09/04/2025
پنجاب یونیورسٹی میں گلگت بلتستان کے طلباء کے ساتھ ناروا سلوک — خاموشی اب ممکن نہیں
پنجاب یونیورسٹی میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ نہایت افسوسناک، غیر انسانی اور سراسر ناانصافی پر مبنی ہے۔ ہم وہ نوجوان ہیں جو اپنے علاقے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کمی کے باعث سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں ہراسانی، زبردستی اور بے دخلی کا سامنا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ اور پنجاب پولیس نےہمارے ہاسٹل کمروں پر چھاپے مارے، دروازے توڑ دیے گئے اور ہمارے کمروں کو تالے لگا کر سیل کر دیا گیا۔ ہم جو یہاں باقاعدہ طالب علم ہیں، ہمیں اپنے ہی کمروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ عمل کسی بھی قانون، ضابطے یا اخلاقیات کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہ سراسر ظلم ہے۔
یونیورسٹی کا ماحول اب علم و تحقیق کا نہیں، بلکہ خوف اور جبر کا منظر پیش کرتا ہے۔ کیمپس کو پولیس، قیدی گاڑیوں اور واٹر کینن سے بھر دیا گیا ہے۔ طلباء کو خاموش کرانے، ان کی آواز دبانے اور ان کے حقِ تعلیم کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ المیہ صرف تعلیمی ادارے تک محدود نہیں ہے۔ گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جہاں کے پہاڑوں سے خزانے نکالنے اور ان سے ملک کے تمام قرضوں کو ختم کرنے کے لیے چین کے ساتھ معاہدے کیے جا رہے ہے، جہاں کی زمینیں اور دریاؤں کا پانی دیگر علاقوں کی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ لیکن بدلے میں وہاں کے نوجوانوں کو نہ تعلیم میسر ہے، نہ علاج، نہ روزگار، اور جب وہ باہر جا کر کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں بے دخل کر دیا جاتا ہے۔
ہم گلگت بلتستان حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور گلگت بلتستان کے طلباء کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے، بلکہ گلگت بلتستان کے طلباء کی آواز بلند کرنے کا ہے تاکہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو سکے اور وہ اپنے تعلیمی سفر کو کامیابی سے جاری رکھ سکیں۔
❤️🚩