زندگی کے راستے Zindagi Kay Rastay

زندگی کے راستے Zindagi Kay Rastay علم اور ہنر * ترقی کے ہم سفر
تعلیم اور فنی تربیت کے فروغ کے لیے نوجوانوں کی رہنمائی

زندگی کے راستے
اسکول اور کالج کے طلبہ و طالبات کے لیے کیریر گائیڈینس اور پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے رہنمائی
www.career.org.pk E:mail [email protected]

ترکیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالر شپس دستیاب ہیں۔آخری تاریخ 20 فروری 2025
11/01/2025

ترکیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالر شپس دستیاب ہیں۔
آخری تاریخ 20 فروری 2025

Türkiye Scholarships provide free education to all international students. You can study abroad for free with stipend and scholarship.

22/12/2024

ٹیکنیکل اسکلز سیکھیے۔

سندھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے فیس بک پیج پر مخلتف فنی مہاررتوں (ٹیکنیکل اسکلز) کے اعلان موجود ہیں۔
اپنی دلچسپی کے کورس مین داخلہ لے کر نیا ہنر سیکھیے،اپنی ماہرت بڑھائیے اور کامیابی کے طرف آگے بڑھیے۔
https://www.facebook.com/.program/

Empowering the youth of Pakistan through 40+ FREE specialized IT and technical courses. Join the SSDP initiative today! Applicants from Punjab, Khyber Pakhtunkhwa, Balochistan, Azad Jammu and Kashmir, and Gilgit-Baltistan can also join this program🌟

16/12/2024
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2013-04-05/3211
13/12/2024

https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2013-04-05/3211

صحیح کیریئر کا انتخاب انسانی زندگی کا سب سے اہم مگر مشکل فیصلہ ہے ۔اس فیصلے سے زندگی بن سکتی ہے اورتباہی کا شکار بھی ہوسکتی ہے۔کیریئر پلاننگ کیلئے بنیادی فارمولا یہ ہ...

گاڑی کی آواز سن کر اس کی خرابی بتا سکتی ہوں.  کار مکینک عظمیٰ نواز...................حسن آرا..................عظمی نواز...
11/12/2024

گاڑی کی آواز سن کر اس کی خرابی بتا سکتی ہوں.
کار مکینک عظمیٰ نواز
...................
حسن آرا..................
عظمی نواز پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں دنیا پور سے تعلق رکھتی ہیں۔ فوٹو: فائل
MELBOURNE:عظمیٰ نواز پاکستان کی پہلی کار مکینک خاتون ہیں، انہوں نے ثابت کیا ہے کہ کٹھن میدانوں میں بھی لڑکیاں خود کو منوا سکتی ہیں اور وہ بھی اپنی مثبت سوچ کی بنا پر غربت کو بھی ہرا سکتی ہیں۔

بس ہر کام کے ہمت اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ سادہ سے ماحول میں پلنے والی عظمیٰ منفرد صلاحتوں کی حامل ہیں۔ اس کے والد ایک کسان ہیں۔ اس نے نہ صرف تعلیم بلکہ پروفیشن کے علاوہ گھریلو امور بھی سر انجام دی ہیں۔ ان کے والدین انہیں اس شعبے میں نہیں لانا چاہتے تھے، کیوں کہ یہ معاشرے میں لڑکیوں کے لیے رجحانات کے برعکس تھا، دوسری بات یہ کہ اگر ایک لڑکی یہ کام کرتی نہ صرف اسے، بلکہ اس کے خاندان کو بھی عجیب عجیب باتوں کا سامنا کرنا پڑتا، مگر بیٹی کے شوق اور حوصلے پر انہوں نے ہامی بھر لی۔

پاکستان میں انجن کی مرمت کا کام ان کاموں میں شامل تھا، جسے خاص طور پر مردوں سے ہی جوڑا جاتا تھا۔ اس کام کو آج سے پہلے کسی لڑکی نے نہیں کیا۔ عظمی نواز پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں دنیا پور سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس کام میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ شروع میں لوگ انہیں دیکھ کر بہت حیرت کا اظہار کرتے تھے، مگر آہستہ آہستہ ان کی اس کام میں مہارت دیکھ کر لوگ ان کے کام کے معترف ہونے لگے۔

گھریلو حالا ت اور مشکلات کے باوجود انہوں نے خود کو اس کام میں منوایا، جو ان سے پہلے کسی لڑکی نے نہیں کیا۔ پاکستان میں ایک لڑکی کا بھاری انجنوں کا کام کرنا ہی ہی ایک عجیب بات تھی۔ ان کی تعلیم سے لے کر ملتان کی آٹو ریپئر ورک شاپ میں کام کرنے تک، انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر یہ بھی سچ ہے کہ اگر انسان ہمت کرے، تو کیا نہیں ہو سکتا۔ 24 سال کی عمر میں عظمیٰ نے خود کو ماہر موٹر مکینک ثابت کیا۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر کاری گروں کا کہنا ہے کہ وہ بالکل مردوں کی طرح کام کرتی ہیں، یہ کسی طور پر بھی ہم سے کم نہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ اس میں جتنی بھی ترقی ہو جائے، مگر ابھی بھی کئی شعبے ایسے ہیں، جو مردوں کے لیے مخصوص سمجھے جاتے ہیں، مگر اس لڑکی نے ثابت کیا ہے کہ لڑکیاں چاہیں تو کوئی بھی کام کر سکتی ہیں۔

عظمیٰ کا کہنا ہے انہیں اس راستے میں بہت سی مشکلات پیش آئیں، مگر انہوں نے ان سب کا مقابلہ بہادری سے کیا اور اپنے والدین کے لیے فخر بنیں اور یہ لڑکیاں کسی سے کم نہیں انہیں بھی آگے آنا چاہیے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم کو حاصل کر کے اور بڑھانا ہے۔

ہم میں سے بہت سی عورتیں برے حالات سے مقابلہ کرنے کے بجائے ہمت ہار جاتی ہیں، کیوں کہ ہمیں لگتا ہیں کہ ہم مردوں کے مقابلے میں کم زور ہیں، لیکن ایسا نہیں عورتوں میں میں محنت اور کام کی صلاحیت ہے۔

عظمیٰ کے لیے یہ کام ایک چیلینج تھا، جسے انہوں نے شدید مالی مشکلات کے باوجود پورا کیا۔ ان کا کہناہے ان کی تعلیم ان کے وظائف سے پوری ہوئی اور کبھی کبھی وظائف بھی کم پڑتے تو انہیں پیٹ کاٹ کر بھی گزارا کرنا پڑتا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے تمام پاکستانی خواتین کے لیے ہمت حوصلے اور حالات سے لڑنے کی ایک مثال قائم کی ہے۔

عام طور پر پاکستان میں لڑکیوں کو کیرئر بنانے کے بہ جائے گاؤں میں واجبی تعلیم کے بعد شادی کا رجحان ہے، مگر انہوں نے نہ صرف ایک سال کے اندر اپنا نام بنایا، بلکہ اس کام میں ترقی بھی کی۔ انہوں نے اس گیراج میں انتہائی محنت اور لگن سے کام کیا۔ وہ نہایت مہارت سے گاڑی کو مشین سے اوپر اٹھانے سے لے کر اسے ٹھیک کرنے تک بالکل مردوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ گاڑی کی آواز سن کر اس کی خرابی بتا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑیوں سے متعلقہ ہر خرابی دور کر سکتی ہیں۔

عظمیٰ کا کام اور مہارت پاکستانی خواتین کے لیے ایک پیغام ہے کہ مخصوص شعبوں کے علاوہ دوسرے شعبوں میں کام کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اس کام میں عزت پائی ہے، بلکہ خواتین کو بھی ایک نئی سوچ اور نیا راستہ دکھایا ہے۔

عظمی نواز پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں دنیا پور سے تعلق رکھتی ہیں۔

اگر آپ والدین ہیں تو  یہ پوسٹ آپ کے بیٹے/بیٹی   کے بارے میں ہے۔ اگر آپ  طالب علم ہیں تویہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔اگر آپ کی یا...
11/12/2024

اگر آپ والدین ہیں تو یہ پوسٹ آپ کے بیٹے/بیٹی کے بارے میں ہے۔
اگر آپ طالب علم ہیں تویہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔
اگر آپ کی یا آپ کے والدین کی آمدنی محدود ہے اور دسویں جماعت کے گھر کے حالات آگے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تو بہتر ہے کہ کوئی ہنر حاصل کریں تاکہ چھ مہینے یا سال بعد آپ روز گار کے قابل ہوجائیں اور ملازمت یا کاروبار کے ذریعے آمدنی حاصل کر سکیں۔
کراچی کے مختلف علاقوںمیں سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے منظور شدہ 30 ادارے فنی تعلیم و تربیت (ٹیکلیکم ٹریننگ) کے چھ ماہ سے ایک سال تک کی مدت کے سرٹیفکٹ کورسز کراتے ہیں۔
یاد رکھیے! پاکستان میں تربیت یافتہ ہنرمندوں کی کمی ہے۔ کسی ہنر کی تربیت حاصل کر کے آپ باعزت طریقے سے روزی کما سکتے ہیں۔
سرٹیفکٹ کورسز اور شارٹ کورسز کے نام اور اداروں کے نام جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے:
https://www.sbte.edu.pk/technical-short-courses

آپ 6 ماہ میں کار مکینک بن سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں سائیکل مکینک بن سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں شہد کی مکھیاں پالنا سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں ٹیلرنگ سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں ڈیری فارمنگ سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں حلوائی کا کام سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں گھر میں بجلی کی وائرنگ سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں ہوم پلمبر کا کام سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں موبائل ریپئرنگ سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں جوتے بنانا سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں دروازے بنانا سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں ویلڈنگ کا کام سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں مٹی کے برتن بنانا سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں گھر کی چنائی سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں یوگا سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں مشروم فارمنگ سیکھ سکتے ہیں۔
آپ 6 ماہ میں بال کاٹنا سیکھ سکتے ہیں۔
6 مہینوں میں آپ بہت سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں جو آپ کے خاندان کو بھوکا نہیں سونے دیں گے۔
آج دنیا کے سب سے زیادہ ناخوش لوگوں کی درجہ بندی ان لوگوں میں کی جا سکتی ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں۔
جو تعلیم آپ کو روزگار نہیں دے سکتی اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے سے آپ کے لیے ملازمت کی اہلیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
آپ خود سوچیں۔ ہنر یا ٹیکنیلپ اسکل سے بل ادا ہوتے ہین اور سب گھر والے وقت پر کھانا کھا سکتے ہیں۔

https://www.facebook.com/share/p/sGggo6ZwVhAuGuyJ/
10/12/2024

https://www.facebook.com/share/p/sGggo6ZwVhAuGuyJ/

خود کو تعلیم دیں۔
جب کسی خاص موضوع کے بارے میں کوئی سوال آپ کے ذہن میں اُبھرتا ہے، تو اسے گوگل کریں۔ اُس پر شارٹ فلمیں اور دستاویزی فلمیں دیکھیں۔ جب ان میں سے کوئی چیز آپ کی دلچسپی کو جنم دے تو پھر اس کے بارے میں پڑھیں۔مزید پڑھیں، اس وقت تک پڑھیں جب تک وہ جواب نہ مل جائے جو آپ کے ذہن میں اُبھرا تھا۔
خود کو تعلیم دینے کا یہی بہتر طریقہ ہے کہ مطالعہ کریں، سیکھیں، اپنے دماغ کو متحرک کریں۔ صرف روایتی تعلیمی نظام پر بھروسہ نہ کریں، اپنے اس خوبصورت ذہن کو تعلیم دیتے رہیں۔

Address

Karachi
74200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when زندگی کے راستے Zindagi Kay Rastay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to زندگی کے راستے Zindagi Kay Rastay:

Share