UPR Student's Group

UPR Student's Group Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from UPR Student's Group, College & University, Rawlakoat Ajk, Islamabad.

23/04/2020

Vietnam has reported 0 COVID-19 related deaths with only around 268 cases after 90+ days since the first outbreak in January.

A country with over 96 million people, that borders on China, has managed to contain the pandemic better than most similarly sized countries with larger economies.

How has the Socialist Republic of Vietnam been so successful in fighting the coronavirus?

- Early on the government made firm decisions to prioritise and preserve the health of its people even if it would come at the cost of the economy.

- The government called for a national emergency after only the 6th case was reported and was fast in implementing social distancing, forced quarantines as well as targeted testing and tracing, with almost 185,000 free tests done so far.

- Information campaigns were started to inform the public about the pandemic, so there was clarity on what people could expect and had to do, including the wearing of face masks.

- Medical students, retired doctors and nurses were mobilized to join the fight on the frontlines.

- There is close cooperation between state institutions, ministries, social movements and political organizations like the Ho Chi Minh Communist Youth Union, with the prime-minister calling the fight against the coronavirus the "spring offensive of 2020" referring to the military offensive that defeated U.S. imperialism in 1975.

- To minimize workers and their families being affected by the lockdown, the government approved a 111.55 million dollar financial support package that includes covering all costs for workers in quarantine or who are recovering from the disease.

- To maintain food security, the government provided essential goods to neighborhoods in lockdown, installed free rice dispensing ATMs and put a halt to rice exports to other countries.

- On top of that it has donated 550,000 masks to Europe, sent 450,000 protective suits to the U.S., donated protective clothing, medical masks, testing equipment and kits to Cambodia and Laos and testing kits to Indonesia, to show its "spirit of mutual support to partner countries."

The World Health Organization and World Economic Forum have both praised Vietnam for its comprehensive, low-cost model of disease prevention.

While the pandemic showed some rich countries acting selfishly, Vietnam demonstrated there is another cure for the pandemic: solidarity

Report by : Redfish

22/04/2020

مجیب خان ۔22اپریل 2020

کرونا کی گواہی

چین کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی وبا سے اسوقت تک متاثرین کی تعداد مختلف ممالک میں پچیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ لاکھوں لوگ اس وبا کے دوران بے روزگار ہو چکے ہیں۔مزدوروں کی عالمی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے باعث دنیا میں کم از کم ایک ارب 25 کروڑ لوگوں کے روزگار کو خطرہ ہے۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں منفی سطح تک گر چکی ہیں۔
اس دوران جہاں وبا مسلسل پھیل رہی ہے اور ترقی یافتہ ممالک بھی اس پہ قابو پانے سے قاصر ہیں وہاں اگر برصغیر جہاں بقول جون ایلیا سرمایہ داری چوری کر کے لائ گئ ہے وہاں ایک خطرناک صورتحال موجود ہے جو سوشل میڈیا پہ چلنے والی افواہوں اور حکومت کی بے حسی اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے عمومی منظر عام سے بالاتر نظر آتی ہے ۔ اس نظام کی عطا کردہ نفسیات نے لوگوں کواپنی ہی زات سے اس قدر بیگانہ کر دیا ہے لوگ تمام تر حفاظتی اقدامات کو غیر سنجیدہ لے رہے ہیں ۔ پاکستان اور ہندوستان جن کی بڑی آبادی دو وقت کے کھانے سے بھی محروم ہے اس وبا کے دوران شدید متاثر ہوئے ہیں ۔ اس نظام کی ناکامی کے تعفن زدہ ماحول میں خطے کے حکمران اس پہ قابو پانے سے مکمل طور پہ قاصر ہیں۔ لاک ڈاؤن دونوں ہی ممالک میں ایک ڈرامائ صورتحال اختیار کیے ہوئے ہے ۔ لاکڈاؤن کے معنی ہی تبدیل ہو چکے ہیں ۔ حکومتیں ان معاملات کو حل کرنے میں بری طرح فیل ہو چکی ہیں اور اس نظام کا خسی پن کرونا وائرس نے مزید واضح کر دیا ہے ۔ امداد کی منتظر سماج کی ایک کثیر آبادی کسمپرسی کی حالت میں ہے ۔سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والی مختلف ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ سڑک پہ کسی وجہ سے بہہ جانے والے دودھ کو جمع کر کے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ایسےمیں اس سماج کے اندر بنیادی ڈھانچے تبدیل کیے بغیر اور سرمایہ داری کی غلاظت کو صاف کیے بغیر کسی بھی قسم کی اصطلاحی تبدیلی نا ممکن ہے۔ جہاں سماج کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو وہاں اصلاحات محض دیوانے کا خواب محسوس ہوتی ہیں ۔

ایک اور معاملہ زیر غور ہے کہ پاکستان اور ہندوستان میں باقی دنیا کی نسبت Covid-19 کے متاثرین کی تعداد کم ہے۔ تاہم روزانہ کتنے لوگوں کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اس پہ بات نہیں کی جاتی ۔ حکومت روز ٹیلی ویثزن پہ بیٹھ کے روزانہ کی بنیاد پہ ٹیسٹوں کی تعدادمیں اضافے کی بات تو کرتی ہے مگر تمام کھوکھلے دعوؤں کی طرح یہ بھی زبانی باتیں ہوتی ہین ۔
اس تمام تر صورتحال میں بنیاد پرستی بھی ناگزیر صورتحال اختیار کر گئ ہے ۔ نام نہاد مزہب کے ٹھیکیدار ملاؤں پنڈتوں نے اپنی تمام جہالت غریب اور مظلوم لوگوں کے متھے مارنے کا عندیہ دیا ہے۔ تمام مزہبی لوگوں کو اس وبا سے معجزانہ طور پہ متاثر نہ ہونے کا تائثر دے کر پہلے ہی بے شمارلوگ اس خطرناک وبا کا شکار ہو چکے ہیں۔جیسا کہ پاکستان میں اسوقت مجموعی کیسز میں اکثریت تبلیغی اجتماع والوں کی ہے۔ ریاست ان مزہبی انتہاپسندوں کے سامنے مضحکہ خیز نظر اتی ہے ۔ پوری دنیا میں ہر طرح کے مزہبی اجتماعات پر پابندی ہے ۔ خانہ کعبہ بھی اس وبا کی وجہ سے بند ہے دنیا بھر میں مساجد مندر اور چرچ سمیت ہر طرح کی عبادت گاہیں بند ہیں اور پاکستان میں ایک طبقہ جو اس وائرس کو اپنی کم علمی اور جہالت کی وجہ سے اسرائیل کی مسلمانوں کے خلاف سازش گردانتا ہے اور ریاست پہ اس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے ۔
اس تمام صورتحال میں سرمائے کی حاکمیت کے اس نظام کا انسانیت کش ہونا واضح ہو چکا ہے ۔ پوری دنیا کی تمام دیوہیکل سے لیکر چھوٹی سرمایہ دارانہ ریاستوں میں موجودہ وبا نا مزید واضح کر دیا ہے اس نظام کے پاس لوگوں کو بنیادی ضرورتیں پوری کرنے اور ان کے مسائل کے حل کی سکت موجود نہیں

22/04/2020

کرونا
جب ریاست کمزور ہو تو وہاں مذہب کے نام پر غنڈہ گردی کی جاتی ہے ۔۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کے مولوی خضرات نے اس بات کا عملی مظاہرہ کیا ہے کے اسلام کے نام پر وہ ریاست سے اپنے مطالبات منوا سکتے ہین ۔۔۔
جی ہان یہی مولوی صاحب اگر آپ کو کرونا ہو گیا اور اپ۔کی موت ہو گی تو جنازے پڑھانے بھی نہیں آئیں گے۔۔
خدارا اسلام کے نام پر سیاست نہ کریں ۔۔۔
ایشیا مین۔ابھی۔صرف 30 ہزار کیسز روپوٹ ہوے ہین انے۔والے۔دن۔۔مشکل ہین


اس کے علاوہ کاروباری خضرات جو۔ ساری زندگی اس عوام سے ناجائز منافع خوری کرتے رہے آج کاروبار تباہ ہونے کی۔۔بات کر۔رہے
ذرا سوچئے
اختیاط کرین

’’لائف ہسٹری فخر کشمیر کیپٹن حسین خان شہید ‘‘کیپٹن حسین خان شہید سالار اعظم و سردار بہادر آرڈر آف برٹش آرمی فخر کشمیر سپ...
10/11/2019

’’لائف ہسٹری فخر کشمیر کیپٹن حسین خان شہید ‘‘
کیپٹن حسین خان شہید سالار اعظم و سردار بہادر آرڈر آف برٹش آرمی فخر کشمیر سپریم کمانڈر جنگ آزادی ، فاتح آزاد کشمیر 1895 ؁ء میں گاؤں کالاکوٹ (حال حسین کوٹ) سردار حشمت علی خان کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گاؤں کے ایک بڑے زمیندار تھے۔ آپ کوبچپن ہی سے فوج میں بھرتی ہونے کا بہت شوق تھا۔ آپ 18 سال کی عمر تک پہنچے اور 1913ء میں انڈین آرمی میں بھرتی ہو گئے۔ آپ کے چھ بھائی بھی یکے بعد دیگرفوج میں بھرتی ہوئے۔ آپ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ زندگی کے ہرمعاملے میں دلیر اور باہمت تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے آگے چل کر طارق بن زیاد، خالد بن ولید، اور موسیٰ بن نصیر جیسے بہادر جرنیلوں کے برابرمقام حاصل کیا۔ اور مسلمانانِ کشمیر کو غلامی سے نجات دھندہ بن کر سامنے آئے۔ اگر آپ کو سلطان ٹیپو ثانی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ فوج میں بھرتی ہونے کے بعد انتہائی کم عرصہ میں ہی ترقی کی منازل طے کرنا شروع ہو گئے۔
1917ء میں آپ کو وائسرائے کمیشن آفیسر بنایا گیا۔ جنگ عظیم اوّل میں آپ نے سردار بہادر اور OBI کا تغمہ حاصل کیا۔ آ پ کو جنگی انعام دیا گیا۔ جس کے بارے میں شہنشاہ برطانیہ جارج پنجم نے روزنامہ لندن گزٹ میں شائع کیا۔ یہ جنگی انعام تین پشت تک جاری رہے گا۔ 1937ء میں شہنشاہ برطانیہ کی رسم تاج پوشی میں ایشاء کی نمائندگی کی۔ وہاں آپ کی بہت عزت کی گئی اور ایک سنہری وردی ایک جنگی رائفل بطور انعام دی گئی۔ 1939ء میں دوسری عالمگیر جنگ شروع ہو گئی اس دوران آپ کی پلاٹون تھائی لینڈ، سنگا پور روانہ ہو گئی اور مشرق ایشیاء کے مختلف محاذوں پر مصروف جنگ رہی۔ آپ نے دونوں جنگوں میں بہادری کے اتنے جوہر دکھائے کہ آپ کو 12 انفرادی میڈل دئیے گئے۔ آپ کو مختلف سنٹروں کا دورہ کرنے پر مامور کردیا کہ جوانوں کو جنگی تربیت دیں۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور فوجی جوانوں کو ہدایت کی کہ جاپانیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے موت کو ترجیح دیں۔ اور حوصلہ نہ ہاریں۔ بلکہ جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کریں۔ چونکہ انگریزوں نے وعدہ کیا ہے کہ ہم جنگ جیت گئے تو انڈیا کو آزاد کر دیں گے۔ اس دوران یونٹوں میں جو آپ کو کشمیری ملے ان کو بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد ہندوستان آزاد ہو جائے گا۔ اور دوحصوں میں تقسیم ہو گا۔
مہاراجہ ہری سنگھ ریاست کا الحاق ہندوستان سے کر لے گا۔ اس لئے آپ لوگ ذہنی طور پر ایک اور جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو جائیں یہ آپ کی بصیرت کا کمال تھا۔ 1945 ؁ء میں جنگ عالمگیر دوئم ختم ہوئی تو آپ نے پنشن پر ریٹائرڈ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ آپ کے کمانڈر نے آپ کو مزید سروس اور ترقی کی آفر کی کہ آپ جیسے تجربہ کار آفیسران کی ضرورت ہے۔ آپ نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ اس دوران دہلی سے ایک رسالہ شائع ہوتا تھا۔ اس میں ایسٹرن ویسٹرن کمانڈرز کے درمیان آپ کی تصویر دکھائی گئی اور آپ کا جنگی لائف پیکیج شائع ہوا۔ (فرام سیکرٹری آف سٹیٹ فار وار)
آپ 1945 ؁ء میں ریٹائرڈ ہونے کے بعد 1947 ؁ء تک گھر میں ہی رہے۔ اپریل 1947 ؁ء میں جب برصغیر میں دو قومیت کے سوال پیدا ہوئے ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے۔ تقسیم کے وقت انگریزوں نے والیان ریاستوں کو اختیار دے دیا کہ ہندوستان یا پاکستان میں جدھر چاہیں شامل ہو جائیں۔ چنانچہ راولاکوٹ میں سول نافرمانی کی تحریکیں شروع ہو گئیں۔ سیاسی جلسے جلوس کیے جانے لگے۔ اور کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔ اس معاملہ کو دبانے کے لئے مہاراجہ ہری سنگھ نے راولاکوٹ کا دورہ کرنے کا پروگرام بنایا مہاراجہ کی آمد پر کرنل خان محمد خان صاحب نے سابق فوجیوں کو باوردی جمع کر کے مہاراجہ کو سلامی دینے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ کیپٹن حسین خان نے کرنل خان محمد خان صاحب کے اس پروگرام سے اختلاف کر دیا اور شامل نہ ہوئے۔ مہاراجہ راولاکوٹ میں سابق فوجیوں کا جم غفیر دیکھ کر گھبرا گیا اور واپس پونچھ چلا گیا۔ راولاکوٹ اور پونچھ میں زیادہ سے زیادہ فوج تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیر پونچھ بہیم سنگھ اور ڈوگرہ آرمی کے کمانڈر انچیف کو ہدایت کی کہ راولاکوٹ جا کر سرکردہ لوگوں سے میٹنگ کر کے حالات درست کریں۔ ڈوگرہ فوج کا کمانڈر جو انگریز تھا اس نے راولاکوٹ تھانہ میں تعینات ایس.ایچ.او اعظم عباسی کو خط لکھا کہ اس میٹنگ میں کیپٹن حسین خان کی شمولیت بہرصورت یقینی بنائیں ورنہ اپنی نوکری سے ہاتھ دھولیں۔ SHO صاحب نے کیپٹن صاحب کو خط لکھا کہ آپ میٹنگ میں شرکت کریں۔ مگر کیپٹن حسین خان نے شرکت سے انکار کر دیا۔ بعد میں ڈاکٹر محمد حیات خان عباسی کیپٹن صاحب کے گھر آئے اور ان کی والدہ کو بتایا کہ اگر کیپٹن حسین خان میٹنگ میں شامل نہ ہوئے تو ہمارے ایس.ایچ.او صاحب کی نوکری چلی جائے گی۔ اس طرح آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو شمولیت کے لئے راضی کر لیا۔ دوسرے دن آپ اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر وزیر پونچھ بھیم سنگھ ڈوگرہ فوج کے کمانڈر اور جموں و کشمیر فوج کے انگریز کمانڈر انچیف اور آئی.جی .پی سے راولاکوٹ ڈاک بنگلہ میں میٹنگ کی ان کے علاوہ دوسری سرکردہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔ میٹنگ میں تمام لوگوں کو آزادی کے لئے بغاوت سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی۔ تقریباً تین گھنٹے کی ملاقات کے دوران کیپٹن حسین خان خاموش رہے۔ جب انگریز کمانڈر انچیف نے کیپٹن صاحب کو مخاطب کر کہ کہا کہ اگر آپ ان لوگوں کو بغاوت سے روکیں اور خود جنگ آزادی سے لاتعلق رہیں تو آپ کو ایک بڑی جاگیر راولاکوٹ میں ملٹری کالج، حکومت میں حصہ دیا جائیگا۔ اس پر کیپٹن حسین خان نے صرف اتنا جواب دیا کہ جو ان جلسے جلوسوں میں پاکستان میں شامل ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کی بات مان لو ورنہ میں کہتا ہوں کہ جنگ ہو گی۔ یہ کہتے ہوئے آپ میٹنگ سے اٹھ گئے۔ آئی.جی.پی نے ان کو فوراً گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ مگر فوجی کمانڈر نے ان کو ایسا کرنے سے روکا۔ کیپٹن حسین خان اپنی گھوڑی پر سوار ہوکر واپس گھر آئے۔ دوسرے دن ان کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے۔ اس سے قبل کیپٹن حسین خان نے گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو جنگ کے لئے آمادہ کر دیا تھا۔ آپ نے میرالگلہ بنجونسہ کے مقام پر لوگوں کو جمع کیا اُن سے پوچھا کہ اگر آپ لوگ میرا ساتھ دیں تو میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف جنگ کروں۔ اس طرح اس مقام پر لوگوں سے قسم لی اور دوسرے دن اپنی جمع شدہ پونجی لیکر پاکستان کی طرف رات کی تاریکی میں روانہ ہو گئے۔ انہوں نے بہت سارے لوگوں سے اس سلسلہ میں رابطے کیے مگر خاطرخواہ جواب نہ ملا۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ کیپٹن حسین خان ہماری پنشن بھی بند کروادے گا۔ مہاراجہ کے ساتھ جنگ نہیں ہو سکتی۔ بہرحال آپ پاکستان میں داخل ہوئے اور علاقہ فرنٹیئر سے ایمونیشن اور ہتھیار خریدنے میں مصروف ہو گئے اس دوران انہوں نے راولپنڈی ایک ہوٹل میں قیام کیا اور بہت سے فوجی جوانوں اور آفیسران سے ملاقاتیں کیں۔ آپ نے درہ کُرم سے ایمونیشن و ہتھیار اور فرنٹیئر سے اپنے ساتھ تقریباً 200 پٹھان لائے۔ آپ نے سب سے پہلے آزاد پتن (سابق لاچھن پتن) پل پر حملہ کیا اور ڈوگرہ فوج کے سپاہیوں کو ماربھگایا اور اسی دریا سے ہتھیار اور ایمونیشن عبور کروائے۔ دشمن براستہ پلندری پسپا ہو گیا۔آپ مجاہدین کو لیکر میرال گلہ کے مقام پر پہنچے تو یہ صبح کا وقت تھا۔ آپ نے اپنے گھر پیغام بھیجا کہ ان پٹھانوں اور دیگر مجاہدین کے لئے کھانا بنا کر ارسال کریں۔ سات دن تک عورتیں کھانا بنا کر ارسال کرتیں رہیں۔ اس کے بعد کسی آدمی نے کیپٹن حسین خان کو بتایا کہ اتنی بڑی نفری کا کھانا بنا بنا کر عورتیں تھک گئی ہیں تو آپ نے ایک خانسامہ بھرتی کر لیا جس کا نام شیرا تھا۔ کیپٹن حسین خان نے میرال گلہ سے راولاکوٹ فولاددی مورچے پر حملے کی مکمل تیاری کی اور 7نومبر کو راولاکوٹ کا رخ کیا۔ ایک خاص بات کہ کیپٹن حسین خان شہید نے جنگ کی تیاریوں کے دوران قسم کھائی تھی کہ جب تک ڈوگروں کو راولاکوٹ سے شکست فاش دیکر کشمیر آزاد نہیں کروالیتا دائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھاؤں گا اور نہ ہی گھر سے پکی ہوئی کوئی چیز کھاؤں گا۔ باہر جہاں کہیں وہ کچھ کھاتے پیتے اس کی قیمت ادا کرتے۔ انہوں نے ایسا کر کے دیکھایا۔
کوئی ماں کالال ایسا کر نہیں سکتا۔ جھوٹے دعوے تو سب کرتے ہیں۔
7 نومبر کو ہیڈ کوارٹر پر بھرپور حملہ کر دیا۔ اور یہاں ایک زبردست معرکے کے بعد دشمن کو شکست ہوئی ۔ آپ کی ولولہ انگیز قیادت نے مجاہدین کو اتنا جوش و خروش دیا کہ دشمن بھاگنے پرمجبور ہو گیا۔آپ خود مجاہدین کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔ 9 اور 10 نومبر کی رات کو راولاکوٹ دشمن کا ہیڈ کوارٹر فتح ہوگیا اور ڈوگرہ فوج براستہ تولی پیر پسپا ہو کر شہر پونچھ کی جانب بھاگنا شروع ہو گئی آپ نے حکم دیا کہ تولی پیر عبور کرنے سے قبل دشمن کی فوج کو ختم کرنا ہے۔ آپ مجاہدین کو لیکر دشمن کے تعاقب میں تولی پیر کے مقام تک پہنچے وہاں دشمن کے ساتھ باغ سے بھاگی ہوئی سول آبادی اور فوجی جوان بھی آ کر مل گئے وہاں دشمن نے دوبارہ جنگ شروع کر دی۔ اس مقام پر بھی زبردست جنگی معرکہ ہوا۔ وہاں آپ نے مجاہدین سے مخاطب ہو کر کہا کہ دہلی کے لال قلعہ پر پاکستان کا پرچم لہرا کر واپس آؤں گا۔ اس لئے ہمت سے لڑیں۔ اور کیپٹن حسین خان دشمن کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے 11نومبر کی صبح اپنی چھاتی پر دشمن کی گولی کے زخم لیکر جام شہادت نوش فرماگئے۔ ان کے آخری الفاظ یہ تھے کہ دشمن کو پونچھ شہر تک نہ جانے دینا۔ اگر کیپٹن حسین خان شہید 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کے خلاف جنگ نہ کرتے یا مجاہدین کی قیادت نہ کرتے تو آزاد کشمیر کا موجودہ علاقہ کسی صورت آزاد نہ ہوتا۔ اور آج تک ہم لوگ ڈوگروں کے رحم و کرم پر ہوتے۔ مگر قوم کی ایک کثیر تعداد کو یہ احساس تک نہیں ان کی شہادت کے بعد ایک انچ زمین کوئی نہیں لے سکا۔ آپ کا سرقلم کرنے کا مہاراجہ ہری سنگھ نے ایک لاکھ روپے انعام رکھا ہوا تھا۔ آپ کی شہادت کے بعد 16 نومبر کو بادامی باغ سرینگر جیل کے احاطہ میں مٹھائی تقسیم کی گئی اور قیدیوں کو بتایا گیا کہ کیپٹن حسین خان کمانڈر جنگ مارا ہو گیا ہے۔ اب تمہارا وہ حشر کریں گے کہ تم یادرکھوگے۔
مسلم کانفرنس کے راہنما غازی محمد امیر خان نے تحریر کیا کہ اگر کیپٹن حسین خان کمانڈر نہ ہوتے یا وہ آگے بڑھ کر جنگ کرنے کا فیصلہ نہ کرتے تو کشمیر کسی صورت آزاد نہ ہوتا۔ یہ ان کی جنگی مہارت اور قیادت کی وجہ سے خطہ کشمیر آزاد ہوا۔
غازی ملت بانی صدر آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار محمد ابراہیم خان نے کیپٹن حسین خان شہید کو جنگ آزادی کشمیر کا ہیرو اور فاتح آزاد کشمیر کا خطاب دیا۔ سابق وزیراعظم سردار محمد عبدالقیوم خان نے 1983ء میں راولاکوٹ کے مقام پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید اعظم کیپٹن حسین خان کی جنگی مہارت کی وجہ سے یہ علاقہ آزاد ہوا اور ان ہی کی بنائی ہوئی وارسکیم کے تحت سیز فائر ہونے تک جنگ لڑی جاتی رہی ان کے عظیم کارہائے نمایاں کے صلہ میں یہ علاقہ آزاد ہوا اور آزاد حکومت قائم ہوئی۔ قوم کیپٹن حسین خان شہید کو سلام پیش کرتی ہے۔
سابق صدر راجہ ذوالقرنین و ممبر کشمیر کونسل 11نومبر 1998ء کو مزار شہید پر منعقدہ پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرما ہوئے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں شہید اعظم کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے مزار شہید پر حاضری دیکر انتہائی دلی سکون محسوس ہوا۔ کیپٹن حسین خان شہید نے ملک و ملت کے لئے جو قربانی دی وہ معمولی نہیں ہے۔11نومبر کو ان کی شہادت کا دن مناناآزاد کشمیر کے عوام اور حکومت کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ ان کے مزار پر جو رونق ہے اور اللہ پاک کی رحمتیں نازل ہو رہی ہیں ان کو ہر کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ میں کیپٹن حسین خان شہید کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اگر 1947ء میں کیپٹن حسین خان آگے بڑھ کر جہاد کا فیصلہ نہ کرتے یا قیادت نہ کرتے تو یہ خطہ کسی صورت آزاد نہیں ہو سکتا تھا۔ ہمیں آزادی انہوں نے ہی دلوائی۔ جس کے نتیجہ میں آج ہم آزاد ہیں اور حکومتیں قائم ہیں۔ ان کے مزار پر سیاست کرنا مناسب نہیں۔
سابق مشیر حکومت سردار محمد آزاد خان (مرحوم) نے 11نومبر کو مزار شہید پر حاضری دی۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ ممتاز حسین راٹھور تھے۔ اسلام آباد کسی اہم میٹنگ میں ان کو جانا پڑا۔ جس کے باعث انہوں نے سردار محمد آزاد خان مشیر حکومت کو اپنی نمائندگی کے لئے بھیجا۔ سردارآزاد خان مشیر حکومت نے بطور مہمانِ خصوصی پروگرام میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا ’’مجھے وزیراعظم آزاد کشمیر نے 11نومبر کے پروگرام میں شرکت کے لئے کہا تو میں خاموش ہو گیا۔ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ خاموش کیوں ہو گئے ہیں میں نے ان کو بتایا کہ آپ کی نمائندگی کرنے کے لئے تو جاؤں گا۔ لیکن جس عظیم جنرل کے مزار پرآپ مجھے بھیج رہے ہیں انہی کی بدولت آپ وزیراعظم ہیں۔ اور میں مشیر حکومت ہوں۔ وہاں عوام کے مسائل ہونگے میں خالی ہاتھ نہیں جا سکتا۔ تو وزیراعظم صاحب نے مجھے چیک دستخط کر کے دیا کہ یہ لے جائیں۔ وہاں جو بھی مسئلہ ہوا میری طرف سے Amount بھر کر متعلقہ محکمہ کو دے آنا‘‘ ۔
اس کو کہتے ہیں فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید سے عقیدت۔ وہ مزار شہید پر ایسا اعلان نہیں کرنا چاہتے تھے جو پورا نہ کر سکتے۔ ہم ان کی لیڈر شپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
سردار سیاب خالد خان صاحب اسپیکر قانون ساز اسمبلی حکومت آزاد کشمیر نے سال 2002ء کے پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی اور اب تک مسلسل شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا۔ ’’فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید کے یوم شہادت کے پرو گرام میں حاضری دینے کے لئے ہمیں کسی دعوت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ پوری قوم کیپٹن حسین خان شہید کو خراج تحسین پیش کرتی رہے پھر بھی ان کے کردار ، قربانی ، قومی خدمت کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔
11نومبر 2010کو فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید کے یوم شہادت کے موقع پر منعقدہ تقریب میں سردار عتیق احمد خان صاحب وزیراعظم آزاد کشمیر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی۔ سردار عتیق احمد خان نے انتہائی مدلل انداز میں جلسہ عام سے خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ کیپٹن حسین خان شہید کو ہم ان کی قومی اور ملی خدمات جنگ آزادی کشمیر 1947-48 ؁ء میں میجر کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ شہداء کا مقام اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بیان کر دیا ہے۔ ان کو کسی کی تعریف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیپٹن حسین خان شہید کی بصیرت کا یہ کمال تھا کہ وہ جنگ انگریز کی لڑ رہے تھے اور سوچ اپنے ملک کی آزادی پر مرکوز کیے ہوئے تھے۔ ان کا بڑا مقام و رتبہ ہے۔ وطن عزیز کی آزادی میں ان کا کردار اس حوالے سے بھی بڑا اہم ہے کہ 1947ء کی جنگ آزادی میں کیپٹن حسین خان شہید، مجاہد اوّل سردار محمد عبدالقیوم خان اور غازئ ملت سردار محمد ابراہیم خان سے عمر میں بڑے تھے۔ جنگی مہارت رکھتے تھے ، انہوں نے اپنے وسیع تجربہ اور جذبہ کے بل بوتے پر موجودہ خطہ آزاد کشمیر ڈوگرہ سامراج سے آزاد کروانے میں بے مثال کردار ادا کیا‘‘۔ آخر میں انہوں نے پروگرام کے منتظمین اور کیپٹن حسین خان ٹرسٹ کے عہدیداران و ممبران کے اس اقدام کو سراہاتے ہوئے فرمایا ’’آزاد کشمیر اسمبلی کے بعد یہ واحد مقام ہے جہاں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین و نمائندگان ایک ساتھ بیٹھتے ہیں مجھے اس پروگرام میں شرکت کر کے دلی مسرت ہوتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں آئندہ بھی پروگرام میں شرکت کروں۔
کیپٹن حسین خان شہید پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کے ڈاکٹر محمد صغیر کیانی (پرنسپل) ڈاکٹر محمد صغیر خان آف پوٹھی کی سرپرستی میں بعنوان خیابان میں مضامین شائع کروا کر فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید کی ملی خدمات کا حق ادا کر دیا۔ کالج کے طلبہ، پروفیسرز، لیکچرار، پرنسپل (ر) سردارمحمد صادق خان صاحب، پروفیسر سید حسین سید، پروفیسر مقصود حسین راہی، پروفیسر امین طارق قاسمی، بشیر سدوزئی ، چیئرمین ٹرسٹ سردار گلزار حجازی صاحب، جنرل عبدالوحید صاحب نے مکمل تحقیق کے بعد فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید کی شخصیت اور ان کے کردار کو قلم بند کیا۔
فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید کی قومی خدمات کے اعزاز میں جن شخصیات نے اسناد جاری کیں۔
۱۔ غاز�ئ ملت سردار محمد ابراہیم خان بانی صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر
۲۔ خان عبدالحمید خان صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر
۳۔ ڈاکٹر محمد حیات خان عباسی ایم.بی.بی.ایس (میجر ریٹائرڈ)
۴۔ پٹھان محمد رفیق خان (شریک مجاہد جنگ آزادی کشمیر1947ء )
۵۔ پٹھان امیر اللہ خان آفریدی (شریک مجاہد جنگ آزادی کشمیر1947ء )
۶۔ میجر جگدیش سنگھ (فرام انڈین آرمی 1947ء ریاست کشمیر)
۷۔ کرنل مکھن پال (فرام انڈین آرمی 1947ء ریاست کشمیر)
۸۔ میجر جنرل سردار محمد حیات خان (چیف ایگزیکٹو آزاد کشمیر)
۹۔ راجہ ممتاز حسین راٹھور (وزیراعظم آزاد کشمیر)
۱۰۔ سردار سکندر حیات خان (وزیراعظم آزاد کشمیر)
۱۱۔ پروفیسر آمین طارق قاسمی (حسین شہید ڈگری کالج راولاکوٹ)
۱۲۔ میجر جنرل سردار محمد انور خان (صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر)
۱۳۔ جنرل سردار محمد عزیز خان (جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف)
۱۴۔ جنرل پرویز مشرف (چیف آف آرمی اسٹاف و چیف ایگزیکٹو پاکستان)
۱۵۔ چیف آف نیول سٹاف (نیول ہیڈ کوارٹر)
کرنل لکھن پال اور میجر جگدیش سنگھ لکھتے ہیں۔
Who we fought at Poonch In 1947.
(اردو ترجمہ)
دورانِ کراس فائرنگ آر.ایم عمرو ٹھاکر نے انتہائی تیزی کے ساتھ ایکشن کرتے ہوئے بٹالین کمانڈر پر فائر کر کے ان کو مارگرایا۔ ان کے قبضہ سے ہم نے ہتھیار 38 بور پستول ، ضروری کاغذات اور ایک نقشہ حاصل کیا جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ کیپٹن حسین خان ہی ذمہ دار آفیسر ہیں۔ مجاہدین کے اس نقصان سے ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ اور ہم نے محفوظ طریقہ سے اپنا ایڈوانس جاری رکھا۔ اور 14 نومبر کو ہم پونچھ شہر پہنچ گئے۔
فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید کی تاریخی حیثیت کو نمایاں کرنے کے لئے جن سیاسی راہنماؤں و دیگر آرمی آفیسران نے اقدامات اٹھائے ۔
۱۔ خان عبدالحمید خان صاحب صدرِ ریاست آزاد جموں و کشمیر نے راولاکوٹ بوائز کالج کیپٹن حسین خان شہید کے نام اور پورے آزاد کشمیر میں عام تعطیل Notify کی۔ مزار شہید کی بنیاد رکھی۔ اور راولاکوٹ احاطہ کالج میں ایک یادگار تعمیر کروائی۔
۲۔ سردار سکندر حیات خان وزیراعظم آزاد کشمیر نے 06کلومیٹر روڈ چھوٹاگلہ سے مزار شہید پر پختہ کروا کر حسین شہید کے نام پر Notify کی اور یہاں اسٹیڈیم کی بنیاد رکھی۔
۳۔ جنرل سردار محمد حیات خان چیف ایگزیکٹو آزاد کشمیر نے انتہائی خوبصورت سنگ مرمر سے مزار شہید کو تعمیر کروایا۔
۴۔ راجہ ممتاز حسین راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر نے سرادر محمد آزاد خان (مرحوم) مشیر حکومت آزاد کشمیر کی وساطت سے احاطہ مزار کی توسیع کروائی۔
۵۔ سردار خالد ابراہیم خان صدر جموں و کشمیر پیپلز پارٹی نے فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید کی جائے شہادت تولی پیر شہید گلہ کے مقام پر ایک یادگار تعمیر کروائی۔
۶۔ غازئ ملت سردار محمد ابراہیم خان صدر ریاست جموں و کشمیر نے یہاں دفتر ٹرسٹ اور لائبریری کا ایک کمرہ تعمیر کروایا۔
۷۔ جنرل سردار محمد انور خان صدر ریاست جموں و کشمیر نے فاتح آزاد کشمیرکیپٹن حسین خان شہید کے جنگی ہیڈکوارٹر میرالگلہ کے مقام پر ایک یادگار تعمیر کروائی۔
۸۔ سردار محمد نذیر خان آف رہاڑہ حلقہ نمبر4 نے فاتح آزاد کشمیر سے متعلقہ تاریخی مواد انگلینڈ نیشنل لائبریری تک پہنچایا۔
۹۔ کرنل مظفر خان نے کیپٹن (Latre) میجر حسین خان شہید کے نام سے پاک فورس میں 3rd اے کے حسینی رجمنٹ قائم کروائی اور مانسہر کیمپ میں ایک یادگار چوک تعمیر کروایا۔
۱۰۔ بریگیڈئیر سردار محمد اکبر خان نے فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید ٹرسٹ قائم کروایا۔ ٹرسٹ کا بانی صدر ہونے کا اعزاز وائس چیئرمین آف لبریشن فرنٹ صوبیدار سردار خادم حسین خان آف بنجونسہ کو حاصل ہوا۔ اور سردار گلزار خان حجازی ہیڈ ماسٹر (ر) آف تراڑ ٹرسٹ کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے۔
۱۱۔ وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری عبدالمجید خان نے سال رواں میں کیپٹن حسین خان شہید ٹرسٹ کو 250,000/= روپے Donate کیے۔ جس سے ٹرسٹ نے متیالمرہ یونیورسٹی روڈ پر حسین خان شہید کے نام سے ایک تعارفی گیٹ نصب کروایا ہے۔ اور دوسرا گیٹ چھوٹاگلہ کے مقام پر نصب کیا جائے گا۔ اس Donation سے جتنے کام ٹرسٹ کر پائے گا وہ وزیراعظم کے تعاون سے ہی منسوب ہونگے۔
۱۲۔ سال 2013ء کے پروگرام میں چیئرمین PAC سردار عابد حسین عابد نے اپنے مختصر خطاب میں شہید اعظم کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ’’1947ء میں کیپٹن حسین خان شہید سے بڑی شخصیت کوئی نہیں تھی۔ وطن عزیز کی آزادی میں ان کا کردار لازوال ہے‘‘۔ ان کی تاریخی بصیرت اور حسین خان شہید کی شخصیت کے بارہ میں علم رکھنے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
۱۳۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما صاحبزادہ اسحق ظفر صاحب قائمقام وزیراعظم (وقت) و سیّد ممتاز حسین گیلانی وزیر زراعت (وقت)، سردار عبدالقیوم نیازی وزیر خوراک (وقت) و سپیکر قانون ساز اسمبلی سردار غلام صادق خان دو مرتبہ پروگرام میں تشریف فرما ہوئے۔ ان راہنماؤں کے خطابات مس پلیس ہو گئے ہیں جن کو کوٹ کرتے تاہم چاروں راہنماؤں نے شہید اعظم کو ان کے اعزاز میں زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔
۱۴۔ جنرل عبدالوحید آرمی رجمنٹل ہسٹری میں لکھتے ہیں ۔
Hiroec Role of Captain (Later) Major Hussain Khan Shaheed During the Liberation War 1947-48
The Mijahideen, under the inspiring leadership of Captain Hussain Khan, formed up in two groups for the attack. The first group commanded by Capt Hussain Khan himself.
The Mujahideen attack started at day break on November 10 and continued the whole day with heavy losses on both sides. The Dogras lost about 400 killed. Commander, Capt Hussain Khan, fell mortally wounded while leading the assault. The passing away of this brave and inspiring leader was a great set-back to the Mujahideen cause. At night the Mujahideen disengaged and the Dogra troops made their way to Poonch.
فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان شہید کو ان کے اعزازات کے ساتھ پکارنے میں عار محسوس کرنے والوں کے لئے تھوڑی سی آگاہی دیتے ہیں۔ (۱) کیپٹن حسین خان شہید کے ساتھ جو میدان جنگ میں تھے وہ جانتے ہیں یا جو حسینی فوج کا معاملہ کر رہے تھے وہ جانتے ہیں۔ کرنل لکھن پال اپریل 1947ء سے مئی 1949ء تک حال آزاد پتن (سابق لچھن پتن) سے لے کر تولی پیر اور پھر شہر پونچھ تک کا حال لکھتے ہیں۔ 11نومبر 1947ء کو اسی مقام پر شہید اعظم کی تدفین پر جہازوں کی سلامی دیتے ہیں۔ پھر تحریر میں عظیم کمانڈر کو دادِ شجاعت دیتے ہیں۔ یہ تحریر و تاریخ ہندوستان سے پاکستان اور آزاد کشمیر تک لانے میں صوبیدار سردار محمد اشرف خان (مرحوم) آف حسین کوٹ کا غیر معمولی اقدام ہے۔ ٹرسٹ ان کی شہید اعظم سے عقیدت کو سلام پیش کرتا ہے۔ کرنل لکھن پال اور میجر جگدیش سنگھ لکھتے ہیں کہ کمانڈر سے جو وار سکیم اور نقشہ ہم نے ان کو مار کر حاصل کیا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کیپٹن حسین خان کا مشن پوری ریاست کشمیر کو آزادکرواتا تھا۔ اگر کمانڈر مارا نہ جاتا تو ایسا کر گزرتا۔ ہم بُری طرح Withdrawal کر چکے تھے اور ہماری مدد کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
اسی جگہ اسی اسٹیج پر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع پونچھ کے صدر سردار خان اشرف خان صاحب (مرحوم) نے اپنے خطاب میں فرمایا ’’کیپٹن حسین خان شہید کی شہادت کے بعد ہم ایک انچ زمین مزید آزاد نہ کروا سکے بلکہ کچھ کھو گئے۔ اگر ہم حسین خان کو 2منٹ کے لئے جنگ آزادی 1947ء سے لاتعلق سمجھ لیں تو نتیجہ آپ کے پاس ہو گا۔ ہم صرف فرضی دعوے کرتے ہیں کہ فلاں نے تیر مارا، فلاں نے یہ کیا، تیر کسی نے بھی نہیں مارا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور فاتح آزاد کشمیر کیپٹن حسین خان کی جنگی مہارت جذبہ ایمانی جو اللہ نے ان کو عطا کیا ہوا تھا کے ذریعے ہمیں آزادی ملی ورنہ آج ہم غلام ہی ہوتے۔ ان کا خطاب ایک سوالیہ نشان بن گیا۔
کشمیر میں بے مثال کارہائے نمایاں کے صلہ میں آپ نے 14 اعزازات حاصل کیے۔ اس طرح انہوں نے اپنی زندگی میں کل 26 انفرادی اعزازات حاصل کیے۔ کیپٹن حسین خان شہید اور شہداء کشمیر سے متعلق تاریخ ان کی یادگاریں ان کے کارہائے نمایاں کی حفاظت کرنے کے لئے ٹرسٹ اپنی بھرپور کوشش جاری رکھے گا۔
جہاد کو عملی طور پر شروع کرنے اور اپنی سیاسی قیادت کو عسکری میدان میں لانے کے لئے تیار کرنے میں کیپٹن حسین خان شہید کا کردار کلیدی ہے۔ کیپٹن حسین خان شہید دوتھان کے قریب ترین گاؤں کالاکوٹ (حسین کوٹ) کے رہنے والے تھے، برٹش آرمی میں دنیا کے مختلف عسکری محاذوں پر خدمات انجام دینے کی وجہ سے انہوں نے کیپٹن کاعہدہ حاصل کیا۔ کیپٹن حسین خان شہید بنیادی طور پر عسکریت پسند ذہن کے حامل اور مسئلے کو سیاسی میدان کے بجائے جہاد کے میدان میں حل کرنے کے زیادہ قائل تھے۔ وہ ٹیبل ٹاک (میز کانفرنس) کے سخت خلاف اور مسلح جدوجہد کے حامی تھے۔ بابائے قوم کرنل خان محمد خان سے ان کے بعض موقعوں پر شدید اختلافات بھی پیدا ہوئے۔
جب سدھنوتی اور باغ میں ڈوگرہ فوج نے گشت میں اضافہ کر دیا، عوام پر زیادہ سختیاں کر دیں، تو کیپٹن حسین خان شہید نے سدھنوتی کے تمام سابق فوجیوں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے گاؤں گاؤں فوجیوں کے خفیہ اجلاس طلب کیے اور جہاد کی حکمت عملی ترتیب دینا شروع کر دی۔ ڈوگرہ فوج کو کیپٹن حسین خان شہید کی ان سرگرمیوں کا علم ہو چکا تھا۔ حکومت نے اپنی انٹیلی جنس سروس کو متحرک کر کے کیپٹن کی خفیہ کارروائیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی۔ تاہم کیپٹن حسین خان نے مجاہدین کو تو جہاد کے لئے تیار کر لیا، مگر اصل مسئلہ اسلحہ کا تھا کہ اسلحہ کہاں سے آئے تا کہ ڈوگرہ سپاہیوں کے ساتھ مقابلہ کیا جا سکے۔
اس میدان میں بھی انہوں نے خود ہی کودنے اور اسلحہ جمع کرنے کی کوشش اور پہل اپنے ہی گھر سے کی۔ ایک روز کیپٹن حسین خان شہید نے اپنی ساری عمر کی جمع پونجی 45 ہزار روپے گھر سے لئے اور راولپنڈی کی طرف روانہ ہو گئے۔
کیپٹن حسین خان شہید سیاسی تحریکوں پر یقین نہیں رکھتے تھے اسی وجہ سے وہ صلح جو کرنل خان کے ساتھ اکثر ناراض رہتے کیونکہ کرنل خان بنیادی طور پر سماجی و فلاحی انسان تھے، وہ چاہتے تھے کہ لوگوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں اور جھگڑے سے لوگوں کو سہولتیں نہیں تکلیف ہو گی، تاہم وہ جہاد یا آزادی کے خلاف نہیں تھے۔ انہوں نے کیپٹن حسین خان کو یقین دلایا کہ وہ جہاد کے خلاف نہیں اور کیپٹن حسین خان اور ان کے ساتھوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔
کیپٹن حسین خان شہید نے تحریک آزادی میں مختلف محاذوں پر کام کیا۔ عسکری میدان میں فوجیوں کو جمع کرنا، رابطہ کرنا، فوجی مراکز قائم کرنا، ذاتی سرمائے سے اسلحہ خریدنا اور پھر اس اسلحہ کو درست انداز میں فوجیوں میں اس طرح تقسیم کرنا کہ وہ درست استعمال ہو سکے خود مجاہدین کی قیادت کرنا اور سرحد کے پٹھانوں کو کشمیر کے جہاد کے لئے تیار کرنا۔ ان سب میں کیپٹن حسین خان شہید کی کوششوں کا ہی عمل دخل تھا۔ کیپٹن حسین خان شہید گو کہ ایک حریت پسند مجاہد تھے مگر انہوں نے سفارتی میدان میں بھی انتہائی کامیابی حاصل کی۔ سرحد کے پٹھانوں کو تحریک آزادئ کشمیر میں عملی طور پر شامل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
کیپٹن حسین خان شہید ایک بہادر مجاہد تھے۔ انہوں نے جو کہا وہ کر کے دکھایا۔ انہوں نے مجاہدین کے درمیان اعلان کیا تھا کہ اس وقت تک وردی نہیں اتاروں گا، جب تک کشمیر آزاد نہیں کراؤں گا۔ مجاہد وطن نے 11نومبر 1947ء کو تولی پیر کے قریب کابل گلہ کے مقام پر ڈوگرہ فوج کو ارضِ وطن سے دھکیلتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ یاد رہے کہ ڈوگرہ حکومت نے ان کے سر کی معقول قیمت رکھی ہوئی تھی۔ مجاہد وطن اسی وردی میں دفن ہو گیا۔ کیپٹن حسین خان شہید ہوا مگر ابھی زندہ ہے، لوگوں کے دلوں میں ، تاریخ کے اوراق میں، حسین کوٹ کی شکل میں ان کے آبائی گاؤں کالا کوٹ کا نام حسین کوٹ رکھ لیا گیا۔ کیپٹن حسین خان شہید ڈگری کالج راولاکوٹ کی شکل میں کہ یہ عظیم درسگاہ انہی کے نام سے منسوب ہے۔ یہ ان کی قربانیوں کا اعتراف ہے، قوم برملا جس کا اظہار کرتی ہے۔ جب تک حسین کوٹ رہے گا ، جب تک پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ رہے گا تب تک حسین شہید کا نام رہے گا۔ یہ گاؤں اور ادارہ تاقیامت تک باقی رہیں گے۔ حسین خان اس دنیا میں بھی زندہ ہے اور اس دنیا میں بھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’شہید کو مردہ نہ کہا کرو‘‘

30/10/2019

ڈگری نہیں ہنر دیجیے ۔۔۔۔👀👀👀

اس بات سے کوئی نا سمجھ ہی انکار کرے گا
۔۔ جن ممالک نے اپنے لوگوں کو ہنر دیا آج وہ ۔۔اس۔۔دنیا پر۔۔راج کر رہے ۔۔۔
جاپان نے ۔۔اپنی قوم کو ہنر دیا اج۔ دنیا میں آٹو انڈسٹری پر جاپان کا راج ہے ۔۔۔
موبائل فون سے لے کے۔۔ ہر چیز جاپان کی بنائ ہوئ لوگ ۔۔پسند کرتے ۔۔۔۔

اور ہمارے یہاں ۔۔ طلبا ڈگری کے پچھیے بھاگتے اور ان کا مقصد اچھی سی نوکری مل جائے ۔۔ اور پورا ملک ڈگریوں کے بوجھ تلے آ چکا ہے ۔۔ ہر سال لیپ ٹاپ تو طلبا کو دیجاتے ہین مگر ۔ اس لیپ ٹاپ کو اپنے ملک مین۔۔بنانے کی کوشش نہین کی جاتی ۔۔

مسلمان ہونے میں ہمارا کوئی کردار نہیں بس اللہ کا شکر ہے کے ہم کو مسلمان گھرانوں میں پیدا کیا گیا

تسبیح اور ٹوپی جانماز تک ہم چین سے منگواتے ہین
اور اس امید میں ہین کے سی پیک آنے کے بعدہم ترقی کریں گے ہوٹل کھول کر ۔۔۔اور ٹول ٹیکس لے کے دنیا ۔کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔۔۔۔
۔
۔انڈیا سے نفرت تو کرنے میں سب ایک سے ایک آگے ۔۔۔مگر۔۔۔وہ آئ ٹی کے شعبے میں دنیا میں راج کر رہے ۔۔۔

ایٹم بم تو ہم نے بنا لیا لیکن کچرا نہیں اٹھا سکتے سڑک بنا نہیں سکتے ۔بجلی بنا نہیں سکتے انجنئیر تو ہر سال ڈگریاں لے رہے ۔۔

اپنے آپ کو تعلیم کے ساتھ ہنر مند بنائیں نا کے۔خالی ۔۔ڈگری کے لیے اپنا وقت اور ۔۔پیسے ضائع کریں ۔۔۔۔اور مستقبل میں ڈگری لینے کے بعد یہ نا کہین پاکستان میں ڈگری حاصل کر کے غلطی کی۔۔۔۔
یاد رکھیے

ڈگریاں آج کل یورپ میں لوگوں کے پالتو جانور بھی خاصل کر رہے

👀👀👀👀👀

Address

Rawlakoat Ajk
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UPR Student's Group posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share