Department of Geography university of Sindh Jamshoro

Department of Geography university of Sindh Jamshoro The Department was established in Hyderabad in 1955 with Prof. M.M. Memon as its first Chairman and was shifted to its own building at the Allama I. I.

Kazi Campus, Jamshoro in 1970. The Department offers BS & M.A./M.Sc. as well as M.Phil degrees.

18/04/2026
10/01/2025

ہمارا نظام شمسی جس کہکشاں میں موجود ہے، اسے ملکی وے کہا جاتا ہے۔ لیکن اس نام کے پیچھے ایک دلچسپ دیومالائی کہانی پنہاں ہیں۔ جانیے ہمارے سائنس ایکسپلینر میں۔

THE LAST PAPER OF 2ND YEAR IS OVER . SIMPLE PHOTOSHOOT WITH SIR  SAADULLAH RAHOOJO AND MY CLASSMATES AT UNIVERSITY OF SI...
18/12/2024

THE LAST PAPER OF 2ND YEAR IS OVER . SIMPLE PHOTOSHOOT WITH SIR SAADULLAH RAHOOJO AND MY CLASSMATES AT UNIVERSITY OF SINDH JAMSHORO..

ہمارے نظام شمسی کے 8 سیارے + اسٹروائڈ کی پٹی (وہ پلوٹو کو اب سیارے کے طور پر شمار نہیں کرتے ہیں)۔  سورج سے شروع ہونے وال...
11/12/2024

ہمارے نظام شمسی کے 8 سیارے + اسٹروائڈ کی پٹی (وہ پلوٹو کو اب سیارے کے طور پر شمار نہیں کرتے ہیں)۔ سورج سے شروع ہونے والے، 4 چھوٹے سیارے: عطارد، زہرہ، زمین، اور مریخ، پھر مین ایسٹرائڈ بیلٹ، جو زیادہ تر پتھر، لوہے، نکل اور دیگر کچ دھاتوں سے بنے کشودرگرہ پر مشتمل ہے۔ مین ایسٹرائڈ بیلٹ کے بعد 4 بڑے سیارے آتے ہیں: مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون، اس کے بعد دی کوپر بیلٹ، جو زیادہ تر برفیلی اشیاء، بونے سیارے (بشمول پلوٹو)، دھول اور دومکیت پر مشتمل ہے۔ Kuiper Belt اشیاء کو KBO's کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اورٹ کلاؤڈ ہے، جو نظام شمسی کے کنارے تک پھیلے ہوئے خلائی ملبے کے اربوں برفیلے ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔ کبھی کبھی اورٹ کلاؤڈ سے چیزیں خارج ہو جاتی ہیں اور سورج کی طرف گرتی ہیں، دومکیت بن جاتی ہیں۔ کشودرگرہ کی پٹیاں اتنی ناقابل تسخیر نہیں ہیں جتنی کہ نظر آتی ہیں۔ مین ایسٹرائڈ بیلٹ میں موجود اشیاء اوسطاً 600,000 میل کے فاصلے پر ہیں۔ وائجر 1 اور 2، پاینیر، اور دیگر جیسے پروبس ان بیلٹوں سے کامیابی کے ساتھ گزر چکے ہیں، اور NASA کے نیو ہورائزن نے خاص طور پر پلوٹو کے پاس سے پرواز کرتے ہوئے اور اس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کیپر بیلٹ کا دورہ کیا۔ ہمارے نظام شمسی سے بچنے کے لیے فی الحال پانچ فعال تحقیقات کے پاس کافی رفتار ہے۔ وائجر 1 نے 2012 میں انٹرسٹیلر اسپیس میں منتقلی کی۔ 2019 تک، وائجر 1، وائجر 2 اور پاینیر 10 وہ واحد تحقیقات ہیں جو حقیقت میں انٹر اسٹیلر اسپیس تک پہنچی ہیں۔ باقی دو انٹرسٹیلر ٹریجیکٹوری پر ہیں۔

1680-1703 کا بنگال: دولت مند سلطنت بنگالہ1680 سے 1703 کے درمیان بنگال خطہ ایک دولت مند، متحرک اور اہم اقتصادی مرکز تھا۔ ...
11/12/2024

1680-1703 کا بنگال: دولت مند سلطنت بنگالہ
1680 سے 1703 کے درمیان بنگال خطہ ایک دولت مند، متحرک اور اہم اقتصادی مرکز تھا۔ اس دور میں، بنگال اپنی زرخیز زمین، تجارتی برتری، اور ثقافتی اہمیت کی وجہ سے نمایاں تھا۔ انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی کے لئے یہ علاقہ خاص طور پر اہم تھا، کیونکہ یہاں سے نہ صرف خام مال بلکہ دیگر تجارتی اشیا جیسے کپاس، ریشم اور مسالے یورپ کے بازاروں تک پہنچتے تھے۔
جان تھورنٹن کا بنگال کا نقشہ
اس دور کے بنگال کا ایک نادر اور اہم نقشہ جان تھورنٹن، ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہائیڈروگرافر، نے تیار کیا۔
یہ نقشہ "A Mapp of the Greate River Ganges as it emptieth it selfe into the Bay of Bengala" کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔
یہ نقشہ دریائے گنگا کے ان راستوں کو ظاہر کرتا ہے جو خلیج بنگال میں جا کر ختم ہوتے ہیں۔ یہ معلومات ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایجنٹس نے زمینی مشاہدات کی بنیاد پر فراہم کیں اور پہلے کبھی شائع نہیں ہوئیں۔
نقشے کی تاریخی اہمیت
یہ نقشہ نہ صرف دریائی راستوں کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس وقت کے تجارتی مقامات اور سیاسی سرحدوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے آرکائیوز میں محفوظ یہ نقشہ بنگال کی دولت اور اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
بنگال اس وقت دنیا کے امیر ترین خطوں میں شامل تھا، جہاں پیداوار اور تجارت کی بھرمار تھی۔
انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی اور بنگال
بنگال کی اس دولت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو اپنی طرف متوجہ کیا، جس نے یہاں قدم جما کر اپنی طاقت میں اضافہ کیا۔
یہی وہ دور تھا جب بنگال کی معیشت کا مرکزیت، اس کی پیداوار اور وسائل نے یورپ کے کئی ممالک کو متاثر کیا۔
1680 سے 1703 کا بنگال ایک ایسے دور کی عکاسی کرتا ہے جب یہ علاقہ دنیا کے امیر ترین اور ترقی یافتہ خطوں میں شمار ہوتا تھا۔ جان تھورنٹن کے تیار کردہ نقشے جیسے نایاب تاریخی دستاویزات بنگال کی اہمیت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے عزائم کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ تاریخی حقائق آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے محفوظ آرکائیوز پر مبنی ہیں اور اردو قارئین کے لئے مزید تحقیق کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

📌 ہائی وے 66 (Route 66) جسے "مدر روڈ" یا "مین اسٹریٹ آف امریکہ" بھی کہا جاتا ہے، امریکہ کے سب سے مشہور اور تاریخی شاہراہ...
08/12/2024

📌 ہائی وے 66 (Route 66) جسے "مدر روڈ" یا "مین اسٹریٹ آف امریکہ" بھی کہا جاتا ہے، امریکہ کے سب سے مشہور اور تاریخی شاہراہوں میں سے ایک ہے۔

اہم حقائق:

قیام: 1926 میں تعمیر کی گئی۔

طول: تقریباً 3940 کلومیٹر (2448 میل)۔

آغاز: شکاگو، الینوائے۔

اختتام: سانتا مونیکا، کیلیفورنیا۔

ریاستیں: یہ ہائی وے 8 #امریکی ریاستوں سے گزرتی ہے، جن میں الینوائے، میسوری، کنساس، اوکلاہوما، ٹیکساس، نیو میکسیکو، ایریزونا، اور کیلیفورنیا شامل ہیں۔

تاریخی اہمیت:

ہائی وے 66 نے #امریکہ کی معیشت اور #ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

دیہی علاقوں کی ترقی: یہ راستہ دیہی علاقوں کو بڑی شہروں سے منسلک کرتا تھا، جس سے معیشت کو فروغ ملا۔

دی گریٹ ڈپریشن: 1930 کی دہائی میں، بہت سے امریکی ہائی وے 66 کے ذریعے مغرب کی طرف ہجرت کر گئے، خاص طور پر کسان جو اپنی زمینوں سے بے دخل ہوئے تھے۔

ٹورازم: ہائی وے 66 کے کنارے کئی مشہور ریسٹورنٹس، موٹلز، اور گیس اسٹیشنز بنے، جو آج بھی سیاحوں کے لیے پرکشش ہیں۔

ثقافتی اثر:

ہائی وے 66 نے موسیقی، فلموں، اور ادب میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔ مشہور گانے "Get Your Kicks on Route 66" اور کئی ہالی وڈ فلمیں اس راستے کی داستان بیان کرتی ہیں۔

خلاصہ:

اگرچہ 1985 میں ہائی وے 66 کو باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا تھا اور اس کی جگہ انٹراسٹیٹ ہائی ویز نے لے لی، لیکن آج بھی یہ راستہ امریکی تاریخ، ثقافت، اور سیاحت کا ایک اہم حصہ ہے۔

US : This highway passes through 8 states, including , , , , , , , and .

07/12/2024

دریائے نیل (Nile River) دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں شمار ہوتا ہے اور افریقہ کے شمال مشرقی حصے میں بہتا ہے۔ یہ دنیا کے قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا مرکز رہا ہے اور اس کی زرخیزی مصر، سوڈان، اور دیگر ممالک کے لیے نہایت اہم رہی ہے۔ دریائے نیل کے متعلق کچھ اہم معلومات درج ذیل ہیں:

1. طول اور گزرگاہ

دریائے نیل کی لمبائی تقریباً 6,650 کلومیٹر (4,130 میل) ہے، جو اسے دنیا کا طویل ترین دریا بناتی ہے۔

یہ مشرقی افریقہ سے شروع ہوتا ہے اور بحیرہ روم میں جا کر گرتا ہے۔

نیل دو بڑے معاون دریاؤں سے بنتا ہے:

نیلِ سفید (White Nile): جو یوگنڈا، روانڈا، اور برونڈی سے نکلتا ہے۔

نیلِ نیلا (Blue Nile): جو ایتھوپیا سے شروع ہوتا ہے۔

2. اہم ممالک

دریائے نیل 11 ممالک سے گزرتا ہے، جن میں نمایاں ہیں:

یوگنڈا

کینیا

روانڈا

سوڈان

جنوبی سوڈان

ایتھوپیا

مصر

3. تاریخی اہمیت

مصر کی قدیم تہذیب دریائے نیل کے کنارے پروان چڑھی۔

اسے "مصر کی شہ رگ" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ وہاں کی زراعت اور معیشت کے لیے بہت اہم ہے۔

دریائے نیل کے کنارے تعمیر شدہ مشہور اہرام اور دیگر تاریخی مقامات آج بھی دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

4. زرعی اہمیت

نیل کا پانی مصر اور سوڈان میں زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کے سالانہ سیلاب علاقے میں زمین کو زرخیز بناتے تھے، جس کی وجہ سے فصلیں اچھی ہوتی تھیں۔

5. ڈیم اور تنازعات

اسوان ہائی ڈیم (Aswan High Dam) مصر میں بنایا گیا ہے، جو پانی کے ذخیرے اور بجلی کی پیداوار میں مددگار ہے۔

حالیہ دہائیوں میں دریائے نیل کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان تنازعات رہے ہیں، خاص طور پر ایتھوپیا کے "گرینڈ رینائسنس ڈیم" کی وجہ سے۔

6. ثقافتی اور سیاحتی اہمیت

دریائے نیل پر کشتی رانی (Nile Cruise) مصر کی مشہور سیاحتی سرگرمی ہے۔

یہ شاعری، کہانیوں، اور فنون میں ایک اہم موضوع رہا ہے۔

7. نیل کے بارے میں دلچسپ حقائق

یہ شمال کی طرف بہنے والا ایک نایاب دریا ہے۔

اس کی زرخیزی قدیم مصر کے لیے اتنی اہم تھی کہ لوگوں نے اس کی عبادت تک کی۔

یونانی مورخ ہیروڈوٹس نے کہا تھا کہ "مصر دریائے نیل کی دین ہے۔"

دریائے نیل آج بھی افریقہ کے لوگوں کے لیے زندگی کی علامت ہے اور اپنی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔
بشکریہ ڈاکٹر حنیف نزیر چوہدری

04/12/2024

Department introduction By Respected Professors and Faculty Members

04/12/2024

سنڌ يونيورسٽي: بيچلر پروگرامز ۾ داخلائن لاءِ درخواست ڏيندڙن کي 6 ڊسمبر تائين گهربل سرٽيفڪيٽ ۽ پسنديده شعبا پنھنجي اي-پورٽل تي اپلوڊ ڪرڻ جي هدايت*

ڄامشورو(پ ر): سنڌ يونيورسٽي ڄامشورو ۾ تعليمي سال 2025 تحت بيچلر ڊگري پروگرامز ۾ داخلائن جي خواهشمند اميدوارن کي چيو ويو آهي ته هو پنهنجا گهربل سرٽيفڪيٽ ۽ پسنديدہ شعبا 6 ڊسمبر 2024 تائين پنهنجي اي-پورٽل تي اپلوڊ ڪن ته جيئن جلد جاري ٿيندڙ ميرٽ لسٽ ۾ سندن داخلائون ٿي سگھن. ڊائريڪٽر ايڊميشنز پروفيسر ڊاڪٽر اياز ڪيريو پاران جاري ڪيل ھڪ پريس بيان ۾ اميدوارن کي ياد ڏياريو ويو آهي ته جيڪڏهن انهن پنهنجا پسنديده شعبا ۽ گهربل سرٽيفڪيٽ اڃا تائين آن لائن جمع نه ڪيا ته سندن نالا پهرين ميرٽ لسٽ ۾ شامل نه ٿي سگهندا. ھن اميدوارن کي صلاح ڏني ته هو 6 ڊسمبر تائين پنهنجين داخلائن لاءِ ضروري ڪارروائي مڪمل ڪن ته جيئن داخلائن جي مرحلي ۾ شامل ٿي سگهن. ھن اميدوارن تي زور ڀريو ته ھو ڊائريڪٽوريٽ آف ايڊميشنز جي مشوري تي وقت سر عمل ڪن ته جيئن سندن نالا پھرين ميرٽ لسٽ مان رھجي نه وڃن.

Attention MDCAT Aspirants!SIBA Testing Services (STS)  has officially issued Admit Slips for the MDCAT-2024 Retake. The ...
01/12/2024

Attention MDCAT Aspirants!

SIBA Testing Services (STS) has officially issued Admit Slips for the MDCAT-2024 Retake. The test will take place on Sunday, December 8, 2024, across six cities in Sindh:
Karachi, Hyderabad, Jamshoro, Shaheed Benazirabad, Larkana, Sukkur

Key Details:
• Reporting Time: 8:30 AM
• Test Duration: 3 hours 30 minutes
• Format: 200 Multiple Choice Questions (MCQs)

How to Download Admit Slips?
✅ Visit the official portal: https://eslip.sts.net.pk
✅ Log in using your CNIC/ID (details received via SMS or email).

Best of luck to all candidates!

سنڌ سميت سڄي ملڪ ۾ ثقافتي ڏهاڙو جوش ۽ جذبي سان ملهايو پيو وڃي.هن ثقافتي ڏيھاڙي تي، بهتر مستقبل ء  پنهنجي حقن جي حاصلات ل...
01/12/2024

سنڌ سميت سڄي ملڪ ۾ ثقافتي ڏهاڙو جوش ۽ جذبي سان ملهايو پيو وڃي.هن ثقافتي ڏيھاڙي تي، بهتر مستقبل ء پنهنجي حقن جي حاصلات لاءِ ھڪ ٿيو. هن ڏينهن تي اسان سڀني کي روايتن، ثقافتن, رسمن رواجن,ذاتن ۽ قوميتن جي بغير ڪنهن فرق جي, سنڌ اندر حقن جي حاصلات لاءِ گڏيل ۽ مضبوط آواز بلند ڪرڻ گهرجي. اسان سڀني جي ايڪتا ھڪ خوشحال سنڌ جي خواب کي حقيقت ۾ بدلائي سگھي ٿي.

دنيا ڀر ۾ وسندڙ سنڌين کي سنڌي ثقافتي ڏھاڙي جون لک لک واڌايون

Sindh, nestled along the timeless banks of the mighty Indus River, stands as the cradle of the ancient Indus Valley Civilization—a testament to humanity's earliest strides toward culture and society. Revered as the land of saints, Sufis, and mystics, Sindh is a sanctuary of spiritual depth and wisdom. Its spirit resonates with peace, love, and boundless humanity, radiating values of compassion, tolerance, and enlightenment. A tapestry of harmony and cultural splendor, Sindh remains a luminous chapter in the story of civilization.

On this Sindh Culture Day, let us unite to uphold our rights and work towards a brighter future. This day, celebrated with great enthusiasm across the province and beyond, serves as a powerful reminder to honor and embrace all traditions, customs, cultures, castes, and nationalities without discrimination. It calls upon us to recognize everyone living on the land of Sindh as an integral part of its rich and diverse heritage. It is a call to unite our voices in strength, advocating for equality, dignity, and the preservation of our shared cultural heritage. Wishing everyone a meaningful and joyous Sindh Culture Day.

Address

Jam Shoro
71000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Department of Geography university of Sindh Jamshoro posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Department of Geography university of Sindh Jamshoro:

Share