05/09/2026
افسانہ۔۔بے فیض موسم کی فصیل
ایم زیڈ کنول۔ لاہور
شہر کے سب سے پرانے کاغذی کارخانے کی عمارت کے تیسرے درجے پر وہ کمرہ تھا جہاں ہر سال "فصلِ سخن" کا معیار طے کیا جاتا تھا۔ کمرے کی ہوادانیاں اتنی اونچی تھیں کہ وہاں سے صرف آسمان کا دھندلا عکس نظر آتا تھا، نیچے پھیلا ہوا شہر اور اس کی سانسیں نہیں۔
میز پر تین خاکی لفافے رکھے تھے۔ ایک لفافے پر سیاہی ابھی تازہ تھی، باقی دو پر دھول کی باریک تہیں جمی تھیں۔
فرخ پچھلے بیس سال سے اس عمارت کی زنگ آلود سیڑھیاں اترتا چڑھتا تھا۔ اس کی انگلیاں کاغذی تراشوں کو کاٹتے کاٹتے اور قلم کی انی کو تراشتے تراشتے اندر کو مڑ چکی تھیں۔ اس کا مجموعہ "پیاس کا روزنامچہ" اس میز کے ایک کونے پر پڑا تھا—بے تحاشا تخلیقی تپش سے بھرا ہوا، لیکن بغیر کسی "حوالے" کے۔
میز کے گرد بیٹھے قد آور مسند نشینوں کے درمیان کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی، لیکن ایک خاموش معاہدہ تھا۔
"یہ لفظ بااثر ہیں،" ایک سال خوردہ رکن نے فرخ کے مسودے کا ایک صفحہ الٹتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں داد کے بجائے ایک سارڈونک ٹھنڈک تھی۔ "لیکن یہ اتنے معتبر نہیں کہ ہمارے حلقے کی تاریخ پر اثر انداز ہو سکیں۔ اس کے پاس کوئی ایسی سند نہیں جو ہمارے بنائے ہوئے سانچوں میں فٹ بیٹھ سکے۔"
"اور سب سے بڑی خرابی،" دوسرے رکن نے اپنے ہاتھ کی انگوٹھی کو گھماتے ہوئے اضافہ کیا، "یہ شخص ہماری بیٹھکوں کی رونق نہیں بنتا۔ یہ اپنے فن کو ہم سے بالاتر سمجھتا ہے۔ جو شخص ہمارے بنائے ہوئے ادب کے دیوتاؤں کو سجدہ نہیں کرتا، اس کے فن کی عمر اس کمرے کی حد تک ہی ہونی چاہیے۔"
انہوں نے فرخ کا مسودہ اٹھایا اور اسے ایک ایسے خانے میں سرکایا جہاں سے روشنی کی کوئی کرن نہیں گزرتی تھی۔ یہ وہ خندق تھی جہاں ایک جینوئن تخلیق کار کی سالہا سال کی ریاضت، اس کی راتوں کی نیندیں اور اس کا خونِ جگر خاموشی سے دفن کر دیا جاتا تھا۔
اس کے برعکس، تیسرے خاکی لفافے سے ایک درمیانے درجے کا مسودہ نکالا گیا۔ اس کے لکھاری نے نہ کوئی نیا استعارہ وضع کیا تھا، نہ زندگی کی اصل رمق کو چھوا تھا۔ لیکن اس کے پاس ہر اس محفل کا حاضری کارڈ تھا جہاں فیصلے بیچے اور خریدے جاتے تھے۔ اس کی کتاب پر تمغے کی مہر ثبت کر دی گئی۔
جب فرخ عمارت سے باہر نکلا، تو اس کے ہاتھ خالی تھے۔ اس کا استحصال کسی نے تلوار سے نہیں کیا تھا۔ یہ ایک دھیما، خاموش اور مہذب قتل تھا۔ اس کی تخلیق کا حق اس سے چھین کر ایک ایسے شخص کی جھولی میں ڈال دیا گیا تھا جس نے کبھی لفظ کی حرمت کو محسوس ہی نہیں کیا تھا۔
وہ سڑک پر چلتا رہا۔ اس کے ذہن میں نئے استعارے اور نظم کی لہریں اب بھی اٹھ رہی تھیں، لیکن اس کا وجود اس بوجھ سے نڈھال تھا کہ جس معاشرے میں وہ سانس لے رہا ہے، وہاں سچائی کی قیمت صرف ایک گمنام تسلیم ہے، جبکہ سستی نقل کے سر پر تاج سجایا جاتا ہے۔
عمارت کی بالکونی سے مسند نشین اسے دور جاتے دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ انہوں نے تمغہ تو اپنے پیارے کو دے دیا ہے، لیکن فرخ کے قلم سے نکلنے والی وہ آنچ جو سڑکوں پر گونج رہی تھی، اس کا کوئی نعم البدل ان کے زنگ آلود ایوانوں میں نہیں تھا۔ استحصال نے ایک جسم کو تو تھکا دیا تھا، مگر تخلیق کی اس روح کو مسخ کرنے میں وہ اب بھی ناکام تھے۔