30/05/2026
(بہ سلسلہ دبستانِ جی سی)
جناب علی قائم نقوی معاصر دبستانِ جی سی کی مؤثر آواز ہیں۔آپ نے مختلف ادوار میں مجلسِ اقبال کی ادبی سرگرمیوں میں بہ حیثیتِ منصفِ ادبی مقابلہ جات، شاعر، نقاد اور صدرِ تنقیدی اجلاس متحرک کردار ادا کیا اور اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے جامعہ کی ادبی روایت کا حصہ رہے۔ اس کے علاوہ آپ نے شعر و ادب بالخصوص فنِ شاعری سے متعلق متعدد تربیتی نشستوں اور ورکشاپس کے ذریعے نوآموز قلم کاروں کی رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
نگران مجلس اقبال ڈاکٹر سفیر حیدر اور کابینہ کی جانب سے آپ کو جنم دن کی دلی مبارک باد اور نیک تمنائیں۔
انتخاب
کلام: علی قائم نقوی
انتخاب: ڈاکٹر سفیر حیدر
تجھے روانہ کِیا آنسوؤں کے محمل میں
اب اس سے زیادہ ترے بے قرار کیا کرتے
میں ایک دشت سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے
یہ میرا رنگ نہیں، رنگِ پائمالی ہے
جنہیں خبر تھی تجھے تیرنا نہیں آتا
تری تلاش میں دریا کو پار کیا کرتے
کس قدر دور پڑی ہے، تجھے احساس نہیں
چند قدموں کی مسافت پہ جو آسانی ہے
جنہوں نے دیکھا تجھے گام گام جاتے ہوئے
وہ واقعے میں کوئی اختصار کیا کرتے
دیکھتا کوئی نہیں اب تیرے پامالوں کو
پاؤں کے ساتھ ہی زنجیر بھی بنوانی ہے
رونے والوں کو اجازت ہے کہانی میں رہیں
جس کو ہنسنا ہو، کہانی سے نکل سکتا ہے
کتنی یادوں سے بھرا گھر تھا گرایا ہے جسے
کیسی تخریب سے تعمیر خریدی ہم نے
ہم نے عجلت میں بھرے گھر کو لگائے تالے
باندھنے کو بڑا سامان تھا پر وقت نہ تھا
اتنی سرعت سے نکل آیا کہ یوں لگتا ہے
زخم شمشیر سے پہلے بھی کہیں ہوتا تھا
تو جانتی ہے کہ میں کتنے پھول لایا تھا
ہوائے دشت مرے کارواں پہ گریہ کر
Safeer Hyder Ali Qaim Naqvi