28/11/2019
منزل انہوں نے حاصل کرنے کی کوشش کی
جو شریک سفر نہیں-
کچھ مفاد پرست پیسے والے جو ہمیشہ سے اہلسنت کی مختلف تنظیمات پر اپنا اسرورسوخ حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں-
کبهی دعوت اسلامی پر قبضہ کی کوشش تو کبهی جماعت اہلسنت پر قبضہ جمانے کی سازش- کبهی جے یوپی میں مداخلت تو کبهی پاکستان سنی تحریک میں گروپ بندی کی سازش-
پورے کراچی میں سالہائے سال سے اہلسنت کی معروف تنظیمات میلاد کے جلوس نکالتی رہی ہیں اور جماعت اہلسنت کراچی- دعوت اسلامی- جمیعت علماء پاکستان- پاکستان سنی تحریک- انجمن طلباء اسلام سمیت دیگر بڑی چهوٹی انجمنیں اور تنظیمات میلاد کا اہتمام کرتی رہی ہیں اور بہت سی چهوٹی بڑی تنظیمات نے ہمیشہ جماعت اہلسنت پاکستان کراچی کے امیر حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ کی آواز میں اپنی آواز شامل کی اور میلادالنبیﷺ کے شایان شان انعقاد کے لئے شاہ صاحب کی تمام کوششوں کا اعتراف بهی کیا- کراچی کے دیگر علاقوں سمیت مرکزی جلوس میمن مسجد بولٹن مارکیٹ تا نشتر پارک کی پرمٹ ہولڈر ہونے کی وجہ سے پوری کراچی کی انتظامیہ سے کسی بهی مسئلے کے حل کے لئے لوگوں نے شاہ صاحب سے رابطہ کیا اور شاہ صاحب نے حتی الامکان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور مسائل حل ہوتے رہے-
الحمد للہ آج بهی شاہ صاحب کے جانشین امیر جماعت اہلسنت پاکستان کراچی حضرت علامہ سید شاہ عبدالحق قادری صاحب شاہ صاحب کے مشن کو آگے لیکر چل رہے ہیں-
لیکن کچھ اپنے ہی ہم عقیدہ لوگ جن کے ساتھ کوئ چلنے کو تیار نہیں ہوتا اپنے پیسے کی طاقت کے بل بوتے پر کچھ لوگوں کی سستی قیمت لگاکر پهر سے آل رسول کے خلاف صف آراء ہونے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور پورے کراچی سمیت میلادالنبیﷺ کے مرکزی جلوس اور مرکزی جلسہ کی کامیابی سے خائف ہوکر اپنے خریدے ہوئے چند لوگوں کے ذریعے سے سرکاری انتظامیہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنے میں لگ گئے کہ یہ سارے کام وہ لوگ کرتے ہیں اور میلادالنبیﷺ کے اتنے اہم ایونٹ کو اچهے انداز میں منانے میں ان کا کردار ہے-
اس سلسلے میں 12 ربیع الاول کے فوراً بعد سرکاری انتظامیہ سے رابطے کرکے پیسے کی طاقت سے سرکاری انتظامیہ کے ساتھ ایک پروگرام ترتیب دے دیا گیا اور دعوت نامہ ترتیب دے دیا گیا جس میں جماعت اہلسنت پاکستان کراچی- پاکستان سنی تحریک- دعوت اسلامی جیسی اہم تنظیمات کو سرے سے باهر کرنے کی کوشش کی اس پروگرام میں وزیر اعلٰی سندھ سے وقت لیا گیا لیکن جب وزیر اعلٰی سندھ کو اطلاع ملی کہ کراچی کے مرکزی جلوس و جلسہ کی پرمٹ ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر یہ پروگرام کیا جارہا ہے تو انہوں معذرت کرلی جبکہ پہلا دعوت نامہ بهی پرنٹ هوچکا تها جس میں سی ایم سندھ کا نام بهی پرنٹ هے بعد میں صوبائ منسٹر مذهبی امور کی منت سماجت کی گئ (جب اس منسٹر کو پتا چلا کہ یہ تو وہ لوگ پروگرام کررہے ہیں جن کا جلوس و جلسوں میں کوئ کردار نہیں تو سیٹھ سے تعلقات کی بناء پر پرگرام کے اختتام پر سرکاری نمائندگی لگوانے آگیا)
بہرحال اس طرح پیسوں کا استعمال کرکے اور دو سے چار زرخرید جبے و پگڑی والوں کو خرید کر اپنا آپ آگے لانے کی ناکام کوشش کی گئ اور کراچی کے نامور اہلسنت کے نام لکھ کر سازشی سیٹھ نے دنیا کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ سب میرے ساتھ ہیں-