17/05/2026
ماہِ ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخیں اللہ تعالیٰ کے ہاں نہایت فضیلت والی ہیں۔ ان دنوں میں عبادت، ذکر، توبہ اور قربانی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ انہی ایام کے متعلق ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو مسلمان قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اُس کے لیے مستحب ہے کہ یکم ذی الحجہ سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ یہ عمل حجاجِ کرام کے ساتھ ظاہری مشابہت اور عبادت کے شوق کی علامت ہے۔
�
ترجمہ:
حضرت امِّ سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب ذی الحجہ کے پہلے دس دن شروع ہوجائیں اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔”
(صحیح مسلم)
فقہائے کرام نے وضاحت فرمائی ہے کہ یہ حکم وجوب کے درجے میں نہیں بلکہ استحباب کے طور پر ہے، یعنی اگر کوئی شخص بال یا ناخن کاٹ لے تو گناہگار نہیں ہوگا، البتہ اس فضیلت سے محروم رہ جائے گا۔
یہ عمل دراصل اللہ تعالیٰ کی عبادت کے جذبے، قربانی کی تیاری اور حجاجِ کرام کے ساتھ قلبی تعلق کا اظہار ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مبارک ایام کی عظمت کو سامنے رکھتے ہوئے حتی الامکان اس سنتِ مستحبہ پر عمل کریں اور اپنے دلوں میں تقویٰ، اخلاص اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔