16/06/2023
سمندری طوفان کیسے بنتے ہیں اور ان کے مختلف نام کیوں
ہوتے ہیں؟
ہر سال جون کے مہینے میں ہم خبروں میں سمندری طوفانوں کے ذکر میں لفظ ہری کین (Hurricane) سننا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہری کین اس سمندری طوفان کو کہتے ہیں جو شمالی امریکہ میں آتے ہیں۔ ایسے طوفان دنیا میں اکثر مقامات پر بھی آتے ہیں اور اتنی یا ان سے زیادہ تباہی پھیلاتے ہیں لیکن میڈیا میں ان کا اتنا ذکر نہیں ہوتا جتنا ہریکینز کا ہوتا ہے۔
ہر سال مئی جون کے مہینوں میں جب شدید گرمی پڑنا شروع ہوتی ہے تو بحر اوقیانوس کے وسطی حصوں میں گرم سمندر کی وجہ سے اس کے اوپر ہوا کا دباو کم ہونا شروع ہوتا ہے۔ اس کم دباو کی وجہ سے سمندر کے ٹھنڈے حصوں سے ہوا تیزی سے اس کم دباو والی جگہ کو پر کرنے لگے گی۔ سمندری طوفان کی یہ وہ ابتدا ہے جسے (Tropical Depression) ٹراپیکل ڈیپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔ جیسے ہی سمندر میں یہ ٹراپیکل ڈیپریشن بنتا ہے، موسمیات کے ماہرین اس پر نظر رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت اس جگہ پر ہواوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 62 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔ یہ ہوائیں سمندر سے اٹھنے والی بھاپ سے شامل ہوکر انھیں پانی سے لدے پھندے بادلوں کی شکل دے دیتی ہیں۔ اگر کچھ گھنٹوں میں یہ بادل مزید رفتار پکڑنا شروع کر دیں اور ان کی رفتار 62 کلومیٹر سے بڑھ جائے تو اسے (Tropical Storm) ٹراپیکل طوفان کہا جاتا ہے۔ اس طوفان کی رفتار اور سائز بڑھنے کے علاوہ اس میں ایک اور چیز نمودار ہونا شروع ہو جاتی ہے، جسے عام طور پر طوفان کی آنکھ کہتے ہیں۔ طوفان کے بیچوں بیچ یہ وہ مقام ہوتا ہے، جس کے گرد طوفانی ہوائیں گھومنا شروع کر دیتی ہیں۔
اس موقع پر اس طوفان کا ایک مخصوص نام رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ نام اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، عالمی موسمیاتی تنظیم کی مرتب کردہ فہرست سے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے۔ اس فہرست میں کم از کم 21 نام ہر وقت موجود ہوتے ہیں جو انگریزی کے حروف تہجی سے شروع ہوتے ہیں، البتہ کچھ حروف جیسے Q یا X وغیرہ سے اجتناب کیا جاتا ہے۔
اس طوفان کی رفتار 119 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو جائے تو اسے اب ٹراپیکل طوفان کی بجائے ہری کین کا خطاب مل جاتا ہے۔ نہ صرف یہ طوفان اب ہری کین بن گیا ہے بلکہ اسے اب ایک کیٹیگری بھی عطا کر جاتی ہے۔
ان طوفانوں کی کیٹیگریز اور ان کی رفتار اس طرح ہے۔ یہ رفتار طوفانی ہواوں اور بادلوں کی ہے۔ جو اس آنکھ کے گرد گھوم رہے ہیں۔
کیٹگری ون۔ رفتار 119 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 153 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
کیٹگری 2۔ 154 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 177 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
کیٹگری 3۔ 178 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 208 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
کیٹگری 4۔ 209 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 251 کلومیٹر فی گھنٹہ
کیٹگری 5۔ 252 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ۔
ابھی تک کیٹگری 5 کے کچھ ہی طوفان آئے ہیں، جن میں سے سب سے مشہور اینڈریو نامی طوفان تھا،۔ اس طوفان نے آج تک سب سے زیادہ تباہی پھیلائی ہے۔دوسرے نمبر پر تباہی پھیلانے والا مشہور طوفان کترینا تھا، یہ بھی ایک بار کیٹگری 5 کا طوفان بنا لیکن جب ساحلوں سے ٹکرایا تو اس کی رفتار کم ہوگئی تھی۔ اس لیئے اسے ریکارڈز میں کیٹیگری 4 کا ہری کین یا سمندری طوفان کہا جاتا ہے۔
کچھ مزید اہم باتیں۔۔
اب تک ہم نے سمندری طوفانوں کے حوالے سے جو جانا ہے، اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سمندری طوفان ایک ہی طریقے سے بنتے ہیں۔ ان کے مختلف نام ان کے علاقوں کی نسبت سے ہوتے ہیں،
جیسے بحر اوقیانوس اور شمالی و مشرقی بحرالکاہل سے امریکہ کی طرف رخ کرنے والے طوفانوں کو ہری کین کہتے ہیں،
شمالی بحرالکاہل اور بحر ہند سے اٹھنے والے سمندری طوفان جن کا رخ جاپان، فلپائن، کوریا، انڈونیشیا، ہانگ کانگ وغیرہ کی طرف ہو انھیں ٹائفون کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک مچھر مکھی مار اسپرے ٹائفون کے نام سے مشہور تھا۔
شمالی بحر ہند سے اٹھنے والے سمندری طوفان جن کا رخ خلیج بنگال، جنوبی انڈیا، پاکستان اور خلیجی ریاستوں کی طرف ہو انھیں سائیکلون کہا جاتا ہے۔