27/08/2026
سیرتِ رسول اکرم ﷺ انسانیت کے لیے مکمل اسوہ اور عملی رہنمائی ہے، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے کہا ہے کہ سیرتِ رسول محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے زندگی گزارنے کا مکمل اسوہ اور عملی رہنمائی ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا غیر معمولی سائنسی و تکنیکی ترقی کے باوجود اخلاقی بحران، عدم برداشت، نفرت، انتہاپسندی، انتشار اور باہمی عدم اعتماد جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے حالات میں سیرتِ طیبہ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج بروز جمعرات انجمن اساتذہ جامعہ کراچی اورنیشنل رحمتُ اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی، حکومتِ پاکستان کے زیر اہتمام آڈیو ویژول سینٹر جامعہ کراچی میں سیرتِ طیبہ ﷺ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ سیرتِ رسول جیسے ہمیشہ زندہ اور بامقصد موضوع پر علمی سیمینار کی صدارت کرنا ان کے لیے باعثِ مسرت بھی ہے اور باعثِ سعادت بھی۔ انہوں نے سیمینار کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے علمی و فکری پروگرام نئی نسل کو اسوۂ حسنہ سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید نے رسول اکرم کی ذاتِ اقدس کو ہمارے لیے بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے واضح فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہمارے لیے بہترین اسوہ موجود ہے۔ آج دنیا علم، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، تاہم اس ترقی کے ساتھ انسان کو اخلاقی و معاشرتی بحرانوں کا بھی سامنا ہے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے قیادت کا ایسا مثالی تصور پیش کیا جس کی بنیاد اقتدار پر نہیں بلکہ کردار، خدمت، عدل، مشاورت، رحمت اور ذمہ داری پر قائم تھی۔ آپ ﷺ کی قیادت میں کمزوروں کو تحفظ ملا، مخالفین کے ساتھ بھی انصاف کیا گیا اور فتح کے موقع پر انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا مظاہرہ کیا گیا۔
انہوں نے فتحِ مکہ کے واقعے کو تاریخِ انسانی کی ایک عظیم مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو شدید تکالیف پہنچائیں، جب وہ فتح کے موقع پر آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے تو آپ ﷺ نے انتقام لینے کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ واقعہ ہمیں رحمت، برداشت، عفو و درگزر اور اعلیٰ اخلاق کا عظیم درس دیتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ آج ہماری جامعات، اداروں، تنظیموں اور پورے معاشرے کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عہدے کو اعزاز نہیں بلکہ امانت سمجھے اور اپنے منصب کو خدمت، انصاف، دیانت اور ذمہ داری کے اصولوں کے مطابق ادا کرے۔ سیرتِ رسول اکرم ﷺ ہمارے لیے ایک ایسی ہی مثالی قیادت اور معاشرتی کردار کا جامع نمونہ پیش کرتی ہے۔
ممبر نیشنل رحمتُ اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی، حکومتِ پاکستان، ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو تنازعات کے حل (Conflict Resolution) کے مؤثر نظام کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے اسلامی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل کو محلے اور مساجد کی سطح پر باہمی مشاورت، افہام و تفہیم اور اسلامی اصولوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ دینِ اسلام میں باہمی تنازعات کے پرامن حل کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیرتِ طیبہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قیادت کا اصل معیار عہدہ، شہرت یا اختیار نہیں بلکہ امانت، دیانت اور انسانوں کے لیے خیرخواہی ہے۔ جامعہ کراچی ایک عظیم علمی درسگاہ ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کو صرف ڈگریوں کے حصول تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں علم کے ساتھ کردار، اخلاق اور ذمہ داری کا شعور بھی دیا جائے۔
ڈائریکٹر جنرل سیرت انسائیکلوپیڈیا پروجیکٹ ڈاکٹر حبیب الرحمن نے عالمی تناظر میں تنازعات اور ان کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے ایران، امریکا اور عرب دنیا میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے نوجوان تیار کرنے ہوں گے جو ذہین اور ذمہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے آگاہ اور اپنی تہذیبی و اخلاقی اقدار سے بھی مضبوطی سے وابستہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں علم اور عمل کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے کا درس دیتی ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں علم تو ہو مگر اخلاق نہ ہو، ترقی تو ہو مگر انصاف نہ ہو، اور وسائل تو ہوں مگر انسانیت نہ ہو، حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔
صدر انجمنِ اساتذہ جامعہ کراچی سید غفران عالم نے کہا کہ اگر ہم سیرتِ طیبہ پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہوجائیں تو ہمارے بیشتر مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل قول و فعل کے تضاد اور مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ ہم گفتگو میں بہت خوبصورت باتیں کرتے ہیں، لیکن ان پر عملی طور پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیرتِ طیبہ کی تعلیمات کو محض تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔