23/06/2025
2019 میں، جب میں نے اپنے ننھے گاؤں کی مانوس گلیوں کو آخری بار مڑ کر دیکھا تھا، تب کہاں معلوم تھا کہ یہ قدم مجھے ایک ان دیکھے جہاں میں لے آئیں گے۔ دل میں ہزار وسوسے، نظر میں اجنبی دنیا، اور جیب میں فقط علم کا خواب لیے، پہلی بار اپنے وطن سے دُور کسی دیارِ غیر میں قدم رکھا تو لگا جیسے ایک پُراسرار کتاب کا پہلا ورق الٹ رہا ہوں۔ نہ راستوں کا پتا، نہ چہروں کی زبان، نہ رواجوں کا علم — بس ایک نادیدہ اُمید تھی جو سینے میں چراغ کی طرح جل رہی تھی۔
یہ پردیس، جو کبھی فقط کہانیوں میں سنا تھا، حقیقت میں میرے لیے اپنی آزمائشوں کا الگ دفتر لے کر آیا۔ کبھی دُور اپنے پیاروں کی یاد گہری شاموں میں گلے لگاتی، تو کبھی اپنی پریشانیوں کا بوجھ کسی کو نہ بتانے کا سلیقہ سکھاتی۔ ماں باپ کو کیا خبر کہ دُور بیٹھا ان کا بیٹا اپنی مشکلات کو دل میں دفن کر کے فقط یہی دُعا کرتا ہے کہ کاش اُنہیں کبھی پریشان نہ ہونا پڑے۔ ہم دوستوں کا حلقہ، جو بظاہر اجنبی دیس میں ایک دوسرے کے ہمسفر بن گئے، اس خاموش سمجھوتے پر جی رہا تھا کہ دُکھ بانٹ لیں، مگر اپنے گھروں کو فقط خوشی کی چٹھی لکھیں۔
یہ گمنام راہیں، اجنبی چہرے، مختلف بولیاں — سب ابتدا میں ایک بھول بھلیاں لگتے تھے۔ مگر پھر یوں ہوا کہ رفتہ رفتہ میں نے اس اجنبی زمین کو سمجھنا شروع کیا، اس کی گلیوں سے دوستی کی، اس کے موسموں سے ہم آہنگ ہوا، اور اس کی خاموش صدائیں سننے کا سلیقہ سیکھا۔ وہ پردیس، جو کبھی فقط ایک خواب تھا، اب ایک استاد بن گیا، جس نے سمجھایا کہ انسان اپنی مٹی سے دور بھی اپنی شناخت بُن سکتا ہے، اگر اس کے ارادے پختہ ہوں۔
یہ چھ برس جو 2019 سے 2025 تک پھیلے ہوئے ہیں، فقط برسوں کا نہیں، تجربوں کا سفر تھا۔ ہر سحر نئی اُمید اور ہر شام نئی آزمائش لائی، لیکن اس سب میں کہیں نہ کہیں ایک گمشدہ گاؤں کا باسی اپنی منزل کو پاتا رہا۔ آج جب اس راہ پر مڑ کر دیکھتا ہوں، تو محسوس کرتا ہوں کہ یہ فقط تعلیمی سفر نہیں تھا، یہ خود شناسی کا ایک گہرا سمندر تھا جس میں اتر کر میں نے اپنے آپ کو پہچانا۔
یہ برس، جو اپنی تمام تلخیوں اور خوشبوؤں سمیت گزرے، میرے وجود میں نقش ہو گئے ہیں۔ پردیس میں گزرے شب و روز کی چاشنی، ناآسودہ خوابوں کی مٹھاس، دوستوں کے قہقہوں کی گونج، اور ماں باپ کی دُعاؤں کا وہ خاموش لمس — یہ سب میرے ساتھ رہیں گے، ایک قیمتی امانت بن کر، جو وقت کی دھول میں کبھی گم نہ ہو گی۔ اور یہی امانت، یہی سرمایہ مجھے آئندہ راہوں پر سنبھالے رکھے گا، کیونکہ جو سیکھا، جو سمجھا اور جو جیا، وہ فقط علم نہ تھا، زندگی کا سبق تھا۔