Federal Urdu University of Arts, Sciences And Technology - Fuuast

Federal Urdu University of Arts, Sciences And Technology - Fuuast │█║▌║▌║█║ ©FUUAST OFFICIAL FACEBOOK PAGE® █║▌│▌║│█ President Pervez Musharraf was the university's first chancellor.
(2)

The Federal Urdu University of Arts, Sciences and Technology is a coeducational public university with its main campus located in Gulshan Town, Karachi, Sindh, Pakistan. It has two satellite campuses; Abdul Haq Campus at Baba-e-Urdu Road, Karachi and Islamabad Campus near Zero Point, Islamabad. Approximately 13,500 students are pursuing degrees primarily in technical fields, such as electrical en

gineering, computer science, Urdu, management science and economics

The Federal Urdu University was established on 13 November 2002 by presidential order, and is the first university in Pakistan to teach primarily in the Urdu language. It was established by merging the Federal Urdu Arts College and the Federal Urdu Science College, both in Karachi. Currently President Asif Ali Zardari and Professor Muhammad Qaiser are the chancellor and vice-chancellor of the university respectively.

*اعلامیه*وفاقی اردو یو نیورسٹی گلشن اقبال و عبد الحق کیمپس ، کراچی میں زیر تعلیم طلباء (شام) کے اگلے سمسٹر کی تدریس کا آ...
21/08/2026

*اعلامیه*
وفاقی اردو یو نیورسٹی گلشن اقبال و عبد الحق کیمپس ، کراچی میں زیر تعلیم طلباء (شام) کے اگلے سمسٹر کی تدریس کا آغاز ۱۸ اگست سے کیا جا رہا ہے۔ لہذا اتمام طلباء و طالبات ( ریگور ) بیچلرز و ماسٹرز پروگرام (شام) سال ۲۰۲۵ ، رواں سمسٹر کی فیس درج ذیل شیڈول کے مطابق جمع کروا سکتے ہیں ۔

21 اگست 2026ء تا 07 ستمبر 2025ء (بغیر لیٹ فیس)
08 ستمبر 2026ء تا 17 ستمبر 2025ء ( 05% لیٹ فیس)
18 ستمبر 2026ء تا 28 رستمبر 2025ء ( 10% لیٹ فیس)

نوٹ: بعد از منظوری شیخ الجامعہ تمام صدر شعبہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ تمام طالبعلم جن کی سابقہ سمسٹر کی فیس واجب الادا ہیں ان کو ادائیگی کے بغیر کلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دیں۔


Congratulations Mr. Pervaiz Abbas! 🎓*  And there Colleague ♥️♥️Well done on completing your graduation. Best wishes for ...
17/08/2026

Congratulations Mr. Pervaiz Abbas! 🎓*
And there Colleague ♥️♥️
Well done on completing your graduation. Best wishes for your future♥️

Federal Urdu University of Arts, Sciences And Technology - Fuuast

15/08/2026
وفاقی اردو یونیورسٹی کی سینئر مینجمنٹ کے اجلاس منعقدہ 15 جولائی 2026 میں کیے گئے فیصلے کے مطابق وفاقی جامعہ اردو میں صبح...
13/08/2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کی سینئر مینجمنٹ کے اجلاس منعقدہ 15 جولائی 2026 میں کیے گئے فیصلے کے مطابق وفاقی جامعہ اردو میں صبح اور شام کے پروگرام ( گلشن اقبال و عبد الحق کیمپسر ) میں جفت سمسٹرز کی کلاسز کا آغاز 17 اگست 2026 سے کیا جائے گا..

وفاقی اردو یونیورسٹی: اساتذہ کو قتل کیس میں طلبی کے نوٹس پر پولیس افسر معطل، انجمن اساتذہ کا مکمل انکوائری کا مطالبہکراچ...
09/08/2026

وفاقی اردو یونیورسٹی: اساتذہ کو قتل کیس میں طلبی کے نوٹس پر پولیس افسر معطل، انجمن اساتذہ کا مکمل انکوائری کا مطالبہ

کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی کے کیمپس آفیسر عدنان اختر پر 15 جولائی کو ہونے والے قاتلانہ حملے کی تفتیش میں سات اساتذہ کو طلب کرنے کا نوٹس جاری کرنے والے پولیس افسر کو قانون کی دفعہ 160 کے غلط استعمال پر ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس کے مطابق پولیس نے قتل کی کوش دفعہ 324 کے مقدمے کی تفتیش میں یونیورسٹی کے سات معزز اساتذہ جن میں خواتین اساتذہ بھی شامل ہیں کے نام شامل کر کے انہیں بیان کے لیے پولیس اسٹیشن طلب کیا تھا۔

انجمن اساتذہ کے نائب صدر ڈاکٹر اصغر دشتی اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید اقبال حسین نقوی نے بروقت مداخلت کر کے اساتذہ کو پولیس اسٹیشن حاضر ہونے کی زحمت سے بچایا۔ انجمن نے ان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

ڈاکٹر اصغر دشتی نے کہا کہ یہ کوئی معمولی خط نہیں تھا۔ ایک سنگین مقدمے میں اساتذہ کے نام شامل کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی کے رجسٹرار نے پولیس کا خط موصول ہونے کے بعد صرف آگے فارورڈ کیوں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار یونیورسٹی کے کسٹوڈین ہوتے ہیں۔ انھیں یہ ضرور پوچھنا چاہیے تھا کہ اساتذہ کے نام کس بنیاد پر شامل کیے گئے، ان کے خلاف کیا شواہد ہیں اور پولیس انہیں کس حیثیت میں طلب کر رہی ہے۔

انجمن کا موقف ہے کہ جب خط یونیورسٹی کے سرکاری چینل سے اساتذہ تک پہنچتا ہے تو اس سے معاملے کی سنگینی بڑھ جاتی ہے اور اساتذہ کی سماجی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر خواتین اساتذہ کا نام اس طرح کے مقدمے میں آنا قابل تشویش ہے۔

ڈاکٹر اصغر دشتی نے کہا کہ معطل سب انسپکٹر حبیب الرحمن کی معطلی کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اساتذہ کے نام کس کے کہنے پر اور کس شواہد کی بنیاد پر شامل کیے گئے۔ انجمن نے پورے معاملے کی مکمل انکوائری اور رجسٹرار سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

اساتذہ کی حقوق کی تحریک کے خلاف انتقامی کارروائی، سات پروفیسرز کو قاتلانہ حملے کے مقدمے میں شاملِ تفتیش کرنے کا اقداموفا...
07/08/2026

اساتذہ کی حقوق کی تحریک کے خلاف انتقامی کارروائی، سات پروفیسرز کو قاتلانہ حملے کے مقدمے میں شاملِ تفتیش کرنے کا اقدام

وفاقی اردو یونیورسٹی میں اساتذہ کی جانب سے اپنے بنیادی حقوق، تنخواہوں، 27 مہینے کی واجب الادا ہاؤس سیلنگ، پینشن اور دیگر جائز مطالبات کے لیے جاری جدوجہد کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر اساتذہ کو دباؤ میں لانے اور ان کی آواز خاموش کرانے کی کوشش کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، کچھ عرصہ قبل وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے کیمپس آفیسر عدنان اختر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے معاملے میں انجمن اساتذہ کے عہدیداران سمیت سات پروفیسرز کے نام تھانہ عزیز بھٹی کو دیے گئے ہیں۔ تھانہ عزیز بھٹی کی جانب سے موصول ہونے والے خط میں پروفیسر سعدیہ خلیق (صدر انجمن اساتذہ گلشن کیمپس)، ڈاکٹر افتخار طاہری (جنرل سیکرٹری گلشن کیمپس)، ڈاکٹر روشن سومرو(صدر انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس), ڈاکٹر اصغر دشتی (نائب صدر عبدالحق کیمپس)، ڈاکٹر اقبال نقوی(جنرل سیکرٹری عبدالحق کیمپس) ڈاکٹر عرفان عزیز (جوائنٹ سیکرٹری عبدالحق کیمپس) اور شعبہ سیاسیات کی چیئر پرسن ڈاکٹر رانی ارم کو شاملِ تفتیش کرنے کا کہا گیا ہے۔
اساتذہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی واضح اور قابلِ اعتماد ثبوت کے اساتذہ کے نام ایک سنگین فوجداری معاملے میں شامل کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اساتذہ گزشتہ عرصے سے اپنے بنیادی حقوق کے لیے منظم اور پرامن جدوجہد کر رہے ہیں اور اس جدوجہد کے نتیجے میں انہیں مبینہ طور پر دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ امر بھی خاص طور پر قابلِ تشویش ہے کہ ان سات اساتذہ میں شعبۂ سیاسیات کی خاتون چیئرپرسن ڈاکٹر رانی ارم بھی شامل ہیں جنہوں نے وائس چانسلر کے خلاف وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی سے رجوع کر رکھا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر رانی ارم کا نام بھی ایک قاتلانہ حملے کے معاملے میں شاملِ تفتیش کیے جانے سے اساتذہ میں یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ کہیں فوجداری کارروائی کو انتظامی یا انتقامی دباؤ کے لیے استعمال تو نہیں کیا جا رہا۔

اس سے قبل صدر انجمن اساتذہ گلشن کیمپس پروفیسر سعدیہ خلیق کو بھی وائس چانسلر کی جانب سے پانچ کروڑ ہرجانے کا لیگل نوٹس بھجوایا جا چکا ہے۔

انجمن اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کے خلاف یونین سرگرمی یا اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں اساتذہ کو فوجداری مقدمات میں الجھانا ناقابلِ قبول ہے۔

اساتذہ کا واضح مؤقف ہے کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانا جرم نہیں اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا مبینہ انتقامی کارروائی کے ذریعے ان کی جائز جدوجہد کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

*اُردو یونیورسٹی!یومِ نجات:**"ہر فرعون را موسیٰ"*آج وفاقی اردو یونیورسٹی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب اختتام پذیر ہو گیا۔ سا...
01/08/2026

*اُردو یونیورسٹی!یومِ نجات:*
*"ہر فرعون را موسیٰ"*

آج وفاقی اردو یونیورسٹی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب اختتام پذیر ہو گیا۔ سائنس فیکلٹی پر گزشتہ سات سالوں سے مسلط رہنے والی ناانصافی، خوشامد اور ملازمین کے استحصال پر مبنی "نام نہاد ڈین شپ" کا بالآخر سورج غروب ہو گیا۔ایک ایسا عہدہ جو قانوناً صرف 3 سال کا تھا، اسے محض اپنے مفادات، طاقت کی ہوس اور اعلیٰ انتظامیہ کی خوشامد کے بل بوتے پر سات طویل سالوں تک دراز کیا گیا (درمیان کے تقریباً ایک سال سے زائد کے عرصہ میں بغیر ڈین شپ کے غیر قانونی طور پر مراعات استعمال کرتے رہے)۔ موصوف نے ہمیشہ ادارے اور ملازمین کی بہتری کے بجائے صرف اپنی کرسی کو طول دینے کو ترجیح دی۔ اور اپنی کرسی کو بچانے کے لیے کتنے انتظامیہ کے ہر غیر آئینی اقدامات کو سپورٹ کیا۔

اپنے دور اقتدار میں اُردو یونیورسٹی میں تعصب اور فرقہ واریت کو پروان چڑھایا اساتذہ کی ترقیوں میں رکاوٹ پیدا کر کے اساتذہ کی سنیارٹی کو متاثر کیا۔ پروفیسر کا عہدہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے دو نمبر طریقے سے حاصل کیا جس کے تمام شواہد موجودہ انتظامیہ کے پاس ہیں اس کے باوجود آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ موجودہ وائس چانسلر نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بطور ڈین اپنے ہر غیر قانونی کام میں شامل رکھا۔

*کارکردگی کا ایک تلخ جائزہ:*

گزشتہ سات سالوں میں بطور ڈین آف سائنسز کارکردگی صفر رہی۔ میڈیکل کمیٹی، پرچیز کمیٹی، الحاق کیمٹی سمیت ہر اہم کمیٹی کی کنوینئرشپ پر قابض رہ کر ہمیشہ اپنے من پسند لوگوں کو نوازہ اور جامعہ کو نقصان پہنچایا۔ الحاق کیمٹی میں بحیثیت کنوینئر خلاف ضابطہ کالجز کے الحاق کو بحال کیا ۔آپنے ڈین شپ کے دور میں اپنے بیٹے کو اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے BS کمپیوٹر سائنس کی ڈگری دلوانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جس کی متعدد بار رجسٹرار کو تحریر شکایت بھی درج کروائی گئیں۔

انتظامیہ کی چاپلوسی و خوشامدی حاصل کرنے کے لئے کمزور اور چھوٹے گریڈ کے ملازمین پر اپنا رعب جھاڑنا، ان کی روزی روٹی پر لات مارنا، نوکریوں سے برطرفیاں، انکریمنٹس روکنا اور بے جا گریڈ ڈاؤن کرنا موصوف کی ناانصافیوں کا طرۂ امتیاز رہا۔
ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور شعبہ ریاضی کے جعلی ڈگری ہولڈر محمد خالد صدیقی سے اور دیگر کریمنل ذہنیت اساتذہ کے علاوہ جی آرایم سی مرکز تحقیق ریاضیاتی علوم کے 100 سے زائد تحقیق کے طلبا کا مستقبل داو پر لگایا اور جان بوجھ کر تحقیقی کاموں میں رکاوٹ ڈالی جس کی وجہ سے 50 کے قریب ایم فل پی ایچ ڈی طلبا اپنی تھیسس مکمل کئے بغیر جامعہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
مرکز کے اساتذہ ڈاکٹر رضی الدین صدیقی اور متعدد اساتذہ جس میں موجودہ سربراہ ڈاکٹر شاہین عباس شامل ہیں انہیں جان بوجھ کر تنگ کرنا جعلی کمیٹی بنوانا لیبز میں دہشت گردوں کو بھیج کر تھریٹ کرانا جیسے بیانک مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل رہے ۔
ان کے سلیکشن بورڈ میں کورکوانے اور بعد ازاں کینسل کرانے تک رئیس کلیہ سائنس محمد زاہد کا مرکزی کردار رہا ۔

ذاتی مفادات کے لیے انتظامیہ کے آلے کے طور پر کام کیا اور یونیورسٹی کے ماحول کو برباد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ملازمین کے خون اور پسینے پر اپنی شاہی قائم کرنے والوں کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ اقتدار کی ہوس ایک دن ختم ہونی ہے۔

آج کا دن وفاقی اردو یونیورسٹی کے ہر غیرت مند اور مظلوم ملازم کے لیے "یومِ نجات" ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عہدے اور اقتدار عارضی ہیں، مگر آپ کا کردار اور رویہ ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔

*تھا غرورِ حاکمی جن کو، وہ اب رخصت ہوئے*
*حق کے آگے سرنگوں سب صاحبِ طاقت ہوئے*
*ظلم کی ٹہنی پہ قائم رہ نہیں سکتا حباب*
*آ ہی جاتا ہے بالآخر ہر ناانصافی کا حساب*
*عدل کے ایوان میں جب بھی لکھا جائے گا نام*
*خوشامدی کا حشر دیکھے گا زمانا صبح و شام*

اللہ پاک ہمارے ادارے کو آئندہ ایسے دو نمبر پروفیسر اور چاپلوسی کرنے والوں سے محفوظ رکھے جو کرسی کے لیے اپنے ضمیر اور ملازمین کے حقوق کا سودا کرتے ہیں۔

01/08/2026

Celebrating my 9th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Address

Main Gulshan Campus: BSC Block, Block 9, University Road, Gulshan-e-Iqbal
Karachi
75300

Opening Hours

Monday 09:00 - 05:00
Tuesday 09:00 - 05:00
Wednesday 09:00 - 05:00
Thursday 05:00 - 02:00
Friday 05:00 - 01:00

Telephone

+923242634713

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Federal Urdu University of Arts, Sciences And Technology - Fuuast posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Federal Urdu University of Arts, Sciences And Technology - Fuuast:

Shortcuts

Share