25/05/2022
منکی پوکس: دنیا کے 12 ممالک میں پھیلنے والا منکی پوکس کا مرض کتنا خطرناک ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟
منکی پوکس میں جسم پر دانے اور آبلے آ جاتے ہیں
دنیا کے کم از کم 12 ممالک ایسے ہیں جہاں منکی پوکس کے 80 سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت یعنی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ مزید 50 مشتبہ کیسز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تاہم کسی ملک کا نام لیے بغیر ادارے نے خبردار کیا کہ مزید کیسز رپورٹ ہونے کے امکانات ہیں۔
واضح رہے کہ نو یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی منکی پوکس نامی انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔
منکی پوکس وسطی اور مغربی افریقہ کے دور دراز علاقوں میں سب سے زیادہ عام ہے۔
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ ایک نایاب وائرل انفیکشن ہے جو اثرات کے اعتبار سے عام طور پر ہلکا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ تر لوگ چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
وائرس لوگوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا اور اس لیے اس کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بہت کم بتایا جاتا ہے۔
منکی پوکس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین موجود نہیں ہے، لیکن چیچک کا ٹیکہ 85 فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ دونوں وائرس کافی ایک جیسے ہیں۔
منکی پوکس کتنا عام ہے؟
یہ بیماری منکی پوکس نامی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو چیچک جیسے وائرس کی شاخ میں سے ہے۔
یہ زیادہ تر وسطی اور مغربی افریقی ممالک کے دور دراز علاقوں میں، ٹراپیکل بارش کے جنگلات کے قریب پایا جاتا ہے۔
اس وائرس کی دو اہم اقسام، مغربی افریقی اور وسطی افریقی ہیں۔
برطانیہ میں متاثرہ مریضوں میں سے دو نے نائجیریا سے سفر کیا تھا، اس لیے امکان ہے کہ وہ مغربی افریقی قسم کے وائرس کا شکار ہیں، جو کا اثر عام طور پر ہلکا ہوتا ہے لیکن یہ ابھی تک غیر مصدقہ ہے۔
ایک اور معاملہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکن میں سامنے آیا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں کسی مریض سے یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔
مزید حالیہ معاملات کے ایک دوسرے کے ساتھ کوئی معلوم روابط یا سفر کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ برطانیہ میں کمیونٹی میں پھیلنے سے ہوا ہے۔
برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی اگر اندیشہ ہو کہ وہ متاثر ہوئے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ کسی ماہر صحت سے ملیں۔
علامات کیا ہیں؟
ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، سوجن، کمر