06/05/2025
الحمد اللہ ہمارے سکول کی بنیاد کی وجہ یہ عظیم شخصیت ہیں۔ اللہ پاک ہمیں استاد حاجی محمود کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اللہ پاک استاد صاحب کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین
ہم پیج The Bhakkar کے بہت ممنون ہیں جنہوں نے تھل دھرتی کی عظیم تاریخ و روایات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر زندہ رکھا ہوا ہے۔ اللہ پاک انہیں نیک اجر دے اور ان کے کام میں مزید برکت دے۔
#محمودیہ #پبلک #سکول #جوئیہ
Mahmoodia Public School Joyia - Bhakkar
Ghulam Dastageer Joyia
عافی جوئیہ
Qaiser Iqbal
Aftab Ahmad Joyia
Sami Aslam
Abid Kanwel
BISE Sargodha
حاجی حافظ محمود جوئیہ
محمود صاحب سن 1884 میں تحصیل دریاخان کے قصبے جوئیہ میں ایک دین دار گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم قریبی شہر جنڈانوالہ میں حاصل کی۔ آپ نے 8 سال کی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کرنا شروع کردیا اور صرف 5 سال مکمل کرلیا۔ یعنی 13 سال کی لڑکپن کی عمر میں آپ حافظ ہو گئے۔ پیر گل حسن (جنجوں شریف) کی خدمت میں آپ رہنے لگے اور بعد ازاں وہاں پیر گل حسن صاحب نے آپ کو امامت کی ذمہ داری سونپی، تو آپ نے یوں ذمہ داری سنبھالی کہ آپ کے شاگردوں کی تعداد روز بروز بڑھنے لگے اور جب آپ کی شہرت بلندی کو چھونے لگے تو آپ کے ابتدائی قصبہ جوئیہ کے معززین علاقہ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنے علم سے اپنے قصبہ کو روشناس کرایں۔ آپ نے اپنا فیصلہ پیر گل حسن صاحب پر چھوڑ دیا تو معززین علاقہ نے پیر صاحب سے درخواست کی تو پیر صاحب نے اجازت دے دی اور یوں پھر آپ نے اپنے شہر کی پہلی مسجد کی تعمیر کروائی اور قرآن پاک کا درس شروع کردیا۔ آپ کے ہاتھوں شہر کے بھولے بٹکے راہ راست پہ آئے۔ آپ تقریباً 90 سال امامت کے پیشہ سے منسلک رہے اور ہزار کے لگ بگ آپ کے حفاظ شاگرد تھے۔ اور آج بھی جوئیہ اور گرد ونواح کی کئی مساجد میں آپ کے شاگرد امامت کروارہے ہیں۔ آپ کے تین فرزند ہیں۔
1۔ استاد غلام قاسم
2۔ استاد غلام شبیر
3۔ استاد حاجی رشید
آپ کے تینوں بیٹے آپ ہی کی طرح حافظ تھے۔ آپ کے بڑے بیٹے استاد حاجی غلام قاسم صاحب ایک نامور قاری ہیں جنہوں نے تقریباً 1982 میں شہر بھکر میں امامت کا آغاز کیا اور تقریباً چالیس سال وہیں امامت کروائی۔ آپ کے دوسرے بیٹے استاد غلام شبیر صاحب نے بھی بھکر شہر میں 1990 میں امامت کا آغاز کیا اور تقریباً 30 سال تک قرآن کی تعلیم دی۔ آپ کے چھوٹے بیٹے استاد حاجی رشید صاحب نے بھی حفظ کیا اور ساتھ میں عربی زبان میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ٹیچر منتخب ہوئے۔ آپ کے چھوٹے بیٹے حاجی رشید صاحب سعودی عرب میں حج کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں لیفٹ میں حادثہ پیش جس سے آپ شہید ہوئے اور وہیں پر مدفون ہونے شرف حاصل کیا۔
آج بھی جوئیہ کے قصبہ میں حفاظ کرام کی کثرت پائی جاتی جس کی وجہ استاد حاجی محمود جوئیہ صاحب ہیں۔ آپ کی وفات 2009 میں ہوئی۔ آپ نے تقریباً 125 سال کی طویل عمر پائی۔ آپ کو اپنے قصبے میں سب سے زیادہ لمبی عمر پانا کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آپ جس مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم دیتے تھے اس مسجد کی تصاویر پوسٹ کے ساتھ لگائی گئی ہے۔
اس مسجد کا نام جامع مسجد غوثیہ محمودیہ رکھا گیا ہے۔ جس میں آج بھی آپ کے پوتے امامت کروا رہے ہیں ۔آپ کی یاد میں جوئیہ پر آپ کے پوتے نے پرائیویٹ سکول بنایا جس کا نام بھی آپ کے نام پر محمودیہ پبلک سکول جوئیہ (بھکر) رکھا گیا۔
عافی جوئیہ