JTIPunjabUniversity

JTIPunjabUniversity طلباء حقوق کی جدوجہد اور بحالی سٹوڈنٹس یونین کی تحریک میں اپنا کردار ادا کررہی ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی میں JTI اس کو مزید منظم ہے

اسلام آباد: مرکزی صدر جے ٹی آئئ پاکستان ملک محمد اویس ، قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب سے انکی رہائش گاہ پہ ملا...
03/01/2026

اسلام آباد: مرکزی صدر جے ٹی آئئ پاکستان ملک محمد اویس ، قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب سے انکی رہائش گاہ پہ ملاقات کررہے ہیں ۔

جمعیتہ طلباءاسلام پاکستان کی نومنتخب اراکین عاملہ کو دلی مبارکباد
29/12/2025

جمعیتہ طلباءاسلام پاکستان کی نومنتخب اراکین عاملہ کو دلی مبارکباد

جمعیت طلباء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری برادر مکرم عبدالمنان کاکڑ صاحب کے والد محترم کی طویل علالت کے بعد انتقال کی خبر ...
19/12/2025

جمعیت طلباء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری برادر مکرم عبدالمنان کاکڑ صاحب کے والد محترم کی طویل علالت کے بعد انتقال کی خبر سن کر بے حد رنج و غم ہوا۔
غم کی اس گھڑی میں اسکے خاندان کیساتھ ھم برابر کے شریک ہیں۔
اللہ ربّ العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

رانا محمد عثمان سرور
صدر متحدہ طلباء محاذ پاکستان

قائدین پاکستان جےٹی آئ
06/11/2025

قائدین پاکستان جےٹی آئ

  (متحدہ طلباء محاذ اجلاس)……………… مقام: مرکزی سیکرٹریٹ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، المصطفی ہاؤس لاہور**لاہور (پری...
28/10/2025




(متحدہ طلباء محاذ اجلاس)………………

مقام: مرکزی سیکرٹریٹ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، المصطفی ہاؤس لاہور

**لاہور (پریس ریلیز)** — متحدہ طلباء محاذ کا اہم اجلاس مرکزی سیکرٹریٹ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، المصطفی ہاؤس لاہور میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی مختلف طلباء تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی-

جن میں جمعیتہ طلباء اسلام (ف) کے رانا محمد عثمان
(صدر متحدہ طلباء محاذ)،
مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ کے فرحان عزیز،
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان صدر برادرامین شیرازی،
پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے حافظ عامر شہزاد،
مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ن) کے یاسر عباسی،
انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے حاشر منہاس،
مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ق) کے سہیل چیمہ،
اسلامی جمعیت طلبہ کے آفتاب،
مسلم اسٹوڈنٹس لیگ کے حمّاد اور جمعیت طلباء اسلام(س) کے قاسم شامل تھے۔
اجلاس میں مسئلہ فلسطین کی سنگین صورتحال، غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، اور امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی شیطانی منصوبہ پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ قرارداد منظور کی گئی اور بعد ازاں میڈیا نمائندگان سے پری۔

اجلاس میں شریک نمائندگان نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ کسی ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت، عدل اور آزادی کا عالمی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام پر دہائیوں سے ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور اب ایک نیا سازشی منصوبہ ان کے حقِ خود ارادیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

متحدہ طلباء محاذ کے رہنماؤں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبہ دراصل مسئلہ فلسطین کو دفن کرنے، فلسطینی مزاحمت کے نتائج کو ضائع کرنے، اور فلسطین کی سرزمین کو مکمل طور پر اسرائیلی قبضے میں دینے کی ناپاک کوشش ہے۔ یہ منصوبہ کسی بھی لحاظ سے قابلِ قبول نہیں کیونکہ یہ فلسطینی عوام کی مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا ہے اور بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اجلاس نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس منصوبہ کی مبینہ حمایت بانیانِ پاکستان کے نظریات اور عوامی امنگوں سے واضح انحراف ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد اسلام، عدل، اور مظلوم اقوام کی حمایت پر رکھی گئی تھی۔ کسی بھی ایسے منصوبہ یا موقف کی حمایت جو اسرائیل جیسے ناجائز وجود کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کرے، وہ پاکستانی قوم کے نظریے اور بانیانِ پاکستان کے موقف کی نفی ہے۔

حکومت پاکستان بین الاقوامی فورمز پر اصل فلسطینی حقداروں کی سرزمین پر واپسی اور مستقل حل کے لیے فعال کردار ادا کرے۔
حکومت پاکستان ان تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو ملک میں اسرائیل کے حق میں رائے سازی یا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان غزہ میں جاری قحط اور انسانی بحران کے پیش نظر فوری انسانی امداد اور بحالی کے اقدامات کرے۔

قانون ساز ادارے بانیانِ پاکستان کے نظریات کی ترجمانی کرتے ہوئے فلسطین پر واضح قومی موقف پیش کریں۔

صحافی، وکلاء، سماجی کارکنان اور طلباء تنظیمیں اسرائیلی پروپیگنڈا کا بھرپور مقابلہ کریں اور فلسطینی عوام کی حمایت میں بیداری مہم چلائیں۔

متحدہ طلباء محاذ کے رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی اساس ہمیں مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونے کا درس دیتی ہے۔ بانیانِ پاکستان، علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا کہ پاکستان مظلوم اقوام خصوصاً فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے۔

اختتامی کلمات میں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی طلباء قوم کے ضمیر کی آواز بن کر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی غاصب ریاست کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔ بہت جلد فلسطینی عوام کی مزاحمت کے نتیجے میں یہ ناجائز ریاست نابود ہوگی اور اصل حقدارانِ فلسطین اپنی سرزمین پر واپس لوٹیں گے۔

25/10/2025

‎جمعیۃ طلباء اسلام کا ‎سرکاری جامعات میں طلبہ تنظیموں پر پابندی کا فیصلہ مسترد‎لاہور (پریس ریلیز) — جمعیۃ طلباء اسلام نے...
10/10/2025

‎جمعیۃ طلباء اسلام کا
‎سرکاری جامعات میں طلبہ تنظیموں پر پابندی کا فیصلہ مسترد

‎لاہور (پریس ریلیز) — جمعیۃ طلباء اسلام نے حکومت کی جانب سے سرکاری جامعات میں طلبہ تنظیموں پر پابندی کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام طلبہ کے جمہوری، آئینی اور تعلیمی آزادی کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

‎مشترکہ بیان میں مرکزی کنوینئر ملک محمد اویس، صدر متحدہ طلباء محاذ رانا محمد عثمان، صوبائی صدر پنجاب ملک محمد عدیل،جنرل سیکرٹری راؤ ساجد شمس، حافظ محمد عظیم اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ طلبہ تنظیمیں تعلیمی اداروں میں جمہوری اقدار، فکری مکالمے اور قیادت سازی کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہیں۔ ان پر پابندی عائد کرنا نہ صرف جمہوری روایتوں کو کمزور کرے گا بلکہ تعلیمی ماحول میں جمود اور خوف پیدا کرے گا۔

‎انہوں نے کہا کہ ریاست اور جامعات کا فریضہ ہے کہ وہ طلبہ کی سرگرمیوں کو مثبت سمت میں رہنمائی فراہم کریں، نہ کہ انہیں دبانے کے اقدامات کریں۔ حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس غیر آئینی فیصلے کو فی الفور واپس لیں اور جامعات میں طلبہ یونین کے انتخابات بحال کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو جمہوری تربیت کے مواقع میسر آئیں۔

‎یہ بیان جمعیۃ طلباء اسلام کے ضلعی و صوبائی ذمہ داران بشمول محمد میاں مدنی، ملک محمد جنید، ملک معین ،اکمل نعمانی، رانا عامر علی، حافظ محمد خبیب، رائے اکرام کھرل، ملک مسیب، آبشار قریشی، حافظ اسید انور، رانا عطاء الرحمن، حافظ محمد فرحت، محمد فرحان، اشنب ضیاء، محمد عمر صدیق، ضیاء اللہ عثمانی، شیراز خان، شیخ رضوان، احسن رشید، ڈاکٹر ذوالقرنین، محمد وسیم، رانا حذیفہ، وجاہت عباسی، آصف جاوید و دیگر نے مشترکہ طور پر جاری کیا۔

‎منجانب: جمعیۃ طلباء اسلام پنجاب

09/10/2025

Punjab

09/10/2025
لاہور : نومنتخب صدر جےٹی آئ پنجاب جناب من ملک محمد عدیل اور جنرل سیکرٹری جناب راؤ ساجد شمس صاحب کو مبارکاں
06/10/2025

لاہور : نومنتخب صدر جےٹی آئ پنجاب جناب من ملک محمد عدیل اور جنرل سیکرٹری جناب راؤ ساجد شمس صاحب کو مبارکاں

 پاکستان- سعودی عرب کے Strategic Mutual Defence Agreement (SMDA) کا بریف تجزیہ — تاریخی پسِ منظر، مفاد، امکانات، اورسمیت...
18/09/2025



پاکستان- سعودی عرب کے Strategic Mutual Defence Agreement (SMDA) کا بریف تجزیہ — تاریخی پسِ منظر، مفاد، امکانات، اورسمیت:

• پاکستان اور سعودی عرب نے ایک باقاعدہ Strategic Mutual Defence Agreement پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت:
“کسی بھی جارحیت جو ایک ملک کے خلاف ہو، وہ دونوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی۔”

• معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون کو بڑھانا، عسکری صلاحیتوں کی ہم آہنگی (defence cooperation)، اور مشترکہ بازدارندگی (joint deterrence) کو مضبوط کرنا ہے۔

• یہ تعلقات تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں تیل، مالی تعاون، فوجی تربیت، اثاثہ جات، اور علاقائی و عالمی سکیورٹی کے امور شامل ہیں۔

پسِ منظر / وجوہات …………………..

یہ معاہدہ اچانک نہیں آیا، بلکہ چند اہم تناظر ہیں جنہوں نے اس کو ممکن بنایا:
1. خطے میں بڑھتی ہوئی تناؤ — اسرائیل کی کارروائیاں، خاص طور پر قطر پر حملے، عرب ممالک میں تحفظ کی خواہش کو بڑھا رہی ہیں۔

2. امریکہ کی سکیورٹی گارنٹی پر اعتماد میں کمی — خلیجی ریاستیں (Saudi Arabia بھی) چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ پر مکمل طور پر انحصار نہ کریں، اور دوسرا آپشن محفوظ ہو۔

3. پاکستان کے مفادات — پاکستان کو سعودی عرب سے سیاسی، اقتصادی، اور دفاعی سطح پر قریبی تعلقات کی ضرورت ہے، اور اس طرح کا معاہدہ اسے زیادہ تحفظ اور اثر و رسوخ دے سکتا ہے۔

امکانات اور فوائد ………………………..
• مشترکہ بازدارندگی (Deterrence): دشمن یا کسی بیرونی طاقت کی تلاش میں کسی بھی جارحیت کے نتیجے میں دونوں ملکوں کو مل کر ردعمل کرنا ہوگا، جس سے ممکنہ حملہ آور کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

• حفاظتی تعاون: فوجی تربیت، اسلحہ سازو سامان، انٹیلیجنس شیئرنگ، ممکنہ طور پر مشترکہ فوجی اقدامات اگر ضروری ہوں۔

• علاقائی اثر و رسوخ کا اضافہ: سعودی عرب کے لیے پاکستان کا دفاعی تعاون ایک اہم سیاسی اور اسٹریٹیجک اثاثہ ہے، جبکہ پاکستان کو سعودی کی سلامتی اور عالمی اثر و رسوخ کے فائدے مل سکتے ہیں۔

• مذہبی و ثقافتی تعلقات کی مضبوطی: مقدس مقامات کے تحفظ اور اسلامی بھائی چارہ کا عنصر بھی اہم ہے۔

نتیجہ (Conclusion)…………………….

یہ معاہدہ ایک واضح قدم ہے پاکستان-سعودی عرب تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا، خاص طور پر خطرات کے اس دور میں جب خطے میں سکیورٹی کی راہیں غیر یقینی ہیں۔ تاہم، اس کی کامیابی کا دارومدار مکمل اور شفاف نفاذ، داخلی صلاحیت پر اعتماد، متوازن بیرونی پالیسی، اور علاقائی ردعمل کو بروقت اور دانشمندی سے سنبھالنے پر ہوگا۔

Rana Muhammad Usmaan
Preident Mutahidda Talba Mahaz (MTM)

17/09/2025

Address

Punab University
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JTIPunjabUniversity posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to JTIPunjabUniversity:

Share