Islami Waqiat - اسلامی واقعات

Islami Waqiat - اسلامی واقعات

حُضور ﷺ کی مُبارک اُونٹنی قصوا کی آنکھوں پر پٹی !  رسول اکرم ﷺ کی اونٹنی کا نام القصواء تھا۔ قصواء اس اونٹنی کو کہتے ہیں...
20/05/2026

حُضور ﷺ کی مُبارک اُونٹنی قصوا کی آنکھوں پر پٹی !
رسول اکرم ﷺ کی اونٹنی کا نام القصواء تھا۔ قصواء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو مالک کے نزدیک انتہائی محبوب ہو اور اس محبت کی وجہ سے اس کا مالک اسے کام اور بوجھ ڈھونے سے آزاد کر دے اور دوسری اونٹنیوں کی طرح اسے چرنے کے لئے چراگاہ نہ بھیجے ۔
قصواءاس اونٹنی کو بھی کہتے ہیں جس کے کان یا ناک یا ہونٹ کا کوئی حصہ کٹا ہوا ہو مگر رسول اکرم ﷺ کی اونٹنی قصواء ان عیب سے پاک تھی۔ قصواء نامی مبارک اونٹنی بھی رسول اکرم ﷺ کو بہت محبوب تھی۔ اس محبت کی وجہ یہ تھی کہ قصواء اونٹنی نہایت فرمانبردار اور شریف الطبع تھی۔
اسلامی تاریخ میں” قصواء اونٹنی“ کا بڑا مقام ہے۔
قصواء قبیلہ بنی قشیر کے چراگاہوں میں پیدا ہوئی۔ اس کی رنگت سرخی مائل تھی۔ جب قصواء 4 سال کی ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّه عنہ نے اسے نبی قشیر سے 800 درہم کے عوض خرید لیا۔سیرت کی کتابوں میں ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو مدینہ منورہ ہجرت کی اجازت دی تو اکثر صحابہ کرامؓ ہجرت کرگئے مگر آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ہجرت سے یہ کہہ کر روکے رکھا کہ شاید اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کسی ساتھی کا انتظام کر دے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور بنی قشیر سے 2 تیز رفتار اور طاقتور اونٹیاں خرید لیں۔
ان 2 اونٹیوں میں سے ایک قصواء تھی۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ہجرت کے وقت رسول اکرم ﷺ اور صدیق اکبرؓ نے غار میں قیام فرمایا۔ 3 دن کے بعد جب روانگی کا وقت آیا تو صدیق اکبرؓ نے رسول اکرم ﷺ کی سواری کےلئے اونٹنی پیش کرتے ہوئے فرمایا:
اے اللہ کے رسول ﷺ !
آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ ان 2 اونٹیوں میں سے کوئی ایک پسند فرما لیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
ہاں ! مگر میں اس کی قیمت ادا کروں گا۔
صدیق اکبرؓ نے جو اونٹنی رسول اکرم ﷺ کو فروخت کی اس کا نام قصواء رکھا گیا آپ ﷺ نے اس کی قیمت ادا کی پھر اس پر سوار ہو کر مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔
علمائے کرام ؒ کا کہنا ہے کہ سفر ہجرت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اونٹنی خریدنے میں حکمت یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ چاہتے تھے کہ اس مبارک اور تاریخی سفر ہجرت میں آپ ﷺ اپنی جان و مال سے ہجرت فرمائیں۔
قصواء کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ ﷺ نے اس پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا وہ عظیم سفر کیا جسے اسلامی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔
اس سفر کے بعد قصواءاونٹنی کو شرف و رفعت کی کئی منزلیں ملیں۔
مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اکرم ﷺ نے قبا میں قیام فرمایا پھر آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کا رخ کیا جہاں پہنچنے پر مدینہ منورہ کے بچوں نے دف بجا کر آپ ﷺ کا استقبال کیا۔ اس مبارک سفر میں بھی آپ ﷺ قصواء پر سوار تھے۔
”انصار اگرچہ دولت مند نہ تھے لیکن ہر ایک کی یہی آرزو تھی کہ رسول اکرم ﷺ اس کے ہاں قیام فرمائیں چنانچہ آپﷺ انصار کے جس مکان یا محلے سے گزرتے وہاں کے لوگ آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لیتے اور عرض کرتے کہ تعداد و سامان اور ہتھیار و حفاظت فرشِ راہ ہیں، تشریف لائیے مگر آپ ﷺ فرماتے :
اونٹنی کی راہ چھوڑ دو، یہ اللہ کی طرف سے مامور ہے۔ “
مطلب یہ ہے کہ قصواء اونٹنی توفیق الٰہی سے چل رہی ہے ، اس کی راہ چھوڑ دو، اسے جہاں حکم ہو گا وہیں بیٹھ جائے گی نیز اونٹنی کے بیٹھنے کے مقام پر ہی مسجد نبوی کی تعمیر ہوگی اور وہیں رسول اللہ ﷺ قیام فرمائیں گے۔
یہ سن کر سب قصواءکی راہ سے ہٹ گئے اور حیرت و استعجاب سے اس کی حرکات وسکنات کا جائزہ لیتے رہے۔
قصواءچلتی رہی یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ کر بیٹھی جہاں آج مسجد نبوی شریف ہے لیکن رسول اکرم ﷺ نیچے نہیں اترے۔ قصواءدوبارہ اٹھی ، تھوڑی دور گئی ، مڑ کر دیکھنے کے بعد دوبارہ اسی مقام پر آ کر بیٹھ گئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نیچے تشریف لے آئے۔
یہ آپﷺ کے ننہیال والوں یعنی بنی نجار کا محلہ تھا۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ننہیال میں قیام فرما کر آپﷺ کی عزت افزائی کرنا چاہتے تھے۔ اب بنو نجار کے لوگوں نے میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے لئے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی مگر حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے لپک کر قصواء سے کجاوہ اٹھا لیا اور اپنے گھر لے گئے۔اس پر رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
”آدمی اپنے کجاوے کے ساتھ ہے۔“
چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو رسول اکرم ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ادھر حضرت سعد بن زرارہ ؓ نے آ کر قصواء کی نکیل پکڑ لی چنانچہ اس مدت کے دوران قصواء ان کے پاس رہی۔
اللہ تعالیٰ نے قصواءکو وہ طاقت و قوت عطا کی کہ وہ وحی کے بار کو برداشت کر سکے۔ علمائے کرام کہتے ہیں کہ یہ واحد سواری تھی جو وحی کا بار برداشت کر سکتی تھی۔ آپ ﷺ اس پر سوار ہوتے اور اچانک آپ ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔وحی کے نزول کے وقت آپ ﷺ کا جسم اطہر اپنے وزن سے کئی گنا بھاری ہو جاتا تھا یہاں تک کہ اس کی تاثیر ارد گرد کی چیزوں پر بھی ہوتی تھی۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے اور اچانک وحی کا نزول ہوتا، وحی کا اتنا بوجھ ہوتا تھا کہ ہمیں معلوم ہوتا گویا قصواءکی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ “
وحی کے بوجھ کا اندازہ لگانے کےلئے ایک اور روایت پیش خدمت ہے:
ایک مرتبہ آپﷺ حضرت زید بن ثابتؓ کی ران پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے تھے کہ اچانک وحی کا نزول شروع ہو گیا،
سیدنا زیدؓ کہتے ہیں:
”اللہ کی قسم ! قرآن کے بوجھ سے قریب تھا کہ میری ہڈی ٹوٹ جاتی، میں سمجھا کہ آج کے بعد میں اپنے پیروں پر نہیں چل سکتا۔“
قصواءکو یہ شرف حاصل ہے کہ اسے 5 اہم مواقع میں شرکت نصیب ہوئی۔
رسول اکرم ﷺ نے غزوہ بدر کےلئے اسی پر سوار ہو کر تشریف لے گئے، صلح حدیبیہ ، عمرہ قضا، فتح مکہ اور حجة الوداع کے سفر میں بھی قصواء شریک تھی۔
فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ تواضع اور انکساری سے آپ ﷺ کا سر جھکا ہوا تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس قدر سر جھکا لیا کہ سراقدس قصواء کے کوہان سے لگ رہا تھا۔ جب آپ ﷺ مسجد الحرام میں فاتح بن کر داخل ہوئے تب بھی آپ ﷺ قصواءپر سوار تھے۔ اس وقت بیت اللہ کے گرد 360 بت تھے۔
آپﷺ کے ہاتھ میں کمان تھی۔ آپ ﷺ کمان سے بتوں کو مارتے اور فرماتے:
”حق آ گیا اور باطل چلا گیا،باطل جانے والی چیز ہے۔ “
آپﷺ کی ٹھوکر سے بت اوندھے منہ گر پڑتے۔ آپ ﷺ نے قصواء پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف فرمایا۔
آپ ﷺ جب کسی صحابی کو کسی اہم مہم کےلئے اپنا سفیر بنا کر روانہ کرتے تو اسے قصواء پر بھیجتے تھے۔
ذوالقعدہ 9 ہجری کو نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو امیر الحج بنا کر مکہ مکرمہ روانہ کیا۔ قافلے کی روانگی کے بعد سورة التوبہ کی ابتدائی آیات نازل ہوتی ہیںجن میں مشرکین سے کئے گئے عہد و پیمان کو برابری کی بنیاد پر ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم کے آجانے کے بعد رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللّه عنہ کو روانہ فرمایا تاکہ وہ آپ ﷺ کی جانب سے اعلان کر دیں۔خون اور مال کے عہد وپیمان میں عربوں کا دستور تھا کہ آدمی یا تو خود اعلان کرے یا اپنے خاندان کے کسی فرد سے اعلان کروائے۔ خاندان سے باہر کے کسی آدمی کا کیا ہوا اعلان تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔
آپﷺ نے حضرت علیؓ کو قصواء پر سوار کیا اور مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ قصواء پر سوار ہو کر جب حضرت ابوبکرؓ تک پہنچتے ہیں تو نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ تکبیر کہی گئی تھی اور حضرت ابوبکرؓ جماعت کی امامت کرنے کے لئے آگے بڑھے ہی تھے کہ قصواء کی آواز سنائی دی۔ حضرت ابوبکر ؓ جو تکبیر کہنے والے تھے، رک جاگئے اور فرمایا:
”یہ قصواءکی آواز ہے، شاید آپ ﷺ خود تشریف لائے ہیں۔
جب قصواء قریب آتی ہے تو اس پر سوار بھی نظر آ جاتے ہیں۔
دوسری روایت کے مطابق حضرت علیؓ کی حضرت صدیق اکبرؓ سے ملاقات وادی ضجنان میں ہوئی۔ حضرت ابوبکؓر نے سیدنا علیؓ کو قصواء پر سوار دیکھا تو دریافت کیا:
”امیر ہو یا مامور؟“
حضرت علیؓ نے فرمایا: مامور۔
پھر دونوں آگے بڑھے۔
حضرت ابوبکرؓ نے امیر الحج کی حیثیت سے لوگوں کو حج کرایا۔ دسویں تاریخ یعنی قربانی کے دن حضرت علیؓ نے قصواء پر سوار ہو کر جمرہ کے پاس لوگوں میں وہ اعلان کیا جس کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا۔
تمام عہد والوں کا عہد ختم کر دیا اور انہیں 4 مہینے کی مہلت دی۔ جن کے ساتھ عہد وپیمان نہیں تھا، انہیں بھی 4 مہینے کی مہلت دی۔ جن مشرکین نے مسلمانوں سے عہد نبھانے میں کوتاہی نہیں کی نہ مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کا عہد ان کی طے کردہ مدت تک برقرار رکھا۔
حضرت ابوبکرؓ نے صحابہ کی ایک جماعت بھیج کر یہ اعلانِ عام کروایا کہ آئندہ کوئی مشرک حج نہیں کر سکتا ،نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہے۔ یہ اعلان گویا جزیرہ عرب سے بت پرستی کے خاتمے کا اعلان تھا۔
مختلف مہمات کے علاوہ سفر و حضر کے دوران بھی اکثر و بیشتر صحابہ کرام ؓ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ قصواء پر سوار ہوئے۔
حجة الوداع کا سفر بھی آپﷺ نے قصواء پر کیا۔
روایات میں آتا ہے کہ 9 ذوالحجہ کو آپ ﷺ کے حکم پر قصواء پر کجاوہ کسا گیا اور آپ ﷺ بطن وادی میں تشریف لے گئے جہاں ایک لاکھ 24ہزار یا ایک لاکھ 44 ہزار صحابہ کرام کا مجمع تھا۔ آپ ﷺ نے وہاں ایک جامع خطبہ دیا، یہ خطبہ حجة الوداع کے نام سے معروف ہے۔ یہ مساواتِ انسانیت اور ذات پات کے خاتمے کا اولین چارٹر ہے۔
قصواءکو یہ شرف حاصل ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر یہ جامع خطبہ ارشاد فرمایا:
”لوگو! میری بات سنو، میں نہیں جانتا کہ شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی مل سکوں۔ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور اس شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ۔
عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعہ حلال کیا ہے ۔
میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھاتم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے، وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
تم سے میرے بارے میں پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا۔ یہ سن کر آپ ﷺ انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے 3مرتبہ فرمایا:
اے اللہ گواہ رہ۔
واضح رہے کہ رسول اکرم ﷺ کے تمام خطبات میں یہ خطبہ جو حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا گیا ، آپ ﷺ کا طویل ترین خطبہ ہے۔
”خطبہ ارشاد فرمانے اور ظہر و عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ جائے وقوف پر تشریف لے گئے۔ قصواء کا شکم چٹانوں کی جانب کیا اور جبل مشاة کو سامنے کیا اور قبلہ رخ وقوف فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔اس کے بعد آپ ﷺ قصواء پر سوار ہوئے اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کو پیچھے بٹھایا۔ وہاں سے مزدلفہ تشریف لے گئے۔“
رسول اکرم ﷺ کو قصواءاس قدر محبوب تھی کہ اسے دیگر اونٹنیوں کی طرح کھونٹے سے باندھ کر نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ اسے کھلا چھوڑا جاتا تھا۔ قصواءکا دائمی مسکن جنت البقیع کے قریب ایک چراہ گاہ تھی۔ قصواءوہاں قرب وجوار کی جھاڑیوں سے چرتی تھی۔رسول اکرم ﷺ قصواء کو پیار سے کبھی ”جدعائ“ بھی کہہ کر بلاتے، کبھی ”قضبائ“ اور کبھی” عصباء“کہتے۔
گویا یہ سب قصواء کے نام ہیں۔قصواء کواونٹوں کے دوڑ کے مقابلوں میں بھی کبھی کبھار شریک کرایا جاتا تھا۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں:
”جب کبھی قصواءکو اونٹوں کے مقابلوں میں شریک کروایا گیا تو قصواءدوڑ میں ہمیشہ بازی لے گئی۔“
حضرت سعید بن المسیبؓ کہتے ہیں:
ایک مرتبہ دوڑ کے مقابلے میں قصواءپیچھے رہ گئی اور دوسری اونٹنی اس پر سبقت لے گئی۔ اس پر مسلمانوں کو افسوس ہوا ۔ جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
”دنیا کی چیزوں میں جس چیز کو لوگ بہت زیادہ بلند مقام دینے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے اس کے مقام سے گراتا ہے۔“
قصواء رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں11 سال تک رہی۔ آپ ﷺ کا ظاہری وصال جہاں تمام صحابہ کرام کےلئے عظیم صدمہ تھا وہاں قصواء کےلئے بھی حضور ﷺ کا وصال کسی بڑی مصیبت سے کم نہ تھا۔
قصواء کو رسول اکرم ﷺ کی جدائی برداشت نہ ہو سکی۔ شدت غم کی وجہ سے خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی۔ قصواء نے کھانا پینا ترک کر دیا۔ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے رہتے تھے، یہاں تک صحابہ کرامؓ نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔
رسول اکرم ﷺ کی وصال کے بعد قصواء پر کوئی سوار نہ ہوا، پھر حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کا ایک سال بھی پورا نہیں ہوا کہ قصواء بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ تاجدارِ مدینہ راحتِ قلب و سینہ احمدِ مصطفیٰ محمدِ مجتبیٰ ﷺ کے ظاہری وصالِ مبارک کے بعد ہجرو فراق کی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُونٹنی قصوا نے مرتے دم تک کچھ کھایا اور نہ پیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد جو عجیب کیفیات رونما ہوئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جس دراز گوش (دلدل) پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری فرماتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فراق میں اتنا مغموم ہوا کہ اس نے ایک کنویں میں چھلانگ لگا دی اور اپنی جاں جاں آفریں کے حوالے کر دی۔‘‘
عبدالحق محدث دهلوی، مدارج النبوه، 2 : 2444
حلبی، السيرة الحلبيه، 3 : 433
💞 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ 💞
الصلوة والسلام عليک یا سیدی يارسول الله ﷺ
وعلیٰ آلکـــــ واصحابکـــــ ياسیدی یا حبیب الله ﷺ

اے اللہ! میں تجھ سے تیری رحمت، تیری مغفرت اور تیرے خیر کے دروازے کھلنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے یہ بھی سوال کرتا...
20/05/2026

اے اللہ! میں تجھ سے تیری رحمت، تیری مغفرت اور تیرے خیر کے دروازے کھلنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے یہ بھی سوال کرتا ہوں کہ تو میری تمام حاجات پوری فرما دے، میرے تمام معاملات آسان فرما دے، اور مجھے وہاں سے رزق عطا فرما جہاں سے مجھے گمان بھی نہ ہو۔ اور بے شک میں تیرے سامنے فقیر، کمزور اور محتاج ہوں، پس اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! مجھے خالی اور نامراد واپس نہ لوٹا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ وَمَغْفِرَتَكَ وَفَتْحَ أَبْوَابِ خَيْرِكَ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَقْضِيَ حَاجَتِي كُلَّهَا، وَتُيَسِّرَ أَمْرِي كُلَّهُ، وَتَرْزُقَنِي مِنْ حَيْثُ لَا أَحْتَسِبُ، وَإِنِّي لَكَ فَقِيرٌ ضَعِيفٌ مُحْتَاجٌ، فَلَا تَرُدَّنِي خَائِبًا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

جو بھی شخص ہدایت کی نیت سے دین مطالعہ کرتا ہے اسے ہدایت ضرور نصیب ہوتی ہے۔ﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہےوَ الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِ...
20/05/2026

جو بھی شخص ہدایت کی نیت سے دین مطالعہ کرتا ہے اسے ہدایت ضرور نصیب ہوتی ہے۔ﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے
وَ الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا
’’وہ لوگ جو ہماری طرف آنے کے لئے جدو جہد کرتے ہیں ہم انہیں اپنے راستے ضرور دکھاتے ہیں۔‘‘
[سورہ العنکبوت، آیت 69]

20/05/2026

اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ۞
🤍

Only in the remembrance of Allah does hearts find comfort

خدا کرے کہ ہماری قبریں ہمارے بستروں سے زیادہ نرم اور آرام دہ ہوں...
20/05/2026

خدا کرے کہ ہماری قبریں ہمارے بستروں سے زیادہ نرم اور آرام دہ ہوں...

’’میرا نہیـــں خیال کہ اللـــــہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا کبھی بھی نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا چھوڑ سکتا ہے۔‘‘ (شیخ...
20/05/2026

’’میرا نہیـــں خیال کہ اللـــــہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا کبھی بھی نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا چھوڑ سکتا ہے۔‘‘
(شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ | لقاء الباب المفتوح، صـ ٢٤٣)

18/05/2026

رسول ﷺ کی صرف بیٹیاں تھیں کوئی بیٹا نہ تھا
رسول اللہ ﷺ کی کل 7 اولادیں تھیں، جن میں 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں شامل ہیں۔
حضرت ابراہیمؑ کے علاوہ آپ ﷺ کی تمام اولادیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں۔
تفصیل درج ذیل ہے:
حضرت قاسمؓ: یہ آپ ﷺ کے سب سے پہلے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ﷺ کی کنیت "ابوالقاسم" تھی۔
حضرت عبداللہؓ: انہیں طیب اور طاہر بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیمؓ: یہ آپ ﷺ کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے، جو حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
نوٹ: رسول اللہ ﷺ کے تمام بیٹوں کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔
اس کے علاوہ رسول ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں
حضرت زینبؓ: یہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی بیٹی تھیں، ان کا نکاح حضرت ابو العاص بن ربیعؓ سے ہوا تھا۔
حضرت رقیہؓ: ان کا نکاح حضرت عثمان غنیؓ سے ہوا تھا۔
حضرت ام کلثومؓ: حضرت رقیہؓ کے انتقال کے بعد، ان کا نکاح بھی حضرت عثمان غنیؓ سے ہوا (اسی وجہ سے حضرت عثمانؓ کو "ذوالنورین" یعنی دو نوروں والا کہا جاتا ہے)۔
حضرت فاطمہ زہراؓ: یہ آپ ﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھیں، ان کا نکاح حضرت علی ابن ابی طالبؓ سے ہوا اور رسول اللہ ﷺ کی نسل انہی سے آگے بڑھی۔
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ، حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے مدینہ منورہ میں 8 ہجری میں پیدا ہوئے۔۔۔
یہ رسولِ اکرم ﷺ کے وہ واحد صاحبزادے تھے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسری زوجہ سے تھے۔
حضرت ابراہیمؓ کا وصال 10 ہجری میں ہوا۔۔۔
مختلف روایات کے مطابق اُس وقت اُن کی عمر تقریباً 16 سے 18 ماہ کے درمیان تھی۔
جس دن اُن کی وفات ہوئی، اُس دن سورج گرہن بھی لگا تھا۔۔۔
لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ گرہن حضرت ابراہیمؓ کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے، مگر نبی کریم ﷺ نے فوراً اس غلط فہمی کی اصلاح فرمائی اور ارشاد فرمایا:
“سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے۔”
حضرت ابراہیمؓ کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کے قریب دفن کیا گیا۔۔۔
ان کی تدفین میں حضرت عباسؓ، فضل بن عباسؓ اور اسامہ بن زیدؓ نے شرکت کی۔
اپنے لختِ جگر کی وفات پر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
“آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہے، مگر ہم وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو۔”
اللّٰھم صل وسلم وبارک علی نبینا محمد ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کل ازواجِ مطہرات (بیویوں) کی تعداد نیچے لکھی ہوئی ہے۔
ان میں سے دو بیویاں آپؐ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی انتقال کر گئی تھیں، جبکہ نو ازواج آپؐ کی وفات کے وقت حیات تھی
ازواجِ مطہرات کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں
1:-
حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ (آپؐ کی حیاتِ طیبہ میں وصال ہوا)
2:-
حضرت سودہ بنت زمعہؓ
3:-
حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ
4:-
حضرت حفصہ بنت عمرؓ
5:-
حضرت زینب بنت خزیمہؓ (آپؐ کی حیاتِ طیبہ میں وصال ہوا)
6:-
حضرت ام سلمہؓ
7:-
حضرت زینب بنت جحشؓ
8:-
حضرت جویریہ بنت حارثؓ
9:-
حضرت ام حبیبہؓ
10:-
حضرت صفیہ بنت حییؓ
11:-
حضرت میمونہ بنت حارثؓ
، ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما کا انتقال حضور ﷺ کی ظاہری زندگی میں ہی ہو گیا تھا، جبکہ باقی ازواجِ مطہرات آپ ﷺ کے وصال کے وقت حیات تھیں۔
​ان کے علاوہ حضرت ماریہ قبطیہ (رضی اللہ عنہا) بھی آپ ﷺ کے حرم پاک میں شامل تھیں، جن کے بطن مبارک سے آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔
یہ وہ تمام پاکیزہ لوگ تھے جو رسولﷺ کے دل وجان تھے ۔
❤❤❤❤❤

مسجدِ حرام میں بیت اللہ کے شاذروان اور اس میں نصب کڑوں کی نئی اور دلکش شکل زائرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ سنہری رنگ م...
18/05/2026

مسجدِ حرام میں بیت اللہ کے شاذروان اور اس میں نصب کڑوں کی نئی اور دلکش شکل زائرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ سنہری رنگ میں ڈھلے یہ کڑے سورج کی کرنوں کی مانند چمکتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے خانہ کعبہ کے اطراف کا منظر مزید روح پرور اور پُر وقار محسوس ہوتا ہے۔
حرمین شریفین کی جنرل پریذیڈنسی کے مطابق رواں برس جنوری میں بیت اللہ کی بیرونی نچلی دیوار، یعنی شاذروان، کے سنگِ مرمر کی تبدیلی اور تزئین کا کام مکمل کیا گیا۔ اس کے بعد غلافِ کعبہ کو تھامنے والے کڑوں کو بھی جدید اور خوبصورت انداز دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
پہلے یہ کڑے تانبے سے بنائے گئے تھے جبکہ بعد میں انہیں چاندی کے رنگ میں تبدیل کیا گیا، تاہم شاذروان کی نئی طرزِ تعمیر کے بعد پرانے کڑے موزوں محسوس نہیں ہو رہے تھے۔ اسی لیے اب ان پر 24 قیراط سونے کی دھات کاری کی گئی ہے جس نے ان کی خوبصورتی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
شاذروان میں نصب یہ کڑے خصوصی داغ روک فولاد سے تیار کیے گئے ہیں جن پر تقریباً 5 میکرون موٹائی تک سنہری تہہ چڑھائی گئی ہے۔
دوسری جانب بیت اللہ کے دروازے کی چمک اور اس پر کندہ قرآنی آیات کو نمایاں کرنے کے لیے خصوصی صفائی اور پالش کا عمل بھی کیا گیا، حکام کے مطابق بیت اللہ کا دروازہ تانبے سے تیار کیا گیا ہے اور اسے باقاعدگی سے خصوصی مواد کے ذریعے صاف اور چمکایا جاتا ہے۔
مقامِ ابراہیم کے بیرونی فریم کی صفائی اور پالش کا منظر بھی زائرین کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔
روحانیت اور خوبصورتی کے اس حسین امتزاج نے مسجدِ حرام کے ماحول کو مزید نورانی اور دل موہ لینے والا بنا دیا ہے۔

ایک عورت اپنے شوہر کے تنگحالات کی بنا پر ایک خوشحال آدمی کے گھر گئیاور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک خادم باہر آیا اور اس سے پوچ...
18/05/2026

ایک عورت اپنے شوہر کے تنگ
حالات کی بنا پر ایک خوشحال آدمی کے گھر گئی
اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک خادم باہر آیا اور اس سے پوچھا:
"تم کیا چاہتی ہو؟"
عورت نے کہا: "میں تمہارے مالک سے ملنا چاہتی ہوں۔"
خادم نے پوچھا: "تم کون ہو؟"
عورت نے کہا: "اسے بتاؤ کہ میں اس کی بہن ہوں۔"
خادم جانتا تھا کہ اس کے مالک کی کوئی
بہن نہیں ہے، تو وہ اندر گیا اور اپنے مالک سے کہا:
"دروازے پر ایک عورت ہے
جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آپ کی بہن ہے۔"
مالک نے کہا: "اسے اندر لے آؤ۔"
عورت اندر آئی، مالک نے اسے خوش دلی سے استقبال کیا اور پوچھا: "تم میرے کس بھائی کی بہن ہو؟ اللہ تم پر رحم کرے۔"
عورت نے کہا: "میں آدم کی بیٹی ہوں۔"
خوشحال آدمی نے اپنے دل میں سوچا: "یہ عورت واقعی بے یارو مددگار ہے، میں پہلا شخص ہوں گا جو اس کی مدد کرے گا۔"
عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے تیسری بار کہا، پھر خوشحال آدمی نے چوتھی بار کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے مجھے سمجھا ہے، اور دوبارہ کہنا میرے لیے ذلت ہے۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے ذلیل نہیں کیا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "اللہ کی قسم، مجھے تمہاری بات کی خوبصورتی پسند آئی۔ اگر تم ہزار بار بھی دہراتی تو میں ہر بار کے بدلے تمہیں ہزار درہم دیتا۔"
پھر اس نے اپنے خادموں سے کہا: "اسے دس اونٹ، دس اونٹنیاں، جتنی چاہے بھیڑیں، اور جتنا چاہے مال و دولت دے دو تاکہ ہم قیامت کے دن کے لیے کچھ کام کریں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
غریبوں کو مت بھولو، کیونکہ اللہ غنی ہے اور ہم فقیر ہیں

حضرت امیر حمزہؓ - اسد اللہ، سید الشہداء*غزوہ اُحد کا میدان لہو لہو تھا۔ اچانک کفار کی صفیں چیرتا ہوا ایک شیر دھاڑا۔ دونو...
18/05/2026

حضرت امیر حمزہؓ - اسد اللہ، سید الشہداء*
غزوہ اُحد کا میدان لہو لہو تھا۔ اچانک کفار کی صفیں چیرتا ہوا ایک شیر دھاڑا۔ دونوں ہاتھوں میں 2 تلواریں، برہنہ تلواریں، آنکھوں میں شعلے، زبان پر اللہ اکبر!
یہ تھے رسول اللہ ﷺ کے چچا، جگر گوشہ، حضرت حمزہؓ! جس طرف رخ کرتے کفار کے سر تن سے جدا ہو جاتے۔ 30 کافروں کو اکیلے جہنم واصل کیا۔ زخموں سے چور تھے مگر رکتے نہیں تھے۔ دشمن چیخ رہا تھا: "بھاگو! یہ اسد اللہ ہے، یہ انسان نہیں!"
پھر دھوکے کی گھڑی آئی۔ وحشی بن حرب پتھر کے پیچھے چھپا تھا۔ ہند نے اسے لالچ دی تھی۔ جیسے ہی شیرِ خدا سامنے آئے، اس نے پیچھے سے نیزہ پھینکا۔
"آہ!" نیزہ پیٹ کو چیرتا ہوا پار ہو گیا۔ اسد اللہ میدان میں گر پڑے۔ زمین خون سے لال ہو گئی۔ سانس اکھڑ رہی تھی، مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ زبان پر اب بھی "اللہ اکبر" تھا۔
ظلم کی انتہا ابھی باقی تھی۔ وہی عورت ہند بھاگی ہوئی آئی۔ شہید کے جسم کی بے حرمتی کی۔ ناک کان کاٹ ڈالے۔ جگر نکال کر چبایا۔ میدانِ اُحد لرز اٹھا۔
نبی کریم ﷺ جب اپنے چچا کی لاش پر پہنچے تو منظر دیکھ کر تڑپ اٹھے۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ فرمایا: "اے حمزہ! اے میرے چچا! کاش میں تیری جگہ ہوتا۔ جنت میں تیری کوئی مثال نہیں❤️❤️❤️

حضرت قدامہ بن حماطہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے حضرت سیدنا سہم بن منجاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے سن...
17/05/2026

حضرت قدامہ بن حماطہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’میں نے حضرت سیدنا سہم بن منجاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ’’ایک مرتبہ ہم حضرت سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جنگ کے لئے ’’دارین‘‘ کی طر ف روانہ ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے، آپ نے راستے میں تین دعائیں کیں اور تینوں قبول ہوئیں۔ راستے میں ایک جگہ پانی بالکل ختم ہوگیا، ہم نے ایک جگہ قافلہ روکا، آپؓ نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کرنے کے بعد دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے اور بارگاہِ خدا وندی عزوجل میں اس طر ح عرض گزار ہوئے: ’’اے ہمارے پروردگار عزوجل! ہم تیرے بندے ہیں، تیری راہ کے مسافر ہیں، ہم تیرے دشمنوں سے قتال کریں گے، اے ہمارے رحیم وکریم پروردگار عزوجل! ہمیں بارانِ رحمت سے سیراب فرما دے تاکہ ہم وضو کریں اور اپنی پیاس بجھائیں۔‘‘
اس کے بعد قافلے نے کوچ کیا۔ ابھی ہم نے تھوڑی سی مسافت ہی طے کی تھی کہ گھنگھور گھٹائیں چھا گئیں اور یکایک بارانِ رحمت ہونے لگی، سب نے اپنے اپنے برتن بھر لیے اور پھر ہم وہاں سے آگے چل دیے۔
حضرت سیدنا سہم بن منجاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’تھوڑی دور چلنے کے بعد مجھے یاد آیا کہ میں اپنا برتن تو اسی جگہ بھول آیا ہوں جہاں بارش ہوئی تھی۔ چنانچہ میں اپنے رفقا کو بتا کر اس طرف چل دیا جہاں بارش ہوئی تھی۔ جب میں وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر مجھے بڑی حیرانگی ہوئی کہ ابھی کچھ دیر پہلے جہاں شدید بارش کا سماں تھا اب وہاں بارش کے آثار تک نہ تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہاں کی زمین پر برسوں سے ایک قطرہ بھی نہیں برسا۔ بہرحال میں اپنے برتن کولے کر واپس قافلے میں شامل ہوگیا۔
جب ہم ’’دارین‘‘ پہنچے تو ہمارے اور دشمنوں کے درمیان ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ ہمارے پاس ایسا سازو سامان نہ تھا کہ ہم سمندر پار کر سکیں۔ ہم بہت پریشان ہوئے اور معاملہ حضرت سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا۔ آپؓ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور ان کلمات کے ساتھ دعاء کرنے لگے: اے ہمارے پروردگار عزوجل! ہم تیرے بندے ہیں اور تیری راہ کے مسافر ہیں، ہم تیرے دشمنوں سے قتال کریں گے، اے ہمارے پروردگار عزوجل! ہمارے لیے ان کی طر ف کوئی راستہ بنادے۔‘‘
آپ رضی اللہ عنہ کی دعاء قبول ہوئی اور ہمارے لیے سمندر میں راستے بن گئے۔ آپ ہمیں لے کر سمندر میں اْتر گئے اور ہم نے اس طرح سمندر پار کیا کہ ہمارے کپڑ ے بھی گیلے نہ ہوئے۔ جنگ کے بعد جب ہماری واپسی ہوئی تو راستے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیٹ میں درد ہونے لگا اور اسی درد کی حالت میں آپ کا وصال ہوگیا۔ ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کو غسل دینا چاہا لیکن پانی بالکل ختم ہوگیا تھا۔ چنانچہ آپ کو بغیر نہلائے کفن دیا گیا، پھر آپ رضی اللہ عنہ کو دفن کردیا گیا۔
آپؓ کی تدفین کے بعد ہم وہاں سے رخصت ہوگئے۔ ایک جگہ ہمارے قافلے کو پانی میسر آیا تو ہم نے باہم مشورہ کیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل دے کر دوبارہ دفن کیا جائے۔ چنا نچہ ہم اس جگہ پہنچے جہاں آپ کو دفن کیا تھا۔ لیکن وہاں آپؓ کی لاش موجود نہ تھی۔ خوب تلاش کیا لیکن آپؓ کا لاشہ مبارک نہ مل سکا پھر ہمیں ایک شخص نے بتایا کہ میں نے حضر ت سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وصال سے پہلے یہ دعا کرتے سنا تھا: اے ہمارے پروردگار عزوجل! میری موت کو ان لوگو ں پر پوشیدہ کر دینا اور میرے ستر کو کسی پر ظاہر نہ فرمانا۔ جب ہم نے یہ سنا تو ہم واپس لوٹ آئے اور ہم سمجھ گئے کہ آپؓ کی یہ دعا بھی قبول ہوچکی ہے، اسی لیے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جسم اطہر نہیں مل رہا۔
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں: ’’حضرت سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصل نام عبداللہ بن عماد بن اکبر بن ربیعہ بن مالک بن عوف حضرمی تھا۔
آپ نبی مْکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ’’بحرین‘‘ کا امیر بناکر بھیجا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی آپؓ بحرین کے امیر رہے اور حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی آپ کو بحرین کا امیر بر قرار رکھا۔سبحان اللہ ۔
اللہ والوں کے لیے سمندر کے اوپر بھی راستے بن جاتے ہیں واضعہ پسند آئے تو دوسراں کے ساتھ شئیر کریں شکریہ۔
۔ (الحکایات، عبدالرحمن بن علی الجوزی رحمۃ اللہ علیہ)
طبری،ج۳،ص۲۵۷ودلائل النبوۃ،ج۳،ص۲۰۸)
2) (دلائل النبوۃ،ج۳،ص۲۰۸)
البدایہ والنہایہ ، ج۷،ص۳۲۹ودلائل النبوۃ،ج۳،ص۲۰۸)

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islami Waqiat - اسلامی واقعات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share