Rose Heaven Educational Society

Call Directions Website Contact the university

Rose Heaven Educational Society The only official page of Rose Heaven Educational Society (RHES) (Regd.). The only official page for RHES.

For further assistance and queries please visit:

http://roseheaven.weebly.com/

01/10/2026

📚 خدارا! اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کی طرف بھی ذرا توجہ دیجئے

محترم والدین و سرپرستانِ گرامی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے آپ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خیریت و عافیت سے ہوں گے۔ 🤲

آج ایک نہایت اہم اور سنجیدہ موضوع پر آپ کی خصوصی توجہ درکار ہے۔ ہمارا مقصد صرف آپ کو اطلاع دینا نہیں بلکہ آپ کے ساتھ مل کر آپ کے بچوں کی تعلیمی ترقی، تربیت اور روشن مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔

📝 ششماہی امتحانات کی تیاری

جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ششماہی امتحانات برائے تعلیمی سال 2027-2026 ء کا آغاز ان شاءاللہ 14 اکتوبر 2026ء سے ہو رہا ہے۔

امتحانات کے سلیبس اور شیڈول کو تقریباً تین ہفتے قبل ہی جاری کر دیا گیا تھا، تاکہ بچوں کو بھرپور تیاری کے لیے مناسب وقت مل سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمارے کہنہ مشق، محنتی اور ذمہ دار اساتذہ روزانہ کی بنیاد پر بچوں کی امتحانی تیاری کا جائزہ لینے کے لیے مختلف مضامین کے ٹیسٹ لے رہے ہیں۔

📖 ٹیسٹ کی تیاری کے لیے باقاعدہ ہوم ورک ڈائری لکھوائی جاتی ہے، جبکہ ڈائری کا ہوم ورک واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بھی آپ کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے، تاکہ گھر پر بھی بچے کی تعلیمی سرگرمی کی نگرانی ممکن ہو۔

⚠️ بعض بچوں کی کمزور کارکردگی — والدین کی توجہ ضروری

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض طلبہ ایسے ہیں جو مسلسل ٹیسٹوں میں ناکام ہو رہے ہیں یا اپنی صلاحیت کے مطابق بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔

یقیناً ہر بچے/بچی کی صورتحال اور مسائل مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن بعض اوقات گھر پر مناسب نگرانی اور والدین کی عدم توجہی بھی بچے/بچی کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

اس لیے براہِ کرم صرف یہ نہ دیکھیں کہ بچہ/بچی روزانہ اسکول جا رہا/رہی ہے، بلکہ یہ بھی ضرور دیکھیں کہ:

✅ ہوم ورک مکمل کر رہا/رہی ہے یا نہیں؟
✅ روزانہ سبق کی دہرائی کرتا/کرتی ہے یا نہیں؟
✅ ڈائری میں دیا گیا کام باقاعدگی سے کرتا/کرتی ہے یا نہیں؟
✅ ٹیسٹ میں کتنے نمبر حاصل کر رہا/رہی ہے؟
✅ کن مضامین میں اسے دشواری پیش آ رہی ہے؟
✅ اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کر رہارہی ہے یا نہیں؟
✅ امتحانات کے لیے باقاعدہ تیاری کر رہا/رہی ہے یا نہیں؟

یاد رکھئے! بچے/بچی کی تعلیم صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اسکول اور والدین دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 🤝

🏫 اسکول اور والدین — ایک پیج پر ہونا ضروری ہے

محترم والدین!

بچے/بچی کی کامیابی اس وقت زیادہ یقینی ہوتی ہے جب والدین، اساتذہ اور بچہ/بچی ایک ہی مقصد کے ساتھ ایک پیج پر ہوں۔

اگر آپ کو محسوس ہو کہ ادارے کے کسی ٹیچر کی جانب سے آپ کے بچے/کی بچی کے سلسلے میں کوئی کوتاہی یا مسئلہ درپیش ہے تو براہِ کرم خاموش رہنے کے بجائے بلا جھجھک براہِ راست مجھ سے رابطہ کریں۔

آپ اپنا مسئلہ میرے سامنے رکھیں۔ میں پوری توجہ سے اس کا جائزہ لینے اور مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔

بچوں کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے معاملے میں، میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتا۔

اسی طرح اگر بچے/بچی کو کسی مضمون میں دشواری ہو، ٹیسٹ میں مسلسل کم نمبر آ رہے ہوں، پڑھائی میں دلچسپی کم ہو گئی ہو یا کوئی اور تعلیمی مسئلہ ہو تو ہمیں ضرور آگاہ کریں، تاکہ بروقت اس کی رہنمائی کی جا سکے۔

🚫 بلاوجہ چھٹی سے گریز کریں

امتحانات کی تیاری کے اس اہم مرحلے میں بچوں کی بلاوجہ غیر حاضری سے خصوصی طور پر گریز کریں۔

ایک دن کی غیر حاضری بعض اوقات بچے/بچی کو کئی دن کی تعلیمی سرگرمی سے پیچھے کر دیتی ہے۔

اگر کسی بچے/بچی کو واقعی کوئی سنگین یا ناگزیر مسئلہ درپیش ہو تو براہِ کرم باقاعدہ رخصت کی درخواست ضرور ارسال کریں اور اسکول کو بروقت مطلع کریں۔

⏰ وقت کی پابندی اور مکمل یونیفارم

براہِ کرم اس بات کا بھی خصوصی خیال رکھیں کہ بچے/بچی:

👔 مکمل اور صاف ستھری یونیفارم میں آئیں۔
⏰ مقررہ وقت پر اسکول پہنچیں۔
🎒 ضروری کتابیں اور کاپیاں ساتھ لائیں۔
✏️ پین، پنسل اور دیگر اسٹیشنری موجود ہو۔
📖 ہوم ورک مکمل ہو۔
📝 ٹیسٹ کی تیاری مکمل ہو۔

اسکول روانہ کرنے سے پہلے چند لمحے نکال کر بچے/بچی کا بیگ ضرور چیک کر لیا کریں۔

یہ چھوٹی چھوٹی عادات بچے/بچی میں ذمہ داری، نظم و ضبط اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں۔

🌱 آج کی توجہ — کل کا روشن مستقبل

محترم والدین!

بچے/بچی کا مستقبل صرف اچھے اسکول میں داخلہ لینے سے نہیں بنتا۔ اس کے لیے:

والدین کی توجہ + استاد کی محنت + بچے/بچی کی اپنی کوشش = کامیاب مستقبل

ضروری ہے۔

روزانہ چند منٹ اپنے بچے/اپنی بچی کی ڈائری، ہوم ورک اور ٹیسٹ کے نمبروں کو دیکھنے میں صرف کرنا شاید معمولی عمل محسوس ہو، لیکن یہی چند منٹ آپ کے بچے/کی بچی کے تعلیمی مستقبل میں بہت بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔

اپنے بچے/اپنی بچی سے روزانہ پوچھئے:

💬 آج اسکول میں کیا پڑھا؟
💬 کیا ہوم ورک ملا؟
💬 کل کون سا ٹیسٹ ہے؟
💬 آج کے ٹیسٹ میں کتنے نمبر آئے؟
💬 کس مضمون میں مشکل پیش آ رہی ہے؟

اور سب سے بڑھ کر بچے/بچی کو یہ احساس دیجئے:

"بیٹا/بیٹی! ہم تمہاری پڑھائی میں تمہارے ساتھ ہیں۔" ❤️

آپ کی توجہ بچے/بچی کے لیے حوصلہ بھی ہے اور کامیابی کی بنیاد بھی۔

🤲 آئیے! مل کر اپنے بچوں کا مستقبل سنواریں

ہم آپ کے تعاون، اعتماد اور دعاؤں کے طلبگار ہیں۔

آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے بچوں کی تعلیم، تربیت، اخلاق، نظم و ضبط اور مستقبل کے معاملے میں اپنا کردار پوری ذمہ داری سے ادا کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے تمام بچوں کو علمِ نافع، بہترین اخلاق، کامیابی اور روشن مستقبل عطا فرمائے اور انہیں اپنے والدین، اساتذہ اور ملک و قوم کے لیے باعثِ فخر بنائے۔

آمین یا رب العالمین۔ 🤲

آپ کی دعاؤں کے متمنی

امتیاز علی ثاقب
پرنسپل و منتظمِ اعلیٰ
🏫 Rose Heaven Secondary School
🏫 New Rose Heaven School

28/09/2026

Celebrating my 10th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

There are moments when you are completely exhausted, when your body says, “Enough.” But leadership is not about never ge...
28/09/2026

There are moments when you are completely exhausted, when your body says, “Enough.”

But leadership is not about never getting tired.
It is about knowing when to pause, recharge, and continue.

I don’t believe in settling for “whatever happens, happens.”
I believe in taking responsibility for what I can change, working for what I believe in, and giving my best to the people and institution I am responsible for.

Last night, I was exhausted.
So I closed my eyes, took a step back, and reminded myself:

No one is coming to live my purpose for me.
No one can do my work for me.
And no one can build the future I envision on my behalf.

Then came the most sophisticated leadership strategy of the evening:

15 minutes in the massage chair. 😂

Battery recharged.
Mind reset.
Back to work.

Because strength is not about pushing yourself until you break.

Strength is knowing when to rest — and having the discipline to rise again.

Never stop growing.
Never settle for less than your potential.
Never let temporary exhaustion make permanent decisions for you.

Rest when you need to.
Reset when you must.
But keep moving forward.

Stay focused. Stay humble. Stay relentless.

22/09/2026

کمر نے آج اچانک بغاوت کر دی! 😄

آج صبح فجر کے وقت پیروں کے بل بیٹھ کر وضو کرنے کے بعد جیسے ہی اٹھنے کی کوشش کی، کمر نے اچانک ایسی ’’بغاوت‘‘ کی کہ سیدھا کھڑا ہونا بھی مشکل ہو گیا۔ 😅

بس پھر کیا تھا، کمر میں چُک پڑ گئی!

ہمارے ہاں اچانک کسی حرکت سے کمر میں شدید درد شروع ہو جائے تو اسے عموماً ’’چُک پڑ جانا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور اس کے علاج بھی بڑے دلچسپ اور روایتی ہیں۔ کسی نے مشورہ دیا کہ فلاں بزرگ سے لات لگوا لیں، کسی نے کوئی اور نسخہ بتایا۔ آخرکار میں نے بھی محلے کے ایک بزرگ سے یہ روایتی ’’علاج‘‘ کروا ہی لیا۔ 😄

ساتھ میں Caflam 50 mg کی ایک گولی لی، آرام کیا اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا کی۔ الحمدللہ، اب درد میں کچھ کمی ہے اور طبیعت بہتری کی طرف گامزن ہے۔

آج کمر نے روزمرہ کے معمولات میں کچھ رکاوٹ ضرور ڈالی، مگر انسان بھی عجیب مخلوق ہے؛ کل تک جو کام معمولی لگتے تھے، آج ایک قدم اٹھاتے ہوئے ان کی قدر معلوم ہو رہی ہے!

واقعی، صحت اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے، یہ اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب جسم کا کوئی ایک حصہ بھی ساتھ دینے سے انکار کر دے۔

بہرحال، زندگی کا سفر یونہی چلتا رہتا ہے؛
کبھی صحت، کبھی بیماری…
کبھی آسانی، کبھی آزمائش…
اور ہر حال میں ربِ کریم کا شکر۔

الحمدللہ علیٰ کل حال۔

ان شاء اللہ یہ تکلیف بھی چند دن کی مہمان ہے، جلد ہی کمر سیدھی ہوگی، قدم تیز ہوں گے اور دینی و دنیاوی مصروفیات پھر سے معمول پر آ جائیں گی۔ 😊

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ہر تکلیف کو اپنے فضل سے دور فرمائے، اور زندگی کے ہر حال میں شکر ادا کرنے کی توفیق دے۔

اور سب سے بڑھ کر،
ہم سب کا خاتمہ ایمانِ کامل پر فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔ 🤲

18/09/2026

الحمدللہ رب العالمین 🤲

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، رحمت اور بے پایاں مہربانی سے میرے پیارے بھتیجے مستجاب خان ایڈوکیٹ کا گلے کا آپریشن کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے۔ اس خوشی اور اطمینان کے موقع پر ہم سب بارگاہِ الٰہی میں سربسجود ہیں کہ اللہ پاک نے اپنی خاص رحمت سے یہ مرحلہ آسان فرمایا۔

میں دل کی گہرائیوں سے اپنے تمام دوستوں، رشتہ داروں، عزیز و اقارب اور مخلص احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، جنہوں نے مستجاب خان کے لیے دعائیں کیں، خیریت دریافت کی، حوصلہ دیا اور اپنے قیمتی وقت میں سے اس کے لیے دعائیہ کلمات نکالے۔
آپ سب کی محبت، خلوص اور دعاؤں نے اس مشکل گھڑی میں ہمارے حوصلے بلند رکھے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کی دعاؤں اور محبتوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ"

_"اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔"_

الحمدللہ، آپ سب کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مستجاب خان نے صحت یابی کی جانب پہلا اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ تاہم ابھی ریکوری کا مرحلہ باقی ہے، اس لیے آپ سب سے ایک بار پھر عاجزانہ گزارش ہے کہ اپنی خصوصی دعاؤں میں مستجاب خان کو یاد رکھیں اور اس کی مکمل، جلد اور آسان صحت یابی کے لیے دعا فرماتے رہیں۔

اللہ رب العزت مستجاب خان کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، ہر تکلیف اور پریشانی کو دور فرمائے، اسے لمبی، صحت مند اور بابرکت زندگی عطا فرمائے اور آنے والے تمام مراحل کو آسان فرمائے۔

یا اللہ! جس طرح آپ نے آپریشن کا مرحلہ کامیابی سے مکمل فرمایا، اسی طرح ریکوری کے ہر مرحلے کو بھی اپنی رحمت اور کرم سے آسان فرما۔ اسے مکمل صحت و تندرستی عطا فرما۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 🤲

آپ سب کی محبتوں، خلوص، دعاؤں اور حوصلہ افزائی کا دل کی گہرائیوں سے ممنون اور مقروض ہوں۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً
اللہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے اور آپ کی ہر نیک دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

🌿 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌿 میرے پیارے دوستو، احباب اور اہلِ دل! آج آپ سب سے ایک خصوصی دعائے خیر کی درخواست ہے۔ ...
18/09/2026

🌿 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌿

میرے پیارے دوستو، احباب اور اہلِ دل!

آج آپ سب سے ایک خصوصی دعائے خیر کی درخواست ہے۔ 🤲

آج بروز جمعہ، بعد از نماز جمعہ 3 بجے سے 4 بجے کے درمیان میرے انتہائی پیارے بھتیجے مستجاب خان ایڈوکیٹ کا گلے کا آپریشن شفا اسپتال، راولپنڈی میں ہونے جا رہا ہے۔

یہ ہمارے لیے یقیناً ایک آزمائش کی گھڑی ہے، لیکن ہمارا کامل یقین اور بھروسہ اپنے ربِ کریم کی رحمت و قدرت پر ہے۔ اس موقع پر آپ سب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مستجاب خان کو اپنی خصوصی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی

- ان کا آپریشن کامیاب فرمائے۔
- انہیں ہر قسم کی تکلیف، پریشانی اور پیچیدگی سے محفوظ رکھے۔
- تمام مراحل کو آسان فرمائے۔
- اپنی خاص رحمت اور کرم سے انہیں صحتِ کاملہ، عاجلہ اور دائمی عطا فرمائے۔
- انہیں جلد از جلد صحت یاب کرکے اپنے اہلِ خانہ کے درمیان خوش و خرم واپس لائے۔

یا اللہ! تو ہی شافی ہے، تو ہی کافی ہے۔
اپنے فضل و کرم سے مستجاب خان کو ایسی کامل شفا عطا فرما جس کے بعد کوئی بیماری باقی نہ رہے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 🤍

*اللّٰهُمَّ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا*

اے اللہ! اپنے محبوب بندے پر اپنا خاص کرم فرما، ان کے لیے آسانی پیدا فرما، آپریشن کو کامیاب فرما اور انہیں صحت و عافیت کی نعمت سے سرفراز فرما۔

آپ سب کی دعائیں ہمارے لیے اس مشکل گھڑی میں بہت قیمتی ہیں۔
براہِ کرم مستجاب خان کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً

طالبِ دعا
امتیاز علی ثاقب

16/09/2026

🌴اساتذہ کا اختیار، طلبہ کا نظم و ضبط، اور والدین و معاشرے کا رویّہ

اگر استاد کو کلاس میں نظم و ضبط قائم کرنے اور غلط رویّے پر مناسب طریقے سے اصلاح کرنے کا اختیار نہ دیا جائے، تو طلبہ میں قواعد کی پابندی اور ذمہ داری کا احساس کمزور ہو سکتا ہے۔

- والدین کی حد سے زیادہ مداخلت:
اگر والدین بچے کی ہر غلطی پر استاد کی اصلاح یا ڈانٹ پر اعتراض کریں، تو بچے کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ استاد کی بات کو سنجیدگی سے لینا ضروری نہیں۔

- اساتذہ پر پابندیاں:
اگر تعلیمی نظام استاد کو ہر قسم کی اصلاح یا تادیبی کارروائی سے روک دے، تو استاد کے لیے کلاس میں نظم قائم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
- بچے کا رویہ:
جب بچے محسوس کریں کہ ان کے غلط کام پر کوئی مناسب نتیجہ نہیں نکلے گا، تو وہ اپنے اعمال کی ذمہ داری لینے کے بجائے حدود کو نظر انداز کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

- استاد کو تعاون کی ضرورت:
استاد کو صرف پڑھانے والا فرد نہیں بلکہ بچوں کی تربیت اور کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرنے والا سمجھنا چاہیے۔ اس کے لیے اسے والدین، اسکول انتظامیہ اور معاشرے کا تعاون اور اعتماد درکار ہے۔

- اصل نقصان کس کا ہے؟
استاد کا اختیار کمزور ہونے کا نتیجہ صرف استاد کے لیے مسئلہ نہیں؛ اس کا اثر بچے کے نظم و ضبط، کردار اور مستقبل پر بھی پڑ سکتا ہے۔

"Respect the teacher. Restore the authority. Rebuild discipline."
یعنی:

استاد کا احترام کریں، اسے مناسب اختیار دیں، اور بچوں میں نظم و ضبط دوبارہ مضبوط کریں۔

15/09/2026

📜✨ محنت کا صلہ، صلاحیت کا اعتراف اور کامیابی کی خوشی — تقریبِ تقسیمِ اسناد ✨📜

یومِ دفاعِ پاکستان اور یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کی مناسبت سے منعقدہ مختلف مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات کے اعزاز میں 12 ستمبر 2026ء، بروز ہفتہ روز ہیون سیکنڈری اسکول کے ہال میں ایک خوبصورت، بامقصد اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

اس پروقار پروگرام میں روز ہیون سیکنڈری اسکول اور نیو روز ہیون اسکول کی صبح و دوپہر کی شفٹ کے طلباء و طالبات نے بھرپور جوش و خروش سے شرکت کی۔

🎤 تقریری مقابلہ میں ننھے مقررین نے اپنے پُراعتماد اندازِ بیان سے سب کو متاثر کیا۔

🧠 کوئز مقابلہ میں طلبہ نے اپنے علم، ذہانت اور حاضر جوابی کے خوب جوہر دکھائے۔

🎨 جبکہ پوسٹرز مقابلہ میں ہمارے ننھے فن کاروں نے رنگوں، تخلیق اور خوبصورت خیالات کے ذریعے حب الوطنی اور عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے جذبات کو دلکش انداز میں اجاگر کیا۔

🏆 اور پھر آیا وہ خوبصورت لمحہ…

جب آج 15 ستمبر 2026ء کو پوزیشن ہولڈرز کے ساتھ ساتھ مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام طلباء و طالبات میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔

محترم پرنسپل امتیاز علی ثاقب کے دستِ مبارک سے اپنی محنت اور صلاحیت کا اعتراف حاصل کرتے ہوئے طلبہ کے چہروں پر پھیلی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔ 😊

کسی کے ہاتھ میں سند تھی، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ، کسی کی آنکھوں میں فخر… اور کسی کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ:

😄 "یہ سند صرف کاغذ نہیں، ہماری محنت کی رسید ہے!"

اور وہ بچے جو اس بار مقابلوں میں حصہ لینے سے رہ گئے تھے، ان کے چہروں کو دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں:

😂 "ہائے! ہم نے بھی حصہ لے لیا ہوتا تو آج ہماری بھی تصویر بنتی، سند ملتی اور اتنی شاباشیاں ملتیں!"

لیکن یہی تو ایسے پروگراموں کی اصل خوبصورتی ہے۔ ❤️

یہ صرف انعامات یا اسناد تقسیم کرنے کی تقریب نہیں تھی، بلکہ یہ بچوں کو یہ پیغام دینے کا ایک خوبصورت موقع تھا کہ:

🌟 آپ کی محنت دیکھی جاتی ہے۔
🌟 آپ کی صلاحیت کی قدر کی جاتی ہے۔
🌟 آپ کی کوشش اہم ہے۔
🌟 اور آپ کے اندر آگے بڑھنے کی بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔

کامیابی صرف پہلی، دوسری یا تیسری پوزیشن حاصل کرنے کا نام نہیں۔
کسی مقابلے میں حصہ لینے کی ہمت کرنا، لوگوں کے سامنے اعتماد سے بات کرنا، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانا اور ہر تجربے سے کچھ نیا سیکھنا بھی کامیابی ہی کی ایک شکل ہے۔ 🌹

👏 تمام پوزیشن ہولڈرز کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد!

اور ان تمام طلباء و طالبات کو بھی خراجِ تحسین جنہوں نے مقابلوں میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ آپ سب اس کامیاب پروگرام کے اصل ستارے ہیں۔ ⭐

خصوصی طور پر تمام اساتذہ کرام داد و تحسین کے مستحق ہیں، جن کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور انتھک محنت نے طلبہ کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا۔

📸 آئیے! ان خوبصورت لمحات کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ کیجیے، جہاں ہمارے ہونہار طلبہ اپنی محنت کا صلہ اور کامیابی کی سند وصول کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

❤️ ایک بچے کے چہرے پر مسکراہٹ،
🏆 ایک ہاتھ میں کامیابی کی سند،
👏 اور اردگرد سے ملنے والی حوصلہ افزائی
یہی وہ لمحات ہیں جو ایک بچے کے اعتماد کو برسوں کے لیے مضبوط بنا دیتے ہیں۔

اور جو بچے اس بار رہ گئے ہیں… 😉

اگلی بار صرف تالیاں نہیں بجائیں گے، ان شاء اللہ سند بھی لیں گے! 🏆📜

🌟 آج کی شاباش، کل کی بڑی کامیابی کی بنیاد ہے!

🇵🇰 پاکستان زندہ باد
ختمِ نبوت ﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

13/09/2026

🇵🇰✨ الحمدللہ! ایک خوبصورت، بامقصد اور یادگار د اپنے اختتام کو پہنچا ✨🇵🇰

12 ستمبر 2026 بروز ہفتہ روز ہیون سیکنڈری اسکول کے خوبصورت ہال میں یومِ دفاعِ پاکستان اور یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کی مناسبت سے ایک شاندار، بامقصد اور یادگار پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں نیو روز ہیون اسکول اور روز ہیون سیکنڈری اسکول کے کلاس پنجم تا دہم کے طلباء و طالبات نے بھرپور جوش، دلچسپی اور جذبے کے ساتھ شرکت کی۔

یہ دن صرف ایک تقریب نہیں تھا بلکہ علم، حب الوطنی، عقیدت، تخلیقی صلاحیت، اعتماد اور صحت مند مقابلے کا حسین امتزاج تھا۔ کہیں بچوں کے ذہن تیزی سے سوالوں کے جواب تلاش کر رہے تھے، کہیں زبانیں تقریر کے لیے الفاظ سجا رہی تھیں اور کہیں ننھے فنکار پوسٹرز میں اپنے جذبات اور خیالات کو رنگوں کی زبان دے رہے تھے۔

یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہال میں صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ علم و صلاحیت کا ایک خوبصورت میلہ لگا ہوا ہو۔ 😊

📖 تقریب کا باقاعدہ آغاز

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ قرآنِ پاک کی تلاوت سے ہال کا ماحول نورانی اور روح پرور ہوگیا۔

تلاوتِ قرآنِ پاک کے بعد جناب پرنسپل محترم امتیاز علی ثاقب صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں یومِ دفاعِ پاکستان اور یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بچوں کو وطنِ عزیز پاکستان کی حفاظت، قربانیوں، قومی یکجہتی اور حب الوطنی کی اہمیت سے آگاہ کیا، جبکہ ختمِ نبوت ﷺ کے عقیدے کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے حوالے سے بھی طلباء و طالبات کی رہنمائی فرمائی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف کتابی علم دینا نہیں بلکہ ایسے باشعور، باکردار، ذمہ دار اور محبِ وطن افراد تیار کرنا بھی ہے جو اپنے دین، وطن اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرسکیں۔

🏆 پہلا مرحلہ — کوئز مقابلہ

پروگرام کے پہلے مرحلے میں کوئز مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلباء و طالبات نے اپنی معلومات، ذہانت، یادداشت اور حاضر جوابی کا شاندار مظاہرہ کیا۔

صبح کی شفٹ میں میزبانی کے فرائض نیو روز ہیون اسکول سے مس نازش ثاقب جبکہ روز ہیون اسکول سے مس صبا رحمن، مس نازش نعیم اور مس بسمہ نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

دوپہر کی شفٹ میں کوئز مقابلے کی میزبانی کی ذمہ داری جناب عبدالباعث صاحب، جناب کلیم اللہ صاحب اور جناب عدنان صاحب نے سنبھالی۔

تمام میزبانوں نے بچوں سے سوالات کرنے کا انداز نہایت نرم، واضح، پُراعتماد اور مؤثر رکھا۔ سوال پوچھتے وقت ایسا محسوس نہیں ہوا کہ بچوں سے کوئی سخت امتحان لیا جا رہا ہے، بلکہ یوں لگ رہا تھا جیسے محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ ان کے علم کو ذرا سا ٹیسٹ ڈرائیو کروایا جا رہا ہو! 😄

بچوں نے بھی اپنی ذہانت، یادداشت اور حاضر جوابی کا خوب مظاہرہ کیا۔ بعض مواقع پر جواب دینے کے لیے ہاتھ اتنی تیزی سے بلند ہوئے کہ محسوس ہوا کہ اگر مائیک کی تعداد زیادہ ہوتی تو شاید ہر بچے کو ایک ایک مائیک دینا پڑتا! 👏

⚖️ ٹائی کی صورت میں خصوصی انتظام

کوئز مقابلے میں اس بات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا کہ اگر کسی مرحلے پر دو یا زائد ٹیموں کے نمبر برابر ہوجائیں تو فیصلہ مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور انصاف کی بنیاد پر ہو۔

اسی مقصد کے تحت ٹائی کی صورت میں اضافی سوالات پوچھنے کی ذمہ داری محترم پرنسپل جناب امتیاز علی ثاقب صاحب نے خود اپنے ذمہ لی، تاکہ فیصلہ سازی میں مکمل غیر جانب داری اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔

ٹائی بریک کے مرحلے میں بھی بچوں نے بھرپور اعتماد اور جوش کا مظاہرہ کیا اور یوں مقابلے کا سنسنی خیز مرحلہ مزید دلچسپ ہوگیا۔

🎤 دوسرا مرحلہ — تقریری مقابلہ

کوئز کے بعد پروگرام کا دوسرا مرحلہ تقریری مقابلے پر مشتمل تھا۔

طلباء و طالبات نے یومِ دفاعِ پاکستان اور یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کے موضوعات پر نہایت اعتماد، جذبے اور خوبصورت انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کسی بچے کی آواز میں حب الوطنی کا جذبہ نمایاں تھا، کسی کے الفاظ میں عقیدت کی خوشبو تھی اور کسی کے اندازِ بیان نے حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔

خاص طور پر بچوں کا اسٹیج پر آکر اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کرنا اس بات کی علامت تھا کہ اگر بچوں کو مناسب مواقع، حوصلہ افزائی اور اعتماد دیا جائے تو وہ واقعی بہت کچھ کر دکھا سکتے ہیں۔

اور سچ یہ ہے کہ اس مرحلے پر صرف بچوں کا امتحان نہیں ہو رہا تھا، بلکہ کبھی کبھی سامعین بھی دل ہی دل میں فیصلہ کر رہے تھے کہ:

"اگر مجھے مائیک مل جائے تو میں بھی دو منٹ بول سکتا ہوں!" 😄

⚖️ منصفین کا اہم کردار

کوئز اور تقریری مقابلے میں جج کے فرائض نیو روز ہیون اسکول کی ہیڈ مسٹریس محترمہ فوزیہ جمیل صاحبہ، محترمہ رفعت ثاقب صاحبہ اور محترمہ صبا عدیل صاحبہ کو سونپے گئے۔

معزز جج صاحبان نے انتہائی ذمہ داری، غیر جانب داری، باریک بینی اور منصفانہ انداز میں بچوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور حتمی نتائج مرتب کیے۔

مقابلے کے نتائج کا اعلان کیا گیا اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی گئی۔

یقیناً جن بچوں کے نام پوزیشن ہولڈرز میں آئے، ان کے چہروں کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، جبکہ باقی بچوں کے لیے بھی یہ دن ایک قیمتی تجربہ اور آئندہ کے لیے مزید محنت کا پیغام بن گیا۔

پوزیشن حاصل کرنے والے اور مقابلے میں حصہ لینے والے تمام بچوں کو تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔

🎨 تیسرا مرحلہ — پوسٹر مقابلہ

پروگرام کا تیسرا اور نہایت دلچسپ مرحلہ پوسٹر مقابلہ تھا۔

انہی قومی، دینی اور اصلاحی موضوعات پر بچوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خوبصورت اور بامعنی پوسٹرز تیار کیے۔

بچوں نے بڑی دلچسپی اور محنت سے اپنے خیالات کو رنگوں، خاکوں اور تحریروں کے ذریعے پیش کیا۔

تیار کردہ پوسٹرز کو ہال میں نمائش کے لیے رکھا گیا، جس سے ہال کی خوبصورتی بھی بڑھ گئی اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں بھی سب کے سامنے آگئیں۔

پوسٹرز کی جانچ اور پوزیشن دینے کی ذمہ داری نیو روز ہیون اسکول سے مس فائزہ محمد اور مس نعمت سچل جبکہ روز ہیون سیکنڈری اسکول سے مس طاہرہ بشیر اور مس صبا عدیل کو سونپی گئی۔

ان تمام معلمات نے بڑی باریک بینی، توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ ایک ایک پوسٹر کا جائزہ لیا، نمبرنگ کی اور میرٹ کی بنیاد پر پوزیشنز مرتب کیں۔

یہ کام بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن جب سامنے درجنوں بچوں کے خوبصورت پوسٹرز ہوں تو فیصلہ کرنا یقیناً آسان نہیں ہوتا۔ بعض پوسٹرز کو دیکھ کر تو شاید فیصلہ کرنے والوں کے دل میں بھی یہی خیال آیا ہو:

"کاش پہلی پوزیشن پانچ بچوں کو دے سکتے!" 😊

پوسٹر مقابلے میں پوزیشن حاصل کرنے والے اور حصہ لینے والے تمام بچوں کو بھی تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔

🌹 تہہ دل سے شکریہ

تقریب کے اختتام پر محترم پرنسپل جناب امتیاز علی ثاقب صاحب نے اپنے اختتامی خطاب میں تمام شرکاء، اساتذہ، ججز، میزبانوں، طلباء و طالبات اور غیر تدریسی عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ دونوں اسکولوں کے بچوں اور اسٹاف نے مل کر اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

انہوں نے تمام بچوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس بات کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ مقابلے میں کامیابی صرف پوزیشن حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ حصہ لینا، سیکھنا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا بھی کامیابی ہے۔

اس موقع پر تمام میزبانوں، معزز جج صاحبان اور پوسٹرز کی جانچ کرنے والی معلمات کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی خلوص، محنت اور حسنِ انتظام کے ساتھ انجام دیں۔

اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے، ان کی محنتوں کو قبول فرمائے، انہیں صحت، خوشی، عزت اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

🌷 خصوصی شکریہ — محترمہ آسیہ عثمان صاحبہ

میں خصوصی طور پر ہیڈ مسٹریس محترمہ آسیہ عثمان صاحبہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا نہایت احسن طریقے سے خیال رکھا۔

تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز کی ذمہ داری بھی انہوں نے اپنے ذمے لی اور اسے نہایت خوبصورتی سے نبھایا۔

اسکول اور اس کی سرگرمیوں کے لیے محترمہ آسیہ صاحبہ کی خدمات یقیناً قابلِ فخر اور قابلِ تحسین ہیں۔

اسی طرح مس منیبہ بھی پوری تقریب کے دوران اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھاتی رہیں۔ ان کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔

🛡️ پریفیکٹس کا کردار

اس تقریب میں ہمارے پریفیکٹس نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے نظم و ضبط برقرار رکھنے، ماحول کو پرسکون رکھنے اور پروگرام کو بہتر انداز میں جاری رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔

اللہ تعالیٰ ہمارے ان بچوں کو ان کے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے، انہیں ذمہ دار، باکردار اور باصلاحیت شہری بنائے اور مستقبل میں بھی مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🌷 تمام اساتذہ، طلباء و طالبات اور غیر تدریسی عملے کا شکریہ

میں جملہ اساتذہ کرام، تمام طلباء و طالبات اور غیر تدریسی عملے کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس پروگرام میں اپنی موجودگی، تعاون اور بھرپور دلچسپی سے اسے کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔

کسی بھی ادارے کی کامیابی کسی ایک فرد کی کوشش سے ممکن نہیں ہوتی۔ یہ دراصل اساتذہ، طلباء، انتظامیہ اور معاون عملے کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔

الحمدللہ! آج کی تقریب نے بھی یہی ثابت کیا کہ جب سب ایک مقصد کے لیے مل کر کام کریں تو ایک عام دن بھی یادگار دن بن جاتا ہے۔

🇵🇰 ایک یادگار اختتام

صبح کی شفٹ ہو یا دوپہر کی، دونوں شفٹوں میں تقریب کا اختتام نہایت اچھے، منظم اور خوشگوار انداز میں ہوا۔

آج ہمارے بچوں نے صرف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا بلکہ انہوں نے اعتماد، نظم و ضبط، تحقیق، اظہارِ خیال، حب الوطنی، عقیدت اور تخلیقی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔

یقیناً کچھ بچے جیتے، کچھ پوزیشن حاصل کر سکے اور کچھ اس بار کامیاب نہ ہو سکے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو بچہ اسٹیج پر آیا، سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑا ہوا، تقریر کی یا اپنے ہاتھ سے پوسٹر بنایا، وہ کسی نہ کسی اعتبار سے کامیاب ضرور ہوا۔

کیونکہ مقابلے کی اصل کامیابی صرف پوزیشن حاصل کرنا نہیں بلکہ خود کو بہتر بنانا ہے۔ 🌹

میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان بچوں کو علمِ نافع، عملِ صالح، بہترین کردار، وطن سے محبت، دین سے وابستگی اور زندگی کے ہر میدان میں کامیابی عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، ہمارے وطن کی حفاظت فرمائے، ہمارے عقائد کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت و اتباع پر قائم رکھے۔ آمین۔ 🤲🇵🇰

آج کا دن گزر گیا، مگر اس کی یادیں، بچوں کی مسکراہٹیں، سوالات کے جوابات، تقریروں کی گونج اور رنگ برنگے پوسٹرز یقیناً بہت عرصے تک ہمارے ذہنوں میں تازہ رہیں گے۔

یہی تو اسکول کی خوبصورتی ہے—
کچھ سبق کتابوں سے ملتے ہیں،
اور کچھ یادیں زندگی بھر ساتھ رہتی ہیں۔ ❤️

آپ کی دعاؤں کے متمنی
امتیاز علی ثاقب
پرنسپل و منتظمِ اعلیٰ

12/09/2026

🇵🇰✨ الحمدللہ! ایک خوبصورت، بامقصد اور یادگار د اپنے اختتام کو پہنچا ✨🇵🇰

12 ستمبر 2026 بروز ہفتہ روز ہیون سیکنڈری اسکول کے خوبصورت ہال میں یومِ دفاعِ پاکستان اور یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کی مناسبت سے ایک شاندار، بامقصد اور یادگار پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں نیو روز ہیون اسکول اور روز ہیون سیکنڈری اسکول کے کلاس پنجم تا دہم کے طلباء و طالبات نے بھرپور جوش، دلچسپی اور جذبے کے ساتھ شرکت کی۔

یہ دن صرف ایک تقریب نہیں تھا بلکہ علم، حب الوطنی، عقیدت، تخلیقی صلاحیت، اعتماد اور صحت مند مقابلے کا حسین امتزاج تھا۔ کہیں بچوں کے ذہن تیزی سے سوالوں کے جواب تلاش کر رہے تھے، کہیں زبانیں تقریر کے لیے الفاظ سجا رہی تھیں اور کہیں ننھے فنکار پوسٹرز میں اپنے جذبات اور خیالات کو رنگوں کی زبان دے رہے تھے۔

یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہال میں صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ علم و صلاحیت کا ایک خوبصورت میلہ لگا ہوا ہو۔ 😊

📖 تقریب کا باقاعدہ آغاز

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ قرآنِ پاک کی تلاوت سے ہال کا ماحول نورانی اور روح پرور ہوگیا۔

تلاوتِ قرآنِ پاک کے بعد جناب پرنسپل محترم امتیاز علی ثاقب صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں یومِ دفاعِ پاکستان اور یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بچوں کو وطنِ عزیز پاکستان کی حفاظت، قربانیوں، قومی یکجہتی اور حب الوطنی کی اہمیت سے آگاہ کیا، جبکہ ختمِ نبوت ﷺ کے عقیدے کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے حوالے سے بھی طلباء و طالبات کی رہنمائی فرمائی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف کتابی علم دینا نہیں بلکہ ایسے باشعور، باکردار، ذمہ دار اور محبِ وطن افراد تیار کرنا بھی ہے جو اپنے دین، وطن اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرسکیں۔

🏆 پہلا مرحلہ — کوئز مقابلہ

پروگرام کے پہلے مرحلے میں کوئز مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلباء و طالبات نے اپنی معلومات، ذہانت، یادداشت اور حاضر جوابی کا شاندار مظاہرہ کیا۔

صبح کی شفٹ میں میزبانی کے فرائض نیو روز ہیون اسکول سے مس نازش ثاقب جبکہ روز ہیون اسکول سے مس صبا رحمن، مس نازش نعیم اور مس بسمہ نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

دوپہر کی شفٹ میں کوئز مقابلے کی میزبانی کی ذمہ داری جناب عبدالباعث صاحب، جناب کلیم اللہ صاحب اور جناب عدنان صاحب نے سنبھالی۔

تمام میزبانوں نے بچوں سے سوالات کرنے کا انداز نہایت نرم، واضح، پُراعتماد اور مؤثر رکھا۔ سوال پوچھتے وقت ایسا محسوس نہیں ہوا کہ بچوں سے کوئی سخت امتحان لیا جا رہا ہے، بلکہ یوں لگ رہا تھا جیسے محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ ان کے علم کو ذرا سا ٹیسٹ ڈرائیو کروایا جا رہا ہو! 😄

بچوں نے بھی اپنی ذہانت، یادداشت اور حاضر جوابی کا خوب مظاہرہ کیا۔ بعض مواقع پر جواب دینے کے لیے ہاتھ اتنی تیزی سے بلند ہوئے کہ محسوس ہوا کہ اگر مائیک کی تعداد زیادہ ہوتی تو شاید ہر بچے کو ایک ایک مائیک دینا پڑتا! 👏

⚖️ ٹائی کی صورت میں خصوصی انتظام

کوئز مقابلے میں اس بات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا کہ اگر کسی مرحلے پر دو یا زائد ٹیموں کے نمبر برابر ہوجائیں تو فیصلہ مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور انصاف کی بنیاد پر ہو۔

اسی مقصد کے تحت ٹائی کی صورت میں اضافی سوالات پوچھنے کی ذمہ داری محترم پرنسپل جناب امتیاز علی ثاقب صاحب نے خود اپنے ذمہ لی، تاکہ فیصلہ سازی میں مکمل غیر جانب داری اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔

ٹائی بریک کے مرحلے میں بھی بچوں نے بھرپور اعتماد اور جوش کا مظاہرہ کیا اور یوں مقابلے کا سنسنی خیز مرحلہ مزید دلچسپ ہوگیا۔

🎤 دوسرا مرحلہ — تقریری مقابلہ

کوئز کے بعد پروگرام کا دوسرا مرحلہ تقریری مقابلے پر مشتمل تھا۔

طلباء و طالبات نے یومِ دفاعِ پاکستان اور یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کے موضوعات پر نہایت اعتماد، جذبے اور خوبصورت انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کسی بچے کی آواز میں حب الوطنی کا جذبہ نمایاں تھا، کسی کے الفاظ میں عقیدت کی خوشبو تھی اور کسی کے اندازِ بیان نے حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔

خاص طور پر بچوں کا اسٹیج پر آکر اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کرنا اس بات کی علامت تھا کہ اگر بچوں کو مناسب مواقع، حوصلہ افزائی اور اعتماد دیا جائے تو وہ واقعی بہت کچھ کر دکھا سکتے ہیں۔

اور سچ یہ ہے کہ اس مرحلے پر صرف بچوں کا امتحان نہیں ہو رہا تھا، بلکہ کبھی کبھی سامعین بھی دل ہی دل میں فیصلہ کر رہے تھے کہ:

"اگر مجھے مائیک مل جائے تو میں بھی دو منٹ بول سکتا ہوں!" 😄

⚖️ منصفین کا اہم کردار

کوئز اور تقریری مقابلے میں جج کے فرائض نیو روز ہیون اسکول کی ہیڈ مسٹریس محترمہ فوزیہ جمیل صاحبہ، محترمہ رفعت ثاقب صاحبہ اور محترمہ صبا عدیل صاحبہ کو سونپے گئے۔

معزز جج صاحبان نے انتہائی ذمہ داری، غیر جانب داری، باریک بینی اور منصفانہ انداز میں بچوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور حتمی نتائج مرتب کیے۔

مقابلے کے نتائج کا اعلان کیا گیا اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی گئی۔

یقیناً جن بچوں کے نام پوزیشن ہولڈرز میں آئے، ان کے چہروں کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، جبکہ باقی بچوں کے لیے بھی یہ دن ایک قیمتی تجربہ اور آئندہ کے لیے مزید محنت کا پیغام بن گیا۔

پوزیشن حاصل کرنے والے اور مقابلے میں حصہ لینے والے تمام بچوں کو تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔

🎨 تیسرا مرحلہ — پوسٹر مقابلہ

پروگرام کا تیسرا اور نہایت دلچسپ مرحلہ پوسٹر مقابلہ تھا۔

انہی قومی، دینی اور اصلاحی موضوعات پر بچوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خوبصورت اور بامعنی پوسٹرز تیار کیے۔

بچوں نے بڑی دلچسپی اور محنت سے اپنے خیالات کو رنگوں، خاکوں اور تحریروں کے ذریعے پیش کیا۔

تیار کردہ پوسٹرز کو ہال میں نمائش کے لیے رکھا گیا، جس سے ہال کی خوبصورتی بھی بڑھ گئی اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں بھی سب کے سامنے آگئیں۔

پوسٹرز کی جانچ اور پوزیشن دینے کی ذمہ داری نیو روز ہیون اسکول سے مس فائزہ محمد اور مس نعمت سچل جبکہ روز ہیون سیکنڈری اسکول سے مس طاہرہ بشیر اور مس صبا عدیل کو سونپی گئی۔

ان تمام معلمات نے بڑی باریک بینی، توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ ایک ایک پوسٹر کا جائزہ لیا، نمبرنگ کی اور میرٹ کی بنیاد پر پوزیشنز مرتب کیں۔

یہ کام بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن جب سامنے درجنوں بچوں کے خوبصورت پوسٹرز ہوں تو فیصلہ کرنا یقیناً آسان نہیں ہوتا۔ بعض پوسٹرز کو دیکھ کر تو شاید فیصلہ کرنے والوں کے دل میں بھی یہی خیال آیا ہو:

"کاش پہلی پوزیشن پانچ بچوں کو دے سکتے!" 😊

پوسٹر مقابلے میں پوزیشن حاصل کرنے والے اور حصہ لینے والے تمام بچوں کو بھی تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔

🌹 تہہ دل سے شکریہ

تقریب کے اختتام پر محترم پرنسپل جناب امتیاز علی ثاقب صاحب نے اپنے اختتامی خطاب میں تمام شرکاء، اساتذہ، ججز، میزبانوں، طلباء و طالبات اور غیر تدریسی عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ دونوں اسکولوں کے بچوں اور اسٹاف نے مل کر اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

انہوں نے تمام بچوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس بات کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ مقابلے میں کامیابی صرف پوزیشن حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ حصہ لینا، سیکھنا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا بھی کامیابی ہے۔

اس موقع پر تمام میزبانوں، معزز جج صاحبان اور پوسٹرز کی جانچ کرنے والی معلمات کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی خلوص، محنت اور حسنِ انتظام کے ساتھ انجام دیں۔

اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے، ان کی محنتوں کو قبول فرمائے، انہیں صحت، خوشی، عزت اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

🌷 خصوصی شکریہ — محترمہ آسیہ عثمان صاحبہ

میں خصوصی طور پر ہیڈ مسٹریس محترمہ آسیہ عثمان صاحبہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا نہایت احسن طریقے سے خیال رکھا۔

تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز کی ذمہ داری بھی انہوں نے اپنے ذمے لی اور اسے نہایت خوبصورتی سے نبھایا۔

اسکول اور اس کی سرگرمیوں کے لیے محترمہ آسیہ صاحبہ کی خدمات یقیناً قابلِ فخر اور قابلِ تحسین ہیں۔

اسی طرح مس منیبہ بھی پوری تقریب کے دوران اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھاتی رہیں۔ ان کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔

🛡️ پریفیکٹس کا کردار

اس تقریب میں ہمارے پریفیکٹس نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے نظم و ضبط برقرار رکھنے، ماحول کو پرسکون رکھنے اور پروگرام کو بہتر انداز میں جاری رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔

اللہ تعالیٰ ہمارے ان بچوں کو ان کے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے، انہیں ذمہ دار، باکردار اور باصلاحیت شہری بنائے اور مستقبل میں بھی مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🌷 تمام اساتذہ، طلباء و طالبات اور غیر تدریسی عملے کا شکریہ

میں جملہ اساتذہ کرام، تمام طلباء و طالبات اور غیر تدریسی عملے کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس پروگرام میں اپنی موجودگی، تعاون اور بھرپور دلچسپی سے اسے کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔

کسی بھی ادارے کی کامیابی کسی ایک فرد کی کوشش سے ممکن نہیں ہوتی۔ یہ دراصل اساتذہ، طلباء، انتظامیہ اور معاون عملے کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔

الحمدللہ! آج کی تقریب نے بھی یہی ثابت کیا کہ جب سب ایک مقصد کے لیے مل کر کام کریں تو ایک عام دن بھی یادگار دن بن جاتا ہے۔

🇵🇰 ایک یادگار اختتام

صبح کی شفٹ ہو یا دوپہر کی، دونوں شفٹوں میں تقریب کا اختتام نہایت اچھے، منظم اور خوشگوار انداز میں ہوا۔

آج ہمارے بچوں نے صرف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا بلکہ انہوں نے اعتماد، نظم و ضبط، تحقیق، اظہارِ خیال، حب الوطنی، عقیدت اور تخلیقی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔

یقیناً کچھ بچے جیتے، کچھ پوزیشن حاصل کر سکے اور کچھ اس بار کامیاب نہ ہو سکے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو بچہ اسٹیج پر آیا، سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑا ہوا، تقریر کی یا اپنے ہاتھ سے پوسٹر بنایا، وہ کسی نہ کسی اعتبار سے کامیاب ضرور ہوا۔

کیونکہ مقابلے کی اصل کامیابی صرف پوزیشن حاصل کرنا نہیں بلکہ خود کو بہتر بنانا ہے۔ 🌹

میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان بچوں کو علمِ نافع، عملِ صالح، بہترین کردار، وطن سے محبت، دین سے وابستگی اور زندگی کے ہر میدان میں کامیابی عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، ہمارے وطن کی حفاظت فرمائے، ہمارے عقائد کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت و اتباع پر قائم رکھے۔ آمین۔ 🤲🇵🇰

آج کا دن گزر گیا، مگر اس کی یادیں، بچوں کی مسکراہٹیں، سوالات کے جوابات، تقریروں کی گونج اور رنگ برنگے پوسٹرز یقیناً بہت عرصے تک ہمارے ذہنوں میں تازہ رہیں گے۔

یہی تو اسکول کی خوبصورتی ہے—
کچھ سبق کتابوں سے ملتے ہیں،
اور کچھ یادیں زندگی بھر ساتھ رہتی ہیں۔ ❤️

آپ کی دعاؤں کے متمنی
امتیاز علی ثاقب
پرنسپل و منتظمِ اعلیٰ

Address

Plot # 884, Block-2, Charnal Road, Bhutta Village, Keamari
Karachi
75620

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

021 32851607

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rose Heaven Educational Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Rose Heaven Educational Society:

Shortcuts

Share