اصلاح معاشرہ

اصلاح معاشرہ مجھے اپنی اور دنیا کے تمام لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔
ان شاء اللہ

اس میشن میں آپ بھی ہمارا دیجئے

16/10/2025

*شب جمعہ کا درود شریف پڑھ لیں*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G
شبِ جمعہ کے لیے ایک خاص درود شریف بہت مقبول ہے، جس کی فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ اسے پابندی سے پڑھنے والے کو موت کے وقت اور قبر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار نصیب ہوتا ہے۔
شبِ جمعہ کا درود شریف
عربی: اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلَاَنَا مُحَمَّدِِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الْحَبِیْبِ الْعَالِی الْقَدْرِ الْعَظِیْمِ الْجَاہِ وَ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ سَلِّمْ۔
ترجمہ: اے اللہ! ہمارے آقا اور مولیٰ، بلند مرتبے اور عظیم شان والے نبی اُمی، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ کی آل اور اصحاب پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما۔

اس کے علاوہ، جمعہ کی رات اور دن میں کثرت سے درود شریف پڑھنے کا حکم ہے اور اس کے بہت سے فضائل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔

مختصر درود شریف
آپ یہ مختصر درود بھی پڑھ سکتے ہیں:

`صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّد`

اہمیت:
جمعہ کی رات اور دن کثرت سے درود شریف پڑھنا باعثِ برکت ہے اور اس کے بے شمار روحانی فوائد ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو اس دن اس مبارک عمل کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G

*درود شریف کے فضائل*

احادیث مبارکہ میں درود شریف پڑھنے کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
دس رحمتیں: جو شخص ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
گناہوں کی معافی: درود شریف گناہوں کا کفارہ ہے اور اس کی برکت سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
شفاعت کی خوشخبری: جو شخص کثرت سے درود پڑھتا ہے، قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ اس کی شفاعت فرمائیں گے۔
قرب الٰہی: درود شریف پڑھنے سے اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کے مستحق بننے کا موقع ملتا ہے۔
قبولیت دعا: دعا سے پہلے اور بعد درود شریف پڑھنے سے دعا کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
قلبی سکون: درود شریف کے ورد سے دل کو سکون اور روحانیت حاصل ہوتی ہے۔
درود شریف کی اہمیت
اللہ کی موافقت: جب کوئی مومن درود شریف پڑھتا ہے، تو وہ اس عمل میں اللہ اور اس کے فرشتوں کی موافقت کرتا ہے۔
عشق رسول کا اظہار: درود شریف کا کثرت سے ورد کرنا نبی ﷺ سے محبت اور عشق کا اظہار ہے۔
سنت کی پیروی: نبی اکرم ﷺ نے خود اس کی ترغیب دی ہے، اور صحابہ کرام اور بزرگان دین نے اس کی فضیلت کو بیان کیا ہے۔

*ری ایکٹ کیا کریں* 🤌🏻

*_ری ایکٹ علامت ہے۔۔۔۔احساس کی۔۔۔شعور کی۔۔۔۔جذبے کی۔۔۔اخلاق کی۔۔۔۔حوصلہ افزائی کی۔۔۔۔قدردانی کی۔۔۔شکریہ کی۔۔۔۔باہمی تعلق کی۔۔۔وفاداری کی۔_*

*_اس کو معمولی مت سمجھیں، ہر پوسٹ پر اپنی رائے کے مطابق ری ایکٹ ضرور کیا کریں۔_*

*جزاک اللّٰه خیراً کثیرا* 😊❤️

*`مزید معلوماتی پوسٹس کے لئے بہترین تحریریں چینل کو فالو کریں`*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G

28/09/2025
26/09/2025

یہ ہوتی ہے ذلت
اقوام متحدہ کے اجلاس میں جب ذلیل در-ندہ معصو_م بچوں کا قائل ن-تن یا-ہو خطاب کرنے آیا ہال سے سینکڑوں رہنما جو الک الک مذہب اور ملکوں سے تھے چلے گئے صرف یہو-_دی اور امر_یکی رہ گئے۔
بڑی ذلت ملی ہے اس کو لیکن ہے بڑا ہی بیغرت۔
゚ اصلاح معاشرہ I love ALLAH I Love You Allah Awad Abbasi I Love Allah ALLAH !! I Always Need You ,YOu Are My Power ... اللہ کافی ہے مدرسہ سردارجہاں Madani Channel Live Darul Uloom Barkatia Gulshan E Iqbal Block 11 Madarsa Faizan-e-Gaib Shah D͏e͏e͏p͏ Emotions

11/09/2025

Hamara karachi sindh
゚ اصلاح معاشرہ Awad Abbasi Kamran Tessori

11/09/2025

*🔸صرف علماء کرام اور ائمہ مساجد کے ساتھ ہی ہمارا دوہرا معیار کیوں ہے ...؟🔸*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G
شادی ہال ، نکاح اور ولیمہ کی تقریب کے لیے رینٹ پہ لیے جاتے ہیں اور نکاح ایک شرعی حکم ہے مگر شادی ہال کا مالک پھر بھی پیسے مانگتا ہے

حج اور عمرہ ایک عبادت اور شرعی حکم ہے مگر ایئر لائن کمپنیز اور ٹریول ایجنٹس پھر بھی پیسے مانگتے ہیں

ختنے کروانے ایک فطری و شرعی حکم ہے مگر ڈاکٹرز پھر بھی پیسے مانگتے ہیں

قربانی ایک شرعی فریضہ ہے مگر قصائی پھر بھی پیسے مانگتا ہے

تعلیم ایک شرعی حکم ہے مگر ٹیچرز پھر بھی پیسے مانگتے ہیں

مسجد بنانا نیکی کا کام ہے مگر مستری و مزدور پھر بھی پیسے مانگتے ہیں

قرآن و حدیث کی اشاعت ایک اہم فریضہ ہے مگر پبلشرز پھر بھی قیمت مانگتے ہیں

تو نہ کسی کو ان کے تقوے پر شک ہوتا ہے نہ کوئی انہیں دنیا دار لالچی کہتا ہے نہ وہ دین فروش بنتے ہیں نہ ہی ریٹ فکس کرنے کو حرام کہا جاتا ہے

اور نماز پڑھنا
خطبہ جمعہ
عیدین
تراویح
درس و تقریر
یہ سب بھی شرعی احکام ہیں
مگر مگر مگر
جب امام، خطیب، مدرس، یا مقرر ہر طرف سےمجبور ہو کر، اپنے دل و ضمیر پر پتھر رکھتے ہوئے اپنی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کردے یا تنخواہ طے کر لے یا تنخواہ لیٹ ہونے پہ اظہارِ ناراضگی کردے
تو بس پھر

وہ دنیا دار بن جاتا ہے
دین فروش کہلواتا ہے
لالچی ہوتا ہے
تقوی سے خالی ہوتا ہے

اسلام کے شہزادو!
صرف علماء کرام اور ائمہ مساجد کے ساتھ ہی ہمارا دوہرا معیار کیوں ہے؟
حالانکہ مسجد خوبصورت ہو، مزین ہو، ہر سہولت اس میں ہو، مگر امام و خطیب نہ ہو
تو جانتے ہیں آپ!

وہ مسجد اصلاح کا مرکز نہیں بن سکتی
وہ تربیت گاہ نہیں کہلا سکتی
لوگ اس سے دین نہیں سیکھ سکتے
امام کے بغیر مسجد میں بھی پڑھی ہوئی نماز ایک ہی شمار کی جائے گی
مگر مسجد کچی ہو یا کجھور کے پتوں سے بنی ہو مگر امام وخطیب موجود ہو تو
*امام کے ساتھ پڑھی ہوئی ایک نماز، 27 نمازوں کے برابر اجر دلواتی ہے*
*وہ تربیت گاہ بھی بن جاتی ہے*
*دین کا مرکز بھی کہلواتی ہے*
*اور اسلامی تعلیمات کا سر چشمہ ہوتی ہے*
لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کا نظریہ ہے مسجد میں ٹائل لگوانا اے سی لگوانا ایسا صدقہ جاریہ ہے جو مسجد کے امام و خطیب پر خرچ کرنے سے افضل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
تو جناب عالی یہی سوچ ہے جس نے آج اسلام کا نام بدنام کر رکھا ہے
👈اس لیے اپنے علماء کرام اور ائمہ مساجد کی قدر کریں
انکی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھیں...
*زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ لوگوں کی اصلاح ہو جائے، جزاك اللہُ خیراً*

*ری ایکٹ کیا کریں* 🤌🏻

*_ری ایکٹ علامت ہے۔۔۔۔احساس کی۔۔۔شعور کی۔۔۔۔جذبے کی۔۔۔اخلاق کی۔۔۔۔حوصلہ افزائی کی۔۔۔۔قدردانی کی۔۔۔شکریہ کی۔۔۔۔باہمی تعلق کی۔۔۔وفاداری کی۔_*

*_اس کو معمولی مت سمجھیں، ہر پوسٹ پر اپنی رائے کے مطابق ری ایکٹ ضرور کیا کریں۔_*

*جزاک اللّٰه خیراً کثیرا* 😊❤️

*`مزید معلوماتی پوسٹس کے لئے بہترین تحریریں چینل کو فالو کریں`*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G

*🔸گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے ...🔸* https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2Gگھر کا سکون جن چیزوں سے وابستہ ہ...
10/09/2025

*🔸گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے ...🔸*

https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G
گھر کا سکون جن چیزوں سے وابستہ ہے ان میں سے ایک ”جھگڑے (Dispute)“ سے بچنا بھی ہے، چنانچہ جس گھر میں میاں بیوی، ساس بہو، بھائی بہن، بھائی بھائی کی آپس میں نہ بنتی ہو، ہر ایک ہاتھ میں گویا بارُودی مواد (Explosives) لے کر گھومتا ہو کہ جونہی کسی نے ذرا سی بات کی فوراً آگ کا شعلہ بھڑک اُٹھے اور ”جھگڑا“ شروع ہوجائے، اُس گھر میں اَمْن و سکون کی فضا قائم ہونے کے بجائے ٹینشن (Tension) کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ”جھگڑے“ میں نقصان دونوں فریقوں کا ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسی کا کم تو کسی کا زیادہ۔ جس میں ذرا سی بھی عقل ہوگی وہ کبھی بھی ”جھگڑے“ کو اچھا نہیں سمجھے گا، لیکن ذرا سی بات پر جھگڑنے والوں کی عقل پر نہ جانے کونسا پردہ پڑ جاتا ہے کہ انہیں اپنی عزت و وقار کا احساس رہتا ہے نہ سامنے والے کی عزت کا! ”زبان درازی، دل آزاری، طنز، طعنے، تہمت لگانا، عیب کھولنا، گالم گلوچ، ہاتھا پائی اور طلاق!“ خدا کی پناہ! کیا کچھ نہیں ہوجاتا اس ”جھگڑے“ میں؟ جھگڑالو شخص کی مذمت کرتے ہوئے مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو لوگوں ميں سب سے ناپسند وہ لوگ ہيں جو شديد ”جھگڑالو“ ہيں۔
(بخاری،ج 2،ص130، حدیث: 2457)

! آپس میں صلح اور پیار محبّت کے ساتھ رہنے میں فائدہ ہے جبکہ جھگڑے میں نقصان، تو ہمیں ایسا کچھ کرنا چاہیے کہ جھگڑے کی نوبت ہی نہ آئے۔ جھگڑا چھوڑنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے، اس کے لیے جنت کے بیچ میں گھر بنایا جائے گا۔(ترمذی،ج3،ص400، حدیث: 2000، ملتقطاً)

*مدنی پھولوں کا مدنی گلدستہ ...*

ان مدنی پھولوں پر عمل کر کے جھگڑے سے بچا جاسکتا ہے:

▪️ہر شخص کا مزاج الگ الگ ہوتا ہے مثلاً کسی کو سالن میں تیز مرچ اچھی لگتی ہے تو کسی کو ہلکی، دوسروں کو اپنے مزاج کا پابند نہ بنائیں، درمیانہ راستہ نکالنا ہی دانشمندی ہے۔

▪️غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں! خود ہی پر غور کر لیجئے، اپنی ”بڑی غلطی“ پر ہلکی سی سوری (Sorry) اور دوسروں کی ’’چھوٹی غلطی“ پر پاؤں پکڑ کر، زمین پر ناک رگڑ کر معافی مانگنے کا تقاضا کرنا ”جھگڑے“ کا راستہ کھولتا ہے۔
▪️ہر معاملے میں اپنی من مانی کرنا دوسروں کو تنگی میں مبتلا کرنے والی بات ہے، دوسروں کی بھی سنیں پھر اس کے فائدے دیکھئے۔

▪️ہر بات میں حکم چلانا:”آج یہ پَکا لو، یہاں نہیں جانا، آج وہاں نہیں جانا، دیواروں پر فلاں رنگ ہوگا“ یہ انداز آپ کی شخصیت کو چار چاند نہیں لگائے گا، اپنے انداز میں لچک و گنجائش لائیں، کبھی مشورہ دینے کا انداز اپنا کر دیکھیں مثلاً اگر چاہیں تو آج یہ پکا لیں، اس طرح بچوں کی امی کے دل میں آپ ہی کا احترام بڑھے گا اور گھر میں بھی آپ کی قدر و قیمت بڑھ جائے گی۔

▪️ایک ہی گھر میں رہنے والے عموماً ایک دوسرے کی نظروں میں ہوتے ہیں، اس لیے شیطان کے لیے دلوں میں بدگمانی پیدا کروانا آسان ہوجاتا ہے، مثلاً بہو کو کچن (Kitchen) میں باکس (Box) کا دروازہ بند کرتے دیکھ کر ساس کے دل میں یہ خیال آئے کہ اچھا! یہ مجھ سے کھانے کی چیزیں چھپا کر رکھ رہی ہے، چاہے اس بے چاری نے مرچوں کا ڈبہ باکس میں رکھا ہو۔ جب تک گھر کا ہر فرد حسنِ ظن کے جام نہیں پیئے گا بدگمانی کا راستہ روکنا بہت مشکل ہے۔

▪️مشہور ہے ”جس کا کام اسی کو ساجھے“، کچھ کام عورتوں کے ذمے ہوتے ہیں مثلاً کچن، صفائی اور بستر کے معاملات، ان میں مردوں کو بِلاضرورت دخل نہیں دینا چاہیے اور کچھ مردوں کے کرنے کے ہوتے ہیں مثلاً سواری، دکانداری، فرنیچر وغیرہ اس میں عورتیں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کریں۔

▪️یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھیں تو جھگڑا کرنے سے خود ہی رک جائیں گے کہ سامنے والا بھی انسان ہے اُسے بھی بُھول، تھکن اور بیماری لگ سکتی ہے، اسے بھی غصّہ آتا ہے۔

▪️چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان مچانے والا اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔

▪️ہر وقت ”تنقید کے تیر“ برسانے کے بجائے اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی بھی کرتے رہنا چاہیے، اِس سے دوسروں کے دل میں جگہ بنتی ہے۔

▪️نرمی بہترین حکمتِ عملی ہے۔

▪️دوسروں کے احسانات کو تسلیم کریں، دعاؤں سے نوازیں، کبھی بچوں کی امی کی دل جوئی کریں کہ تم میرے بچوں کو سنبھالتی ہو میرے کھانے پینے اور کپڑوں کا بھی خیال رکھتی ہو، گھر کی صفائی بھی کرتی ہو، میرے والدین کی خدمت بھی کرتی ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اس کا عظیم ثوابِ عطا فرمائے، تو کبھی اپنی امی کے احسانات کا شکریہ ادا کریں کہ آپ نے مجھے پالا پوسا، اپنا آرام میرے آرام کے لیے قربان کیا، آج بھی میری خوشی کا خیال رکھتی ہیں، میں آپ کی ویسی خدمت نہیں کرپارہا جیسا کرنے کا حق ہے، اسی طرح دیگر افرادِ خانہ کی بھی دل جوئی کی جاسکتی ہے، لیکن خیال رہے کہ یہ سب کچھ حسبِ حال ہو اور اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔

▪️ہر وقت تیوری چڑھا کر رکھنا (یعنی غصیلا چہرہ بنانا) آپ سے لوگوں کو دُور تو کرسکتا ہے قریب نہیں۔

*حکایت ...*
ایک شخص اپنے گھریلو جھگڑوں سے تنگ تھا، ایک ماہرِ نفسیات سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ آج جب گھر جاؤ اور دروازہ کھلے تو مسکرا کر گھر میں داخل ہونا، اس نے ایسا ہی کیا تو اس کی بیوی اس کے مسکرانے پر بے ہوش ہوگئی، جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ یہ جب بھی گھر آتے تھے منہ بنا ہوتا تھا، آج یہ مسکرائے تو میں خوشی کے مارے خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس واقعے کے بعد مذکورہ گھر میں جھگڑے ختم ہوئے ہوں گے یا بڑھے ہوں گے، اس کا جواب اپنے آپ سے لے لیجئے ۔

▪️خاص مواقع پر غلط رَدِّ عمل بھی جھگڑے کی وجہ بنتا ہے اپنے رشتے دار آئیں تو ”باچھیں کھل اٹھیں“ اور بیوی کے رشتہ دار مہمان بنیں تو ”موڈ (Mood)“ خراب ہوجائے، اگر بیوی کی دلجوئی کی نیت سے اس کے میکے سے آنے والوں کا اِستقبال مسکرا کر کرلیں گے تو آپ کا کیا جائے گا!

▪️بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ بات بات پر دوسروں کو جاہل (Ignorant) قرار دیتے ہیں کہ تمہیں کچھ پتا ہی نہیں ہے، یاد رکھئے ”اندھے (Blind)“ کو بھی اندھا کہا جائے تو خوشی سے اس کے دل میں لڈو نہیں پُھوٹتے بلکہ منہ میں ”کڑواہٹ“ ہی آتی ہے، اگر سامنے والا بالکل جاہل بھی ہو تو اسے جاہل کہنے سے اس کی جہالت دور ہونے سے رہی، ہاں! آپ بولنے میں احتیاط کریں گے تو جھگڑے کا راستہ رک جائے گا، آزمائش شرط ہے۔

*ری ایکٹ کیا کریں* 🤌🏻

*_ری ایکٹ علامت ہے۔۔۔۔احساس کی۔۔۔شعور کی۔۔۔۔جذبے کی۔۔۔اخلاق کی۔۔۔۔حوصلہ افزائی کی۔۔۔۔قدردانی کی۔۔۔شکریہ کی۔۔۔۔باہمی تعلق کی۔۔۔وفاداری کی۔_*

*_اس کو معمولی مت سمجھیں، ہر پوسٹ پر اپنی رائے کے مطابق ری ایکٹ ضرور کیا کریں۔_*

*جزاک اللّٰه خیراً کثیرا* 😊❤️

*`مزید معلوماتی پوسٹس کے لئے بہترین تحریریں چینل کو فالو کریں`*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G

09/09/2025
09/09/2025

1500 سواں جشن ولادت کی خوشی میں کشتی ریلی نکالی گئی

09/09/2025
08/09/2025

*🔸مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب ...🔸*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G
مصیبت پر صبر کرنے کے ثواب پر مشتمل 3 اَحادیث ملاحظہ ہوں :

*(1)…* حضر ت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ مومن مرد اور مومنہ عورت کو اس کی جان، اولاد اور مال کے بارے میں آزمایاجاتارہے گایہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہ ہوگا۔
( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۷)

*(2)…* حضرت ابو ذررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’دنیا سے بے رغبتی صرف حلال کو حرام کر دینے اور مال کو ضائع کردینے کا ہی نام نہیں ،بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے وہ اس سے زیادہ قابلِ اعتماد نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جب تجھے کوئی مصیبت پہنچے تواس کے ثواب (کے حصول) میں زیادہ رغبت رکھے اور یہ تمنا ہو کہ کاش یہ میرے لئے باقی رہتی۔
( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الزہادۃ فی الدنیا، ۴ / ۱۵۲، الحدیث: ۲۳۴۷)

*(3)…* سنن ابو داؤد میں ہے، حضور پُر نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بندے کے لیے کوئی درجہ مقدر ہوچکا ہو جہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتاتو اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلا کردیتا ہے، پھر اسے اس پر صبر بھی دیتا ہے حتّٰی کہ وہ اس درجے تک پہنچ جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے مقدر ہوچکا۔
( ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب الامراض المکفّرۃ للذنوب، ۳ / ۲۴۶، الحدیث: ۳۰۹۰)

*اللہ تعالیٰ ہمیں آفات وبَلِیّات سے محفوظ فرمائے اور ہر آنے والی مصیبت پر صبر کر کے اجر وثواب کمانے کی توفیق عطا فرمائے،* اٰمین۔

*ری ایکٹ کیا کریں* 🤌🏻

*_ری ایکٹ علامت ہے۔۔۔۔احساس کی۔۔۔شعور کی۔۔۔۔جذبے کی۔۔۔اخلاق کی۔۔۔۔حوصلہ افزائی کی۔۔۔۔قدردانی کی۔۔۔شکریہ کی۔۔۔۔باہمی تعلق کی۔۔۔وفاداری کی۔_*

*_اس کو معمولی مت سمجھیں، ہر پوسٹ پر اپنی رائے کے مطابق ری ایکٹ ضرور کیا کریں۔_*

*جزاک اللّٰه خیراً کثیرا* 😊❤️

*`مزید معلوماتی پوسٹس کے لئے بہترین تحریریں چینل کو فالو کریں`*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9ZY590lwgiieECQk2G

Address

Karachi

Telephone

+923012662183

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اصلاح معاشرہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to اصلاح معاشرہ:

Share