20/05/2026
حُضور ﷺ کی مُبارک اُونٹنی قصوا کی آنکھوں پر پٹی !
رسول اکرم ﷺ کی اونٹنی کا نام القصواء تھا۔ قصواء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو مالک کے نزدیک انتہائی محبوب ہو اور اس محبت کی وجہ سے اس کا مالک اسے کام اور بوجھ ڈھونے سے آزاد کر دے اور دوسری اونٹنیوں کی طرح اسے چرنے کے لئے چراگاہ نہ بھیجے ۔
قصواءاس اونٹنی کو بھی کہتے ہیں جس کے کان یا ناک یا ہونٹ کا کوئی حصہ کٹا ہوا ہو مگر رسول اکرم ﷺ کی اونٹنی قصواء ان عیب سے پاک تھی۔ قصواء نامی مبارک اونٹنی بھی رسول اکرم ﷺ کو بہت محبوب تھی۔ اس محبت کی وجہ یہ تھی کہ قصواء اونٹنی نہایت فرمانبردار اور شریف الطبع تھی۔
اسلامی تاریخ میں” قصواء اونٹنی“ کا بڑا مقام ہے۔
قصواء قبیلہ بنی قشیر کے چراگاہوں میں پیدا ہوئی۔ اس کی رنگت سرخی مائل تھی۔ جب قصواء 4 سال کی ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّه عنہ نے اسے نبی قشیر سے 800 درہم کے عوض خرید لیا۔سیرت کی کتابوں میں ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو مدینہ منورہ ہجرت کی اجازت دی تو اکثر صحابہ کرامؓ ہجرت کرگئے مگر آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ہجرت سے یہ کہہ کر روکے رکھا کہ شاید اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کسی ساتھی کا انتظام کر دے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور بنی قشیر سے 2 تیز رفتار اور طاقتور اونٹیاں خرید لیں۔
ان 2 اونٹیوں میں سے ایک قصواء تھی۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ہجرت کے وقت رسول اکرم ﷺ اور صدیق اکبرؓ نے غار میں قیام فرمایا۔ 3 دن کے بعد جب روانگی کا وقت آیا تو صدیق اکبرؓ نے رسول اکرم ﷺ کی سواری کےلئے اونٹنی پیش کرتے ہوئے فرمایا:
اے اللہ کے رسول ﷺ !
آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ ان 2 اونٹیوں میں سے کوئی ایک پسند فرما لیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
ہاں ! مگر میں اس کی قیمت ادا کروں گا۔
صدیق اکبرؓ نے جو اونٹنی رسول اکرم ﷺ کو فروخت کی اس کا نام قصواء رکھا گیا آپ ﷺ نے اس کی قیمت ادا کی پھر اس پر سوار ہو کر مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔
علمائے کرام ؒ کا کہنا ہے کہ سفر ہجرت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اونٹنی خریدنے میں حکمت یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ چاہتے تھے کہ اس مبارک اور تاریخی سفر ہجرت میں آپ ﷺ اپنی جان و مال سے ہجرت فرمائیں۔
قصواء کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ ﷺ نے اس پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا وہ عظیم سفر کیا جسے اسلامی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔
اس سفر کے بعد قصواءاونٹنی کو شرف و رفعت کی کئی منزلیں ملیں۔
مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اکرم ﷺ نے قبا میں قیام فرمایا پھر آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کا رخ کیا جہاں پہنچنے پر مدینہ منورہ کے بچوں نے دف بجا کر آپ ﷺ کا استقبال کیا۔ اس مبارک سفر میں بھی آپ ﷺ قصواء پر سوار تھے۔
”انصار اگرچہ دولت مند نہ تھے لیکن ہر ایک کی یہی آرزو تھی کہ رسول اکرم ﷺ اس کے ہاں قیام فرمائیں چنانچہ آپﷺ انصار کے جس مکان یا محلے سے گزرتے وہاں کے لوگ آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لیتے اور عرض کرتے کہ تعداد و سامان اور ہتھیار و حفاظت فرشِ راہ ہیں، تشریف لائیے مگر آپ ﷺ فرماتے :
اونٹنی کی راہ چھوڑ دو، یہ اللہ کی طرف سے مامور ہے۔ “
مطلب یہ ہے کہ قصواء اونٹنی توفیق الٰہی سے چل رہی ہے ، اس کی راہ چھوڑ دو، اسے جہاں حکم ہو گا وہیں بیٹھ جائے گی نیز اونٹنی کے بیٹھنے کے مقام پر ہی مسجد نبوی کی تعمیر ہوگی اور وہیں رسول اللہ ﷺ قیام فرمائیں گے۔
یہ سن کر سب قصواءکی راہ سے ہٹ گئے اور حیرت و استعجاب سے اس کی حرکات وسکنات کا جائزہ لیتے رہے۔
قصواءچلتی رہی یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ کر بیٹھی جہاں آج مسجد نبوی شریف ہے لیکن رسول اکرم ﷺ نیچے نہیں اترے۔ قصواءدوبارہ اٹھی ، تھوڑی دور گئی ، مڑ کر دیکھنے کے بعد دوبارہ اسی مقام پر آ کر بیٹھ گئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نیچے تشریف لے آئے۔
یہ آپﷺ کے ننہیال والوں یعنی بنی نجار کا محلہ تھا۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ننہیال میں قیام فرما کر آپﷺ کی عزت افزائی کرنا چاہتے تھے۔ اب بنو نجار کے لوگوں نے میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے لئے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی مگر حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے لپک کر قصواء سے کجاوہ اٹھا لیا اور اپنے گھر لے گئے۔اس پر رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
”آدمی اپنے کجاوے کے ساتھ ہے۔“
چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو رسول اکرم ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ادھر حضرت سعد بن زرارہ ؓ نے آ کر قصواء کی نکیل پکڑ لی چنانچہ اس مدت کے دوران قصواء ان کے پاس رہی۔
اللہ تعالیٰ نے قصواءکو وہ طاقت و قوت عطا کی کہ وہ وحی کے بار کو برداشت کر سکے۔ علمائے کرام کہتے ہیں کہ یہ واحد سواری تھی جو وحی کا بار برداشت کر سکتی تھی۔ آپ ﷺ اس پر سوار ہوتے اور اچانک آپ ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔وحی کے نزول کے وقت آپ ﷺ کا جسم اطہر اپنے وزن سے کئی گنا بھاری ہو جاتا تھا یہاں تک کہ اس کی تاثیر ارد گرد کی چیزوں پر بھی ہوتی تھی۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے اور اچانک وحی کا نزول ہوتا، وحی کا اتنا بوجھ ہوتا تھا کہ ہمیں معلوم ہوتا گویا قصواءکی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ “
وحی کے بوجھ کا اندازہ لگانے کےلئے ایک اور روایت پیش خدمت ہے:
ایک مرتبہ آپﷺ حضرت زید بن ثابتؓ کی ران پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے تھے کہ اچانک وحی کا نزول شروع ہو گیا،
سیدنا زیدؓ کہتے ہیں:
”اللہ کی قسم ! قرآن کے بوجھ سے قریب تھا کہ میری ہڈی ٹوٹ جاتی، میں سمجھا کہ آج کے بعد میں اپنے پیروں پر نہیں چل سکتا۔“
قصواءکو یہ شرف حاصل ہے کہ اسے 5 اہم مواقع میں شرکت نصیب ہوئی۔
رسول اکرم ﷺ نے غزوہ بدر کےلئے اسی پر سوار ہو کر تشریف لے گئے، صلح حدیبیہ ، عمرہ قضا، فتح مکہ اور حجة الوداع کے سفر میں بھی قصواء شریک تھی۔
فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ تواضع اور انکساری سے آپ ﷺ کا سر جھکا ہوا تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس قدر سر جھکا لیا کہ سراقدس قصواء کے کوہان سے لگ رہا تھا۔ جب آپ ﷺ مسجد الحرام میں فاتح بن کر داخل ہوئے تب بھی آپ ﷺ قصواءپر سوار تھے۔ اس وقت بیت اللہ کے گرد 360 بت تھے۔
آپﷺ کے ہاتھ میں کمان تھی۔ آپ ﷺ کمان سے بتوں کو مارتے اور فرماتے:
”حق آ گیا اور باطل چلا گیا،باطل جانے والی چیز ہے۔ “
آپﷺ کی ٹھوکر سے بت اوندھے منہ گر پڑتے۔ آپ ﷺ نے قصواء پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف فرمایا۔
آپ ﷺ جب کسی صحابی کو کسی اہم مہم کےلئے اپنا سفیر بنا کر روانہ کرتے تو اسے قصواء پر بھیجتے تھے۔
ذوالقعدہ 9 ہجری کو نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو امیر الحج بنا کر مکہ مکرمہ روانہ کیا۔ قافلے کی روانگی کے بعد سورة التوبہ کی ابتدائی آیات نازل ہوتی ہیںجن میں مشرکین سے کئے گئے عہد و پیمان کو برابری کی بنیاد پر ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم کے آجانے کے بعد رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللّه عنہ کو روانہ فرمایا تاکہ وہ آپ ﷺ کی جانب سے اعلان کر دیں۔خون اور مال کے عہد وپیمان میں عربوں کا دستور تھا کہ آدمی یا تو خود اعلان کرے یا اپنے خاندان کے کسی فرد سے اعلان کروائے۔ خاندان سے باہر کے کسی آدمی کا کیا ہوا اعلان تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔
آپﷺ نے حضرت علیؓ کو قصواء پر سوار کیا اور مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ قصواء پر سوار ہو کر جب حضرت ابوبکرؓ تک پہنچتے ہیں تو نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ تکبیر کہی گئی تھی اور حضرت ابوبکرؓ جماعت کی امامت کرنے کے لئے آگے بڑھے ہی تھے کہ قصواء کی آواز سنائی دی۔ حضرت ابوبکر ؓ جو تکبیر کہنے والے تھے، رک جاگئے اور فرمایا:
”یہ قصواءکی آواز ہے، شاید آپ ﷺ خود تشریف لائے ہیں۔
جب قصواء قریب آتی ہے تو اس پر سوار بھی نظر آ جاتے ہیں۔
دوسری روایت کے مطابق حضرت علیؓ کی حضرت صدیق اکبرؓ سے ملاقات وادی ضجنان میں ہوئی۔ حضرت ابوبکؓر نے سیدنا علیؓ کو قصواء پر سوار دیکھا تو دریافت کیا:
”امیر ہو یا مامور؟“
حضرت علیؓ نے فرمایا: مامور۔
پھر دونوں آگے بڑھے۔
حضرت ابوبکرؓ نے امیر الحج کی حیثیت سے لوگوں کو حج کرایا۔ دسویں تاریخ یعنی قربانی کے دن حضرت علیؓ نے قصواء پر سوار ہو کر جمرہ کے پاس لوگوں میں وہ اعلان کیا جس کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا۔
تمام عہد والوں کا عہد ختم کر دیا اور انہیں 4 مہینے کی مہلت دی۔ جن کے ساتھ عہد وپیمان نہیں تھا، انہیں بھی 4 مہینے کی مہلت دی۔ جن مشرکین نے مسلمانوں سے عہد نبھانے میں کوتاہی نہیں کی نہ مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کا عہد ان کی طے کردہ مدت تک برقرار رکھا۔
حضرت ابوبکرؓ نے صحابہ کی ایک جماعت بھیج کر یہ اعلانِ عام کروایا کہ آئندہ کوئی مشرک حج نہیں کر سکتا ،نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہے۔ یہ اعلان گویا جزیرہ عرب سے بت پرستی کے خاتمے کا اعلان تھا۔
مختلف مہمات کے علاوہ سفر و حضر کے دوران بھی اکثر و بیشتر صحابہ کرام ؓ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ قصواء پر سوار ہوئے۔
حجة الوداع کا سفر بھی آپﷺ نے قصواء پر کیا۔
روایات میں آتا ہے کہ 9 ذوالحجہ کو آپ ﷺ کے حکم پر قصواء پر کجاوہ کسا گیا اور آپ ﷺ بطن وادی میں تشریف لے گئے جہاں ایک لاکھ 24ہزار یا ایک لاکھ 44 ہزار صحابہ کرام کا مجمع تھا۔ آپ ﷺ نے وہاں ایک جامع خطبہ دیا، یہ خطبہ حجة الوداع کے نام سے معروف ہے۔ یہ مساواتِ انسانیت اور ذات پات کے خاتمے کا اولین چارٹر ہے۔
قصواءکو یہ شرف حاصل ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر یہ جامع خطبہ ارشاد فرمایا:
”لوگو! میری بات سنو، میں نہیں جانتا کہ شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی مل سکوں۔ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور اس شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ۔
عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعہ حلال کیا ہے ۔
میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھاتم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے، وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
تم سے میرے بارے میں پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا۔ یہ سن کر آپ ﷺ انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے 3مرتبہ فرمایا:
اے اللہ گواہ رہ۔
واضح رہے کہ رسول اکرم ﷺ کے تمام خطبات میں یہ خطبہ جو حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا گیا ، آپ ﷺ کا طویل ترین خطبہ ہے۔
”خطبہ ارشاد فرمانے اور ظہر و عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ جائے وقوف پر تشریف لے گئے۔ قصواء کا شکم چٹانوں کی جانب کیا اور جبل مشاة کو سامنے کیا اور قبلہ رخ وقوف فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔اس کے بعد آپ ﷺ قصواء پر سوار ہوئے اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کو پیچھے بٹھایا۔ وہاں سے مزدلفہ تشریف لے گئے۔“
رسول اکرم ﷺ کو قصواءاس قدر محبوب تھی کہ اسے دیگر اونٹنیوں کی طرح کھونٹے سے باندھ کر نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ اسے کھلا چھوڑا جاتا تھا۔ قصواءکا دائمی مسکن جنت البقیع کے قریب ایک چراہ گاہ تھی۔ قصواءوہاں قرب وجوار کی جھاڑیوں سے چرتی تھی۔رسول اکرم ﷺ قصواء کو پیار سے کبھی ”جدعائ“ بھی کہہ کر بلاتے، کبھی ”قضبائ“ اور کبھی” عصباء“کہتے۔
گویا یہ سب قصواء کے نام ہیں۔قصواء کواونٹوں کے دوڑ کے مقابلوں میں بھی کبھی کبھار شریک کرایا جاتا تھا۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں:
”جب کبھی قصواءکو اونٹوں کے مقابلوں میں شریک کروایا گیا تو قصواءدوڑ میں ہمیشہ بازی لے گئی۔“
حضرت سعید بن المسیبؓ کہتے ہیں:
ایک مرتبہ دوڑ کے مقابلے میں قصواءپیچھے رہ گئی اور دوسری اونٹنی اس پر سبقت لے گئی۔ اس پر مسلمانوں کو افسوس ہوا ۔ جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
”دنیا کی چیزوں میں جس چیز کو لوگ بہت زیادہ بلند مقام دینے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے اس کے مقام سے گراتا ہے۔“
قصواء رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں11 سال تک رہی۔ آپ ﷺ کا ظاہری وصال جہاں تمام صحابہ کرام کےلئے عظیم صدمہ تھا وہاں قصواء کےلئے بھی حضور ﷺ کا وصال کسی بڑی مصیبت سے کم نہ تھا۔
قصواء کو رسول اکرم ﷺ کی جدائی برداشت نہ ہو سکی۔ شدت غم کی وجہ سے خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی۔ قصواء نے کھانا پینا ترک کر دیا۔ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے رہتے تھے، یہاں تک صحابہ کرامؓ نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔
رسول اکرم ﷺ کی وصال کے بعد قصواء پر کوئی سوار نہ ہوا، پھر حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کا ایک سال بھی پورا نہیں ہوا کہ قصواء بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ تاجدارِ مدینہ راحتِ قلب و سینہ احمدِ مصطفیٰ محمدِ مجتبیٰ ﷺ کے ظاہری وصالِ مبارک کے بعد ہجرو فراق کی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُونٹنی قصوا نے مرتے دم تک کچھ کھایا اور نہ پیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد جو عجیب کیفیات رونما ہوئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جس دراز گوش (دلدل) پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری فرماتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فراق میں اتنا مغموم ہوا کہ اس نے ایک کنویں میں چھلانگ لگا دی اور اپنی جاں جاں آفریں کے حوالے کر دی۔‘‘
عبدالحق محدث دهلوی، مدارج النبوه، 2 : 2444
حلبی، السيرة الحلبيه، 3 : 433
💞 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ 💞
الصلوة والسلام عليک یا سیدی يارسول الله ﷺ
وعلیٰ آلکـــــ واصحابکـــــ ياسیدی یا حبیب الله ﷺ