Federal Urdu University of Arts,Science & Technology -Fuuast

Federal Urdu University of Arts,Science & Technology -Fuuast knowledge is power

پختون سٹوڈنٹس کونسل کی وفد کا جامعہ اردو کے معزز رجسٹرار  صاحبہ کے ساتھ  اہم میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں PSC کے وفد نے جامعہ م...
05/12/2022

پختون سٹوڈنٹس کونسل کی وفد کا جامعہ اردو کے معزز رجسٹرار صاحبہ کے ساتھ اہم میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں PSC کے وفد نے جامعہ میں طلبہ کو درپیش مسائل سے رجسٹرار صاحبہ کو آگاہ کیا۔ رجسٹرار صاحبہ نے یقین دلایا کہ انتظامیہ کی نظر میں کوئی بھی اعلیٰ یا کمتر نہیں ہے۔ تمام طالب علم انتظامیہ کے نظر میں برابر ہیں۔ انہوں نے طالب علموں اور یونیورسٹی کی بہتری کے لیے ماضی میں پشتون سٹوڈنٹس کونسل کے پر امن اور مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ادارہ ہم سب کا ہے اور یہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی صرف ان کی زاتی جائداد ہے وہ احمقوں کی جنت میں میں رہتے ہیں۔

میڈیا سیل : پشتون سٹوڈنٹس کونسل

26/08/2022

اپ سب بھائیوں سے التجا ہیں کہ سیلاب زدگاہ لوگوں کو سپورٹ دیں

23/06/2021

د شہید عثمان کاکڑ لالا تہ د پشتون او بلوچو عقیدت ویڈیو.
شیر یی کی.

23/05/2021

زندگی میں کام آنے والی باتیں (کاپی)

:نمبر 1:-اگر کوئی آپ سے مشترکہ کاروبار کرنا چاہے تواس کےساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھاو اورمشاہدہ کرو کہ وہ کھانے کی بہتر چیز خود زیادہ کھاتا ہے یا تمھیں زیادہ کھلانا پسند کرتا ہے ۔دوسری صورت ہو تو کاروبار کرو جبکہ پہلی صورت ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کاروبار میں تم سے زیادہ لینے کی کوشش کریگا ۔

نمبر 2:-اگر کوئی آپ سے دوستی کرنا چاہے تو اسکے ساتھ ایک پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر اگر اس نے اپنے کو کرایہ سے بچایا کسی بھی طریقے سے تو اس کامطلب ہے کہ وہ آپ سے فائدہ لیناچاہتاہے دوستی کے قابل نہیں۔

نمبر 3:-اگر کوئی تم سے رشتہ جوڑنا چاہے تو اسکی کسی چیز کو معمولی نقصان پہنچاو ۔مثلاً اسکے جوتے پر سالن گرانا یاموبائل فون کو میز کے انتہائی کنارے پر رکھنا یا اس کے عینک کو چھیڑنا اگر اس نےاپنی چیز کی قیمتی ہونے کاچرچا کیا تو رشتہ مت جوڑنا کیوں کہ اس کو رشتے سے زیادہ پیسہ پسند ہے ۔

نمبر 4:-اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور کوئی آپ سے اُدھار مانگتا ہے تو اسکو قیمت بہت زیادہ بتانا اگر اسنے قیمت کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی تو ادھار نہ دینا کیونکہ اس کو ادائیگی نہیں کرنی ہے اسلیے قیمت سے دلچسپی نہیں ۔

نمبر 5:-اگر کوئی اپنی ہر دوسری تیسری بات پر قسم اٹھاتا ہو ۔تو اسکی بات میں ضرور جھوٹ ہوگی وہ قسمیں اسلیے اٹھاتا ہے کہ اس کو اپنی جھوٹ سچ ثابت کر نا ہو تا ہے۔

نمبر 6:-اگر تمھارا کوئی دوست تم سے اپنی کوئی برائی چھپاتا ہے تو اپ اس کو مت بولیں کہ تم کو سب کچھ معلوم ہے اگر تم نے ایسا کیا تو پھر وہ اس برائی کو تمھارے سامنے بھی کریگا ۔

نمبر 7:-بچوں کو برے کام سے منع کرتے وقت جن، بلا، یاجانور سے نہ ڈرانا کیوں کہ جب وہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ چیزیں فرضی تھے تو وہ برائی واپس شروع کریگی۔بلکہ اللہ سے یا جہنم سے ڈرانا کیونکہ اس کی تصور تمام عمر ہوتا ہے ۔

نمبر 8:-بچوں کی ہر غلطی پر سزا نہ دینا کیونکہ اس سے اس کی ذہنیت ایسی بن جاتی ہے کہ بڑے ہوکر ہر غلطی کرنے والے سے لڑیگا ۔پھر ساری عمر جھگڑوں میں گزریگی ۔

نمبر 9:-اپنے ماں باپ سے اپنے بچوں کے سامنے بہت محتاط رہنا کیونکہ جو انداز تم اپناتے ہو وہی کل تمھاری اولادِ اپنائیگی ۔

نمبر10:-معاشرے میں جس کا کوئی کام برا لگے وہ خود نہ کرنا ۔🌺🌺🌺🌸🌸🌸

01/12/2020

Baloch Nation

30/11/2020

وفاقی جامعہ اردو یونیورسٹی بیچلرز و ماسٹرز پروگرامز برائے سال 2021 میں داخلہ فارمز جمع کرانے کی تاریخ میں 10 دسمبر 2020 تک توسیع کی جاتی ھیں۔

30/11/2020

Last date for addmision 2021
Date extend hu g*i hai notification ajai ga

This is the best picture of 2020 from Afghanistan!Ustad Mahmood Marhoon, lecturer of Pashto Department in Kabul Universi...
30/08/2020

This is the best picture of 2020 from Afghanistan!
Ustad Mahmood Marhoon, lecturer of Pashto Department in Kabul University is taking care of a baby while the mother is busy in her exam.
A great gesture of Humanity & Kindness.
Proud of be Afghan.

Proud moment for fuaast abdu haq... Adil Hussain completed css and selected in OMG he is ex student of eng literature ..
23/06/2020

Proud moment for fuaast abdu haq... Adil Hussain completed css and selected in OMG he is ex student of eng literature ..

10/06/2020

گاندھی کو 'مہاتما ' یعنی عظیم روح/ آدمی کیوں کہا جاتا ہے:
اس کا جواب اسکالر پروفیسر اشتیاق احمد یوں دیتے ہیں:
سب انسان انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے غلطیاں اورعظیم خطائیں بھی سرزد ہوتی ہیں۔ گاندھی واقعی مہاتما کیوں تھا۔۔ حالانکہ وہ انٹی جدیدیت تھا، اور سیاسی غلطیاں بھی اس سے سرزد ہوئی۔ ہم سب جانتے ہیں، گاندھی نے جناح سے بہت ترلا منت کیا کہ وہ تقسیم کی حمائت نہ کریں، کیونکہ اس سے بہت دوررس بحران اور تناو پیدا ہونگے، جن کا ہم تصور نہیں کرسکتے، اس کا کہنا تھا کہ ہم مسلمان اور ہندو ایک ہزار سال سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔ اور برطانیہ کے جانے بعد بھی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ لیکن جناح صاحب اپنی بات پراڑے رہے۔ نتیجہ ایک خون ریز بٹوارا ہوا ہے۔ جس میں دس لاکھ ہندو، مسلمان ، سکھ قتل ہوتے ہیں۔ ان گنت عورتیں اغواہ اور ریپ ہوتی ہیں۔ عورتوں کے جنسی اعضا کو نیزوں سے چیرا گیا، اور بچوں، بوڑھوں خواتین کو بے رحمی سے مار دیا گیا۔
مہاتما گاندھی نے ہزاروں مسلمانوں کواس وقت کلکتہ میں فسادات میں بچایا، جب کہ دہلی میں 15 اگست 1947 کی آزادی کی تقریبات ہورہی تھی۔۔ گاندھی کو جونہی کلکتہ میں ہندو مسلم فسادات کا علم ہوا، وہ وہاں جاتا ہے، ہندو مسلم ہجوم کے درمیان بیٹھ جاتا ہے۔۔ کہ ایک دوسرے کو مارنے سے پہلے مجھے مارو۔۔ اور یوں مسلمانوں کا بڑا قتل عام گاندھی نے اپنی ذاتی مداخلت سے روک لیا۔۔۔
پھر وہ کلکتہ سے جلدی میں دہلی آتا ہے، جہاں پر بھی مسلمانوں پر حملے ہوررہے تھے۔ اور مسلمان ہمایوں بادشاہ کے مزار میں پناہ لے رہے تھے۔ وہ ہندو اور سکھ جن کو مغربی پنجاب سے زبردستی نکالا گیا تھا، انہوں نے دھمکی دی کہ وہ مسلمان عورتوں کا ریپ کریں گے۔۔ اگر انہوں نے اپنے گھروں کو خالی نہ کیا اور پاکستان نہ بھاگے۔۔
کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی جو وفاقی وزیرتعلیم بھی رہ چکے ہیں۔۔ لکھتے ہیں۔ کہ انہوں نے اور دیگر دہلی کے مسلم عمائدین نے گاندھی کے پاس جا کرالتجا کی، کہ مسلمانوں کو بچائیں۔۔ چنانچہ گاندھی نے سرتوڑ کوشش کی کہ دہلی میں مسلمان محفوظ رہیں اور جو بھارت میں رہنا چاہتے ہیں، ان کو کوئی زبردستی نہ نکالے۔۔
گاندھی کا بیٹا رام داس ایک خط میں اپنے باپ پر الزام لگاتا ہے۔ کہ آپ مسلمانوں کو بچا رہے ہیں۔۔ جب کہ مسلمان ہندووں اور سکھوں کا قتل عام کررہے ہیں۔۔ بیٹا رام داس باقاعدہ اپنے باپ کو ہندووں کے لئے قابل نفرین قرار دیتا ہے۔
حالانکہ انڈیا تقسیم ہوچکا تھا۔۔۔ گاندھی اپنے مشن میں ہار چکا تھا۔۔ لیکن گاندھی نے اپنے دل میں کوئی زہر نہیں آنے دیا۔۔ وہ اپنے اصولوں پرڈٹا رہا۔۔ انڈین گورنمنٹ نے اپنے خزانے سے پاکستان کا حصہ 55 کروڑ روپے دینا تھا۔۔ جسے سردار پٹیل نے یہ کہہ کرانکار کردیا۔۔کہ پاکستان اس پیسے سے اسلحہ لے انڈیا کے خلاف جہاد کرواے گا۔۔ (پاکستان نے کشمیر پرحملہ بھی کروا دیا تھا)۔۔ پٹیل کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اس وقت پیسا دیں گے۔ جب پاکستان ہندوستان کے ساتھ اپنی دشمنی کا خاتمہ کرے گا۔۔
لیکن گاندھی پھر اس پر ڈٹ گیا۔۔ کہ پیسے پاکستان کا حق ہے، لہذا اس کی ادائیگی میں کوئی شرط نہیں لگائی جا سکتی۔۔ حتی کہ گاندھی نے مرنے تک بھوک ہڑتال کردی۔۔۔ اور اس نے وہ بھوک ہڑتال اس وقت جھوڑی۔۔ جب انڈین حکومت نے پاکستان کو پیسے ادا کردیئے۔۔۔
گاندھی کی 'پرو مسلم' ان کوششوں کی وجہ سے۔۔ انتہا پسند ہندوں گاندھی کے دشمن ہوگے۔۔۔ 30 جنوری 1948 کو ایک ہندو انتہا پسند نے گاندھی کو گولی ماردی۔۔ یہ کہہ کرکہ تم ۔۔ مسلمانوں اور پاکستان کے ایجنٹ ہو۔۔۔ تم کو ہندووں اور ہندوستان کی کوئی فکر نہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ پاکستانیوں اپنے ضمیر کو تھوڑا سا جگاو۔۔۔ تم لوگوں نے کبھی گاندھی کے بارے ایک لفظ اچھائی میں لکھا یا بولا ہو۔۔۔۔۔ ہم ہندو دشمنی میں کتنے احسان کش، جانبدار اور متعصب ہو چکے ہیں۔
ارشد محمود

03/06/2020
English vecob please share it.شیر کیجے
10/05/2020

English vecob please share it.
شیر کیجے

Address

Civl Hospital Saddar
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Federal Urdu University of Arts,Science & Technology -Fuuast posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share