21/12/2025
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تعلیم — دینی بھی، عصری بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور کردار سازی کی بنیاد ہے۔ دینی تعلیم انسان کو اللہ کی پہچان، اخلاق، عبادات اور صحیح راستہ سکھاتی ہے، جبکہ عصری تعلیم اسے زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے، معاشرے میں باعزت مقام بنانے اور رزقِ حلال کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
اگر دینی اور عصری تعلیم کو یکجا کر لیا جائے تو ایک ایسا باکردار، باعمل اور باصلاحیت فرد تیار ہوتا ہے جو دین کا بھی محافظ ہو اور قوم کا بھی مفید شہری۔
آئیے! اپنے بچوں کو قرآن و سنت کی روشنی کے ساتھ جدید علوم سے بھی آراستہ کریں، کیونکہ یہی امت، معاشرہ اور مستقبل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
۔۔۔مفتی احسان اللہ بن مفتی غلام مصطفیٰ ۔۔۔
مدیر: مناہل العرفان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن