JUGNU International

Call Directions Contact the university

JUGNU International CHIEF EXECUTIVE
M Z KANWAL--LHR
POET/WRITER(URDU/PUNJABI
LIT TITLE
(URDU ADAB KA GOHAR-E-ANMOL BY
FAKHR E URDU
SHAN E MUHIBBAN E URDU

چند حروفِ آشنائی
معروف نام...............ایم زیڈ کنولؔ
پورا نام...................مسرت زہرا کنولؔ
ولدیت................راؤ محمد باقر علی خاں
تعلیمی قابلیت..........ایم اے ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمینٹ
ایم اے اردو۔ ایم اے پنجابی
ایم ایجوکیشن(گولڈ میڈلِسٹ)
اردو/پنجابی شاعرہ/ادیبہ/مقررہ/کمپئیر/ریسرچ سکالر/ماہرِتعلیم
ہم نصابی سرگرمیاں ( دورانِ تعلیم)....صدر/ سیکرٹری گورنمنٹ گرلز کالج ۔گوجرانوالہ
صدر لِٹریری سوسائٹی.............................
صدر یونین..........گورنمنٹ ایجوکیشن کالج....لاہور
دورانِ تعلیم اعزازات...بہترین شاعرہ۔مقررہ۔مضمو ن نِگار۔کھِلاڑی۔کمپیئر
ایوارڈز.............آل راؤنڈ بیسٹ سٹوڈنٹ/گولڈ میڈل آل پاکستان مشاعرہ/مذاکرہ
ٹرافیا ں/میڈلز
موجودہ پہچان..............اردو/پنجابی شاعرہ/ادیبہ/مقررہ/کمپئیر/ریسرچ سکالر/ماہرِتعلیم/
فخرِ اردو، شانِ محبانِ اردو،اردو اد ب کاگوہرِ انمول، گولڈ میڈلسٹ
چیف ایگزیکٹو۔۔علمی، ادبی، سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم ،جگنو انٹر نیشنل۔لاہور
سرگرمیاں
پیشہ۔۔۔۔درس و تدریس
جنرل سیکرٹری........ترجمانِ ادب
جنرل سیکرٹری.......مجلسِ حمایتِ کشمیر
ایگزیکٹو ممبر.........بزمِ خواتینِ اِقبال
صدر..............ینگ موومینٹ فار نالِج
چیئر پرسن..........ہسپاہ
ایڈیٹر۔۔۔۔۔ادبی جریدہ۔۔سہ ماہی ۔جگنو
مینیجنگ ڈائریکٹر...باقر پبلیکیشنز
ممبر...........پاکستان رائیٹرز گِلڈ
ممبر مجلِسِ مُشاورت
ماہنامہ پذیرائی.........لاہور
تہذیبِ بلوچستان۔کچھی۔بلوچستان
اعزازات ...................
گولڈ میڈل 2018قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی پاکستان
محافظِ پاکستان ایوارڈ 2018قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی پاکستان
شانِ محبانِ اردو (خطاب) 2018 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
شانِ بزم محبانِ اردو (خطاب) 2018 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
حسنِ کارکردگی ایوارڈ۔۔۔ 2018۔۔۔پریس کلب میانوالی
شانِ محبانِ اردو (خطاب) 2017 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
حسنِ کارکردگی ایوارڈ۔پنج ریڈیو ۔امریکہ
اسٹار مشاعرہ سیلیکشن کمیٹی( چیف جج) 2017 سے تا حال برائے مقابلہ سٹار مشاعرہ زیرِ اہتمام محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
فیض محفل اسٹار مشاعرہ( خطاب ۔۔سٹار شاعرہ) 2017 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
محفل چکبست اسٹار مشاعرہ (خطا ب ۔۔سٹار شاعرہ) 2017 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
شانِ محبانِ اردو (خطاب) 2017 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
ورلڈ پوئٹری ڈے ۔۔2017 ۔۔انگلش لٹریری سوسائٹی۔۔۔لاہور
اعزازی ایوار ڈ۔۔۔2017 ۔۔۔ بزمِ رفیق علم و ادب ، فیصل آباد
اعزازی شیلڈ۔۔۔2016۔۔گلشن راوی کالج ،، لاہور
فخرِ اردو ایوارڈ۔۔۔ ۔۔2015 ۔۔۔۔(اردو تحریک عالمی،لندن،یو کے کی طرف سے) اُردو ادب کا گوہرِانمول کا خطاب ---2013---(شریف اکیڈمی جرمنی کی طرف سے
(ٹیلنٹ ایوارڈ (جنگ کی طرف سے)
گولڈ میڈل (شاعری)
سخنور انٹرنیشنل ایوارڈ۔2013
سندِ اعزاز ۔۔۔حلقہ اربابِ سخن میانوالی
اعتراف۔تماثیل۔سہ ماہی، تمام۔میانوالی
ڈاکٹر عبدالقدیر خاں ایوارڈ ......رائیٹرز گِلڈ
قتیل شفائی ایوارڈ.........قتیل شفائی سوسائٹی
حُسنِ کارکردگی ایوارڈ.........سفینہء ادب...
حُسنِ کارکردگی ایوارڈ.......ترجمانِ ادب
حُسنِ کارکردگی ایوارڈ........بورڈآف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن
سالِ اقبال 2002اعزاز.......خواتین بزمِ اقبال....ایوا نِ اقبال لاہور
ورلڈ پوئٹری ڈے..........انگلش لٹریری سوسائٹی
تخلیقات (مطبوعہ) چہرے گلاب سے (شاعری) 1998
کائنات مُٹّھی میں (شاعری) سخنورفاؤنڈیشن ایوارڈ۔2013
2013 میں لکھی جانے والی شاعری کی کتابوں میں اول انعام کی حقدار اور سال کی بہترین
کتاب قرار پائی۔
قوسِ قزح کی زنجیریں۔۔(نظمیں)
برف کا آتش فشاں۔۔(غزلیں
کن فکاں۔۔(حمد،نعت، منقبت کا مجموعہ)
دو موسموں کے درمیان
سفارت خوشبوؤں کی (تنقیدی مضامین،تبصرے،دیباچے)
گویم مشکل۔۔(تانیثیت کے حوالے سےنظمیں)
جگنووٗں کے نام۔۔(نظمیں۔ نذرِ کشتِ نو
اب اشکبار ہے لالہ ( عدم سے ماورا یادوں کے نام)
شاعری)
میں آج کی سوہنی ہوں ( تانیثیتی آہنگ غزلیں)
درد کی دہلیز پر۔۔کووڈ ۔۱۹ کے حوالے سے شاعری کی پہلی کتاب)
لاطائل ۔ ۔ (مختصر نظمیں )
سخن دلنواز ۔ ۔ ۔ (نقد و نظر)
دھوپ کا بادبان ۔ ۔ سہ مصرعی نظمیں )
دوریوں کے موسم میں (غزلیں )
اِک دیا آس کا (غزلیں )
گلابوں کی گفتگو (غزلیں )
صحیفوں کی بھول (نظمیں )
اچھا لگا (غزلیں۔ دونوں صدیوں کے نام)
سُولاں دا بالن (نظماں تے غزلاں)
(کِشتِ غم) بیاد راؤ باقر علی خاں
THESIS;
1-Role of community in the development of Primary Education
2- Role of parents in the development of Female Education
---As perceived by Educationists
+923008073510
+92334-7751095

05/09/2026

افسانہ۔۔​بے فیض موسم کی فصیل
ایم زیڈ کنول۔ لاہور
​شہر کے سب سے پرانے کاغذی کارخانے کی عمارت کے تیسرے درجے پر وہ کمرہ تھا جہاں ہر سال "فصلِ سخن" کا معیار طے کیا جاتا تھا۔ کمرے کی ہوادانیاں اتنی اونچی تھیں کہ وہاں سے صرف آسمان کا دھندلا عکس نظر آتا تھا، نیچے پھیلا ہوا شہر اور اس کی سانسیں نہیں۔
​میز پر تین خاکی لفافے رکھے تھے۔ ایک لفافے پر سیاہی ابھی تازہ تھی، باقی دو پر دھول کی باریک تہیں جمی تھیں۔
​فرخ پچھلے بیس سال سے اس عمارت کی زنگ آلود سیڑھیاں اترتا چڑھتا تھا۔ اس کی انگلیاں کاغذی تراشوں کو کاٹتے کاٹتے اور قلم کی انی کو تراشتے تراشتے اندر کو مڑ چکی تھیں۔ اس کا مجموعہ "پیاس کا روزنامچہ" اس میز کے ایک کونے پر پڑا تھا—بے تحاشا تخلیقی تپش سے بھرا ہوا، لیکن بغیر کسی "حوالے" کے۔
​میز کے گرد بیٹھے قد آور مسند نشینوں کے درمیان کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی، لیکن ایک خاموش معاہدہ تھا۔
​"یہ لفظ بااثر ہیں،" ایک سال خوردہ رکن نے فرخ کے مسودے کا ایک صفحہ الٹتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں داد کے بجائے ایک سارڈونک ٹھنڈک تھی۔ "لیکن یہ اتنے معتبر نہیں کہ ہمارے حلقے کی تاریخ پر اثر انداز ہو سکیں۔ اس کے پاس کوئی ایسی سند نہیں جو ہمارے بنائے ہوئے سانچوں میں فٹ بیٹھ سکے۔"
​"اور سب سے بڑی خرابی،" دوسرے رکن نے اپنے ہاتھ کی انگوٹھی کو گھماتے ہوئے اضافہ کیا، "یہ شخص ہماری بیٹھکوں کی رونق نہیں بنتا۔ یہ اپنے فن کو ہم سے بالاتر سمجھتا ہے۔ جو شخص ہمارے بنائے ہوئے ادب کے دیوتاؤں کو سجدہ نہیں کرتا، اس کے فن کی عمر اس کمرے کی حد تک ہی ہونی چاہیے۔"
​انہوں نے فرخ کا مسودہ اٹھایا اور اسے ایک ایسے خانے میں سرکایا جہاں سے روشنی کی کوئی کرن نہیں گزرتی تھی۔ یہ وہ خندق تھی جہاں ایک جینوئن تخلیق کار کی سالہا سال کی ریاضت، اس کی راتوں کی نیندیں اور اس کا خونِ جگر خاموشی سے دفن کر دیا جاتا تھا۔
​اس کے برعکس، تیسرے خاکی لفافے سے ایک درمیانے درجے کا مسودہ نکالا گیا۔ اس کے لکھاری نے نہ کوئی نیا استعارہ وضع کیا تھا، نہ زندگی کی اصل رمق کو چھوا تھا۔ لیکن اس کے پاس ہر اس محفل کا حاضری کارڈ تھا جہاں فیصلے بیچے اور خریدے جاتے تھے۔ اس کی کتاب پر تمغے کی مہر ثبت کر دی گئی۔
​جب فرخ عمارت سے باہر نکلا، تو اس کے ہاتھ خالی تھے۔ اس کا استحصال کسی نے تلوار سے نہیں کیا تھا۔ یہ ایک دھیما، خاموش اور مہذب قتل تھا۔ اس کی تخلیق کا حق اس سے چھین کر ایک ایسے شخص کی جھولی میں ڈال دیا گیا تھا جس نے کبھی لفظ کی حرمت کو محسوس ہی نہیں کیا تھا۔
​وہ سڑک پر چلتا رہا۔ اس کے ذہن میں نئے استعارے اور نظم کی لہریں اب بھی اٹھ رہی تھیں، لیکن اس کا وجود اس بوجھ سے نڈھال تھا کہ جس معاشرے میں وہ سانس لے رہا ہے، وہاں سچائی کی قیمت صرف ایک گمنام تسلیم ہے، جبکہ سستی نقل کے سر پر تاج سجایا جاتا ہے۔
​عمارت کی بالکونی سے مسند نشین اسے دور جاتے دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ انہوں نے تمغہ تو اپنے پیارے کو دے دیا ہے، لیکن فرخ کے قلم سے نکلنے والی وہ آنچ جو سڑکوں پر گونج رہی تھی، اس کا کوئی نعم البدل ان کے زنگ آلود ایوانوں میں نہیں تھا۔ استحصال نے ایک جسم کو تو تھکا دیا تھا، مگر تخلیق کی اس روح کو مسخ کرنے میں وہ اب بھی ناکام تھے۔

22/01/2026
01/10/2025

Address

Lahore

Telephone

+923008073510

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUGNU International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to JUGNU International:

Shortcuts

Share