BSO Pajjar University of Karachi Unit

BSO Pajjar University of Karachi Unit karachi university unit

18/11/2023

#آواران جھاؤ
گرینڈ شمولیت پروگرام میں قائد طلبہ بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین بوہیر صالح بلوچ شرکاء سے خطاب فرما رہے ہیں

13/11/2023

رہشون ✌🏻
بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین بوہیر صالح بلوچ کا جلسہ عام سے تربت یونیورسٹی کے انتظامیہ کے حوالے سے واضع اور دو ٹوک موقف

بی ایس او پجار ءِ بنجاھی سروک بوہیر صالح بلوچ ءَ جھاؤ ءُ آواران ءِ سر زمین ءَ وش اتک گوشاں۔
13/11/2023

بی ایس او پجار ءِ بنجاھی سروک بوہیر صالح بلوچ ءَ جھاؤ ءُ آواران ءِ سر زمین ءَ وش اتک گوشاں۔

BSO Pajjar Karachi Zone,خوش خبری،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وہ تمام طلباء و طالبات کو آگاہ کیا جاتا ہے جنہوں حال ہی میں...
30/10/2023

BSO Pajjar Karachi Zone,
خوش خبری،
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وہ تمام طلباء و طالبات کو آگاہ کیا جاتا ہے جنہوں حال ہی میں ایف اے، ایف سی پاس کی ہے ان کے لیے نادر موقع ہے کہ جامعہ کراچی کے سیشن دو ہزار چوبیس، بی ایس ترڈ ایئر، اور بی ایس سیکنڈ ایئر کے لیے مختلف ڈیپارٹمنٹ کا ٹیسٹ بیس کی بنیاد پر آنلائن ایڈمیشن اوپن ہو چکے ہیں اور ان تمام تر معلومات و مدد کے لیے بی ایس او پجار کراچی زون نے ایڈمیشن کمیٹی تشکیل دے دی ہے رہنمائی و مدد کے لیے نیچے دی گئی نمبروں سے آپ برائے راست رابطہ کر سکتے ہیں

بی ایس او پجار کراچی کے دوستوں کا آرٹس کونسل کراچی میں پروگرام کے بعد اپنے سیاسی و فکری استادوں بابائے بلوچستان اور میر ...
25/08/2023

بی ایس او پجار کراچی کے دوستوں کا آرٹس کونسل کراچی میں پروگرام کے بعد اپنے سیاسی و فکری استادوں بابائے بلوچستان اور میر جمہوریت کے سیاسی وارثوں کے ساتھ سیاسی گپ شپ

25/08/2023

آرٹس کونسل کراچی حسینہ معین آڈیٹوریم سے ایک مختصر سا کلپ،،
بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میر جمہوریت میر حاصل بزنجو کی برسی پر آرٹس کونسل کراچی میں تقریب کے مہمان خاص نیشنل پارٹی کے سربراہ جناب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ خطاب فرما رہے ہیں

آدرش :-واحد رحیم بلوچ سابق چیرمین بی ایس او پجار :بابائے استمان ،بابائے بلوچستان امیر کارواں ،فکری پیشوا میر غوث بخش بزن...
11/08/2023

آدرش :
-واحد رحیم بلوچ سابق چیرمین بی ایس او پجار :
بابائے استمان ،بابائے بلوچستان امیر کارواں ،فکری پیشوا میر غوث بخش بزنجو کو خراج عقیدت پیش کرنے سے قبل میر صاحب کو اس مقام تک پہنچانے اسکی پرورش کرنے تعلیم و تربیت میں بنیادی کردار کرکے کے اعلی و بلند شخصیت بنانے والی ممتا کی آغوش فراہم کرنے والی عظیم انسان میر صاحب کی والدہ اماں "دربی بی" کو سلام عقیدت پیش کرنا چاہونگا۔ جس کی بدولت ہمیں عظیم قائد ،مفکر ،استاد اور جہد کار نصیب ہوا۔ میر غوث بزنجو کی نصف صدی پر محیط سیاسی زند اور اس کے کارناموں کی فہرست کا احاطہ کرنا میری بس کی بات ہے نہ ایسے الفاظ کا ذخیرہ موجود ہے جس پر اظہار خیال کروں۔ البتہ فکر بزنجو سے وابستہ ایک ادنی سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے چند ایسے واقعات کا ذکر کرنا مقصود ہے جس سے امیر کارواں کی زندگی سیاست اور شخصیت پر اثر انداز ہوئے ہیں ۔ اول الذکر میں میر صاحب کا جنم جو 1918میں ہوا جو انقلابی عہد تھا 1917سوویت انقلاب کے اثرات کا زمانہ رہا۔ دوسرا اپنے خاندان میں اکلوتا فرزند جو اپنے والد کے سائے سے ایک سال کی عمر میں محروم رہا پھر وراثتی زمینی ملکیت کا واحد مالک و وارث بن جانا وہ بھی ایسے دور میں جہاں پسماندگی ،جہالت فرسودہ قبائلی پیداوری رشتوں کے سبب ملکیت اس کی جان کا دشمن بن چکا ہو بقول "میر صاحب"یوں میری بچپن میں میری پرورش ہی نہیں بلکہ مجھے ایک باپ کا تحفظ اور توجہ فراہم کرنا بھی میری والدہ کا نصیب ٹہرا۔میری ملکیت زمینیں جو میں نے والد سے ورثے میں حاصل کی تھی،کی حرص رکھنے والوں کے لئیے میں آسان ہدف بن گیا تھا۔میرے بچپن اور بلوغت کے انتہائی مشکل اور بیشتر اوقات خطرناک مراحل سے گزرنے اور مجھے وہ بنانے میں جو میں آج ہوں ،میری والدہ کا حصہ حقیقتا غیر معمولی ہے۔
میں تقریبا چار برس کا تھا جب قسمت نے بالکل غیر متوقع طور پر میرا ساتھ دیا۔سال 1922 کے لگ بھگ قلات میں برٹش پولیٹیکل ایجنٹ کرنل کیس غلامی کے خاتمے کا سرکاری اعلان کرتے ہوئے ریاست کا دورہ کررہے تھے۔ جی ہاں ،اس وقت ہمارے معاشرے میں یہ عقوبت رائج تھی، بیلہ سے مکران کے راستے کرنل کیس جھاؤ سے گزرے ۔میری والدہ نے مجھے ان کے پاس لے گئیں اور انھیں ہماری دشمنی کی داستان کہہ سنائی۔کرنل میری زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے کورٹ آف وارڈ کا انتظام کرنے مجھے سکول کی تعلیم کے لئیے کوئٹہ بھجوانے کا وعدہ کیا۔یوں ایک حیرت انگیز اتفاق سے، میرے رشتے داروں کے ہاتھوں قتل کے خطرے سے رہائی،قلات میں غلامی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہم وقت ہوئی۔ذومعنویت گہری تھی۔میرے نجات دہندہ برٹش نوآبادیاتی حکومت کے ایک افسر تھے۔وہی حکومت جس کی آنے والے برسوں میں مجھے تحریک آزادی کے ایک متحرک کے طور پر مخالفت کرنی تھی۔کرنل کیس اپنے عہد کے سچے ثابت ہوئے ۔چھے مہینے بعد ایک کورٹ آف وارڈ میری زمینوں کا انتظام سنبھال لیا۔مجھے کوئٹہ بھیج دیاگیا اور سنڈیمن ہائی سکول میں داخل کروادیا گیا ۔
تیسرا واقع میر صاحب فرماتے ہیں۔ 1925سے 1935تک میں سنڈیمن ہائی سکول کوئٹہ میں تعلیم حاصل کرتا رہا اور اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پزیر رہا۔1935میں ایک زلزلے نے کوئٹہ شہر کو تباہی کردیا اور اسے ملبے کا ڈھیر بنادیا(جس میں میر یوسف علی عزیز مگسی بھی ہم سے جدا ہوئے)اس قدرتی آفت میں بہت کم لوگ بچ پائے تھے۔میری اور میں بچ جانے والے چند خوش نصیبوں میں سے تھے۔ہم کوئٹہ میں مزید نہیں ٹہر سکتے تھے۔اس لئیے ہم کراچی روانہ ہوگئے جہاں میں نے مشہور سندھ مدرسہ ہائی سکول میں اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔سنڈیمن ہائی سکول میں میں فٹبال کا اچھا کھلاڑی بن چکا تھا۔میں نے سنڈیمن فٹ بال کلب میں ایک مقام حاصل کرلیا تھا۔ کلب کی ٹیم کے رکن کے طور پر میں کلکتہ اور پنجاب کے بعض مقامات پر ٹورنامنٹس میں کھیلا۔
فٹبال اور علیگڑھ
ایک مرتبہ ایک اتفاقی واقع ہوا اور اس نے میری زندگی کے اگلے مرحلے کا اسٹیج تیارکیا۔یہ واقع میرے سندھ مدرسہ میں داخلے کے ایک سال بعد وقوع پزیر ہوا۔
1936 میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایک فٹبال ٹیم کراچی ائی۔اس کے ہمراہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاالدین احمد بھی تھے۔علیگڑھ ٹیم اور این ای ڈی ٹیم کے درمیان ایک دوستانہ میچ میں میں موخر الذکر کی جانب سے کھیلا تھا۔ہماری ٹیم اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار علیگڑھ ٹیم کے ساتھ میچ برابر کرنے میں کامیاب رہی۔ میری انفرادی کارکردگی نے خصوصی توجہ حاصل کی،اس قدر کہ علی گڑھ کے طلباء نے ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی کہ مجھے مزید تعلیم حاصل کرنے کی لئیے علی گڑھ یونیورسٹی آنے کی دعوت دی جائے۔ظاہر ہے مجھے فٹبال اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہتے تھے۔اتفاق یہ ہوا کہ ایک سینئر خاندانی رشتہ دار جام مقبول خان کے بیٹوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئیے علیگڑھ جانا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دینے کے لئیے جام صاحب کو راضی کرلیا۔جام صاحب نے اپنی رضامندی دےدی اور 1937میں میں علی گڑھ کے لئیے روانہ ہوا۔
علی گڑھ میں فٹ بال میری پہلی محبت رہا۔میں ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں کئ فرسٹ کلاس میچوں میں کھیلا نہ صرف علی گڑھ یونیورسٹی کے لئیے بلکہ دہلی کے کریسنٹ فٹبال کلب کے لئیے بھی۔ یہ میچز مجھے بنگال، بہار،یوپی،پنجاب،بمبئ(ممبئ),جےپور،بھوپال اور مزید جنوب میں حیدرآباد ،مدارس،بنگلور اور میسور کے گئیے۔ان مواقع نے مجھے برصغیر کو اس کے مسحورکن حد تک گوناگوں سماجی،ثقافتی،اقلیتی،جغرافیائی اور سیاسی رنگوں کو جاننے کا نایاب موقع فراہم کیا۔کھیل کے میدان میں میں نے فٹبال کھیلا اور میدان سے باہر میل جول ہر قسم کے لوگوں سے ہوا۔میں نے ان کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کیا اور بہت کچھ سیکھا جس کا اگر میں قلات بلوچستان کی قبائلی تنہائی میں سویا رہتا تو خواب بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔
برصغیر کے وسیع کینوس پر کھل کر سامنے آتے سیاسی واقعات میرے اثر قبول کرنے والے نوجوان زہن پر بتدریج گہرے نقوش ثبت کررہے تھے۔ علیگڑھ یونیورسٹی ہندوستان کے دیگر ہم عصر تعلیمی مراکز کی طرح سیاست کا گڑھ تھی۔طلبہ میں سیاسی سوچ کے سختی سے بیان یا واقع کئے گئے دو گروہ رائج تھے۔ایک مسلمانان ہند کی الگ قومیت کی بنیاد پر آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست تھی جبکہ دوسری انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت یافتہ ہندوستانی قوم پر مبنی سیکولر سیاست تھی۔میں دو وجوہات کی بناپر دوسری جانب راغب ہوا۔پہلی یہ کہ میں فٹبالر تھا اور میرا مختلف مزاہب،ذاتوں،،نسلوں،فرقوں اور علاقوں کے دوسرے کھلاڑیوں سے مسلسل میل جول رہتا تھا جس نے میری سوچ اور شعور کو وسعت دینے والی جہت دے دی تھی۔ دوسرے میری پیدائش اور پرورش بلوچ معاشرے میں ہوئی تھی جہاں قبائلی روایات اور اقدار ،مزہبی اعتراضات اور سختیوں کے مقابل زیادہ اہمیت رکھتی تھیں۔میں انڈین نیشنل کانگرس کی سیکولر سیاست کے فلسفے کی تائید کرتے ہوئے قوم پرست طلبا کے ساتھ سرگرمی سے شریک ہوا۔
علی گڑھ سے چھٹیاں گزارنے واپس آنے پر کراچی میں قائم شدہ "بلوچ لیگ "کے ساتھ جڑ جانا اور اس کی جانب سے نمائندہ بن کر 1939 میں مستونگ کے مقام پر قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کے جلسے میں شامل ہونے کی غرض سے آمد ۔جہاں خان اور اس کے سرداروں کی جانب سے جلسے کو منتشر کرنے کی غرض سے نیشنل پارٹی کے قائدین کی گرفتاری ،علاقہ بدری میں میر غوث بخش بزنجو شامل رہے ۔یوں علی گڑھ میں تعلیم ادھورا چھوڑ کر نہ بلوچ و بلوچستان کی قومی جمہوری جدوجہد سے ہمیشہ کے لئیے وابستہ ہوئے بلکہ ملکی و بین القوامی طور پر مظلوم قوموں محکوم طبقات کی توانا آواز بن کر آخری دم تک ثابت قدمی ،بے باکی ،دوراندیش ،وسیع نظر لیڈر کے طور پر جہد مسلسل کے ساتھ برسرپیکار رہے۔
آخری بات میر صاحب کے حوالے سے جو آج 11اگست کے دن ہم سے ہمیشہ کے لئیے جدا ہوگئے۔ 11اگست کا میر غوث بخش بزنجو کی زندگی ،سیاست ، افکار ،کردار اور شخصیت سے ایک تاریخی جڑت رہی۔ 11اگست 47کو برطانوی استعمار سے قلات اسٹیٹ (بلوچستان)کی آزادی کا اعلان ہوتا ہے۔ پھر ریاست قلات کی اسمبلی دارالعوام میں میر صاحب قلاست اسٹیٹ نیشنل پارٹی کا قائد ایوان بن کر پاکستان کے ساتھ الحاق کی مخالفت میں تاریخی خطاب کرتا ہے ۔میر صاحب الحاق پاکستان کے خلاف مزاحمت کرتا ہے اور اسکی ہر سطح پر وکالت کرتے پھرتا ہے ۔ سیاست ،وطن اور اہل وطن سے عشق کا سبب11اگست ہی بنتا ہے ۔بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ جبری الحاق یا سازشی حربوں کے زریعے ادغام کا تاریخی دستاویز قلات اسمبلی میں بابا بزنجو کی وہ تقریر سے منسوب ہے۔ہر وقت میر صاحب کے گفتگو میں 11اگست کا حوالہ ملتا ہے ۔گویا بابا بزنجو کے سچا عشق کی انتہا دیکھئیے بالآخر 11اگست ہی وصال خاک ہوگئ ۔
"یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا " غالب

زندگی بھر وطن و اہل وطن سے عشق کرتا رہا اس میں کہاں تک کامیاب رہا اس کا فیصلہ عوام کرینگے (بابائے بلوچستان)بابائے بلوچست...
11/08/2023

زندگی بھر وطن و اہل وطن سے عشق کرتا رہا اس میں کہاں تک کامیاب رہا اس کا فیصلہ عوام کرینگے (بابائے بلوچستان)

بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے چونتیسویں برسی پر ان کی قومی خدمات، بلوچ قوم سے والہانہ محبت اور قربانیوں پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،
بی ایس او پجار بابائے بلوچستان عظیم سیاسی رہنماء میر غوث بخش بزنجو کے فلسفہ کو آگے لے کر چلیں گی ۔ بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں ۔

حب/نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق چیئرمین بی ایس او واحد رحیم بلوچ سے آج بی ایس او(پجار) کے سینئر رہنما شمس الحق بلوچ ک...
24/06/2023

حب/نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق چیئرمین بی ایس او واحد رحیم بلوچ سے آج بی ایس او(پجار) کے سینئر رہنما شمس الحق بلوچ کراچی یونیورسٹی کے یونٹ سیکرٹری سلمان بلوچ کی ملاقات،تنظیمی و سیاسی صورتحال پر گفتگو،چیئرمین واحد رحیم بلوچ نے طلباء سیاست و درپیش مسائل پر آگائی فرائم کی اور بی ایس او(پجار) کی کارکردگی کو سہرایا

شال ،،بی ایس او پجار کا 24 واں مرکزی کونسل سیشن کے دوسرے دن پر ملکی اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال پر کراچی زون کی طرف س...
10/06/2023

شال ،،
بی ایس او پجار کا 24 واں مرکزی کونسل سیشن کے دوسرے دن پر ملکی اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال پر کراچی زون کی طرف سے سینئر ممبر شمس بلوچ اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہوئے

Address

Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BSO Pajjar University of Karachi Unit posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share