24/08/2026
یونیورسٹی میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے تناظر میں یہ وضاحت جاری کی جا رہی ہے۔ طلبا صبح اپنے جائز تعلیمی و انتظامی مسائل، بشمول رجسٹریشن اور فیسوں کے امور، پر پرامن احتجاج کر رہے تھے جس کے باعث کیمپس بند تھا۔ اس دوران انتظامیہ کی ایک عہدیدار نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر طلبا نے انہیں روکا۔ اس موقع پر انہوں نے پولیس اور یونیورسٹی مالک کو طلب کیا، جنہوں نے انہیں واپس جانے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے اصرار کیا اور پاک فوج کے ایک افسر کو طلب کر لیا۔ اس افسر کے آتے ہی بغیر کسی اشتعال کے طلبا پر لاٹھی چارج شروع کر دیا گیا، جس سے ان کی لاٹھی ٹوٹ گئی۔ جب طلبا نے اس اقدام پر احتجاج کیا تو دوبارہ تشدد کیا گیا، جس پر ردعمل کے طور پر ایک جھڑپ ہوئیِ اس دوران افسر نے ہوائی فائرنگ کی اور سیدھی گولیاں چلائیں۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ غلط ہے کہ فوج نے ادارے کو تحویل میں لے لیا ہے؛ اصل حقیقت یہ ہے کہ پولیس نے انہیں وہاں سے نکالنا تھا اور وہ مسلسل طلبا کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم عوام کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ حقائق بالکل مختلف ہیں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی باتیں سراسر بے بنیاد ہیں، جنہیں حامد میر صاحب جیسے سینئر صحافی اور دیگر نے بغیر تصدیق کے پھیلایا ہے۔
نوٹ۔ یہ ایک شخص کے ذاتی عمل ہے پورے ادارے کی پالیسی یہ نہیں۔