22/05/2026
فاٹا یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے 28ویں اجلاس کا انعقاد، اہم تعلیمی و انتظامی فیصلوں کی منظوری
فاٹا یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا 28واں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں سنڈیکیٹ کے معزز اراکین نے شرکت کی، جن میں جسٹس (ر) اسد اللہ خان چمکنی، محمد فاروق (ایڈیشنل سیکرٹری، ہائر ایجوکیشن، آرکائیوز و لائبریریز ڈیپارٹمنٹ، خیبر پختونخوا – آن لائن)، محمد طارق (ڈپٹی سیکرٹری، ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، خیبر پختونخوا – آن لائن)، محترمہ وردہ (ڈپٹی سیکرٹری، فنانس ڈیپارٹمنٹ، خیبر پختونخوا – آن لائن)، انجینئر نعمان احمد (ڈائریکٹر ایچ ای سی ریجنل سینٹر پشاور و نمائندہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد)، ڈاکٹر فرید اللہ شاہ (ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن خیبر پختونخوا)، پروفیسر جاوس خان (پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج درہ آدم خیل)، ڈاکٹر مقصود حیدر (اسسٹنٹ پروفیسر فاٹا یونیورسٹی)، سعید خلیل (لیکچرار فاٹا یونیورسٹی)، احسان اللہ مروت (رجسٹرار فاٹا یونیورسٹی) اور محمد حسین (ٹریژرر فاٹا یونیورسٹی) شامل تھے۔
اجلاس میں یونیورسٹی کے تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متعدد اہم فیصلوں اور پالیسیوں کی منظوری دی گئی۔
سنڈیکیٹ نے فاٹا یونیورسٹی گریجویٹ ڈگری پروگرامز ریگولیشنز اینڈ پروسیجرز 2026 کی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ساتھ فال 2026 سے نئے تعلیمی پروگرامز کے آغاز کی بھی منظوری دی گئی، جن میں بی ایس انٹرنیشنل ریلیشنز، بی ایس ریڈیالوجی، بی ایس میڈیکل لیب ٹیکنالوجی، ڈاکٹر آف فزیکل تھیراپی (DPT) اور بی ایس اینستھیزیا شامل ہیں۔
مزید برآں سمسٹر امتحانات کے انعقاد، متعلقہ قواعد و ضوابط و طریقہ کار، انٹرن شپ پالیسی اور فاٹا یونیورسٹی ٹرانسپورٹ رولز 2026 کی بھی منظوری دی گئی۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز نے کہا کہ فاٹا یونیورسٹی میں معیارِ تعلیم، تحقیق، فیکلٹی ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹلائزیشن اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو ایک جدید، تحقیقی اور طلبہ دوست ادارہ بنانے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ طلبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا یونیورسٹی سابقہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے مشن پر گامزن ہے، جبکہ نوجوانوں کو تحقیق، ٹیکنالوجی اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں وائس چانسلر نے سنڈیکیٹ کے تمام معزز اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے فاٹا یونیورسٹی مزید ترقی کرے گی اور خطے میں معیاری اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔