وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہء اردو

وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہء اردو اُردو آدب

24/12/2025

پبلک سروس کمیشن اردو لیکچرار ٹیسٹ مع جوابات
1.اموختہ کس کا مجموعہ کلام ہے
قتیل
2.صبا اکبر ابادی کا اصل نام؟
خواجہ میر محمد
3.لاجونتی کس کئ مثنوی ہے ؟
سیراج الدین ظفر
4.ایک پھل میں جہاں سے ہم اٹھے۔۔شعر کس کا ہے ؟
باقی صدیقی
5. تیز ہوا اور تنہا پھول کس کا مجموعہ کلام ہے ؟
۔منیر نیازی
6:ان میں سے کون سا لفظ موزوں ہے ؟
اہالیانِ شہر
7: ان میں سے کون سا فقرہ درست ہے؟
عوام غیظ و غضب میں باہر نکل آئے
8:ان میں سے کون سا فقرہ درست ہے ؟
ہم نے ان سے بالمشافہ بات کی
9:رات بھر ممیائی ایک بچہ بیاہی ۔۔۔درست ضرب المثل؟
تکلیف زیادہ فائدہ کم
10: کاغذ کی ناؤ سدا نہیں بہتی ،اس ضرب المثل سے کیا مراد ہے ؟
جھوٹ ہمیشہ نہیں چلتا
11: صنعت تضاد کیا ہے ؟
ضدین الفاظ
12:تعلی کسی کہتے ہیں ؟
اپنی بے جا تعریف
13:مراۃ النظیر کیا ہے ؟
صنعت بیان
14:مطلع میں شاعر کس بات کی پابندی کرتا ہے؟
قافیہ
15:اس ممتاز خاتون کا نام بتائیے جو بہ یک وقت افسانہ نگار بھی ہیں اور نقاد بھی ؟
ممتاز شیرین
16:افسانہ کس صنفِ نثر کے دور میں متعارف ہوا ؟
ناول
17: علامتی افسانے کے حوالے سے کون سرفہرست ہے ؟
انتظار حسین
18: مذہبی واقعات کو اُجاگر کرنے والا ڈراما کیا کہلاتا ہے؟
پیشن پلے
19: احسن لکھنوی اور بیتاب دہلوی کس صنف ادب سے تعلق رکھتے ہیں؟
ڈراما
20:امیر خسرو نے کس صنعت کا آغاز کیا ؟
صنعتِ ملمع
21: اردو زبان کا پہلا مرکز کسے کہتے ہیں ؟
دکن
22:شاعری کی تاریخ کے تیسرے دور کا آغاز کس شاعر سے ہوتا ہے ؟
غالب
23:علمِ عروض میں موجود یک رُکنی بحروں کی تعداد ؟
سات
24:تلمیح کیا ہوتی ہے ؟
تاریخی اشارہ
25: جس غزل میں ردیف نہ ہو اسے کیا کہتے ہیں ؟
غیر مردف
26:فکرِ اقبال اور افکار اقبال کس کی تصانیف ہیں؟
خلیفہ عبدالحکیم
27: مولوی عبدالحق کے خاکوں کے مجموعے کا نام کیا ہے ؟
چند ہم عصر
28: مرزا ادیب کس صنف ادب میں مشہور ہیں ؟
ڈراما
29:قصیدہ کے تمہیدی حصے کو اصطلاح میں کیا کہتے ہیں ؟
تشبیب
30:خم،سبو ،ساغر ،صراحی ،جام ،پیمانہ میرا۔۔۔۔
شعر میں کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے؟
صنعتِ مراۃ النظیر
31:''یہ بت خانہ چین ہے بے بدل'' مصحفی نے کس مثنوی کی تاریخ تکمیل نکالی ہے ؟
سحرالبیان
32:رعایت لفظی کے فن کے سب سے بڑے استاد کون ہیں ؟
امانت لکھنوی
33:کس شاعر کا لقب مرزا نوشہ اور خطاب نجم الدولہ دبیر الملک نظامِ جنگ تھا ؟
غالب
23:مگس کو باغ میں جانے نہ دینا ۔۔۔۔اس شعر میں تشبیہ کی کون سی قسم استعمال ہوئی ہے؟
تشبیہ بعید
35:جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا ۔۔۔۔کون سے صنعت استعمال ہوئی ہے ؟
مجازی مرسل
36: اردو شاعری میں تناسب لفظی اور ایہام گوئی کی روایت کس شاعر نے ڈالی ہے ؟
خان آرزو( تاہم بیشتر کتب میں شاہ مبارک آبرو)
37:جب لازم و ملزوم میں واسطے کم ہو تو اسے کیا کہا جاتا ہے ؟
رمز
38: کلام کو علم بیان کے مطابق بنانے اور سنوارنے کے بعد اسے لفظی اور معنوی خوبیوں سے آراستہ اور مزین کرنے کے علم کو کہتے ہیں ؟
بدائع
39: ان میں کون سا لفظ درست ہے ؟
عَنصر
40: ان میں کون سا لفظ درست ہے ؟
مَبادا
41:بلد کی جمع ؟
بلاد
42:ان میں کون سا لفظ درست ہے ؟
چودھری
43:ان میں کون سا لفظ درست ہے ؟
السّلامُ علیکم
44:راہب کی جمع ؟
رہبان
45:روزمرہ کے مطابق کون سا جملہ موزوں ہے ؟
میں نے اسے کہا

24/12/2025

سوال: تنقید کے لغوی معنی کیا ہیں؟
جواب: کھرے کھوٹے میں تمیز کرنا یا پرکھنا۔
سوال: اردو تنقید کا باقاعدہ آغاز کس سے مانا جاتا ہے؟
جواب: مولانا الطاف حسین حالی سے۔
سوال: حالی کی وہ تصنیف جو اردو تنقید کا پہلا باضابطہ اصول نامہ کہلاتی ہے؟
جواب: مقدمہ شعر و شاعری (1893ء)۔
سوال: حالی نے شاعری کے لیے کون سے تین بنیادی عناصر ضروری قرار دیے؟
جواب: تخیل، مطالعہ کائنات، اور حسن بیان۔
سوال: شبلی نعمانی کی تنقیدی تصنیف کا نام کیا ہے؟
جواب: موازنۂ انیس و دبیر (1907ء)۔
سوال: عبدالرحمن بجنوری کی تنقید کس رجحان کی مثال ہے؟
جواب: تاثراتی تنقید۔
سوال: 'شعر شور انگیز' کے مصنف کا نام کیا ہے؟
جواب: شمس الرحمن فاروقی۔
سوال: محمد حسین آزاد کا تنقیدی رویہ کیسا تھا؟
جواب: تاثراتی اور جمالیاتی۔
سوال: کلیم الدین احمد نے 'اردو تنقید' کی کیا حیثیت بتائی؟
جواب: "اردو تنقید سرے سے موجود ہی نہیں"۔
سوال: 'تنقید، تخلیق کا سکیٹ' یہ قول کس مشہور نقاد کا ہے؟
جواب: کلیم الدین احمد۔
سوال: حالی کے نزدیک شاعری کی غرض و غایت کیا ہے؟
جواب: افادہ عامہ (نفع رسانی)۔

24/12/2025

13۔ بنیادی فارسی
Basic Persian


فارسی زبان میں " با " کا استعمال :

فارسی میں لفظ "با (ba)کے کئی استعمالات ہیں اور یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے حروفِ جر میں سے ایک ہے۔
​عام طور پر، "با" کا مطلب اُردو اور انگریزی میں "کے ساتھ" (With) ہوتا ہے، لیکن اِس کے اضافی مفہوم بھی ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔
​ فارسی میں "با" (Bā) کے اہم استعمالات :

1. مرافقت / صحبت کے ساتھ Conjunction
/ Together with
با دوستانم رفتم.
میں اپنے دوستوں کے ساتھ گیا۔

2. ذریعہ / آلہ سے
/ کے ذریعے
By means of / With a tool
با چاقو نان بُرید.
اُس نے چاقو سے روٹی کاٹی۔

3. حالت / کیفیت کے ساتھ / حالت میں
In the condition of / With a state
با خوشحالی زندگی کرد.
اُس نے خوشی کی حالت میں زندگی گزاری۔

4. سبب / وجہ کی وجہ سے Due to
/ Because of
با تلاش بسیار موفق شد.
بہت کوشش کی وجہ سے وہ کامیاب ہوا۔

5. تضاد / باوجود کے باوجود
Despite / In spite of
با این همه مشکل، شاد است. اِن تمام مسائل کے باوجود وہ خوش ہے۔

6. تعلق / نسبت کا / سے متعلق
Concerning / In relation to
او با سیاست کاری ندارد.
اُس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جملے :

1 او با قطار به شیراز رفت. وہ ٹرین سے شیراز گیا۔
He went to Shiraz by train.

2 من با خانواده‌ام زندگی می‌کنم.
میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہوں۔
I live with my family.

3 او با دست خط نوشت.
اُس نے ہاتھ سے خط لکھا۔ He wrote the letter with his hand.

4 شما با احتیاط رانندگی کنید.
آپ احتیاط کے ساتھ گاڑی چلائیں۔
Drive with caution.

5 ما با صدای بلند خندیدیم. ہم زوردار آواز سے ہنسے۔
We laughed with a loud voice.

6 با این حال، او تسلیم نشد. اِس کے باوجود، اُس نے ہار نہیں مانی۔
Despite this, he did not give up.

7 من با او صحبت خواهم کرد.
میں اُس سے بات کروں گا۔
I will talk with him.

8 او با عشق آشپزی می‌کند. وہ محبت سے کھانا پکاتی ہے۔
She cooks with love.

9 آن‌ها با اتوبوس به سفر رفتند.
وہ بس کے ذریعے سفر پر گئے۔ They went on a trip by bus.

10 با کمال میل این کار را انجام می‌دهم.
میں خوشی کے ساتھ یہ کام کروں گا۔
I will do this work with pleasure.

11 معلم با دانشجو صحبت کرد.
استاد نے طالب علم سے بات کی۔
The teacher spoke with the student.

12 این کتاب با قیمت مناسب فروخته شد.
یہ کتاب مناسب قیمت پر بیچی گئی۔
This book was sold at a reasonable price.

13 او با دقت گوش می‌داد. وہ توجہ سے سن رہا تھا۔
He was listening with attention.

14 با وجود سرما، ما بیرون رفتیم.
سردی کے باوجود، ہم باہر گئے۔ Despite the cold, we went outside.

15 این مشکل با تلاش حل می‌شود.
یہ مسئلہ کوشش سے حل ہو جائے گا۔
This problem will be solved with effort.

16 او با شادی رقصید.
وہ خوشی سے ناچا۔
He danced with joy.

17 آن‌ها با هم به خرید رفتند. وہ ایک دوسرے کے ساتھ خریداری کرنے گئے۔
They went shopping together.

18 من چای را با شکر می‌خورم.
میں چائے چینی کے ساتھ پیتا ہوں۔
I drink tea with sugar.

19 آیا شما با این ایده موافقید؟
کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟
Do you agree with this idea?

20 گلدان با آب پر شد.
گلدان پانی سے بھر گیا۔
The vase was filled with water.

24/12/2025

السلام_علیکم
کلیات_اقبال
بال_جبریل

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم،
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِ دم بہ دم

معانی: نوا: آواز ۔ زیر و بم: بلندی اور پستی ۔ سوزِ دم بہ دم: لگاتار جوش۔

مطلب: یہ جذبۂ عشق ہی ہے جس کے سبب زندگی میں جوش و خروش پیدا ہوتا ہے اور قوتِ عمل برقرار رہتی ہے۔ حالانکہ انسان تو محض مٹی کا پتلا ہے، مگر جذبۂ عشق نے اس مٹی کے پتلے میں سوز و گداز اور زندہ رہنے کی خواہش کو جنم دیا ہے۔

آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق،
شاخِ گل میں جس طرح بادِ سحرگاہی کا نم

معانی: بادِ سحرگاہی کا نم: صبح کی شبنم۔

مطلب: عشق ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کے دل و دماغ، ضمیر اور روح حتیٰ کہ جسم کے ریشے ریشے میں اس طرح سما جاتا ہے، جیسے صبح کی تازہ اور جاں بخش ہوا سے پیدا شدہ نمی شاخِ گل میں جذب ہو جاتی ہے۔

اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوک،
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم

معانی: رازق: رزق دینے والا یعنی اللہ تعالیٰ۔ محتاجِ ملوک: بادشاہوں کا محتاج۔ گدا: فقیر۔ دارا و جم: ایران کے دو بادشاہ۔

مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ اگر انسان اپنے رزق دینے والے کو نہ پہچانے تو وہ بادشاہوں کا غلام بن کر رہ جاتا ہے اور یہی سمجھتا ہے کہ رزق کے مالک یہی حکمران ہیں۔ لیکن جو شخص پیدا کرنے والے کی ذات سے آگاہ ہو جاتا ہے، اس کے لیے دارا و جم جیسے فرمانروا بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ اصل چیز ربِّ حقیقی سے تعلق اور اس کا عرفان ہے۔

دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت،
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے—دل یا شکم

معانی: شہنشاہی: بادشاہی۔ شکم: پیٹ۔

مطلب: اقبال یہاں دل و ضمیر کی آزادی کو ظاہری بادشاہی پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انسان کا دل آزاد ہے تو وہ بادشاہوں سے بھی بلند مرتبہ ہے، اور غیرِ خدا کے آگے ہاتھ پھیلانا بدترین غلامی ہے۔ چنانچہ خدا نے انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دل کی آزادی چاہتا ہے یا پیٹ کی غلامی۔

اے مسلماں! اپنے دل سے پوچھ، مُلّا سے نہ پوچھ،
ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم

معانی: ہو گیا خالی حرم: یعنی
مسلمان عمل سے محروم ہو گئے۔

مطلب: اقبال مسلمان کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سوال کا جواب کسی ملا سے نہیں، بلکہ اپنے دل سے پوچھ کہ حرمِ کعبہ سچے بندگانِ خدا سے کیوں خالی ہو گیا ہے۔ اب وہاں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کا کاروبار محض ریاکاری اور منافقت پر مبنی ہے۔

24/12/2025

السلام_علیکم
کلیات_اقبال
بال_جبریل

دل سوز سے خالی ہے، نگہ پاک نہیں ہے
پھر اس میں عجب کیا کہ تُو بے باک نہیں ہے

معانی: سوز: تپش، مراد ایمان۔ بے باک: بے خوف۔

مطلب: مسلمانوں میں اس لیے جرأتِ اظہار اور ہمت کی کمی ہے کہ وہ سوزِ عشق سے بھی محروم ہیں اور ان کی نظریں بھی شفاف اور حقیقت شناس نہیں۔ بالفاظِ دگر، اس مسئلے پر کسی حیرت کی گنجائش نہیں کہ جب انسان عشقِ حقیقی سے محروم ہو کر مادی آلودگیوں میں گھر جائے تو فطری امر ہے کہ اس میں جرأت و ہمت باقی نہیں رہتی اور وہ ذاتی اغراض اور مصلحتوں کا شکار ہو کر بزدل بن جاتا ہے۔

ہے ذوقِ تجلّی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل! تُو نِرا صاحبِ ادراک نہیں ہے

معانی: ذوقِ تجلی: چمکنے کا شوق۔ ادراک: سمجھ بوجھ۔

مطلب: فہم و ادراک بلاشبہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن عشقِ حقیقی کی تجلی کے بغیر فہم و ادراک کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ یہ ساری حقیقتیں اور جذبے مل کر انسان کو مکمل انسان بناتے ہیں۔

وہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشن
پُرکار و سخن ساز ہے، نمناک نہیں ہے

معانی: مغربی تہذیب کو کامل سمجھنے والے غلط فہمی میں مبتلا ہیں، کیونکہ مغرب کی تہذیب چالاکی، مکاری اور ذاتی مفاد کی تکمیل کے مواقع تو فراہم کرتی ہے، لیکن انسان کی حقیقی تکمیل تب تک ممکن نہیں جب تک وہ عشقِ حقیقی سے آشنا نہ ہو۔ جس دل میں سوز و گداز نہ ہو، اس کی نگاہ کبھی نمناک نہیں ہوتی۔

کیا صوفی و مُلّا کو خبر میرے جنوں کی
اُن کا سرِ دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے

مطلب: اقبال فرماتے ہیں کہ صوفی اور مُلّا دونوں ذاتِ الٰہی کے عرفان اور عشقِ حقیقی سے محروم ہو چکے ہیں۔ ملتِ اسلامیہ کو جو مسائل درپیش ہیں اور جس خطرے میں مسلمان گرفتار ہیں، یہ بے حس لوگ اس کا ادراک نہیں رکھتے۔ جب انہیں قوم کی حالت کا شعور نہیں تو میری کیفیتِ جنون کو کیسے سمجھیں گے؟ وہ مادی مفادات کے پیچھے ہیں، چھوٹے مسائل میں قوم کو الجھانا ان کا مشغلہ ہے۔ ملت کی تعمیر کے لیے قربانی درکار ہوتی ہے اور اس جذبے سے ان کے دل خالی ہیں۔

کب تک رہے محکومیِ انجم میں مری خاک
یا میں نہیں، یا گردشِ افلاک نہیں ہے

معانی: محکومیِ انجم: ستاروں کی غلامی۔

مطلب: یہاں اقبال نے غلامیِ اقوام کے پس منظر میں یہ شعر کہا ہے۔ ہندوستان انگریز کے قبضے میں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اب فیصلہ کن وقت آ گیا ہے۔ یا تو اہلِ وطن خود کو مٹا دیں یا اس ظلم کے نظام کو ختم کر دیں۔

بجلی ہوں، نظر کوہ و بیاباں پہ ہے میری
میرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے

معانی: کوہ و بیاباں: پہاڑ اور صحرا۔ خس و خاشاک: کوڑا کرکٹ۔

مطلب: میں تو اس بجلی کی طرح ہوں جو پہاڑوں اور جنگلوں پر گرتی ہے اور انہیں ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ محض خس و خاشاک کو جلانا میرا کام نہیں۔ یعنی اگر مقابلہ ہو تو بڑے دشمنوں سے ہو کمزوروں کو ستانا اہلِ ہمت کا طریقہ نہیں۔

عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہے

مطلب: یہ کائنات صرف اسی مومن کی میراث ہے جو جان نثاری اور جانبازی کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اور حقیقی مومن وہ ہے جو اسوۂ رسول ﷺ سے اپنے دل و جان کو روشن کرے اور مقامِ لولاک کے فیضان سے بہرہ ور ہو۔ حدیثِ قدسی "لولا ک لما خلقتُ الأفلاک" اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مراد یہ کہ مومن جانباز بھی ہوتا ہے اور تعلیماتِ رسول ﷺ سے اس کا دل منور بھی ہوتا ہے۔

24/12/2025

) اسم معرفہ کی کتنی اقسام ہیں؟
الف۔پانچ
ب۔چار 💞
ج۔چھ

2) اسم علم کی کتنی اقسام ہیں؟
الف۔پانچ 💞
ب۔چار
ج۔سات

3) اسم علم کی اقسام ہیں۔
الف۔اسم اشارہ،اسم موصول،اسم ضمیر،اسم مصغر،اسم مکبر
ب۔اسم تخلص،اسم خطاب،اسم لقب،اسم کنیت،اسم عرف 💞
ج۔اسم نکرہ،اسم معرفہ،اسم جمع،اسم مصدر،اسم،جامد

4) وہ مختصر نام جو شاعر اپنے شعروں میں لاتے ہیں اس کو کیا کہتے ہے؟
الف۔لقب
ب ۔عرف
ج۔تخلص 💞

5) الفاظ____ قسم ہوتے ہیں۔
الف) دو 💞 (کلمہ، مہمل)
ب) تین
ج) چار

6) بے معنیٰ لفظ کو کہتے ہے۔
الف۔کلمہ
ب۔مہمل 💞
ج۔حرف

7) با معنیٰ لفظ کو ۔۔۔۔۔کہتے ہے
الف ۔کلمہ 💞
ب۔مہمل
ج۔حرف

8) بناؤٹ کے لحاظ سے اسم کی کتنی اقسام ہیں۔
الف۔پانچ
ب۔تین 💞 (اسم جامد، اسم مصدر، اسم مشتق)
ج۔دو

9) کلمہ کی کتنی اقسام ہیں؟
الف۔دو
ب۔تین 💞 (فعل، حرف، اسم)
ج۔پانچ

10) اسم علم،اسم ضمیر،اسم اشارہ،اسم موصول،کونسی اسم کی اقسام ہیں؟
الف۔اسم نکرہ
ب۔اسم مشتق
ج۔اسم معرفہ 💞

السلام_علیکم کلیات_اقبال بال_جبریلہزار خوف ہو، لیکن زباں ہو دل کی رفیقیہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریقمعانی:قلندروں کا ...
24/12/2025

السلام_علیکم
کلیات_اقبال
بال_جبریل

ہزار خوف ہو، لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

معانی:قلندروں کا طریق: اللہ والوں کا طریقہ۔

مطلب:آغازِ کائنات سے خدا کے نیک اور وفاشعار لوگوں کا یہی طرزِ عمل رہا ہے کہ کتنے بھی ناموافق حالات ہوں، ان کا دل عشقِ حقیقی سے لبریز اور زبان پر ہمیشہ کلمۂ حق رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بے شمار قربانیاں دیں اور سچ کہنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں؟
فقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

معانی:شراب خانے: اللہ والوں کی محفل۔پیرِ مغاں: رہنما۔مردِ خلیق: اخلاق والا شخص۔

مطلب:محفل میں ہجوم زیادہ اس لیے ہے کہ اس کا رہنما نہایت خلیق اور نرم دل انسان ہے۔ علامہ کی مراد یہ ہے کہ شفقت، محبت اور اخلاق وہ عناصر ہیں جن کے جمع ہونے سے لوگ خود بخود اس شخص کی طرف راغب ہوتے ہیں اور احترام سے اس کی بات سنتے ہیں۔

علاجِ ضعفِ یقیں ان سے ہو نہیں سکتا
غریب اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے دقیق

معانی:علاجِ ضعفِ یقیں: یقین کی کمزوری کا علاج۔

مطلب:اگرچہ امام رازی کی تعلیمات نہایت گہری اور حکمت سے بھرپور ہیں، مگر وہ ان لوگوں کے لیے مفید نہیں جن کا ایمان کمزور ہو۔ ایسی کمزوری کا علاج صرف عشقِ حقیقی اور پختہ یقین سے ہی ممکن ہے۔

مریدِ سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

معانی:توفیق: ہمت، قابلیت۔

مطلب:اقبال آج کے پیروں کے دوغلے کردار پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ مریدوں کو نصیحت تو کرتے ہیں لیکن خود ان باتوں پر عمل نہیں کرتے۔ مرید اپنی سادگی سے تو توبہ کر لیتا ہے مگر شیخ اپنے عمل کی اصلاح کو تیار نہیں ہوتا۔

اسی طلسمِ کہن میں اسیر ہے آدم
بغل میں اس کے ہیں اب تک بتانِ عہدِ عتیق

معانی:طلسمِ کہن: پرانا جادو۔اسیر: قیدی۔بتانِ عہدِ عتیق: پرانے زمانے کے بُت۔

مطلب:اقبال کہتے ہیں کہ انسان آج بھی جاہلیت کے پرانے تعصبات کا قیدی ہے۔ نسل، قوم، برادری اور فرقہ پرستی کے پرانے بت آج بھی اس کے دل میں موجود ہیں۔

مرے لیے تو ہے اقرارِ باللسان بھی بہت
ہزار شکر کہ مُلّا ہیں صاحبِ تصدیق

معانی:اقرارِ باللسان: زبان سے اقرار۔
صاحبِ تصدیق: دل سے تصدیق کرنے والا۔

مطلب:اقبال کہتے ہیں کہ میرے سامنے تو صرف زبانی اقرار ہی کافی ہے۔ مگر ملاؤں کا یہ حال ہے کہ وہ ہر مسئلے کو چھان بین کر کے ہی مانتے ہیں، اور بہت کم لوگ ان کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں۔ یہ ان کے سخت مؤقف پر طنز ہے۔

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق

معانی:زندیق: ملحد، بے دین۔

مطلب:اقبال کے نزدیک حقیقی اسلام کی بنیاد عشقِ حقیقی ہے۔ اگر انسان کے دل میں عشقِ الٰہی ہو تو کفر بھی ایمان کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور اگر عشق نہ ہو تو پیدا ہونے والا مسلمان بھی خدا سے دور اور بے روح رہتا ہے۔

24/12/2025

السلام_علیکم
کلیات_اقبال
بال_جبریل

عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

مطلب: نظم کے اس پہلے شعر میں عقل اور عشق کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کا آستانہ ایک عاشق اپنے عقلی شعور کی بنیاد پر تو پا سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کی دانش اسے اس آستانے پر باریابی عطا کر سکے۔ مراد یہ کہ عشق والہانہ جذبے کا نام ہے جبکہ عقل کا طریقہ استدلال ہے۔ یہی تضاد عقل اور عشق کے مابین حائل ہے۔

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

معانی: لازم ہے کہ حق تعالیٰ سے وہ بصیرت بھی طلب کی جائے جس سے دل روشن ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ صرف بصارتِ چشم دل کے لیے بصارت نہیں بن سکتی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر دل روشن نہ ہو تو محض آنکھ کی روشنی کافی نہیں۔ عملاً بصارت اور بصیرت کے بغیر انسان کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔

علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

مطلب: علم کی تعریف بیان کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ بے شک علم میں کیف تو موجود ہے، لیکن اس کیف کی رسائی دل تک نہیں ہوتی؛ یہ دماغ تک محدود رہتی ہے۔ چنانچہ علم دراصل ایک ایسی بہشت کی حیثیت رکھتا ہے جس میں حور تو کیا، اس کا تصور بھی موجود نہیں۔ اس سے پہلے شعر میں دل اور آنکھ کے فرق کا ذکر تھا، جب کہ اس شعر میں علم اور دل کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے۔
کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں
ایک بھی صاحبِ سرور نہیں

مطلب: یہ امر کس قدر افسوس ناک ہے کہ، بقول اقبال، ایک شخص بھی ایسا موجود نہیں جو ذوق و شوق کا مالک ہو؛ یعنی عشقِ حقیقی سے صحیح طور پر لطف اندوز ہو سکے۔

اک جنوں ہے کہ باشعور بھی ہے
اک جنوں ہے کہ باشعور نہیں

مطلب: ایک جنوں وہ ہے جس میں ہوش و حواس اور شعور قائم رہتے ہیں، جبکہ ایک جنوں اس کے برعکس ہوش و حواس اور شعور سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک حقیقی جنون وہی ہے جس میں ہوش و حواس قائم رہ سکیں۔ یہی کیفیت انسان کو عشقِ حقیقی تک لے جاتی ہے۔

ناصبوری ہے زندگی دل کی
آہ! وہ دل کہ ناصبور نہیں

معانی: ناصبوری: بے صبری۔

مطلب: دل میں اضطراب اور تڑپ کی موجودگی ہی دراصل دل کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔ عملاً وہ دل بے حسی کا حامل ہے جس میں تڑپ اور اضطراب موجود نہ ہو۔
بے حضوری ہے تیری موت کا راز
زندہ ہو تُو تو بے حضور نہیں

مطلب: محبوب کی بارگاہ سے محرومی ایک طرح سے موت کے مترادف ہے، اور اس کی بارگاہ تک رسائی زندگی کی دلیل ہے۔

ہر گہر نے صدف کو توڑ دیا
تو ہی آمادۂ ظہور نہیں

مطلب: اقبال خدا سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تمام موتی اپنے صدف توڑ کر باہر نکل آئے، لیکن ایک تو ہی ہے جو ابھی تک مستور ہے اور ظہور پر آمادہ نہیں ہوا۔

أرِنی میں بھی کہہ رہا ہوں مگر
یہ حدیثِ کلیم و طور نہیں

مطلب: میں بھی حضرت موسیٰؑ کی مانند حق تعالیٰ سے جلوہ نمائی کی استدعا کر رہا ہوں، لیکن ایسا جلوہ نہیں چاہتا جو مجھے ہوش و حواس سے بیگانہ کر دے۔ میں تو اسے عالمِ ہوش میں دیکھنے کا خواہاں ہوں۔

24/12/2025

21*ﺍﺭﺩﻭ ادب ﮐﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﻌﺮﯼ ﻣﺠﻤﻮﻋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﻌﺮاء*

1: ﻧﻘﺶ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ *ﺍﺯ ﻓﯿﺾ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﯿﺾ*
2: ﻻ = ﺍﻧﺴﺎﻥ *ﺍﺯ ﻥ ﻡ ﺭﺍﺷﺪ*
3: ﺷﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﮰ *ﺍﺯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻭﺯﯾﺮ ﺁﻏﺎ*
4: ﻋﯿﺐ ﻭ ﮨﻨﺮ *ﺍﺯ ﻇﻔﺮ ﺍﻗﺒﺎﻝ*
5: ﺗﯿﻦ ﺭﻧﮓ *ﺍﺯ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﯽ*
6: ﺷﺐ ﺭﻓﺘﮧ *ﺍﺯ ﻣﺠﯿﺪ ﺍﻣﺠﺪ*
7: ﮨﻮﯾﺪﺍ *ﺍﺯ ثمینہ ﺭﺍﺟﺎ*8 ﺧﻮﺷﺒﻮ *ﺍﺯ ﭘﺮﻭﯾﻦ ﺷﺎﮐﺮ*
9: ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﻣﺴﺎﻓﺖ *ﺍﺯ ﮐﺸﻮﺭ ﻧﺎﮨﯿﺪ*
10: ﺣﺮﻑ ﺷﻨﺎﺳﯽ *ﺍﺯ ﺍﺩﺍ ﺟﻌﻔﺮﯼ*
11: ﺑﺪﻥ ﺩﺭﯾﺪﮦ *ﺍﺯ ﻓﮩﻤﯿﺪﮦ ﺭﯾﺎﺽ*
12: ﮔﮩﺮﺳﺘﺎﻥ *ﺍﺯ ﺷﻮﮐﺖ ﺗﮭﺎﻧﻮﯼ*
13: ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭﺵ *ﺍﺯ ﻧﺎﺻﺮ ﮐﺎﻇﻤﯽ*
14: ﻧﺸﺎﻁ ﺭﻓﺘﮧ *ﺍﺯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐ ﺷﺎﺩﺍﻧﯽ*
15: ﺟﻮﮰ ﻣﻌﺎﻧﯽ *ﺍﺯ ﺳﺠﺎﺩ ﺑﺎﻗﺮ ﺭﺿﻮﯼ*
16: ﺷﺒﻨﻤﺴﺘﺎﻥ *ﺍﺯ ﻓﺮﺍﻕ ﮔﻮﺭﮐﮭﭙﻮﺭﯼ*
17: ﺭﻭﺡ ﺍﺩﺏ *ﺍﺯ ﺟﻮﺵ ﻣﻠﯿﺢ ﺁﺑﺎﺩﯼ*
18: ﺳﺮﻭﺩ ﺯﻧﺪﮔﯽ *ﺍﺯ ﺍﺻﻐﺮ ﮔﻮﻧﮉﻭﯼ*
19: ﺷﻌﻠﮧ ﻃﻮﺭ *ﺍﺯ ﺟﮕﺮ ﻣﺮﺍﺩ ﺁﺑﺎﺩﯼ*
20: ﻧﻘﺶ ﺩﻭﺍﻡ *ﺍﺯ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻤﯿﺪ ﻋﺪﻡ*
21: ﺗﻨﮩﺎ ﺗﻨﮩﺎ *ﺍﺯ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ*
22: ﻋﺬﺍﺏ ﺩﯾﺪ *ﺍﺯ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ*
23: ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ *ﺍﺯ ﺣﺴﻦ ﺭﺿﻮﯼ*
24: ﺍﮐﺎئی *ﺍﺯ ﺳﻠﯿﻢ ﺍﺣﻤﺪ*
25: ﮐﻮﮦ ﻧﺪﺍ *ﺍﺯ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺯﯾﺪﯼ*
26: ﺑﺎﻧﮓ ﺩﺭﺍ *ﺍﺯ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ*
27: ﺩﯾﺪۂ ﯾﻌﻘﻮﺏ *ﺍﺯ ﻋﺮﺵ ﺻﺪﯾﻘﯽ*
28: ﺷﺎﺥ ﺯﺭﯾﺎﺏ *ﺍﺯ ﺗﺤﺴﯿﻦ ﻓﺮﺍﻗﯽ*
29: ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﮩﺎ ﭘﮭﻮﻝ *ﺍﺯ ﻣﻨﯿﺮ ﻧﯿﺎﺯﯼ*
30: ﻣﮩﺮ ﺩﻭ ﻧﯿﻢ *ﺍﺯ ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﻋﺎﺭﻑ*
31: ﺷﺐ ﻧﮕﺎﺭ ﺑﻨﺪﺍﮞ *ﺍﺯ ﻋﺎﺑﺪ ﻋﻠﯽ ﻋﺎﺑﺪ*
32: ﺻﺪﻑ *ﺍﺯ ﺷﮩﺰﺍﺩ ﺍﺣﻤﺪ*
33: ﮔﺮﺩ ﻣﺼﺎﻓﺖ *ﺍﺯ ﻣﺤﺴﻦ ﺑﮭﻮﭘﺎﻟﯽ*
34: ﭼﺮﺍﻍ ﺳﺤﺮ *ﺍﺯ ﺣﻔﯿﻆ ﺟﺎﻟﻨﺪﮬﺮﯼ*
35: ﺍﺩﺍﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻥ ﻧﮩﯿﮟ *ﺍﺯ ﻧﻮﺷﯽ ﮔﯿﻼﻧﯽ*
36: ﺟﻼﻝ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ *ﺍﺯ ﺍﺣﻤﺪ ﻧﺪﯾﻢ ﻗﺎﺳﻤﯽ*
37: ﻻ ﺣﺎﺻﻞ *ﺍﺯ ﺟﻤﯿﻞ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺎﻟﯽ*
38: ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ *ﺍﺯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻇﮩﯿﺮ ﻓﺘﺢ ﭘﻮﺭﯼ*
39: ﺭﺍﮐﮫ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ *ﺍﺯ ﻣﻈﻔﺮ ﻭﺍﺭﺛﯽ*
40: ﺍﺱ ﭘﺎﺭ *ﺍﺯ ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍمجد*
41: ﻏﺒﺎﺭ ﺯﯾﺎﮞ *ﺍﺯ ﺷﮩﺮﺕ ﺑﺨﺎﺭﯼ*
42: ﻣﻘﺎﻡ ﻏﺰﻝ *ﺍﺯ ﺣﻔﯿﻆ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﭘﻮﺭﯼ*
43: ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ *ﺍﺯ ﻋﺒﺎﺱ ﺗﺎﺑﺶ*
44: ﭼﮩﺎﺭ ﺧﻮﺍﺏ *ﺍﺯ ﻗﻤﺮ ﺟﻤﯿﻞ*
45: ﻏﻢ ﺟﺎﻭﺩﺍﮞ *ﺍﺯ ﻗﻤﺮ ﺟﻼﻟﻮﯼ*
46: ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺠﮯ *ﺍﺯ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ*
47: ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮧ ﻏﻢ *ﺍﺯ ﺍﺣﺴﻦ ﻣﺎﺭﮨﺮﻭﯼ*
48: ﺁﺱ *ﺍﺯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﺸﯿﺮ ﺑﺪﺭ*
49: ﻧﺸﺘﺮ ﯾﺎﺱ *ﺍﺯ ﯾﺎﺱ ﯾﮕﺎﻧﮧ ﭼﻨﮕﯿﺰﯼ*
50: ﻏﻢ ﻋﺸﻖ ﺍﮔﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ *ﺍﺯ ﺍﻇﮩﺮ ﺟﺎﻭﯾﺪ*
51: ﺩﺍﺭ ﻭ ﺭﺳﻦ *ﺍﺯ ﺑﺎﻗﯽ ﺻﺪﯾﻘﯽ*
52: ﺣﺮﻑ ﺩﻋﺎ *ﺍﺯ ﻋﺎﺭﻑ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﺘﯿﻦ*
53: ﺩﺳﺘﮧ ﮔﻞ *ﺍﺯ ﺷﺒﻠﯽ ﻧﻌﻤﺎﻧﯽ*
54: ﻣﺴﺎﻓﺖ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ *ﺍﺯ ﺷﺒﻨﻢ ﺷﮑﯿﻞ*
55: ﺧﻮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﺶ *ﺍﺯ ﺁﻝ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﺮﻭﺭ*
56: ﺩﯾﺪۂ ﺑﯿﺪﺍﺯ *ﺍﺯ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺟﻤﯿﺮﯼ*
57: ﺟﺴﺖ ﺟﻨﻮﮞ *ﺍﺯ ﺣﻤﯿﺪ ﻧﺴﯿﻢ*
58: ﺳﺎﻏﺮ ﺍﻧﻘﻼﺏ *ﺍﺯ ﯾﺰﺩﺍﻧﯽ ﺟﺎﻟﻨﺪﮬﺮﯼ*
59: ﭼﺸﻢ ﻏﺰﺍﻝ *ﺍﺯ ﻓﻀﻞ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﺮﯾﻢ ﻓﻀﻠﯽ*
60: ﻧﺎﺗﻤﺎﻡ *ﺍﺯ ﻣﺤﺴﻦ ﺍﺣﺴﺎﻥ*
61: ﻣﺤﺮﺍﺏ ﻏﺰﻝ *ﺍﺯ ﺭﻭﺵ ﺻﺪﯾﻘﯽ*
62: ﺭﻗﺺ ﻟﻤﺤﺎﺕ *ﺍﺯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﻨﻮﯾﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﻋﻠﻮﯼ*
63: ﻟﺐ ﻭ ﺭﺧﺴﺎﺭ *ﺍﺯ ﺍﻧﺠﻢ ﺍﻋﻈﻤﯽ*
64: ﺭﯾﺰﮦ ﺟﺎﮞ *ﺍﺯ ﺁﻓﺎﻕ ﺻﺪﯾﻘﯽ*
65: ﺷﺎﺥ ﻣﻨﻈﺮ *ﺍﺯ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﻣﺴﺮﻭﺭ*
66: ﻣﻨﺰﻝ ﺷﺐ *ﺍﺯ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﺻﺪﯾﻘﯽ*
67: ﺍﮎ ﺫﺭﺍ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ *ﺍﺯ ﻏﻼﻡ ﺟﯿﻼﻧﯽ ﺍﺻﻐﺮ*
68: ﭼﺮﺍﻍ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﻮﻝ *ﺍﺯ ﺍﺧﺘﺮ ﺣﺎﻣﺪ ﺧﺎﻥ*
69: ﮔﺮﺩ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ *ﺍﺯ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﺸﺘﺎﻕ*
70: ﺍﺑﯿﺎﺕ *ﺍﺯ ﻣﺸﻔﻖ ﺧﻮﺍﺟﮧ*
71: ﺣﺎﺩﺛﮯ *ﺍﺯ ﺩﻻﻭﺭ ﻓﮕﺎﺭ*
72: ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺭﮮ ﺭﻭﺷﻨﯽ *ﺍﺯ ﺷﮑﯿﺐ ﺟﻼﻟﯽ*
73: ﺷﻮﺭ ﺑﺎﺩ ﺑﺎﻥ *ﺍﺯ ﺍﮐﺒﺮ ﺣﻤﯿﺪﯼ*
74: ﻓﺮﻭﺯﺍﮞ *ﺍﺯ ﻣﻌﯿﻦ ﺍﺣﺴﻦ ﺟﺬﺑﯽ*
75: ﻏﻨﭽﮧ ﭘﮭﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﮭﻠﻨﮯ *ﺍﺯ ﺍﻧﻮﺭ ﻣﺴﻌﻮﺩ*
76: ﮨﻤﮧ ﺟﮩﺖ *ﺍﺯ ﺣﺎﻣﺪ ﺑﺮﮔﯽ*
77: ﺳﭙﺮ ﮐﺎ ﭘﮭﻮﻝ *ﺍﺯ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﻟﻘﺎﺩﺭﯼ*
78: ﮔﻔﺘﻨﯽ *ﺍﺯ ﻣﺨﻤﻮﺭ ﺳﻌﯿﺪﯼ*
79: ﺣﺴﺮﺕ ﺍﻇﮩﺎﺭ *ﺍﺯ ﻧﻈﯿﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ*
80: ﻓﺼﻞ ﺳﻼﺳﻞ *ﺍﺯ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺩﺍﻧﺶ*
81: ﻣﻄﻠﻊ *ﺍﺯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﺸﯿﺮ ﺻﯿﻔﯽ*
82: ﻧﻌﻤﮧ ﻓﺮﺩﻭﺱ *ﺍﺯ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﺎﻇﺮ*
83: ﻟﮩﻮ ﺗﺮﻧﮓ *ﺍﺯ ﺿﻤﯿﺮ ﺟﻌﻔﺮﯼ*
84: ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ *ﺍﺯ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻋﻠﯽ ﺷﺎﻋﺮ*
85 ﺷﺎﯾﺪ *ﺍﺯ ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎﺀ*
86: ﺻﺒﺢ ﺑﮩﺎﺭ *ﺍﺯ ﺍﺧﺘﺮ ﺷﯿﺮﺍﻧﯽ*
87: ﺧﻢ ﮐﺎﮐﻞ ﺍﺯ *ﺳﯿﻒ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺳﯿﻒ*
88: ﺟﮭﻨﮑﺎﺭ ﺍﺯ *ﮐﯿﻔﯽ ﺍﻋﻈﻤﯽ*
89: ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺑﮭﺮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺍﺯ *ﺑﻠﺮﺍﺝ ﮐﻮﻣﻞ*
90: ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺮﻥ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ *ﺍﺯ ﻣﻐﻨﯽ ﺗﺒﺴﻢ*
91: ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺧﺎﻧﮧ ﺍﺯ *ﺍﺧﺘﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺟﻌﻔﺮﯼ*
91: ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﮭﻮﻝ *ﺍﺯ ﺣﻨﯿﻒ ﺭﺍﻣﮯ*
92 :ﮐﻮﮦ ﻧﺪﺍ * ﺍﺯ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺯﯾﺪﯼ*
93: ﺭﻭﭖ ﺭﻧﮓ *ﺍﺯ ﺧﺎﻃﺮ ﻏﺰﻧﻮﯼ*
94: ﭼﺎﻧﺪ ﭼﮩﺮﮦ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ *ﺍﺯ ﻋﺒﯿﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﻢ*
95 :ﺑﺎﺯﮔﺸﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﻞ ﭘﺮ *ﺍﺯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﺎﺷﻤﯿﺮﯼ*
96: ﮐﭽﮯ ﺑﻮﻝ *ﺍﺯ ﮔﯿﺎﻥ ﭼﻨﺪ ﺟﯿﻦ*
97: ﺩﻝ ﻭﺣﺸﯽ *ﺍﺯ ﺍﺑﻦ ﺍﻧﺸﺎﺀ*
98: ﮨﺘﮭﯿﻠﻮﮞ ﭘﮧ ﭼﺮﺍﻍ *ﺍﺯ ﺧﺎﻟﺪ ﺍﺣﻤﺪ*
99: ﺟﻮﮰ ﺭﻭﺍﮞ *ﺍﺯ ﺣﺎﻣﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻓﺴﺮ*
100: ﺑﺴﺎﻁ ﺭﻗﺺ *ﺍﺯ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﻣﺤﯽ ﺍﻟﺪﯾﻦ*
101: ﺍﻟﻒ *ﺍﺯ ﺭﺋﯿﺲ ﺍﻣﺮﻭﮨﻮﯼ*
102: ﺍﮐﯿﻠﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ *ﺍﺯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺧﺰﺍﮞ*
103: ﮔﺮﺩﺍﺏ *ﺍﺯ ﺍﺧﺘﺮ ﺍﻻﯾﻤﺎﻥ*
104: ﮔﺮﮦ ﻧﯿﻢ ﺑﺎﺯ *ﺍﺯ مرتضیٰ ﺑﺮﻻﺱ*
105: ﺟﻞ ﺗﺮﻧﮓ *ﺍﺯ ﻗﺘﯿﻞ ﺷﻔﺎئی*
106 ﺫﮐﺮ ﺑﮩﺘﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ *ﺍﺯ ﺣﺒﯿﺐ ﺟﺎﻟﺐ*107: ﻧﺎﺭﺳﺎﺉ *ﺍﺯ ﺧﺎﻟﺪ ﺷﺮﯾﻒ*108: ﯾﮧ ﭼﺮﺍﻍ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﻼ ﺭﮨﮯ *ﺍﺯ ﺳﻠﯿﻢ ﮐﻮﺛﺮ*
109 ﻣﺎﺧﺬ *ﺍﺯ ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﺟﺎﻟﺐ*110: ﺳﺮﻭﺩ ﻧﻮ *ﺍﺯ ﺗﺼﺪﻕ ﺣﺴﯿﻦ ﺧﺎﻟﺪ*
111: ﺗﻨﻮﯾﺮ ﺳﺨﻦ *ﺍﺯ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻟﮩﯽ ﺑﺮﻕ ﺍﻋﻈﻤﯽ*
112: ﺭﻭﺡ ﺳﺨﻦ *ﺍﺯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺑﺮﻗﯽ ﺍﻋﻈﻤﯽ*
113: ﮐﻠﯿﺎﺕ ﺳﻠﯿﻢ ﻭﺍﺣﺪ ﺳﻠﯿﻢ *ﺍﺯ ﺳﻠﯿﻢ ﻭﺍﺣﺪ ﺳﻠﯿﻢ*
114: ﺁﻣﺪ ﺁﻣﺪ *ﺍﺯ ﻣﺴﻠﻢ ﺳﻠﯿﻢ*
115: ﺁﺭﺯﻭﺋﮯ ﺻﺒﺢ *از ﻣﺤﻤﺪ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﻟﯽ*
116: دائرے کا سفر از *آنسہ احمد سعید*
117: آس لدھیانوی از *حرف دستک*
118: احسن زیدی از *ورق ورق آئینہ*
119: احمد ریاض از *تلاش*
120: احمد ریاض از *موج خوں*
121: اختر سدیدی از *تلخابے*
122: اخلاق حیدر آبادی از *ان کہی باتیں*
123: اخلاق حیدر آبادی از *سائے کی دھوپ*
124: ارشد جاوید از *ذرا سی دھوپ*
125: اشرف یوسفی از *خواب تہہ آب*
126: اصغر علی بلوچ از *خواب جو*
127: اصغر علی تبسّم از *جاگتی آنکھوں کے خواب*
128 اصغر یگانہ از *صلیب عصر*
129: افتخار نسیم از *غزال*
130: افضل احسن رندهاوا از *ایک سورج میرا بھی*
131: عبث از *الطاف حسین بابر*
132 میں" از *انجم سلیمی*
133: آہٹ" از *انجمن آرا زیدی*
134: زندگی کے صحرا میں" از *انعام الحق جاوید*
135 عہد نامہ از *انور محمود خالد*
136: نوحہ گر تنہائیاں" از *انیس فاطمہ*
137: شب ستم کا سفر از *تنویر جیلانی*
138: نشیب " از *ثمینہ رئیس نشیب*
139 کہانی " از *ثنا اللّه ظہیر*
140: دست ریشم سے بنا جال از *ڈاکٹر جانباز احمد مخفی*
141: مقتل آرزو از *حزیں لدھیانوی*
142: لہو کی صدا" از *حزیں لدھیانوی*
143: پچھلے پہر کا چاند" از *حسن نثار*
144: تیشہ تخلیق " از *خالد عباس بابر*
145:میری عمر رواں" از *خالدہ بانو*
146: جامعہ مسجد کی گلی" از *خاور جیلانی*
147: چشم نم" از *ڈاکٹر خرم الطاف*
148:ضرب کاری" از *خلیق قریشی*
149: قائد انقلاب" از *خلیق قریشی*
150: تعمیر ملّت" از *خلیق قریشی*
151 عکس در عکس " از *رابعه سرفراز*
152: مشعل " از *رفعت ہاشمی*
153: خاک " از *ریاض مجید*
154: انتساب " از *ریاض مجید*
155: لہو لہو ہے بدن " از *ساجدہ ہاشمی*
156 درود جام حیات " از *ساحر قدوائی*
157: سوچ کے زینے " از *سکندر ایاز سید*
158: ہوا کی دستک " از *سلیم بیتاب*
159: لمحوں کی زنجیر " از *سلیم بیتاب*
160: رتیں جب بیت جاتی ہیں " از *شازیہ کنول*
161: تشکیل " از *شاہد کوثری*
162: بہر پیمان محبّت " از *شاہدہ یوسف*
163: ہوک " از *شمیم ظفر رانا*
164: میری آنکھیں " از *شہزاد بیگ*
165: شہر خاشاک " از *شہزاد بیگ*
166: املتاس کا پیڑ " از *شہزادہ حسن*
167: میں اور زماں اور " از *ضیاء حسین ضیاء*
168: روشنی کی لکیریں " از *طاہر صدیقی*
169: پت جھڑ کے عذاب " از *طاہر صدیقی*
170: فصل گل ہے آ گئی " از *عابد جمیل عابد*
171: اندھیرے رقص کرتے ہیں " از *عارف حسین عارف*
172: شب گزیدہ " از *عامر سلیم*
173: دھوپ کا پیڑ " از *عثمان سعید سائر*
174: مجھے تم یاد مت آؤ " از *عدنان سرفراز*
175: ترکش " از *عدیم ہاشمی*
176: یادوں کے بجھتے ہوۓسویرے " از *عزیز انجم حیدر*
177: ہر موسم تری یاد کا موسم " از *عنایت اللہ عاجز*
178: ہنر زاد " از *فوزیہ سحر ملک*
179: آبشار " از *فیض جھنجھانوی*
180: اک تیغ ، اک ستارہ " از *کاشف نعمانی*
181: رگوں میں شہد بہنے کا زمانہ تھا " از *کاشف نعمانی*
182: عشق گمشدہ " از *کائنات احمد*
183: دیا جلانے تک " از *کنیز اسحاق*
184: ہم کسی اور ہی سفر پہ ہیں " از *گلفام نقوی*
185: کرب کی کوکھ میں " از *گلفام نقوی*
186: قندیل خیال " از *محمّد اسلم پروانہ*
187: آئنے کی بات " از *محمّد اشرف خان شرف*
188: وجود اک واہمہ ہے " از *افسر ساجد*
189: نوید بخشش " از *محمّد افضل خاکسار*
190: تکلف " از *محمّد رفیق شاہد*
191: یہ منظر خوبصورت ہے " از *شاہد اشرف*
192: رابطے " از *محمّد صابر رضا*
193: سلسلے " از *محمّد صابر رضا*
194 مسافرت " از *محمود ثنا*
195: شہر مدفون " از *محمود ثنا*
196: آنکھ سے اوجھل دنیا " از *محمود رضا سید*
197: تحریر زندگی " از *مسرور بدایونی*
198: در امکان " از *مقصود وفا*
199: مٹھی میں ستارے " از *منصف ہاشمی*
200: سرمئی سائے " از *منظر مفتی*
201: منظر اک بلندی پر " از *منظر مفتی*
202: دیرو حرم " از *منظور احمد منظور*
203: تنہا میں کھڑا ہوں " از *منظور بنجمن گل*
204: کانٹوں میں جگنو " از * *میمونہ روحی*
205: سرکتے موسم " از *میمونہ روحی*
206: اضطراب" از *نادر جاجوی*
207: ہمیشہ " از *ناز فاطمہ*
208: یادوں کی بارش " از *ناصر نظامی*
209: صلیب گر " از *ناصر نظامی*
210: الاؤ " از *نذر جاوید*
211: ترے طلوع کا لمحہ " از *نصرت صدیقی*
212: لمحہ موجود " از *نصرت صدیقی*
213: ہوا کی چاپ " از *نعیم ثاقب*
214: زنبیل سخن " از *نور محمّد نور کپور تھلوی*
215: جہان رنگ و نور " از *نور محمّد نور کپور تھلوی*
216: تھوہر کے پھول " از *نور محمّد نور کپور تھلوی*
217: آئینہ خاموش تھا " از *واصل ہاشمی*
218: ہم آگ چراتے ہیں " از *وحید احمد*
219: نگران آنکھیں " از *محمّد یعقوب مظہر گل*
220 فصیل ضبط " از * اکرم باجوہ*
221: تہجد سے ذرا پہلے " از *ریاض احمد پرواز*
222: خلد نعت " از *آصف بشیر چشتی*
223: روشن آواز " از سکندر ایاز سید*
224: ولا کی خوشبو " از *عارف رضا*
225 صحیفہ عقیدت " از *بشیر احمد قادری*
226: بہار گنبد خضرا " از *رشید ہادی*
227: قندیل مدحت " از *احمد شہباز خاور*
228: نکہت نعت " از *ریاض احمد قادری*
229: نعت میرا بھرم " از *محمود مفتی*
230: نوید حضوری " از منیر احمد خاور*
231: خامہ مژگاں" از *حافظ لدھیانوی*
232: ڈوبتے بدن کا حاصل" از *ریاض مجید*
233: قرض شجر"۔۔ رقص بہار " از *احسان رانا*
234: چاندنی اے چاندنی از *شکیب جلالی
235: کشف نعت از * زاہد سرفراز زاہد*
236:نواۓ ظہوری از *محمد علی ظہوری قصوری*
237: وسیلہ بخشش از *ڈاکٹر مقصود احمد عاجز*

24/12/2025

السلام_علیکم
کلیات_اقبال
بال_جبریل

دلِ بیدارِ فاروقی، دلِ بیدارِ کرّاری
مسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری

معانی:دلِ بیدار: جاگتا ہوا دل۔فاروقی: حضرت عمر فاروقؓ جیسا۔
کرّاری: حضرت علی حیدرِ کرّارؓ جیسا۔مس: تانبا۔کیمیا: سونا بنانے والی چیز۔بیداری: جاگنا۔

مطلب:اقبال کے نزدیک جس انسان کا دل بیدار ہو جائے اور شعورِ ذات پیدا ہو جائے، اس میں حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت علی حیدرِ کرّارؓ جیسے اوصاف و خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ دل کی بیداری انسان کے لیے ایسی ہی شے ہے جیسے تانبے کے لیے کیمیا، جو تانبے کو سونا بنانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ دل کی بیداری شعورِ ذات اور تکمیلِ ذات کی حامل ہوتی ہے۔

دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری

معانی:خوابیدہ: سویا ہوا۔ضرب: چوٹ۔

مطلب:اس شعر میں اقبال پہلے شعر کے حوالے سے مسلمان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جب تک دل بیدار نہیں ہوتا اور خوابیدہ ہے، یہ سمجھ لے کہ دشمن کے خلاف نہ تیرا وار کارگر ہوگا اور نہ میرا وار کارگر ہو سکے گا۔ اس لیے دل کی بیداری شرطِ اوّل ہے۔

مشامِ تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس کا
ظن و تخمین سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تاتاری

معانی:مشامِ تیز: تیز سونگھنے کی قوت۔ظن و تخمین: اندازہ۔آہوئے تاتاری: تاتار (ترکستان) کا ہرن۔

مطلب:منزلِ مراد تک پہنچنے کے لیے مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب انسان حالات کا درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ محض اندازوں سے بات بننا مشکل ہے۔

اس اندیشے سے ضبطِ آہ میں کرتا رہوں کب تک
کہ مُغ زادے نہ لے جائیں تری قسمت کی چنگاری

معانی:اندیشے: ڈر۔ضبطِ آہ: آہ کو روکنا۔مُغ زادے: شراب بنانے والوں کی اولاد، یعنی انگریز۔

مطلب:میں اب تک جو اظہارِ حقیقت نہ کر سکا، اس کی وجہ محض یہ خدشہ تھا کہ میرے افکار سے کہیں غیر مسلم فائدہ نہ اٹھا لیں، جب کہ اپنے عہد کے مسلمانوں کی بے حسی کا مجھے پہلے ہی اندازہ تھا۔ تاہم اب میرے لیے ممکن نہیں رہا کہ اسی خدشے کی بنا پر اظہارِ حقیقت سے مسلسل گریز کرتا رہوں۔

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیّاری ہے، سلطانی بھی عیّاری

معانی:عیّاری: چالاکی۔

مطلب:اس شعر میں اقبال خداوندِ عزوجل سے مخاطب ہو کر استفسار کرتے ہیں کہ اے مالکِ حقیقی! آج کے عہد میں درویشی بھی عیّاری سے پاک نہیں رہی اور بادشاہت بھی عیّاری کے سوا کچھ نہیں۔ اس صورتِ حال میں ہم جیسے سادہ دل انسان کہاں جائیں؟ مراد یہ ہے کہ درویش اپنے حقیقی فرائض سے غافل ہیں اور بادشاہ اپنے منصب کا احترام نہیں کر رہے۔

مجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی
کہ ظاہر میں تو آزادی، باطن میں گرفتاری

معانی:تہذیبِ حاضر: جدید یورپی طرزِ زندگی۔گرفتاری: غلامی۔

مطلب:اس ساری صورتِ حال میں ایک بات واضح ہے کہ تہذیبِ حاضر نے بظاہر انسان کو آزادی عطا کی ہے، لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ آزادی عملاً غلامی سے بھی بدتر ہے۔

تو اے مولائے یثرب! آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زنّاری

معانی:دانش: عقل۔افرنگی: انگریزی۔زنّاری: ہندوانہ۔

مطلب:اس سارے پس منظر میں اقبال ایک طرح کی مایوسی کے عالم میں خداوندِ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے ہیں کہ میری سوچ انگریزی تہذیب و دانش سے متاثر ہے اور عقائد پر بھی غیر مسلم تہذیب کا سایہ ہے۔ اس لیے اے باری تعالیٰ! تو ہی میری مدد فرما کہ میں سچائی کی راہ پر گامزن ہو سکوں۔

24/12/2025

السلام_علیکم
کلیات_اقبال
بال_جبریل

خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیں
جو ناز ہو بھی تو بے لذّتِ نیاز نہیں

معانی:کبر و ناز: تکبر اور فخر۔لذّتِ نیاز: عاجزی کا مزا

مطلب:جس انسان کا ضمیر خودی کے جذبے سے مخمور ہوتا ہے، اس میں نہ غرور ہوتا ہے نہ ہی وہ اپنی ذات پر فخر کرتا ہے۔ بالفرض کسی مرحلے پر فخر بھی عود کر آئے تو اس میں بھی عملاً نیازمندی کا پہلو شامل ہوگا۔ اس شعر کو آسان اور سہل الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں میں سچائی کو راہ دکھانے کی اہلیت ہوتی ہے، وہ کسی مرحلے پر بھی کبر و غرور سے بالاتر رہتے ہوئے ہمیشہ نیازمندی اور انکساری سے کام لیتے ہیں۔ یہی عمل ان کی عظمت کی دلیل بن جاتا ہے۔

نگاہِ عشق، دلِ زندہ کی تلاش میں ہے
شکارِ مردہ، سزاوارِ شاہباز نہیں

معانی:سزاوارِ شاہباز: باز کے لائق نہیں

مطلب:عشقِ حقیقی ہمیشہ زندہ دل لوگوں کا وطیرہ ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے شہباز مردہ جانور پر جھپٹنے کے بجائے محوِ پرواز پرندے کا شکار کرتا ہے۔

مری نوا میں نہیں ہے ادائے محبوبی
کہ بانگِ صورِ سرافیل دل نواز نہیں

معانی:محبوبی: دل کشی۔دل نواز: دل لبھانے والی

مطلب:اس شعر میں اقبالؒ صورِ اسرافیل کے حوالے سے اپنی نغمہ گری کے ضمن میں ایک اہم بات کہتے ہیں کہ قیامت کے روز جس طرح حضرت اسرافیلؑ کے صور پھونکنے سے تمام مردے اس خوفناک آواز پر زندہ ہو اٹھیں گے، اسی طرح میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے اشعار کی لے بھی تلخ نوائی کی حامل ہے، کیونکہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔

سوالِ مے نہ کروں ساقیِ فرنگ سے میں
کہ یہ طریقۂ رندانِ پاکباز نہیں

معانی:سوالِ مے: شراب مانگنا۔
رندانِ پاکباز: پاکیزہ شراب پینے والے

مطلب:اقبالؒ فرماتے ہیں کہ یورپی استعمار پرستوں سے میں کسی قسم کی بھیک کا طلبگار نہیں ہو سکتا، کیونکہ اہلِ حق اور آزاد لوگوں کے لیے کسی کے روبرو بھی دستِ سوال دراز کرنا ان اصولوں کے منافی ہے جو آزادی پر کامل یقین رکھتے ہیں اور موت کو غیروں کی غلامی پر ترجیح دیتے ہیں۔

ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومتِ عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں

مطلب:اقبالؒ کے بقول عشقِ حقیقی کا جذبہ ہر دل میں راہ نہیں پا سکتا، کیونکہ اس کا زمانہ سازی اور منافقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ عشقِ حقیقی تو صرف انہی دلوں میں موجزن ہوتا ہے جو اس کی لطافت اور پاک بازی کا شعور رکھتے ہیں، اور دنیا میں ایسے لوگوں ک

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہء اردو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share