03/10/2022
تیسری دنیا کے معاشروں میں ایک فکری مغالطہ عام طور پہ پایا جاتا ہے کہ گذشتہ زمانے کے لوگ موجودہ انسان کی بہ نسبت ذیادہ با اخلاق تھے کیونکہ وہ ذیادہ مذہبی تھے اور آجکل کا انسان مذہب سے بیگانہ ہونے کی وجہ سے اخلاقی پستی کا شکار ہو گیا ہے ، بسا اوقات ہم لوگوں کا تصّورِ اخلاق بھی جنسیات تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے اور عام طور پہ اخلاقی پستی سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ لوگ آوارگی و بدچلنی کا شکار ہو رہے ہیں ،
پہلی بات تو یہ ہے کہ اخلاق صرف جنس تک محدود نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جنسیات کے حوالے سے بھی آج کے کئی معاشرے ماضی کے معاشروں سے کہیں بہتر ہیں ، جب مذہب کے نام پہ بردہ فروشی کو جائز سمجھا جاتا تھا لوگ اپنی حرم سرا میں سینکڑوں کنیزیں خرید کر بھر لیتے تھے ، جاگیرداری نظام میں ہر دلہن کو شادی کی پہلی رات رئیس علاقہ کی خلوت گاہ میں بسر کرنا پڑتی تھی جسے " شب زفاف " کہا جاتا تھا
لیکن اب خاوند کا اپنی عورت سے بھی زبردستی سیکس ریپ کے زمرہ میں شمار کیا جانے لگا ہے ، اب عورت اپنے خاوند سے بھی اتنی ہی پاکبازی کی توقع رکھنے لگی ہے جتنی کہ وہ اس سے رکھتا ہے ،
لیکن اصل بات یہ ہے کہ اخلاق کا مفہوم جنس سے وسیع تر ہے ، اسمیں صداقت شعاری راستبازی ، حُسن معاملات ، شہری فرائض کی ادائیگی ، عمرانی حقوق کی پاسبانی ،اور ایثار و مروّت وغیرہ بھی شامل ہیں ایک کاروباری شخص جو مذہب کے احکام کی ظاہری پابندی کرتا ہے لیکن دنیاوی معاملات میں مکرو فریب سے معاشرے کو پراگندہ کر رہا ہے تو آپ اسے حاجی نمازی کا خطاب تو دے سکتے ہیں لیکن اسے بااخلاق نہیں سمجھا جا سکتا ،،
( عام فکری مغالطے )
از علی عباس جلالپوری