہ بطور قربانی تھا.
چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلنا مَنسَكًا لِيَذكُرُوا اسمَ اللهِ عَلى ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعامِ فَإِلهُكُم إِلهٌ واحِدٌ فَلَهُ أَسلِموا وَبَشِّرِ المُخبِتينَ﴾
"ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کی ہے تاکہ وہ ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں دیے ہیں تو تمہارا الہ ایک ہی الہ ہے تو اسی کے فرماں بردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے"۔
[الحج: ٣٤]
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿قُل إِنَّ صَلاتي وَنُسُكي وَمَحيايَ وَمَماتي لِله رَبِّ العالَمينَ﴾
"(اے نبی) کہ دیجئے بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے"۔
[الأنعام: ١٦٢]
اللہ تعالی فرماتا ہے :
﴿لَن يَنالَ الله لُحومُها وَلا دِماؤُها وَلكِن يَنالُهُ التَّقوى مِنكُم كَذلِكَ سَخَّرَها لَكُم لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلى ما هَداكُم وَبَشِّرِ المُحسِنينَ﴾
"اللہ تعالیٰ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون لیکن اسے تمہارا تقوی پہنچے گا اسی طرح اس نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تا کہ تم اس کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت دی، اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے"۔
[الحج: ٣٧]
7. تکبیرات :
عشرہ ذوالحجہ شروع ہوتے ہی اس میں عمومی طور پر ہر جگہ، بازاروں میں اور ہر وقت اللہ تعالی کی بڑائی، تکبیرات، اذکار، تسبیحات اور حمد و تعریف بہت عظیم اعمال ہیں جنہیں علما نے " تکبیرات مطلق " سے تعبیر کیا ہے
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ في أَيّامٍ مَعلوماتٍ﴾
اور چند معلوم دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں۔
[الحج: ٢٨]
اس سے مراد عشرہ ذو الحجہ ہے جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے بہت سے ائمہ مفسرین کا موقف ہے۔ دیکھیے: (صحيح البخاری : قبل ح٩٦٩، السنن الكبرى للبيهقي:٥/ ٢٢٨ وسنده صحيح، تفسير ابن كثير: ٤/ ٤٢٧)
امام مجاہد بن جبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: كان أبو هريرة وابن عمر رضي الله عنهما يخرجان أيام العشر إلى السوق، فيكبران، فيكبر الناس معهما، لا يأتيان السوق إلا لذلك.
ابو ہریرہ رضی اللہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ عشرہ ذو الحجہ میں بازار میں نکلتے اور تکبیرات کہتے تو لوگ بھی آپ دونوں کے ساتھ تکبیرات پکارنے لگ جاتے، اور وہ دونوں اسی مقصد کے لیے بازار آتے تھے ۔ (أخبار مكة للفاكهي:٢/ ٣٧٢ وسنده حسن، دیکھیے صحیح البخاري: قبل ح: ٩٦٩)
لیکن یوم عرفہ، یوم النحر اور ایام تشریق (یعنی 9 ذوالحجہ سے 13 ذو الحجہ) کے دنوں میں فرض نمازوں کے بعد بھی خاص طور پر اللہ کا ذکر اور تکبیرات بلند کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے جنہیں علما نے " تکبیرات مقید" سے موسوم کیا ہے۔ دیکھیے، المغنی لابن قدامة: ٣/ ٢٥٦.
چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
﴿وَاذكُرُوا اللهَ في أَيّامٍ مَعدوداتٍ﴾
"گنتی کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو"۔
[البقرة: ٢٠٣]
جمہور مفسرین کے نزدیک ان "گنتی کے دنوں" سے مراد "ایام تشریق" (یعنی 13،12،11 ذوالحجہ) ہیں.
(دیکھیے : صحيح البخاری : قبل ح٩٦٩، السنن الكبرى للبيهقي:٥/ ٢٢٨، تفسیر الطبری: ٣٣٢-٢/٣٢، تفسیر ابن کثیر : ٢/١٢٤)
اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو کہ نبیشہ بن عبداللہ الھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
《 أيام التشريق أيام أكل و شرب و ذكر الله 》
"ایام تشریق کھانے، پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں".
(صحیح مسلم : ١١٤١)
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" أحب الكلام إلى الله أربع: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، لا يضرك بأيهن بدأت ".
اللہ تعالی کے نزدیک سب سے محبوب ترین کلمات چار ہیں: "سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر" ان میں سے جس کلمے کو پہلے کہہ لو کوئی حرج نہیں ۔
(صحيح مسلم:٢١٣٧)
تکبیرات کے الفاظ :
تکبیرات کے مختلف الفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین عظام رحمہم اللہ سے ثابت ہیں :
١. سلمان فارسی رضی اللہ عنہ :
الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر كبيرا
(السنن الكبرى للبيهقي: ٣/٣١٦، مزيد ديكهيے: مصنف عبد الرزاق: ١١/٢٩٥)
اس روایت کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیح ترین قرار دیا ہے.
(دیکھیے: فتح الباری:٢/٤٦٢)
٢. ابن عباس رضی اللہ عنہما:
الله أكبر كبيرا، الله أكبر كبيرا، الله أكبر و أجل، الله أكبر ولله الحمد( بعض روایات میں الله أكبر ولله الحمد کی جگہ " الله أكبر على ما هدانا " کے الفاظ بھی مروی ہیں)
آپ رضی اللہ عنہ یہ کلمات یوم عرفہ کی فجر سے لے کر ١٣ ذوالحجہ کی عصر تک پڑھا کرتے تھے.
(دیکھیے : مصنف ابن أبي شيبة: ١/٤٨٩ ح:٥٦٤٥،٥٦٥٥، مسند مسدد بن مسرهد كما في المطالب العالية لابن حجر:٥/ ١٥١، صحيح)
٣. امام ابراھیم بن یزید النخعی تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگ عرفہ کے دن نماز کے بعد قبلہ رخ ہو کر یہ الفاظ پڑھتے تھے:
الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله والله أكبر، الله أكبر ولله الحمد.
(مصنف ابن أبي شيبة: ١/٤٩٠، صحيح)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی تکبیرات کے مذکورہ کلمات مروی ہیں۔ دیکھیے(مصنف ابن أبي شيبة:١/ ٤٨٨)
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.

16/05/2026

طواف کرتے ہوئے کعبہ کو دیکھ کر دعا کرنا | کیا کوئی خاص دعا ہے؟
ڈاكٹر عبد الباسط فهيم حفظه الله شيخ الحديث جامعه سلفيه إسلام آباد
مولانا سيد رياست حسين شاه حفظه الله مدرس جامعه سلفيه إسلام آباد

اس ویڈیو میں وضاحت کی گئی ہے کہ:

✔ طواف کے دوران کعبہ کو دیکھ کر دعا کرنا کیسا ہے؟
✔ کیا اس موقع پر کوئی مخصوص دعا ثابت ہے؟
✔ کیا ہر چکر کی الگ دعا ہے؟
✔ دعا کرنے کا افضل طریقہ کیا ہے؟

قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل رہنمائی پیش کی گئی ہے۔

📄 Tawaf Karte Waqt Kaaba Ko Dekh Kar Dua Karna | Kya Koi Khaas Dua Hai?

Is video mein wazeh kiya gaya hai ke:

🔹 Kya tawaf karte hue Kaaba ko dekh kar dua karna jaiz hai?
🔹 Kya is waqt koi khaas masnoon dua sabit hai?
🔹 Kya har chakkar ke liye alag dua hoti hai?
🔹 Dua karne ka behtareen tareeqa kya hai?

Quran o Sunnat aur sahih ahadees ki roshni mein mukammal aur daleeli jawab diya gaya hai۔
Video ko poora dekhein taa ke ibadat ka sahih tareeqa samajh saken۔

📄 Making Dua While Seeing the Kaaba During Tawaf | Any Specific Supplication?

This video explains the ruling regarding making dua while seeing the Kaaba during Tawaf.

• Is it permissible to make dua while looking at the Kaaba?
• Is there any specific prescribed dua?
• Are there different duas for each round?
• What is the best way to make dua?

A clear explanation based on Quran and authentic Sunnah.






#طواف
#کعبہ
#دعا
#عمرہ




16/05/2026
14/05/2026

سبق نمبر 17 | ضعیف راویوں سے روایت کی ممانعت اور حدیث لینے میں احتیاط
مولانا عبید اللہ عبد الرزاق صاحب (جامعہ سلفیہ، اسلام آباد)

سبق نمبر 17 میں ضعیف راویوں سے روایت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور حدیث قبول کرنے میں احتیاط کی تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو نئی نئی باتیں بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء نے، اس لیے ان سے بچو۔ حضرت ابن عباسؓ وغیرہ کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جھوٹی روایات پھیلنے لگیں تو محدثین نے حدیث لینے میں سختی اختیار کر لی۔

آج کے سبق کی عبارت:
باب النهي عن الرواية عن الضعفاء والاحتياط في تحملها
وحدثني محمد بن عبد الله بن نمير وزهير بن حرب قالا حدثنا عبد الله بن يزيد قال حدثني سعيد بن أبي أيوب قال حدثني أبو هانئ عن أبي عثمان مسلم بن يسار عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال سيكون في آخر أمتي أناس يحدثونكم ما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤكم فإياكم وإياهم
وحدثني حرملة بن يحيى بن عبد الله بن حرملة بن عمران التجيبي قال حدثنا ابن وهب قال حدثني أبو شريح أنه سمع شراحيل بن يزيد يقول أخبرني مسلم بن يسار أنه سمع أبا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يكون في آخر الزمان دجالون كذابون يأتونكم من الأحاديث بما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤكم فإياكم وإياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم
وحدثني أبو سعيد الأشج حدثنا وكيع حدثنا الأعمش عن المسيب بن رافع عن عامر بن عبدة قال قال عبد الله إن الشيطان ليتمثل في صورة الرجل فيأتي القوم فيحدثهم بالحديث من الكذب فيتفرقون فيقول الرجل منهم سمعت رجلا أعرف وجهه ولا أدري ما اسمه يحدث
وحدثني محمد بن رافع حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ابن طاوس عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال إن في البحر شياطين مسجونة أوثقها سليمان يوشك أن تخرج فتقرأ على الناس قرآنا
وحدثني محمد بن عباد وسعيد بن عمرو الأشعثي جميعا عن ابن عيينة قال سعيد أخبرنا سفيان عن هشام بن حجير عن طاوس قال جاء هذا إلى ابن عباس يعني بشير بن كعب فجعل يحدثه فقال له ابن عباس عد لحديث كذا وكذا فعاد له ثم حدثه فقال له عد لحديث كذا وكذا فعاد له فقال له ما أدري أعرفت حديثي كله وأنكرت هذا أم أنكرت حديثي كله وعرفت هذا فقال له ابن عباس إنا كنا نحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ لم يكن يكذب عليه فلما ركب الناس الصعب والذلول تركنا الحديث عنه
وحدثني محمد بن رافع حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قال إنما كنا نحفظ الحديث والحديث يحفظ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فأما إذ ركبتم كل صعب وذلول فهيهات
وحدثني أبو أيوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني حدثنا أبو عامر يعني العقدي حدثنا رباح عن قيس بن سعد عن مجاهد قال جاء بشير العدوي إلى ابن عباس فجعل يحدث ويقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل ابن عباس لا يأذن لحديثه ولا ينظر إليه فقال يا ابن عباس ما لي لا أراك تسمع لحديثي أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تسمع فقال ابن عباس إنا كنا مرة إذا سمعنا رجلا يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ابتدرته أبصارنا وأصغينا إليه بآذاننا فلما ركب الناس الصعب والذلول لم نأخذ من الناس إلا ما نعرف
حدثنا داود بن عمرو الضبي حدثنا نافع بن عمر عن ابن أبي مليكة قال كتبت إلى ابن عباس أسأله أن يكتب لي كتابا ويخفي عني فقال ولد ناصح أنا أختار له الأمور اختيارا وأخفي عنه قال فدعا بقضاء علي فجعل يكتب منه أشياء ويمر به الشيء فيقول والله ما قضى بهذا علي إلا أن يكون ضل
حدثنا عمرو الناقد حدثنا سفيان بن عيينة عن هشام بن حجير عن طاوس قال أتي ابن عباس بكتاب فيه قضاء علي رضي الله عنه فمحاه إلا قدر وأشار سفيان بن عيينة بذراعه
حدثنا حسن بن علي الحلواني حدثنا يحيى بن آدم حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن أبي إسحاق قال لما أحدثوا تلك الأشياء بعد علي رضي الله عنه قال رجل من أصحاب علي قاتلهم الله أي علم أفسدوا
حدثنا علي بن خشرم أخبرنا أبو بكر يعني ابن عياش قال سمعت المغيرة يقول لم يكن يصدق على علي رضي الله عنه في الحديث عنه إلا من أصحاب عبد الله بن مسعود

📖 اردو ترجمہ:
باب: ضعیف راویوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور حدیث لینے میں احتیاط
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میری امت کے آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو تمہیں ایسی باتیں بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے باپ دادا نے، پس تم ان سے بچو۔"
ایک روایت میں ہے:
"آخری زمانے میں جھوٹے دجال آئیں گے، وہ تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے نہیں سنی ہوں گی، پس ان سے بچو تاکہ وہ تمہیں گمراہ نہ کریں اور فتنہ میں نہ ڈالیں۔"
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"شیطان انسان کی شکل اختیار کر کے لوگوں کے پاس آتا ہے اور جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے، پھر لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص سے سنا جس کا چہرہ پہچانتا ہوں مگر نام نہیں جانتا۔"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
"ہم پہلے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے جب آپ ﷺ پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا، لیکن جب لوگوں نے ہر طرح کی باتیں بیان کرنا شروع کر دیں تو ہم نے احتیاط اختیار کی اور صرف وہی حدیث لی جسے ہم پہچانتے تھے۔"
اسی طرح انہوں نے فرمایا:
"ہم پہلے کسی شخص کو 'قال رسول اللہ ﷺ' کہتے سنتے تو پوری توجہ دیتے تھے، لیکن جب لوگوں میں جھوٹ پھیل گیا تو ہم صرف معتبر اور معروف روایات ہی قبول کرنے لگے۔"

Zaef Rawiyon se Riwayat se Parhez aur Hadees Lene mein Ehtiyaat

zaef rawiyon se riwayat lene se mana kiya gaya hai aur hadees qabool karne mein ehtiyaat ki talqeen ki gayi hai.
aakhri zamane mein log aisi baatein bayan karenge jo na tum ne suni hongi na tumhare aba ne, is liye un se bachna chahiye. Ibn Abbas (RA) waghera ke aqwal se pata chalta hai ke baad mein muhadditheen ne sakhti ikhtiyar ki.

Caution in Accepting Hadith

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Salafia Islamabad (الجامعة السلفية بإسلام آباد) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share