The Tauheed Institute of Qur'anic Sciences

The Tauheed Institute of Qur'anic Sciences An invitation to the path of righteousness,good deeds, unity of true faith ; saving the human beings from the path of evildoers (Taghut) and sects without

Devoted to spread the word of Allah and the authentic Ahadith of the Prophet of Allah to revive the true faith in Allah alone and belief in the Day of Judgement. An invitation to the path of righteousness,good deeds, unity of true faith ; saving the human beings from the path of evildoers (Taghut) and sects without any charge!

23/08/2026

23 aug

حضرت ابراہیم علیہ السلام: تلاشِ حق سے مقامِ امامت تک

یقین سے فاطر کی طرف توجہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے یقین محض ایک داخلی کیفیت نہیں رہتا؛ وہ ان کے رخ کو متعین کرتا ہے۔ ستارے، چاند اور سورج کا مشاہدہ انہیں مخلوقات کے ظہور سے ان کے فاطر تک لے جاتا ہے۔ آخرکار ان کا رخ اسی ذات کی طرف ہوتا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔
یقین کی حقیقی علامت یہ ہے کہ وہ انسان کا رخ متعین کر دے۔ جب نگاہ مخلوق سے آگے بڑھ کر فاطر کو پہچان لیتی ہے تو بندگی کا مرکز بھی واضح ہو جاتا ہے۔

ہر آیت ایک نشانی:

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
سورۃ الأنعام 6:79

---

Prophet Ibrahim (AS): From the Search for Truth to the Station of Leadership

From Certainty to Turning Towards the Creator

For Prophet Ibrahim (AS), certainty does not remain an inner state; it determines the direction of his life. His observation of the stars, moon, and sun takes him beyond the created things to their Creator. Ultimately, he turns towards the One who originated the heavens and the earth.

The true sign of certainty is that it gives direction to a person's life. When the gaze moves beyond creation to the Creator, the centre of devotion becomes clear.

Every Verse is a Signpost:

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ

Indeed, I have turned my face towards the One who originated the heavens and the earth, inclining only to Him, and I am not among those who associate partners with Allah.

Surah Al-An‘am 6:79

21/08/2026

21 Aug

حضرت ابراہیم علیہ السلام: تلاشِ حق سے مقامِ امامت تک
رُشد: حق کی تلاش کا آغاز

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا روحانی سفر نبوت کے اعلان سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ قرآن اس ابتدائی کیفیت کو رُشد سے تعبیر کرتا ہے۔ رُشد وہ بیدار شعور ہے جو انسان کو محض آبائی روایت کی پیروی پر اکتفا نہیں کرنے دیتا، بلکہ اسے حق کو پہچاننے اور اس پر غور کرنے کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

ابراہیم علیہ السلام اپنے والد اور قوم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ان مورتوں کے سامنے کیوں جمے بیٹھے ہیں۔ قوم کے پاس دلیل نہیں، صرف یہ جواب ہے کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے پایا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام روایت کو صرف اس لیے حق نہیں مانتے کہ وہ قدیم ہے؛ وہ سوال کرتے ہیں، غور کرتے ہیں، اور حقیقت کی تلاش کرتے ہیں۔
یہی پہلی بیداری ہے، تقلید سے سوال کی طرف، اور سوال سے حق کی تلاش کی طرف۔

ہر آیت ایک نشانی:

وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو ان کی رشد عطا کر دی تھی، اور ہم ان کو خوب جانتے تھے۔
سورۃ الأنبیاء 21:51

---

Prophet Ibrahim (AS): From the Search for Truth to the Station of Leadership

Rushd: The Beginning of the Search for Truth

The spiritual journey of Prophet Ibrahim (AS) begins before his prophethood, with rushd, an awakened awareness that does not accept inherited beliefs without reflection.

Inherited tradition is not proof of truth. Ibrahim (AS) questions what his people worship and refuses to accept their forefathers' practice as sufficient justification.

His rushd moves him from imitation to questioning, and from questioning to the search for truth.

Every Verse is a Signpost:

وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ

And We had already granted Ibrahim his right judgment before, and We were well aware of him.
(Surah Al-Anbiya 21:51)

20/08/2026

20 Aug

انبیاء علیہم السلام کا روحانی سفر

حضرت شعیب علیہ السلام: مکافاتِ عمل

رسول کے ساتھ رویہ، اپنے انجام کی صورت بن جاتا ہے

دعوت انسان کے سامنے آتی ہے، مگر انجام اس کے اپنے انتخاب سے بنتا ہے۔
قوم شعیب نے دعوتِ توحید کو رد کیا، میزان میں خیانت کی، شقاق اختیار کیا، اپنے باطل کو جواز دیا، فساد کو معمول بنایا، تنبیہ کو ٹھکرایا اور واپسی کے دروازے کو قبول نہ کیا۔

ہر مرحلے پر انہیں واپسی کا ایک دروازہ دیا گیا، مگر انہوں نے اپنے رویے سے اپنا انجام خود قریب کیا۔

رسول کے ساتھ ان کا رویہ دراصل حق کے ساتھ ان کا رویہ تھا؛ اور حق کے ساتھ ان کا رویہ ہی ان کے انجام کا سبب بنا۔

یہاں مکافاتِ عمل صرف سزا نہیں؛ انسان کے اپنے اختیار کردہ راستے کا نتیجہ ہے۔

جو حق کے سامنے جھکتا ہے، وہ اصلاح کی طرف اٹھتا ہے؛ جو حق سے شقاق کرتا ہے، وہ اپنے ہی انجام کی طرف بڑھتا ہے۔

ہر آیت ایک نشانی

وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ۝ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ

"اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو، اور زمین میں فساد برپا کرتے نہ پھرو۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلایا، تو زلزلے نے انہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔"

(سورۃ العنکبوت، 29:36–37)

---

External Embodiment of the Soul

The Journey of the Prophets (AS)

Prophet Shuʿayb (AS): The Reciprocity of Deeds

How One Responds to a Prophet Becomes One’s Own Consequence

The call is placed before us; the consequence is shaped by our choice.

The people of Shuyab rejected the call to Tawhid, violated the balance, chose schism, justified their falsehood, normalized corruption, ignored the warning, and refused the door of return.

At every stage, they were shown a way back. Yet through their own choices, they moved closer to their consequence.

Their attitude toward the Prophet was, in reality, their attitude toward the truth; and their attitude toward the truth became the basis of their own outcome.

Here, the reciprocity of deeds is not merely punishment; it is the consequence of the path one chooses.

Whoever bows before truth rises toward reform; whoever opposes truth moves toward the consequence of that opposition.

Every Verse is a Signpost

وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ۝ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ

“And to Madyan We sent their brother Shuʿayb. He said, ‘O my people, worship Allah and look forward to the Last Day, and do not spread corruption throughout the land.’ But they rejected him, so the earthquake seized them, and they lay lifeless in their homes.”

(Surah Al-ʿAnkabūt, 29:36–37)

19/08/2026

19 Aug
انبیاء علیہم السلام کا روحانی سفر
حضرت شعیب علیہ السلام: عملی استقامت
جب توکل، عمل بن جائے

اللہ پر توکل انسان کو عمل سے دور نہیں کرتا؛ بلکہ حق پر قائم رہنے کی قوت دیتا ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کے ردعمل کے باوجود اپنی ذمہ داری نہیں چھوڑی۔ دوسروں کا عمل ان کے عمل کا معیار نہیں بنا۔
سچا توکل عمل کو ختم نہیں کرتا، اسے استقامت دیتا ہے۔

ہر آیت ایک نشانی
وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ سَتَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ۖ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ
"اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ، میں بھی عمل کرتا ہوں۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کون جھوٹا ہے۔ پس تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔"
(سورۃ ہود، 11:93)

---

The Journey of the Prophets (AS)
Prophet Shuʿayb (AS):
Practical Steadfastness

When Reliance Becomes Action

After placing his trust in Allah, Shuayb (AS) does not withdraw from action. He remains committed to his responsibility, regardless of how others respond.
True reliance does not replace action; it gives action its firmness.

Every Verse is a Signpost

وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ سَتَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ۖ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ
“And O my people, act according to your position; I too am acting. You will soon know upon whom will come a punishment that will disgrace him and who is a liar. So wait; I too am waiting with you.”
(Surah Hūd, 11:93)

18/08/2026
18/08/2026

18 Aug

انبیاء علیہم السلام کا روحانی سفر
حضرت شعیب علیہ السلام: توکل و انابت
جب اعتماد، اللہ پر قائم ہو جائے

اللہ کی عظمت کا شعور انسان کو دوسروں کی طاقت سے بے نیاز نہیں، بلکہ اللہ پر قائم کرتا ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے مخالفت کے باوجود اپنا سہارا کسی ظاہری قوت کو نہیں بنایا:
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
توکل میں دل اللہ پر بھروسا کرتا ہے، اور انابت میں وہ اسی کی طرف لوٹتا ہے۔
جب اللہ سہارا بن جائے تو خوف راستہ نہیں روکتا، اور دل کا رخ اسی کی طرف رہتا ہے۔

ہر آیت ایک نشانی

إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
"میں تو جہاں تک میری استطاعت ہے اصلاح ہی چاہتا ہوں، اور میری توفیق اللہ ہی سے ہے۔ اسی پر میں نے بھروسا کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔"
(سورۃ ہود، 11:88)

---

The Journey of the Prophets (AS)
Prophet Shuʿayb (AS): Reliance and Return
When Reliance is Placed in Allah

Awareness of Allah’s greatness does not merely free the heart from reliance on worldly power; it anchors it in Allah.
Despite opposition, Shuʿayb (AS) placed his reliance not on any worldly strength:
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
In tawakkul, the heart relies upon Allah; in inabah, it continually turns back to Him.
When Allah becomes the source of reliance, fear no longer determines the path, and the heart remains turned toward Him.

Every Verse is a Signpost
إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
“I desire nothing but reform, as far as I am able. My success is only through Allah. Upon Him I have relied, and to Him I turn.”
(Surah Hūd, 11:88)

17/08/2026

17 Aug

روح کا تجسّم
انبیاء علیہم السلام کا روحانی سفر
حضرت شعیب علیہ السلام:
جب اللہ کی عظمت سب نسبتوں پر غالب ہو
قوم نے دھمکی دی، اور اپنے قبیلے کی قوت کو حضرت شعیب علیہ السلام کے مقابل کھڑا کیا۔ جواب میں حضرت شعیب علیہ السلام نے سوال کیا:
کیا میرے قبیلے کی ہیبت تمہارے نزدیک اللہ سے بڑھ کر ہے؟
یہاں دعوت ایک نئے میزان تک پہنچتی ہے: انسان کس کو سب سے بڑا سمجھتا ہے؟
جب اللہ کی عظمت دل میں غالب ہو جائے تو رشتے، جماعت، طاقت اور خوف اپنی اصل جگہ پر آ جاتے ہیں۔
جس دل میں اللہ سب سے بڑا ہو، وہاں کسی اور طاقت کی ہیبت باقی نہیں رہتی۔

ہر آیت ایک نشانی

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

"اس نے کہا: اے میری قوم! کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک اللہ سے زیادہ باعزت ہے کہ تم نے اسے پسِ پشت ڈال دیا ہے؟ بے شک میرا رب تمہارے سب اعمال کو گھیرے ہوئے ہے۔"
(سورۃ ہود، 11:92)

---

The Journey of the Prophets (AS)
Prophet Shuʿayb (AS):
When the Greatness of Allah Prevails Over All Other Claims

His people threatened him, placing the strength of his clan against him. Shuayb (AS) responded with a question:
“Is my clan more honored in your sight than Allah?”
The call here reaches a new measure: whom does the human being regard as greatest?
When the greatness of Allah prevails in the heart, family, community, power, and fear return to their proper place.
When Allah is greatest in the heart, no other power can hold it in awe.

Every Verse is a Signpost

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

“He said, ‘O my people! Is my clan more honored in your sight than Allah, while you have taken Him as something to be disregarded? Surely my Lord encompasses all that you do.’”
(Surah Hūd, 11:92)

16/08/2026

16 Aug
روح کا تجسّم
انبیاء علیہم السلام کا روحانی سفر
حضرت شعیب علیہ السلام: استغفار، واپسی کا دروازہ
جب واپسی کا راستہ کھل جائے

انجام کی تنبیہ کے بعد قرآن دروازہ بند نہیں کرتا؛ واپسی کا راستہ دکھاتا ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو صرف اپنے انحراف سے رکنے کے لیے نہیں کہتے، بلکہ اپنے رب کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔
استغفار ماضی کے بوجھ سے نجات کا اقرار ہے، اور توبہ اللہ کی طرف واپسی کا ارادہ۔
جب بندہ واپسی چاہتا ہے، رحمت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔

ہر آیت ایک نشانی
وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ
"اور اپنے رب سے مغفرت مانگو، پھر اسی کی طرف پلٹ آؤ۔ بے شک میرا رب نہایت رحم کرنے والا، محبت کرنے والا ہے۔"
(سورۃ ہود، 11:90)

---

The Journey of the Prophets (AS)
Prophet Shuʿayb (AS): Repentance, The Door of Return

When the Way Back Opens

After the warning of consequence, the Qur’an does not close the door; it shows the way back.
Shuʿayb (AS) did not merely call his people to abandon their wrong; he invited them to return to their Lord.
Seeking forgiveness is an acknowledgement of the burden of the past, while repentance is the intention to return to Allah.
When the servant seeks to return, the door of mercy opens.

Every Verse is a Signpost
وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ
“Ask forgiveness of your Lord, then turn to Him in repentance. Surely my Lord is Most Merciful, Most Loving.”
(Surah Hūd, 11:90)

14/08/2026

14 Aug

روح کا تجسّم

انبیاء علیہم السلام کا روحانی سفر

حضرت شعیب علیہ السلام: انجام کی تنبیہ

جب تاریخ، آئینہ بن جائے

جب باطل جواز پا لے اور فساد اجتماعی صورت اختیار کر لے تو قرآن انسان کو سابقہ اقوام کے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو صرف عذاب سے نہیں ڈراتے؛ وہ انہیں ان قوموں کی یاد دلاتے ہیں جو حق سے شقاق کے بعد اپنے انجام کو پہنچیں۔

تنبیہ، عذاب سے پہلے رحمت کا دروازہ ہے؛ جو اسے سن لے، اسے انجام دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

ہر آیت ایک نشانی

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ

"اور میری مخالفت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم پر بھی وہی مصیبت آ جائے جو قومِ نوح، قومِ ہود یا قومِ صالح پر آئی تھی، اور قومِ لوط بھی تم سے کچھ دور نہیں۔"

(سورۃ ہود، 11:89)

---

External Embodiment of the Soul

The Journey of the Prophets (AS)

Prophet Shuayb (AS): The Warning of Consequence

When History Becomes a Mirror

When falsehood gains justification and corruption takes collective form, the Qur’an turns our attention to the fate of those who came before.

Shuayb (AS) did not merely warn his people of punishment; he reminded them of nations that had reached their end after opposing the truth.

A warning is mercy before punishment; whoever heeds it need not witness the consequence.

Every Verse is a Signpost

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ

“And O my people, do not let my opposition cause you to suffer what befell the people of Noah, Hud, or Salih; and the people of Lot are not far from you.”

(Surah Hūd, 11:89)

Address

Plot No. 26-C, Mazzanine Floor, Tauheed Commercial Area, 27th Street, DHA Phase V
Karachi
75500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Tauheed Institute of Qur'anic Sciences posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to The Tauheed Institute of Qur'anic Sciences:

Shortcuts

Share