02/08/2026
کراچی کا پرانا دیہی نظام اور باغات مقامی گوٹھ اور آبادی: 1947ء سے پہلے اور اس کے بعد بھی، کراچی کے گرد و نواحی علاقے (جیسے ملیر، گڈاپ، کیماڑی اور میمن گوٹھ) ویرانے نہیں تھے۔ وہاں صدیوں پرانے بلوچ اور سندھی قبیلوں کے دیہات (گوٹھ) آباد تھے۔زرعی زمینیں (Agricultural Lands): خصوصاً ملیر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو کراچی کا "گرین بیلٹ" کہا جاتا تھا، جہاں پھلوں کے باغات، سبزیوں کی کاشت اور کنوؤں کا ایک مکمل نظام موجود تھا جو پورے شہر کو خوراک فراہم کرتا تھا۔پرانا ٹریول اور ریونیو نظام: برطانوی دور سے ہی یہاں کا باقاعدہ ریونیو ریکارڈ (Land Surveys) موجود تھا۔ تپہ، دیہہ اور مختارکار کا ایک مکمل نظام زمینوں کی ملکیت کو چلا رہا تھا. شرم تم کو مگر ا تی نہیں صحافت کے نام پر تھبہ