Mera Faisla میرا فیصلہ

Mera Faisla میرا فیصلہ یہ پیج لائک ضرور کرتے جائیں plz All frendz

باولا پن ۔  rabies  بے شک اسکا کوئی علاج نہیں اور انجام موت ہے بلکہ ڈاکٹر حضرات لواحقین سے دستخط لے کے خود مریض کو زہر ک...
02/02/2025

باولا پن ۔ rabies

بے شک اسکا کوئی علاج نہیں اور انجام موت ہے بلکہ ڈاکٹر حضرات لواحقین سے دستخط لے کے خود مریض کو زہر کا انجیکشن لگا دیتے ہیں کیونکہ مریض ہر کسی کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے اور جسکو کاٹ لے اس میں بھی Rabies virus منتقل ہو جاتا ہے. اگر آپ کے علم میں کوئی ایسا مریض آئے تو برائے مہربانی اس کے گھر والوں کو بولیں کہ جو علاج میں ابھی بتانے لگا ہوں یہ ضرور آزما کے دیکھ لیں انشااللہ ضرور شفاء نصیب ہو گی.

عللاج نمبر 1 اگیوامریکانہ Agave Americana یہ قبرستانوں میں عام پایا جاتا ہے ..
پنجابی میں اس کو لپھڑا کیتے ھیں..کشمیر میں اس کو ,, کمال گندل ,, بولتے ہیں اس لیے کہ یہ کمال کی چیز ہے اور بہت سی بیماریوں میں استمال ہوتی ہے ۔۔اسے کیوڑہ بھی کہتے ہیں ۔

پہچان کیلیے اسکی تصویر لگا دی ہے. اس پودے کا ایک پتا مریض کے آگے پھینک دیں وہ خود ہی اسکو کھانا شروع کر دے گا. جوں جوں کھاتا جائے گا اسکا پاگل پن اور Rabies جاتا جائے گا.

عللاج نمبر 2: ہومیوپیتھی کی ایک دوائی ہے Lysin 1M اس کے 5 قطرے مریض کے منہ میں ڈال دیں اور ہر 3 گھنٹے بعد دہراتے رہیں جب تک مریض کے حواس نہ بحال ہو جائیں. آپ اس میسج کو اپنی وال پر بھی post کر دیں کسی ایک کی بھی جان بچ جائے تو سمجھیں ساری انسانیت کو بچا لیا.

🌹جس کو کوئی شک ہو وہ خود تحقیق کر لے ۔۔۔۔
ڈاکٹر شیخ متین
یہ کاپی پیسٹ ہے رہنمائی کے لیے ڈاکٹر یا کسی حکیم سے ضرور مشورہ کریں

🌹🌹🌹 Mera Faisla میرا فیصلہ

ٹک ٹوکر دارو کوئین کسی تعارف کی محتاج نہیں شاید ہی اسکی کوئی ایسی ویڈو نظر سے گزرے جو اس نے دوپٹےکے بغیر بنائی ہو ! اپنے...
01/02/2025

ٹک ٹوکر دارو کوئین کسی تعارف کی محتاج نہیں شاید ہی اسکی کوئی ایسی ویڈو نظر سے گزرے جو اس نے دوپٹے
کے بغیر بنائی ہو ! اپنے شوہر اور دو معصوم بچوں کیساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی تھی
مگر غیر مردوں کے سامنے لائیو آنے کا چسکے نے اسکے بچےکچھے کردار کو بھی مسل دیا مادیت پرستی دولت کی ہوس شیروں کے لالچ نے اسکی خوشگوار ازدواجی زندگی میں زیر گھول دیا اور یوں وہ اپنے محبوب شوھر کو چھوڑ چھاڑ کر ایک گفٹر کی گود میں جا بیٹھی۔۔ اور بلآخر اس گفٹر نے بھی طلاق دے دی
ہنستی بستی مسکراتی زندگی برباد ہوگئی ۔۔ تعلیم یافتہ عورتوں میں شرح طلاق زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔۔۔ کہ وہ ڈگری ہولڈر تو ہوتی ہیں مگر تربیت میں دیمک
زدہ لکڑی کی طرح اور آفاقی تعلیمات سے بالکل نابلد ، کیونکہ جس لڑکی کا ایمان مضبوط دل میں خوف خدا اور حيا شرم پردے کا حقیقی تصور موجود ہوتا ہے ۔ وہ ویلکم پارٹیوں میں نہ ہوٹنگ کرتی ہیں نہ یونیورسٹیز میں ہونے
والے مجروں میں رنگ برنگے عبایا پہن کر اچھل اچھل کر داد دیتی ہیں اور نہ غیر محرم لڑکوں سے یار یار کرتی ہیں آج دارو کوئین کی لائف ان لڑکیوں کے لئے ایک سبق ہے جو

اپنے شوھر کے چند کڑوے کسیلے جملوں سے تنگ آکر یہ سمجھتی ہیں کہ باھر کے مرد بہت با اخلاق اور ریسپکیٹ ایبل ہیں لیکن انہیں نہیں پتہ کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے
ہیں جب نزدیک جائیں تو ڈھم ڈھم ہی ہے

کوپی پسٹ
Mera Faisla میرا فیصلہ

تصویر کہانی یہ جاپان کا بس سٹاپ ہے ، دو کرسیاں ہیں ، مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ بس کے انتظار میں یہاں بیٹھیں تو فارغ نہ ہوں ، ...
31/01/2025

تصویر کہانی

یہ جاپان کا بس سٹاپ ہے ، دو کرسیاں ہیں ، مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ بس کے انتظار میں یہاں بیٹھیں تو فارغ نہ ہوں ، بس کے انتظار کے ساتھ تین کام کر سکیں ۔

پہلا : بس کا انتظار ۔
دوسرا : پیڈلز کے ذریعے جسمانی ورزش ۔
تیسرا : پیڈلز سے سٹریٹ لائٹس کے لئے بجلی کی پیداوار میں شرکت ۔

انتظار اپنے لئے ،
ورزش وجود کے لئے اور بجلی کی پیداوار میں شرکت ملک کے لئے ۔۔

حاضر دماغ رہنما یونہی قوم اور ملک کے لئے بہتری سوچتے ہیں ایسے ہی جاپان نے ترقی نہیں کی ، اس کامیابی کے پیچھے عالی دماغ ذہنوں کےاعلیٰ ترین آئیڈیاز کی کار فرمائی ہے جو قوم کو ترقی کی جانب لے جاتی ہے ۔

Follow👇

Mera Faisla میرا فیصلہ

سور کیوں پیدا کیا گیاہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہےیورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انت...
31/01/2025

سور کیوں پیدا کیا گیا
ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے

یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے۔
کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔
اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔
شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔
چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔
اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا
P
1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔
اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!
آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیااستعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں،

ان مصنوعات میں
دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں
کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔
سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔
لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔
E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E905

ڈاکٹر ایم امجد خان
میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ

👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں

یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے
کوپی پسٹ

کیا آپ جانتے ہیں چارکول کیسے بنتا ہے.؟ وہ دہکتا ہوا کوئلہ جس پر باربی کیو بنتا ہے. یہ قدرتی کوئلہ نہیں ہوتا بلکہ اسے انس...
21/01/2025

کیا آپ جانتے ہیں چارکول کیسے بنتا ہے.؟ وہ دہکتا ہوا کوئلہ جس پر باربی کیو بنتا ہے. یہ قدرتی کوئلہ نہیں ہوتا بلکہ اسے انسان بناتے ہیں. لکڑیاں ایک ترتیب سے رکھ کر اس پر مٹی کی لیپائی کر دیتے ہیں. ایک سوراخ سے آگ لگا لیتے ہیں اور پھر اس سوراخ کو بھی بند کر دیتے ہیں.

آگ کیلئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے. لیکن اس بھٹی میں آکسیجن نہیں ہوتی. لکڑی جل کر بھی جل نہیں پاتی. بس اس کی شکل بدل جاتی ہے. یہی بدلی شکل چارکول کہلاتی ہے. اس میں اب عام لکڑی سے زیادہ توانائی ہوتی ہے. سوکھی لکڑی شعلے بناتی ہے. یہ جبکہ دہکتی آگ بناتے ہیں.

انسان جب ظلم پر آمادہ ہو جائے تو یہی حرکت اپنے آس پاس کے انسانوں پر بھی آزماتا ہے. یہ دوسروں کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے. کسی کو سر اٹھانے اپنے نصیب کی زندگی جینے کی اجازت نہیں دیتا. دُنیا کو کسی کیلئے ایسا تنگ بند کوٹھڑی کا قید خانہ بنا لیتا ہے جہاں دم گھٹ رہا ہوتا ہے.

یہ کردار کسی گھر میں کسی ادارے میں کسی ملک کے حکمران تاجر طبقہ میں عام دستیاب ہیں. یہ سمجھتے ہیں ہماری طاقت کو دوام مل رہا ہے. لیکن فطرت اس بھٹی کے باہر ایسے ہی انتظار کرتی ہے جیسے چارکول بنانے والے بھٹی کا سوراخ بند ہونے کے بعد انتظار کرتے ہیں. اس بھٹی سے نکلنے والے انسان بھی پھر منفرد ہوتے ہیں.

ہمارے آس پاس بہت سے لوگ ہوتے ہیں. جو بظاہر ہم جیسے ہی ہوتے ہیں. لیکن وہ منفرد ہوتے ہیں. زمانہ ان کو ڈرا نہیں سکتا کوئی امتحان ان کو ہرا نہیں سکتا. ہم حیرت سے ان کو دیکھتے ہیں کہ یہ ہم جیسے ہوتے بھی ہم سے اتنا الگ کیوں ہیں.؟ یہ وقت کی اسی آزمائش کی بھٹی سے دہک کر نکلے ہوتے ہیں. یہ چارکول ہوتے ہیں. یہ ظالم کو رسوا کرنے والے ہوتے ہیں.

ریاض علی خٹک کاپی پسٹ پیج اڈمین

سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نےمیڈیکل کی فیس کے لیے اسی کالج میں مزدوری کی، جہاں انکا داخلہ ہوا تھا۔بلوچستان کے ضلع قلات سے ت...
21/01/2025

سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نےمیڈیکل کی فیس کے لیے اسی کالج میں مزدوری کی، جہاں انکا داخلہ ہوا تھا۔

بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر محمد اعظم بنگلزئی نے میڈیکل کی تعلیم کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج سے حاصل کی مگر اُنھوں نے اسی کالج کی عمارتوں کی تعمیر میں بطور مزدور کام بھی کیا اور بعد میں اس سے منسلک ہسپتال میں سرجن بھی رہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ وہ دن کو کالج میں پڑھتے اور پھر شام کو زیر تعمیر عمارت جاتے جہاں ان کا روپ مزدور کا ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح رات گئے تک محنت مزدوری کرنے کے بعد تھوڑا بہت آرام کرتے اور اس کے بعد پھر کلاس اور لائبریری میں ہوتے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اس وقت ان کی دیہاڑی 30 روپے ہوتی تھی اور اس طرح تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اچھی خاصی رقم بنتی تھی۔

مزدوری کے دوران بھی کتابیں ساتھ ہوتی تھیں‘

اُنھوں نے بتایا کہ ’چونکہ مزدوری میری مجبوری تھی اور میرا اچھا خاصا وقت مزدوری پر صرف ہوتا تھا اس لیے میری کوشش ہوتی تھی کہ مزدوری کے دوران بھی کچھ پڑھا کروں، اس لیے اپنی کتابیں بھی ساتھ لے جاتا تھا۔‘

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے کہا کہ ’ایک دن میں ریت اور سیمنٹ کے مکسچر سے بھری ریڑھی جب عمارت میں اوپر لے جا رہا تھا تو ریڑھی میرے ہاتھ سے گر گئی۔

’بدقسمتی سے اس وقت ٹھیکیدار بھی وہاں موجود تھا۔ ٹھیکیدار ریڑھی کو گرتے اور سیمنٹ کو ضائع ہوتے دیکھ کر غصے میں آ گیا۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ ’ٹھیکیدار نے مجھے کہا کہ آپ کو تو کام کرنا نہیں آتا، اس لیے آپ کام چھوڑ کر چلے جائیں۔ میں نے ان کو بہت سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ دوبارہ ایسا نہیں ہو گا لیکن اُنھوں نے مجھے نکال دیا۔‘

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کے مطابق اُنھوں نے ٹھیکیدار سے کہا کہ اگر مزید کام کرنے نہیں دیتے تو بے شک مت کرنے دیں لیکن کم از کم اس روز کی دیہاڑی تو پوری ہونے دیں لیکن وہ سیمنٹ کے ضائع ہونے پر اتنا ناراض تھا کہ مجھے دیہاڑی پوری نہیں کرنے دی بلکہ آدھی مزدوری یعنی 15 روپے دے کر فارغ کیا۔‘

ڈاکٹر اعظم نے بتایا کہ بعد میں اُنھیں ریڈیو پاکستان پر خبریں پڑھنے کا موقع ملا اور ریڈیو کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی والوں نے بھی انھیں خبروں کا ترجمہ کرنے اور پڑھنے کے لیے بلا لیا، جس سے ان کے اخراجات پورے ہوتے رہے۔

جب ٹھیکیدار مریض بن کر سرجن اعظم بنگلزئی کے پاس آیا

سرجن اعظم بنگلزئی نے کہا کہ جنرل سرجری میں ایم ایس کرنے کے بعد سرجن کی حیثیت سے اُن کی تقرری بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں ہوئی۔

ایک دن میری او پی ڈی میں ڈیوٹی تھی تو میں نے دیکھا وہی ٹھیکیدار اپنے بیٹے کے ساتھ ایک پرچی لے کر میرے پاس آیا۔

’ٹھیکیدار بوڑھا ہو گیا تھا۔ میں نے اسے پہچان لیا لیکن وہ مجھے نہیں پہچانتا تھا۔ میں نے اس کا نام لیا اور اسے اپنے پاس بلایا تو وہ حیران ہوا کہ یہ شخص کس طرح مجھے جانتا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ جب ٹھیکیدار اُن کے پاس آیا تو اُنھوں نے اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا، جس پر ٹھیکیدار نے ان سے پوچھا کہ وہ اُنھیں کس طرح جانتے ہیں۔

اعظم بنگلزئی نے بتایا کہ ٹھیکیدار کو وہ بہت زیادہ تو یاد نہیں تھے لیکن جب اُنھوں نے کئی باتیں یاد کروائیں تو وہ کام سے نکالنے کی بات پر رو پڑے اور کہا کہ ’میں نے آپ کو کام سے نکال کر ظلم کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ٹھیکیدار کو بتایا کہ آپ نے کوئی ظلم نہیں کیا کیونکہ ویسے بھی وہ میری منزل نہیں تھی بلکہ میری منزل یہ تھی جہاں آج میں پہنچا ہوں۔‘

والدہ کا آخری دیدار نہیں کر سکا‘

ڈاکٹر اعظم نے بتایا کہ جب وہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں پوسٹ گریجویشن کر رہے تھے تو ایک رات اُنھیں ایک خاتون کا آپریشن کرنا پڑا۔

’یہ عجیب اتفاق تھا کہ جس وقت میں وہ آپریشن کر رہا تھا تو مجھے کوئٹہ سے فون آیا اور بتایا گیا کہ کوئٹہ میں آپ کی والدہ کو ایمرجنسی میں ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

’دوسرا عجیب اتفاق یہ تھا کہ جس خاتون کی میں آپریشن کررہا تھا وہ معدے کے زخم کی مریضہ تھی جبکہ میری والدہ بھی اسی بیماری میں مبتلا تھی۔ جب میں آپریشن کرنے کے بعد نکلا اور والدہ کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ وفات پا گئی ہیں۔‘

’اگرچہ میں فرض کی بجا آوری کے باعث اپنی والدہ کا آخری دیدار نہیں کرسکا لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس دوران میں نے ایک خاتون کی زندگی بچائی۔‘

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ نئے بولان میڈیکل کالج، اس کے ہاسٹل اور بولان میڈیکل کمپلیکس کی عمارتوں کے سامنے سے گزرتے ہیں، تو فخر محسوس کرتے ہیں۔

’مجھے یہاں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ان عمارتوں میں میری محنت اور پسینے کی خوشبو ہے۔‘

( یہ معلومات بی،بی،سی،اردو سے اخذ کی گئی ہے۔)
پوسٹ
copied

اگر آپ کو شہد کی مکھیوں کا ایسا گروہ نظر آئے، تو براہ کرم ان سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی ان پر زہر چھڑکیں۔ خوفزد...
27/11/2024

اگر آپ کو شہد کی مکھیوں کا ایسا گروہ نظر آئے، تو براہ کرم ان سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی ان پر زہر چھڑکیں۔ خوفزدہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں، یہ صرف مسافر شہد کی مکھیاں ہیں۔ 🐝

یہ مکھیاں کچھ وقت کے لیے آرام کر رہی ہیں اور دو سے تین دنوں کے اندر وہاں سے نکل جائیں گی، یہ ان کے نئے گھر کی تلاش کے لیے ماحولیاتی حالات پر منحصر ہے۔ ان کا نیا ٹھکانہ ایک ایسا مقام ہونا چاہیے جو ٹھنڈا، آرام دہ، دوستانہ اور پر سکون ہو۔

اگر آپ واقعی ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے قریب پانی کا ایک برتن رکھ سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔ شہد کی مکھیاں اہم ترین جراثیم کش حشرات میں سے ہیں اور دیگر کئی کیڑوں کی طرح، ماحولیاتی نظام کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

امید ہے کہ آپ ان کی اہمیت کو سمجھیں گے اور ان کی حفاظت کریں گے کیونکہ یہ ہمارے سیارے 🌎 کے لیے بے حد ضروری ہیں۔
Copy past
➖--»»🌹 *انتخاب* 🌹««--➖
*صاحبزادہ احـسان الرحـمٰـن مـدنـی*

امام طبرانی کی کتاب میں ایک وقعہ پڑھا آنسو ہیں کہ رک نہیں رہے آپ بھی پڑھیں۔حضرت صعصعہ بن ناجیه در رسول الله ﷺ پر کلمہ پڑ...
14/11/2024

امام طبرانی کی کتاب میں ایک وقعہ پڑھا آنسو ہیں کہ رک نہیں رہے آپ بھی پڑھیں۔

حضرت صعصعہ بن ناجیه در رسول الله ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے مسلمان ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے یا رسول الله ﷺ ایک بات پوچھنی ہے حضور ﷺ نے فرمایا پوچھو کہنے لگے یا رسول الله ﷺ دور جاہلیت میں ہم نے جو نیکیاں کی ہے اُن کا بھی اللہ ہمیں آجر عطا کرے گا کیا اسکا بھی آجر ملے گا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو بتا تو نے کیا نیکی کی تو کہنے لگے یا رسول الله ﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کر اپنے دو اونٹوں کو ڈھونڈنے نکلا میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اُس پار نکل گیا جہاں پرانی آبادی تھی وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا اس کو جا کر میں نے بتایا کہ یہ دو اونٹ میرے ہیں وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آئے تھے تمہارے ہیں تو لے جاؤ انھی باتوں میں اُس نے پانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو بوڑھا پوچھنے لگا بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگر بیٹا ہوا تو قبیلے کی شان بڑھائے گا اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اُسے زندہ دفن کرا دوں گا اس لیئے کہ میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا میں ابھی دفن کرا دوں گا حضرت صعصعہ بن ناجیہ فرمانے لگے یا رسول الله ﷺ یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا میں نے اُسے کہا پھر پتہ کرو

بیٹی ہے کہ بیٹا ہے اُس نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بیٹی آئی ہے میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا ! کہنے لگا ہاں میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے میں لے جاتا ہوں یا رسول الله صلى الله وہ مجھے کہنے لگا اگر میں بچی تم کو دے دوں تو تم کیا دو گے میں نے کہا تم میرے دو اونٹ رکھ لو بچی دے دو کہنے لگا نہیں دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے آیا ہے یہ بھی لے لیں گے حضرت صعصعہ بن ناجیہ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اُسے واپس دے دیتا ہوں یا رسول الله ﷺ میں نے تین اونٹ دے کر ایک بچی لے لی اس بچی کو لاکے میں نے اپنی کنیز کو دیا نوکرانی اُسے دودھ پلاتی یا رسول الله ﷺ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی وہ میرے سینے سے لگتی حضور صل الله پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا کہ کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے یا رسول الله ﷺ میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا یا رسول الله ﷺ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ہے میری حویلی میں تین سو ساٹھ بچیاں پلتی ہیں حضور صلى الله مجھے بتائیں میرا مالک مجھے اس کا اجر دے گا ؟ کہتے ہے حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا داڑهی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے رب نے تجھے دولت ایمان عطا کر دی ہے نبی کریم ﷺ فرمانے لگے یہ تیری دنیا کا اجر ہے اور تیرے رسول ﷺ کا وعدہ ہے قیامت کے دن

رب کریم تمہیں خزانے کھول کے دے گا
Copy past

‏پاکستان میں حالیہ گرمی کی شدت کی وجہ سے پاکستان کے ایک بڑے طبقے نے درختوں کی اہمیت کو محسوس کرنا شروع کر دیا ہے.لیکن سو...
23/06/2024

‏پاکستان میں حالیہ گرمی کی شدت کی وجہ سے پاکستان کے ایک بڑے طبقے نے درختوں کی اہمیت کو محسوس کرنا شروع کر دیا ہے.
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص درخت لگانا چاہتا ہے تو وہ کونسا درخت لگائے؟
یہ سوال اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان کے شہروں میں ہر جگہ نظر آنے والے کونوکارپس کے درخت کو ماہرین ماحول دوست قرار نہیں دے رہے. اسی طرح سفیدے کے بارے میں بھی لوگوں کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں.
یہ مضمون اسی تناظر میں اپنے قارئین کے لئے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ درخت لگانے کے حوالے سے رہنمائی حاصل کر سکیں.
یہ مضمون زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہر جنگلات سینئر پروفیسر جناب ڈاکٹر محمد طاہر صدیقی نے تحریر کیا ہے جو گزشتہ برس ایک نجی رسالے میں شائع ہوا تھا.
چیف ایڈیٹر ایگری اخبار: ڈاکٹر شوکت علی، ماہر توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

پاکستان کی آب وہوا کے لئے موزوں درخت کون کون سے ہیں؟

اس مضمون میں پاکستان کے مختلف خطوں کے لئے موزوں درختوں کی الگ الگ تفصیل بیان کی گئی ہے.

جنوبی پنجاب کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں؟

جنوبی پنجاب کی آب و ہوا زیادہ تر خشک ہے اس لئے یہاں خشک آب و ہوا کو برداشت کرنے والے درخت لگائے جانے چاہئیں۔ خشکی پسند اور خشک سالی برداشت کرنے والے درختوں میں‌ بیری، شریں، سوہانجنا، کیکر، پھلائی، کھجور، ون، جنڈ اور فراش کے درخت قابل ذکر ہیں۔ اسکےساتھ آم کا درخت بھی جنوبی پنجاب کی آب وہوا کے لئے بہت موزوں ہے۔

وسطی پنجاب کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں؟

وسطی پنجاب میں نہری علاقے زیادہ ہیں اس میں املتاس، شیشم، جامن، توت، سمبل، پیپل، بکاین، ارجن اور لسوڑا لگایا جانا چاہئے۔

شمالی پنجاب کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں؟

شمالی پنجاب میں کچنار، پھلائی، کیل، اخروٹ، بادام، دیودار، اوک کے درخت لگائے جائیں۔ کھیت میں کم سایہ دار درخت لگائیں انکی جڑیں بڑی نہ ہوں اور وہ زیادہ پانی استعمال نہ کرتے ہوں۔
سفیدہ صرف وہاں لگائیں جہاں زمین خراب ہو یہ سیم و تھور ختم کر سکتا ہے سفیدہ ایک دن میں 25 لیٹر پانی پیتا ہے۔ لہذا جہاں زیر زمین پانی کم ہو اور فصلیں ہوں وہاں سفیدہ نہ لگائیں۔

اسلام آباد اور سطح مرتفع پوٹھوہار کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں؟

خطہ پوٹھوہار کے لئے موزوں درخت دلو؛ پاپولر، کچنار، بیری اور چنار ہیں۔ زیتون کا درخت بھی یہاں لگایا جا سکتا ہے۔

سندھ کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں؟

سندھ کے ساحلی علاقوں میں پام ٹری اور کھجور لگانا چاہیے۔
کراچی میں املتاس، برنا، نیم، گلمہور، جامن، پیپل، بینیان، ناریل اور اشوکا لگایا جائے۔ اندرون سندھ میں کیکر، بیری، پھلائی، ون، فراش، سہانجنا اور آسٹریلین کیکر لگاناچاہیے۔
کراچی میں ایک بڑے پیمانے پر کونوکارپس کے درخت لگائے گئے ہیں۔ یہ درخت کراچی کی آب و ہوا سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتے۔
یہ درخت شہر میں پولن الرجی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ دوسرے درختوں کی افزائش پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں

بلوچستان کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں؟

زیارت میں صنوبر کے درخت لگائے جانے چاہئیں۔ زیارت میں صنوبر کا قدیم جنگل بھی موجود ہے۔ زیارت کے علاوہ دیگر بلوچستان خشک پہاڑی علاقہ ہے اس میں ون، کرک، پھلائی، کیر، بڑ، چلغوزہ، پائن، اولیو اور ایکیکا لگایا جانا چاہئیے۔

کے پی کے اور شمالی علاقہ جات کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں؟

کے پی کے میں شیشم، دیودار، پاپولر، کیکر، ملبری، چنار اور پائن ٹری لگایا جائے.

درخت لگانے کا بہترین وقت کونسا ہے؟

پاکستان میں درخت لگانے کا بہترین وقت فروری مارچ اور اگست ستمبر کے مہینے ہیں.

درخت کیسے لگائیں اور ان کی حفاظت کیسے کریں؟

اگر آپ سکول کالج یا پارک میں درخت لگا رہے ہیں تو درخت ایک قطار میں لگے گیں اور ان کا فاصلہ دس سے پندرہ فٹ ہونا چاہیے۔ گھر میں لگاتے وقت دیوار سے دور لگائیں۔ آپ بنا مالی کے بھی درخت لگا سکتے ہیں. نرسری سے پودا لائیں، زمین میں ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔ نرسری سے بھل (اورگینک ریت مٹی سے بنی) لائیں گڑھے میں ڈالیں، پودا اگر کمزور ہے تو اس کے ساتھ ایک چھڑی باندھ دیں۔ پودا ہمیشہ صبح یا شام کے وقت لگائیں۔ دوپہر میں نہ لگائیں اس سے پودا سوکھ جاتا ہے۔ پودا لگانے کے بعد اس کو پانی دیں۔ گڑھا نیچا رکھیں تاکہ وہ پانی سے بھر جائے۔ گرمیوں میں ایک دن چھوڑ کر جبکہ سردیوں میں ہفتے میں دو بار پانی دیتے جائیں۔ پودے کے گرد کوئی جڑی بوٹی نظر آئے تو اسکو کھرپے سے نکال دیں۔ اگر پودا مرجھانے لگے تو گھر کی بنی ہوئی کھاد یا یوریا فاسفورس والی کھاد اس میں ڈالیں لیکن بہت زیادہ نہیں ڈالنی. زیادہ کھاد سے بھی پودا سڑ سکتا ہے۔
Copied
اس تحریر کو باقی دوستوں کے ساتھ شیر کرتے جائیں
شکریہ

*اس کائنات میں موجود ہر شے کی مادری زبان محبت ہے ❤️*
20/05/2024

*اس کائنات میں موجود ہر شے کی مادری زبان محبت ہے ❤️*

20/05/2024
*_سخت گرمی کےاس  موسم میں اپنے گھر کی مناسب جگہ پر اللہ کی اس مخلوق کے لئے بھی پانی کا انتظام ضرور کیجئے گا_*
20/05/2024

*_سخت گرمی کےاس موسم میں اپنے گھر کی مناسب جگہ پر اللہ کی اس مخلوق کے لئے بھی پانی کا انتظام ضرور کیجئے گا_*

Address

Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mera Faisla میرا فیصلہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Mera Faisla میرا فیصلہ:

Share